اپنی سوگوار بیسواوں کی یاد میں ۔۔ گارسیا مارکیز۔۔۔تبصرہ ناول۔۔راشد جاویداحمد

Memories of My Melancholy Whores

Gabriel Garcia Marquez

اپنی سوگوار بیسواوں کی یاد میں

گارسیا مارکیز

مبصر :: راشد جاوید احمد

ناول کی کہانی ایک ایسے بوڑھے کے گرد گھومتی ہے جو اپنی زندگی کے نوے سال مکمل ہونے پر اپنے آپ کو ایک عجیب تحفہ دینا چاہتا ہے۔ یہ تحفہ کسی نوخیز باکرہ کے ساتھ رات بسر کرنے کا تحفہ ہے۔

یادداشتوں کا یہ عیاں  تذکرہ گبریل گارسیا مارکیز کا مشہور زمانہ ناول ہے۔ان یاد داشتوں کا  بے نام راوی نوے سال کا ہوگیا ہے اور اس نے خود کو ایک کنواری کے ساتھ رات گزارنے  کا تحفہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم ،ان  نوے سالوں میں وہ کبھی بھی محبت کی مٹھاس سے آشنا نہیں ہوا ، راوی اس کم سن کی محبت میں بھی گرفتار نہیں ہوتا۔ لیکن وہ  خود کو اس نوجوان عورت کے ساتھ مبتلا محسوس کرتا ہے باوجود اس کے کہ انکے درمیان کبھی بھی کوئی گہری بات نہیں ہوئی نہ ہی کوئی گہرا رشتہ قائم ہو سکا۔ یہ ناول کسی کی ذاتی اخلاقیات یا زندگی میں پہلی بار معروف محبت کی دریافت لگتا ہے۔

بے نام راوی ، جو کہ ایک اخبار کا کالم نگار ہے، اپنی 99ویں  سالگرہ منانے والا ہے ، لہذا وہ خود کو ایک کنواری کا تحفہ دینے کا فیصلہ کرتا ہےاور ایک خاتون سے رابطہ کرتا ہے جس نے اسے ماضی میں بھی ایسی سہولتیں مہیا کی تھی۔  وہ خاتون مختلف حیلے بہانے بناتی ہے لیکن پہلے سے زیادہ معاوضے کی شرط پر حامی بھر لیتی ہے۔  کچھ عرصے بعد میڈم ، ناول کے بے نام بوڑھے راوی کو بتاتی ہے کہ اس نے ایک چودہ سالہ دوشیزہ کا انتظام کر لیا ہے اور وہ رات کو اسکے کوٹھےپر موجود ہو گی۔ راوی اپنے بہترین  لباس میں ملبوس ایک ٹیکسی میں سوار کوٹھے پر پنچتا ہے۔ میڈم کے ساتھ شراب کا ایک دور چلتا ہے  ۔میڈم اسے بتاتی ہے کہ اس نے کنواری بچی کو پر سکون رکھنے کی خاطر ایک گھریلو نسخہ آزمایا ہے اور وہ اس وقت سو رہی ہے۔ مزید براں وہ راوی کو یہ مشورہ بھی دیتی ہے کہ وہ بچی کو جگائے بغیر ہی مجامعت کر لے تاکہ بچی کو  پہلی بار کے اس تجربے کی زیادہ تکلیف محسوس نہ ہو۔ راوی کمرے میں جاتا ہے، اپنے آپ کو بے لباس کرتا ہے اور بچی کے پہلو میں لیٹ جاتا ہے لیکن اس کے اندر ہی سے مزاحمت محسوس ہوتی ہے۔ اسے یوں لگتا ہے کہ وہ اس بچی کا استحصال کر رہا ہے۔ سو، وہ بچی کے پہلو میں سو جاتا ہے۔  ایسے جیسے وہ لڑکی کے پاس نہیں بلکہ کسی دوسرے شخص کے پاس سویا ہوا ہے۔ صبح ہوتے ہی  راوی، معاوضے کی رقم بستر پر رکھ کر،  لڑکی سے کوئی  بات کیے بغیر چلا جاتا ہے۔

راوی ایک مقامی اخبار کا  کالم نگار ہے۔ وہ اخبار کے دفتر میں اپنا آخری کالم دینے جا رہا ہے کیونکہ آج وہ کالم نگاری چھوڑ رہا ہے اوریہ سوچ رہا ہے کہ اس کے ساتھی آج اسے الوداعی پارٹی دیں گے۔ وہ کالم ایڈیٹر کے حوالے کرتا ہے جو اس کے استعفی دینے کے فیصلے کو نہیں مانتا اور کالم نگار کچھ لیت و لعل کے بعد ایڈیٹر کی بات مان لیتا ہے۔

راوی کا ذہن  مسلسل  اس نوجوان لڑکی کے بارے میں الجھا ہوا ہے جس کے ساتھ اس نے اپنی سالگرہ  کی رات گزاری۔ اس تجربے نے راوی کو ان بہت سی خواتین کی یاد دلادی ہے جن کے ساتھ  اس نے ماضی میں راتیں گزاری تھیں اور مقررہ معاوضہ ادا کیا تھا۔راوی ان کی تعداد 514 بتاتا ہے۔

 ان خواتین میں سے ایک اس کی گھریلو ملازمہ بھی ہے، جو ہفتے میں دو بار صفائی ستھرائی کے لیے آتی ہے۔یہ عورت اس سے عمر میں بیس برس چھوٹی ہے۔ ایک دن جب وہ کپڑے دھونے  میں مصروف تھی تو راوی اپنی خواہشات پر قابو نہ رکھ سکا اور پھر یہ سلسہ مہینے میں ایک بار ، کئی مہینے چلتا رہا۔ راوی کو کچھ احساس جرم محسوس ہوا لیکن اس نے تلافی کے طور پر ملازمہ کی تنخواہ میں اضافہ کر دیا ۔

راوی نے کوٹھے کی مالکہ کو دوبارہ فون کیا اور کنواری کے ساتھ ایک اور رات گزارنے  کی خواہش کا اظہار کیا لیکن ایک بار پھر راوی اس کے ساتھ بغیر کچھ کئے رات گزار آیا۔ گھر آ کر بھی وہ اسی لڑکی کے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔ اب وہ تقریبا ہر رات اس لڑکی کے ساتھ اسی طرح گزارتا ہے اور باقاعدہ معاوضہ بھی دیتا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ جنونی سی کیفیت شاید محبت ہے جس کا اسے زندگی میں پہلی بار تجربہ ہو رہا ہے۔ ماضی میں اسکی ایک لڑکی سے منگنی ہوئی تھی،محبت کے کوئی جذبات دور دور تک نہیں تھے چناچہ وہ  شادی کے روز چرچ ہی نہیں پہنچا اور یوں اس لڑکی اور اسکے خاندان کو زبردست خفت اٹھانا پڑی۔

کیسی اچنبھے کی بات ہے کہ کالم نگار ہر رات اس باکرہ کے پہلو میں گزارتا ہے ، ان کے درمیاں بہت کم بات ہوتی ہے، یہاں تک کہ وہ اس کا نام بھی نہیں جانتا۔

۔اس دوراں ایک جھگڑے میں کوٹھے پر کسی شخص کا قتل ہوجاتا ہے اور چکلہ کئی ہفتوں کے لیے بند کر دیا جاتا ہے۔ ناول کا راوی پاگلوں کی طرح چکلہ کھلنے اور اس لڑکی سے ملنے کے انتظار کی تکلیف میں مبتلا ہے۔ چکلہ کھلنے کے بعد جب وہ اس لڑکی کو دیکھتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ وہ اس عرصے میں باقاعدہ پیشہ ور بن چکی ہے۔ وہ مشتعل ہو جاتا ہے اور اس کمرے میں توڑ پھوڑ کر دیتا ہے جہاں اس نے اس کے ساتھ راتیں گزاری تھیں۔ وہ فیصلہ کرتا ہے کہ اب زندگی بھر اس کی شکل نہیں دیکھے گا۔ چند ہی مہینوں کے بعد اپنی خواہش کے ہاتھوں مغلوب وہ پھر چکلے کا رخ کرتا ہے۔ کمرے کی توڑ پھوڑ کا معاوضہ بھی ادا کرتا ہے اور  اپنی اکیانویں سالگرہ کی رات اس لڑکی کے ساتھ گزارتا ہے

گارسیا مارکیز کے اس مختصر ناول میں ہمیں محبت کی جستجو، انسانی محرومی اور اس محرومی سے اُس کے کردار پر مرتب ہونے والے اثرات اور آرزو کی بدولت پیدا ہونے والے حوصلے کے تصورات ملتے ہیں۔ اس ناول میں المیہ لے کافی حاوی ہے لیکن بعض جگہ یہ المیہ مزاح میں بھی تبدیل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اگر اس ناول کو فنی معیار پر پرکھا جائے اور مارکیز کے اعلیٰ کام کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی قدروقیمت متعین کی جائے تو یہ مجھے ایک بوڑھے تخلیق کار کی ذہنی عیاشی معلوم ہوتا ہے۔

اس ناول کا اردو ترجمہ معروف ادیب اور مترجم جناب محمد عمر میمن کیا ہے۔

Similar Posts:

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

October 2021
M T W T F S S
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031
Show Buttons
Hide Buttons