سگریٹ ۔۔۔ سلمان حیدر

سگریٹ

سلمان حیدر

میں کہ اک اور گزرتے ہوے پل کے ہمراہ

اپنی خوشبو میں بسا

آپ ہی آپ سلگتا ہوا کاغذ کا وجود

ہاتھ پھیلا کے کسی راکھ سے اٹتے ہوے برتن میں مسل دیتا ہوں

راکھ کےڈھیر پہ کچھ دیر کو رکتا ہے دھواں

وو سیاہ پوش وجود

مجھ سے کہتا ہے کے تم وقت کا انداز لیے ہو لیکن

(وقت جو روز نجانے کتنے

دھیمے خاموش سلگتے ہوے انسانوں کو

خاک کے بار تلے یونہی مسل دیتا ہے)

وقت کو ہاتھ کے پھیلانے کی حاجت بھی نہیں….

Similar Posts:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

September 2021
M T W T F S S
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
27282930  
Show Buttons
Hide Buttons