1o minutes 38 seconds

10 Minutes 38 Seconds in this strange world

Elif Shafak

تبصرہ :: راشد جاوید احمد
الف شفق کا یہ تازہ ترین ناول ہے ۔ میں نے ان کی تقریبا تمام کتابیں مطالعہ کی ہیں اور ان پر اپنی رائے کا اظہار ایک مضمون کی صورت میں کر چکا ہوں۔ کل ہی میں نے اس ناول کا مطالعہ ختم کیا ہے۔ الف ان کا نام ہے اور شفق انکی والدہ کا نام۔ اس ناول کے آخر میں وہ اپنی ماں کے نام کو اپنے نام کا حصہ بنانے کے بارے میں بھی بتاتی ہیں۔اور  شاید اس کا ذکر اس کتاب میں ضروری بھی تھا بہرحال شفق سے شفقت اور یہ شفقت اور ہمدردی ہے الف شفق کی جو انکے تمام ناولوں میں نمایاں ہیں۔ خاموش یا خاموش کر دی گئی اکثریت سے ہمدردی ۔انکی نظر وہ کچھ دیکھتی ہے جو عام انسان نہیں دیکھ پاتے اور پھر ان کی  آواز ان خاموش ہستیوں کے لئے ایک زوردار آواز بن جاتی ہے۔ انکی یہ بھرپور مشفق آواز ہمیں بیسویں صدی کے وسط کے استمبول میں پوشیدہ متحرک زندگی کا احوال سناتی ہے۔ وسط بیسویں صدی کے ترکی میں خواتین کی انوکھی دوستیاں اور اندر کی عجیب و غریب کہانیاں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ناول کے کردار تخلیق نہیں کئے گئے بلکہ الف شفق انہیں بہت قریب سے اور بخوبی جانتی ہیں۔

ناول کا آغاز  ایک لیلی نام کی عورت کی موت سے ہوتا ہے جس کا مردہ جسم ، سڑک کنارے کوڑے دان سے ملتا ہے۔ یہی کردار اس کہانی کا بنیادی کردار ہے اور ناول کی آخری سطروں تک ہمیں ساتھ لے کر چلتا ہے۔ ہم شاید ، کسی طوایف کے مردہ جسم کو کوئی اہمیت نہ دیں۔ اس خاتون پر وہ کون سا ظلم ہے جو نہیں ڈھایا گیا لیکن اس نے مرتے دم تک انسانیت کا دم نہیں چھوڑا۔ الف نے جس طرح یہ کہانی بنی ہے کہ ایک کوڑے دان سے وہ ہمیں لیلی کے بچپن کی طرف لے جاتی ہیں جہاں اس کا باپ اس چھوٹی بچی کو گھوم چھلے سے نہیں کھیلنے دیتا کہ اس سے اسکی پشت گول گول گھومتی  اور آگے پیچھے کو حرکت کرتی ہے جو اس کی نظر میں فحاشی ہے۔ جب بچے اس بڑے سے چھلے کو اپنی کمر کے گرد پہن کر گھماتے ہیں تو جوش اور جذبے سے چیخ پکار بھی کرتے ہیں۔ دراصل شفق نے اس چھلے سے کھیلنے پر پابندی کو اس رجعت پسند معاشرے کے لئے استعاراتی طور پر استعمال کیا ہے جہاں آواز بلند کرنا اور خسوصا عورت کا آواز بلند کرنا بہت بڑا جرم ہے۔  شفق کا یہ ناول  ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اور کوئی ادب پارہ پڑھ کر اگر آپ سوچنے پر مجبور ہو جایئں تو یہی اس کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

لیلی کی موت کے بعد جو پہلے دس منٹ اور 38 سیکنڈ ہیں ( ایک انسان کا دماغ موت کے بعد اتنی دیر فعال رہتا ہے) وہ ناول کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور اس لحاظ سے یہ اپنی نوعیت کا واحد ناول ہے۔ تازہ تازہ مردہ جسم  کےدماغ کے نیوران اس وقت جو جوڑ توڑ کر تے، انہیں شاید ہی کسی نے اتنی کامیابی سے تحریر کیا ہوگا ۔ لیلی کے دماغ کی زبانی اس جوڑ توڑ کو بیان کرنا ، یوں محسوس ہوتا ہے کہ الف شفق خود اس تجربے سے گزری ہے حالانکہ وہ زندہ ہیں اور بقایمی ہوش و حواس ناول پہ ناول لکھ رہی ہیں۔ لیلی کا جسم تو مر چکا تھا لیکن اس کا دماغ ابھی ایک جنگجو کی طرح کہیں لڑائی کہیں مقابلہ کرتا نظر آتا ہے۔ دماغ ان 10 منٹ اور 38 سیکنڈز میں زندگی میں بکھری تمام یاداشتوں اور واقعات کو ایک جگہ مرکوز کرتا جاتا ہے۔ شیریں اور تلخ یاداشتیں۔ مشرقی صوبہ ” وان” جہاں اسے روایات کے مطابق پیدا ہوتے ہی نمک کی گڑھتی دی گئی، جہاں اس کا بچپن گزرا ، چھوٹے بڑے حادثوں سے بھرا بچپن اور ان حادثوں کی آخری سانس تک کی تفصیل، کیا کچھ نہیں ان دس منٹ اور 38 سیکنڈز میں۔

لیلی نے اپنی زندگی میں پانچ دوست بنائے۔ ان میں سے چار خواتین ہیں اور سب کی سب مردانہ بلکہ، پدرانہ جبر کے ماحول سے بغاوت کر کے استمبول پہنچتی ہیں۔ان میں پانچواں ایک نوجوان ہے جو باسفورس کے پل کی افتتاحی تقریب پر لیلی سے ملتا ہے اور بعد ازاں وہ اس سے شادی کر لیتی ہے۔ باسفورس سے لیلی کی انسیت، ناول کے اخیر میں قاری کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔  الف شفق نے اس جاری جبر کی ، جہاں نہ صرف عورت کی آواز کو سنا نہیں جاتا، اس کے جسم اور دماغ پر پدرانہ قبضہ کیا جاتا ہے حتی کہ اس کی آواز دبانے کے لئے موت کے گھاٹ بھی اتار دیا جاتا ہے،سفاکانہ عکاسی کی ہے اور مجھے ذاتی طور پر تو ایسے ہی لگا کہ یہ ترکی کی نہیں ہمارے ہی سماج کی کہانی ہے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ لیلی کے مردہ جسم لیکن دس منٹ 38 سیکنڈز تک فعال رہنے والے دماغ  نے کس خوبصورتی سے یہ کہانی بیان کی ہے۔۔یہ محض ایک طوائف کی زندگی کی داستان نہیں بلکہ اس میں چھپی وہ ستم ظریفیاں اور جبر ہے جو بے بضاعت خواتین کا مقدر تھیں اور اب بھی کسی نہ کسی صورت میں ہیں۔

ترکی کے ناول نگار ہی نہیں  دنیا کے بیشتر  بڑے ناول نگار اور ادیب اپنی تخلیقات میں سیاست کا ذکر کرتے ہیں اور یہ مثبت بات ہے۔ادب غیر سیاسی کیسے ہو سکتا ہے۔ الف شفق نے اس دور کے ترکی میں رائج جبر کے نظام کو پوری طرح ننگا کر کے رکھ دیا ہے،

 یہ ایک تاریک اور سفاک داستان ہے جس میں پدرانہ تشدد بے لگام نظر آتا ہے اور قاری درد اور غم سے اپنے آپ کو نڈھال پاتا ہے۔ لیلی کے مردہ جسم کو ” بے یارو مددگار لوگوں کے قبرستان” سے نکالنا اور باسفورس کی لہروں میں آسودہ کر  دینا، الف شفق کی افسانہ نگاری کا کمال ہے۔اس سب کے باوجود بھی اس ناول میں زندگی لوٹ آنے کی حوصلہ افزا بات بھی ہے۔ ، اس ناول کی نثر، نرم، شیریں اور دل گداز ہے۔ یہ ناول ان لوگوں کی آواز ہے جن کا کوئی ذکر نہیں کرتا، کوئی گھاس نہیں ڈالتا، جنہیں گالی دی جاتی ہے اور رجعت پسند معاشرے میں ہر قسم کی تکلیف دینے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن وہ اپنی تلخیوں کو گرہ گرہ بن کر کوئی  خوبصورت  شاہکار تخلیق کرتے ہی رہتے ہیں۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: