لمحہ ۔۔۔ کوثرجمال

“لمحہ”

کوثر جمال

روک دیتا ہے یہ

وقت کے رقص کو

اس کی مٹھی میں بند

زمینیں، زمانے

زیست کی ہر مہا واردات

جنم اور مرتی کی سب حیرتیں،

ہیبتیں

اس کی چٹک سے ہیں لپٹے ہوئے

عشق کے معجزے

ہونی کے سب سانحے

مہان اس کی گمبھیرتا،

جہاں گیر پہنائیاں

یا حیرت ۔۔۔۔ مگر

اٹل اس کی آمد

اٹل اس کی رفت

لمحہ ہی لمحے کا تابوت ہے

Similar Posts:

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

April 2021
M T W T F S S
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
2627282930  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: