کافکا ۔۔۔ راشد جاوید احمد

کچھ کافکا کے بارے میں

 

( راشد جاوید احمد )

کافکا کا لکھنے کا ایک اپنا ہی انداز تھا، جس تک رسائی ہر ایک کے لیے آسان نہیں ہے۔ اُن کی ادبی تخلیقات کی کئی طرح سے تشریح ہو سکتی ہے اور کئی قارئین اس بات کو پسند نہیں کرتے ہیں، اس کے باوجود کافکا کی تحریریں اُن کے اپنے ماحول سے بھی مطابقت رکھتی تھیں اور آج بھی اجنبی معلوم نہیں ہوتیں۔

کافکا نے 1912ء میں ’دی میٹامارفوسز‘ یا ’کایا بدلی‘ کے نام سے ایک کہانی لکھی تھی، جو اُن کے اُن تجربات کو بیان کرتی ہے، جو اُنہیں اپنی بیماری کے دنوں میں ہوئے تھے۔ ایک بے بس انسان کے طور پر بستر پر پڑے پڑے اُن کی کمر تختہ ہو گئی تھی۔ جب اُنہوں نے سر اٹھا کر اپنے پھولے ہوئے پیٹ اور اپنی کمزور ٹانگوں کو ایک نظر دیکھا تو یہ سوال کرنے پر مجبور ہو گئے کہ کیا یہ کسی انسان کا جسم ہے؟ اُنہیں لگا کہ یہ زمین پر رینگتے کسی بڑے سے قابل نفرت کیڑے کا جسم ہے، جو ابھی ایک شام پہلے تک ایک انسان تھا۔ کافکا کی رونگٹے کھڑے کر دینے والی یہ کہانی غالباً اُن کی سب سے مشہور کہانی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ایک انسان کتنا نازک ہے کہ راتوں رات اُس کی حیثیت بدل سکتی ہے اور وہ ایک پامال شخص بن سکتا ہے۔

 

کافکا کی مشہورِ زمانہ ادبی تخلیق ’دی کاسل‘ کے مختلف زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں، اس تصویر میں فارسی ترجمے کا سرورق نظر آرہا ہے

کافکا کی زندگی میں بھی اُن کے بہت سے قارئین جہاں ایک طرف اُن کی تحریروں کے مداح تھے، وہیں اُن کے لیے یہ بات بھی ایک معمّہ تھی کہ آخر کیوں اُن کی کہانیاں ایک پہیلی کی طرح ہوتی ہیں۔ اپنے اسی طرزِ تحریر کی وجہ سے کافکا کو اپنی زندگی میں وہ شہرت نہ مل سکی، جس کے وہ حقدار تھے۔

سوال یہ ہے کہ کافکا کی تحریروں میں پژمردگی کیوں ہوتی ہے اور وہ اپنے کرداروں کو غیر حقیقی حالات سے کیوں دوچار کرتے ہیں؟ اس سوال کا جواب ماربُرگ یونیورسٹی کے جرمن زبان و ادب کے اُستاد اور کافکا پر ایک مفصل جائزے کے مصنف تھوماس انس نے دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جس طرح عدالتیں یا مشہور شخصیات اپنے اختیارات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کو ایک فاصلے پر رکھتی ہیں، کافکا یہی طرزِ عمل اپنے قارئین کے ساتھ روا رکھتے ہیں۔

کونراڈ آڈیناؤر فاؤنڈیشن کے شعبہء ادب کے انچارج ا ور جرمن زبان و ادب کے ماہر مشائیل براؤن کے خیال میں کافکا کی تحریروں میں وہ اضطراب نظر آتا ہے، جو اُس دور میں نت نئی ٹیکنالوجی کو دیکھتے ہوئے لوگوں کے دلوں میں موجزن تھا۔ شہر پھیل رہے تھے، ریل اور کار کی طرح کے ذرائع آمد و رفت سامنے آ رہے تھے، نئے پیداواری طریقے متعارف ہو رہے تھے اور ریاستی ڈھانچے مستحکم تر ہوتے جا رہے تھے۔ یہ سب کچھ لوگوں کے لیے نیا بھی تھا اور پریشانی کا باعث بھی۔

 

کافکا کی 1920ء میں پراگ شہر کے قدیم حصے میں اتاری گئی ایک تصویر

براؤن کے مطابق آج کا انسان بھی اسی اضطراب کا شکار ہے اور یہی وجہ ہے کہ کافکا کو ایک ایسا پیش بین ادیب مانا جاتا ہے، جسے 1900ء کے لگ بھگ معلوم تھا کہ بیس ویں صدی کے وسط تک یا اُس کے بعد کیا کچھ ہونے والا ہے۔ کیسے ایک انسان کو ہر جانب سے کنٹرول  کیا جائے گا اور جبر کا نشانہ بنایا جائے گا۔ براؤن کے مطابق کافکا کی کہانی ’اِن دی پینل کالونی‘ آج کے دور کے گوانتانامو حراستی کیمپ کی ہو بہو منظر کشی کرتی معلوم ہوتی ہے۔

آج کی جدید دنیا میں انسان بے حیثیت ہے۔ کم از کم ایک فرد کے طور پر اُس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ آج کل اہمیت اس بات کی ہے کہ پورا معاشرہ اجتماعی طور پر آگے بڑھے۔ یہ رجحان بیس ویں صدی میں کمیونزم اور جرمنی کی نیشنل سوشلزم کی شکل میں سامنے آیا تھا۔ تاہم آج کل کی جمہوری طور پر منظم ریاستوں میں بھی انسان کا وہ احساسِ بے بسی ختم نہیں ہو سکا ہے، جس کا ذکر کافکا نے کیا تھا۔

 

Similar Posts:

1 thought on “کافکا ۔۔۔ راشد جاوید احمد

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

April 2021
M T W T F S S
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
2627282930  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: