شریف آدمی ۔۔۔ راشد جاوید احمد

شریف آدمی

( راشد جاوید احمد )

وہ اپنے کام میں اسقدر مگن تھا کہ دروازے پر ہونے والی زبردست دھڑ دھڑ اسے سنائی نہیں دے رہی تھی۔ ۔ وہ ایک شاہکار تخلیق کرنے کے عمل سے گزر رہا تھا۔  یہ کام اس کے لیے نشے کی طرح کا سکون بخش تھا اور اسے اسکا مکمل ادراک تھا۔

ہفتوں کی شبانہ روز تھکا دینے والی محنت کے بعد یہ چھوٹا سا میلا کچیلا کمرہ ،جس میں بند، وہ اپنے کام میں جٹا تھا، کام مکمل ہونے پر ایک راحت کدےمیں تبدیل ہونے والا تھا۔ ایک ایسی  تخلیق جو وجود میں آنے کے بعد اس کا کرب ختم کر دے گی۔ چکنی مٹی میں لتھڑے اس کے سخت ہاتھ ایک ہیجانی سی کیفیت میں حرکت کر رہے تھے۔ ہاتھوں کی ہر جنبش سے اسکے چہرے پر کبھی اطمینان اور کبھی مایوسی کی پرچھایئاں ابھرتیں۔لیکن اس کے ہاتھ رک نہیں رہے تھے اور مسلسل حرکت میں تھے۔

ایک حسین چہرہ پہلی ہی نظر میں اسکے کہیں اندر اتر گیا تھا۔

صبح کی سیر اس کا روز کا معمول تھا۔ بیدار ہوتے ہی منہ اور آنکھوں پر پانی کے چھٹے مار کر وہ ٹریک سوٹ پہنتا اور کمرے سے باہر نکل آتا۔ بازار ابھی خاموش اور سنسان ہوتا بس تندور والا لڑکا تندور کے آس پاس صفائی کر رہا ہوتا اور اسکے ساتھ اشاروں اشاروں میں سلام دعا کا تبادلہ ہوتا۔ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا بستی سے نکل کر پرانے ٹرین سٹیشن، جس کی اب خالی پٹریاں ہی نظر آتی تھیں،  کے سامنے سے گزرتا بڑے پارک میں پہنچتا۔ پارک کا ایک طویل چکر لگاتا۔ پانچ منٹ سستاتا اور پھر کھڑے ہو کر ہلکی پھلکی ورزش کرتا۔ ورزش کیا تھی بس بازو اور ٹانگیں  ہلانے جلانے، کھولنے اور بند کرنے کا ایک عمل تھا۔ اس دوران پارک میں قریبی گھروں کی بزرگ خواتین اور عمر رسیدہ بابے بھی آ جاتے اور پارک کے اوس بھرے بنچوں کو ایک گندے کپڑے سے صاف کر کے نشست جماتے۔ خواتین واک کم کرتیں ،گپیں زیادہ ہانکتیں ۔ انکی گفتگو میں بہووں کی برایئاں مشترکہ موضوع ہوتا۔ بابے نہ تو واک کرتے نہ ورزش۔ نماز کے بعد مسجد سے نکلتے اور پارک میں آجاتے اور اس وقت تک پارک میں رہتے جب تک انکے نواسے نواسیاں سکول روانہ نہ ہو جاتے کیونکہ اس کے بعد ہی انہیں ناشتہ ملنے کی امید ہوتی۔   ملکی اور گھریلو سیاست پر سیر حاصل تبصرے ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ بھی ان کی گفتگو میں شامل ہو لیکن وہ سلام دعا کے بعد اور خصوصا بابوں کے آنے کے بعد ورزش میں زیادہ انہماک ظاہر کرتا اور آنکھ بچا کر پارک سے باہر نکل آتا۔

یونہی ایک روز واپسی پر اسے وہ چہرہ نظر آیا۔ خوبصورت لباس میں ملبوس، کندھے پر بیگ لٹکائے، ہاتھ میں  کتاب پکڑے، ہاتھ سینے سے لگائے وہ ٹرین سٹیشن کے قریب سے آ رہی تھی۔ مناسب قد، مناسب بھرا بھرا جسم ، کھلتا ہوا گندمی رنگ، تیکھے نقش اور بڑی بڑی آنکھیں جن میں ریل کی پٹری ایسی اداسی تھی۔وہ کوئی اپسرا تو نہیں تھی لیکن پھر بھی اسکے چہرے میں ایک ایسی کشش تھی کہ راہگیر اسے غور سے دیکھتے۔کچھ ترسے ہووں کی نظریں اسکے موڑ مڑ جانے تک تعاقب کرتی رہتیں کہ یہ اس بستی کا عمومی فریضہ تھاوہ یہ سب جانتی تھی لیکن نظریں جھکائے اپنے راستے پر گامزن رہتی۔

  اس نے کبھی کسی خاتون کو گھور کر نہیں دیکھا تھا۔  ” پہلی نظر جائز اور دوسری گناہ” ۔۔۔ وہ تمام عمر اس پر عمل پیرا رہا لیکن نہ جانے کیا تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اس خاتون کو بار بار دیکھنے پر مجبورپایا۔ اس نے خاتون کے سٹیشن کے قریب سے گزرنے کا وقت بھی نوٹ کرلیا اور دل ہی دل میں اپنے آپ پر لعطن طعن بھی کرتا کہ جو کام بھرپور جوانی میں نہیں کیا وہ ڈھلتی جوانی میں اس سے کیوں سرزد ہو رہا ہے۔

خاتون کے چہرے کے خدو خال اس کے دماغ پر ثبت ہو چکے تھے۔ وہ نہ رہ پایا اور ایک دن کافی فاصلہ رکھ کر اس نے خاتون کا پیچھا کیا، یقیننا وہ یہ حرکت کرتے ہوئے سردی کے باوجود پسینہ پسینہ ہو چکا تھا تاہم وہ یہ جان کر ششدر رہ گیا کہ وہ تو اس کے کمرے کے سامنے سے گزر کر تیسری گلی میں واقع لڑکیوں کے سکول میں جاتی ہے۔ اب تو اس نے سکول سے چھٹی کے وقت کمرے کی کھڑکی سے بھی اس چہرے کو دیکھنا شروع کر دیا تھا۔

بستی میں اس کی بہت عزت تھی۔ اسے ایک معقول اور شریف آدمی کے طور پر جانا جاتا تھا۔ پارک والے بابے اس کی بہت عزت کرتے تھے لیکن وہ اس بات کے شاکی تھے کہ وہ ان کے ساتھ گپ شپ میں بھیگتا نہیں اور سلام دعا یا ایک آدھ فقرے پر ہی ٹال دیتا ہے۔ ادھر وہ ان بحث مباحثوں کو بے فائدہ اور فضول سمجھتا تھا۔ ملکی سیاست کے بارے میں اس کی ترقی پسندانہ سوچ اور اپنا ایک نقطہ نظر تھا جس پر وہ سال چھہ ماہ بعد ٹی ہاوس کی کسی محفل میں ا ظہار خیال کر لیتا تھا۔ اس کی بات سراہی جاتی تھی لیکن اہل محلہ کو ایسا سب سمجھانے میں اسے بہت دقت تھی۔ شائد عوام تک اچھی باتیں نہ پہنچ پانے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے۔

دوپہر کو کمرے کی کھڑکی سے اس نے خاتون کو سکول سے واپس جاتے ہوئے دیکھا تو اس نے سوچا، ” میں شاید اسی کی تلاش میں تھا۔ انسان نے اب تک بہت کچھ تخلیق کیا ہے پھر بھی دنیا کو خوبصورت نہیں بنا پایا۔ کیا ہے اس لڑکی میں ،ایک عام سی سکول ٹیچر،  لیکن میرے لیے بہت کچھ ہے اس میں۔ مجھے اسے محفوظ کرنا ہے۔ “

کئی روز سے وہ کمرے میں بند تھا لیکن کھڑکی سے نظارہ ضرور کرتا تھا۔ ۔ پارک کے بابوں میں اسکی غیر حاضری کے بارے میں حیرانی ملی تشویش تھی  اور کمرے کے اندراسکی بڑی اور گہری  آنکھیں، مزید سیاہ ہو چکی تھیں۔ اس نے مجسمہ سازی کی مٹی سے خاتون کا خاکہ تیارکر تو لیا تھا لیکن  اسکے ہاتھ کہیں کہیں سے زخمی بھی ہو گئےتھے۔۔ چکنی مٹی میں  خاتون کے ہاتھوں پرتختہ سیاہ پر لکھنے والے چاک کا سفید برادہ نظر آ رہا تھا۔ کتاب بردار ہاتھ جوہمیشہ سینے سے لگا ہوتا تھا اس کی کلائی پر مارکر کی لکیر بھی نظر آ رہی تھی۔ یوں لگتا تھا کہ وہ سخت محنت سے تفویض علم کا کام انجام دینے کی عادی ہے۔ تخلیق ابھی تکمیل سے دور تھی۔ ہر بار جب وہ تھک کر اپنے ہاتھ روکتا تو اسے کوئی نہ کوئی خامی نظر آجاتی۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ وہ سارے کا سارا،اس تخلیق کے عمل میں خرچ ہو جائے گا۔  لیکن وہ رک نہیں سکتا تھا۔ یہ اس کی فطرت تھی۔کوئی کام شروع کرنے کے بعد اسے ختم کر کے ہی سکھ کی سانس لیتا۔

 دروازے پر ہونے والی دستکوں میں اب انسانی آوازٰیں بھی شامل ہو گئی تھیں۔

اس وقت،  وقت اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔ اس کا شاہکار تخلیق کے قریب تھا لیکن مکمل نہیں ہو پا رہا تھا۔  اس بات نے اسکے اندر ہیجان پیدا کر رکھا تھا اور اسی جنونی کیفیت میں اس نے کمرے میں پڑا پینٹگ کا ایزل بھی توڑ پھینکا  ۔ شدید تھکاوٹ سے اس کی آنکھوں میں نیند کی جھپکیاں آتیں تو وہ اپنے  ہاتھوں کی جلد کے زخمی حصوں کو خراشنے لگتا تا کہ تکلیف سے جاگتا رہے۔ وقت گزرتا رہا، باہر کی تاریکی اسکے اندر پھیلنے لگی۔ مایوسی نے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔ٹوٹنے والی چیزوں میں اضافہ ہو رہا تھا۔  بچپن میں ایک بار وہ نہاتے ہوئے گاوں کے راجباہ میں ڈوبتے ڈوبتے بچا تھا۔ اس کے باپ اور دوسرے لوگوں نے اسے ڈوبنے سے بچا لیا تھا ۔ موت کو اتنا قریب سے دیکھنے کا احساس اب تک اس پر حاوی تھا اور اسے اب بھی کچھ ایسا ہی محسوس ہو رہا تھا۔  ”نہیں، مجھے اسے ہر صورت میں تخلیق کرنا ہے، یہ ایک شاہکار ہو گا اور دنیا اسے دیکھ کر دنگ رہ جائے گی۔ ” اس نے سوچا

کچھ دیر سستانے کے لیے اس نے کمرے میں پڑی آرام کرسی قریب کھینچی اور سگریٹ سلگا کر اس پر نیم دراز ہوا لیکن اس طرح آدھا مجسمہ اس کی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ وہ کرسی پر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تاکہ مجسمہ نظر کے سامنے رہے لیکن آرام کرسی پر سیدھا ہو کر بیٹھنے میں اسے آرام کی نسبت تکلیف زیادہ محسوس ہوئی اور اس نے لات مار کر کرسی کو پیچھے دھکیل دیا۔

ایسا نہیں تھا کہ وہ پہلی بار کوئی مجسمہ بنا رہا تھا۔ اس سے پیشتر وہ تین بار اپنی تصویروں اور مجسموں کی  نمائش کر چکا تھا اور بہت مشہور نہ سہی لیکن اس شعبے سے وابستہ لوگ اسے ایک بہت اچھے فنکار اور اتنے ہی اچھے انسان کے طور پر جانتے تھے۔ فنون لطیفہ کے حلقوں میں اس کا نام بہر طور معروف تھا لیکن اس وقت وہ جس کام کو لے بیٹھا تھا اس کے لیے شاید زندگی موت کی صورت اختیار کر گیا تھا۔ وہ سگریٹ کے کش لگاتے ، مکمل ہونے کے قریب، مجسمے کو مسلسل گھورے جا رہا تھا۔ کہیں نہ کہیں اسے کمی محسوس ہو رہی تھی۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ مایوسی اسکے چہرے پر مکمل طور پر پھیلی ہوئی تھی اور جب سگریٹ کی حدت نے اسکی انگلیوں پر حملہ کیا تو اسے ہوش آیا اور اسنے ایک جھٹکے سے سگریٹ کا ٹوٹا فرش پر پھینک دیا۔

باہر دروازہ پیٹے کی آواز شدت اختیار کر چکی تھی۔

آخر وہ کون سی چیز ہے جس کی کمی اسے محسوس ہو رہی تھی لیکن نظر نہیں آرہی تھی، اس نے بہت کرب سے سوچا۔  “چہرے کے نقوش بھی متوازن ہیں۔ ہاتھوں کی خوبصورتی بھی ہے۔ جسم کی گولایئاں بھی برقرار ہیں۔ بے شکن ماتھا بھی عیاں ہے۔ آنکھوں کی اداسی پورے چہرے کو اداس دکھا رہی ہے۔ تمام باریکیاں جو لوگ نہیں دیکھ پاتے، سب تو موجود ہیں،  تو پھر کون سی کمی ہے۔ کیا مجھے ایک بار پھر اسے قریب سے دیکھنا ہوگا ۔۔۔۔۔۔ اگر اس  مجسمےکی خامیاں دور نہ ہویئں توکیا مجھے فن کار کہلوانے کا کوئی حق ہے اور اگر میں فنکار نہیں تو پھر میں ہوں ہی نہیں۔”

اپنے آپ سے کیا یہ سوال اسکی آنکھوں میں جم کر رہ گیا۔

  انہی سوچوں میں گم اس نے ایک اور سگریٹ سلگائی اور جلتی ماچس فرش پر اچھال دی۔ وہ اپنے بنائے مجسمے کے سامنے خود مجسمہ بنا بیٹھا تھا ۔ سگریٹ اس کے ہاتھ میں سلگ رہی تھی اور اس کی گہری سیاہ  آنکھین اپنی تخلیق کو غیر مطمئن نظروں سے دیکھے جا رہی تھیں۔ جلتی ماچس نے فرش پر بکھرے سنگتراشی والے موم کا کافی حصہ جلا دیا تھا اور ٹوٹے ایزل کے نیچے دبے پلاسٹی سین کے پیکٹ نے آگ پکڑ لی تھی۔ اسے نہیں معلوم کہ کب آگ اس کے دامن تک آ پہنچی اور اس کے جسم کا کون کون سا حصہ اسکی لپیٹ میں آ گیا۔ اس کی آنکھیں مسلسل مجسمے کو گھور رہی تھینَ۔

جب لوگوں نے دروازہ توڑا اور اندر داخل ہوئے تو انہیں آگ کے شعلے استقبال کو ملےجن سے ذرا پرے وہ پر شکوہ مجسمہ کھڑا تھا۔ ۔ اسکے ہاتھوں پر سفید چاک کا برادہ ایسے چمک رہا تھا کہ گویا ابھی کلاس روم سے باہر آئی ہو۔  ۔بھورے خاکستری چمکدار لمبے بال اسکی گردن سے ذرا نیچے خوبصورت لباس کو چھو رہے تھے۔آنکھوں سے اداسی مکمل طور پر جھلک رہی تھی۔

 ” یہ تو وہی ہے ۔۔۔  سکول ٹیچر” کچھ لوگ حیرانی سے بیک زبان پکار اٹھے۔ ” ہاں ، ہو بہو وہی، کمال ہے۔ کیا شاہکار ہے۔ واہ”

” ادھر تو دیکھیںِ ” ایک بچے نے چیختے ہوئے کہا۔

 سب کی نظریں ادھر اٹھیں جدھر بچے نے اشارہ کیا تھا۔ اس کونے میں، مجسمہ ساز کا جھلسا ہوا ، بے حس بدن پڑا تھا۔ اسکا موٹا کھردرا لباس اب بھی جل رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں اب بھی وہی سوال تھا۔ بےرحم مجسمہ کونے میں کھڑا اداسی بکھیر رہا تھا۔

” یار ہم تو اسے شریف آدمی سمجھتے تھے۔۔۔” ہجوم میں سے کسی نے کہا۔

Read more from Rashid Javed Ahmed

Read more Urdu Stories

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: