غزل ۔۔۔ رفیع رضا

غزل

رفیع رضا

اگرچہ وقت مناجات کرنے والا تھا

مرا مزاج سوالات کرنے والا تھا

مُجھے سلیقہ نہ تھا روشنی سے ملنے کا

مَیں ہجر میں گُزر اوقات کرنے والا تھا

مَیں سامنے سے اُٹھا اور لوَ لرزنے لگی

چراغ جیسے کوئی بات کرنے والا تھا

کھُلی ہوئی تھیں بدن پر رُواں رُواں آنکھیں

نجانے کون مُلاقات کرنے والا تھا

وُہ میرے کعبۂ دل میں ذرا سی دیر رُکا

یہ حج ادا وُہ مرے ساتھ کرنے والا تھا

کہاں یہ خاک کے تودے تلے دبا ہوا جسم

کہاں میَں سیرِ سماوات کرنے والا تھا

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

November 2020
M T W T F S S
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
30  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: