حجلہ ء چمن آرائی ۔۔۔ سمیع آہوجہ

حجلہء چمن آرائی

( سمیع آہوجہ )

وہ اُس کی جوانی میں قدم رکھنے کے ایام تھے، جب چمن سے آنے والے لشکر نے قندھار کے نواح میں پڑاﺅ ڈالا،تو گاﺅں والوں کے کانوں میں بھی خبریں لشکری نامہ بر کے آنے سے پڑ گئیں اور وہ بات چیت میں سارا زور قبائلی مُسلمانوں پر سکھوں کے ظلم اور کشت و خون کے بَل اُن کی قبول کردہ غلامی اور باج گزاری سے آزاد کرانے اور اسلام کی صحیح راہ پر چھائی تاریکیاں صاف کرنے آئے تھے،اور ساتھ ہی احمد شاہ کا پیغام سردار کو دیتے اگلے گاﺅں کی جانب چل نکلے ۔ اجتماع میں آنے والوںکے چہرے بلا کسی تفریق، آزادی کے نام سے ہی جگمگا اُٹھے ۔سارا گاﺅں اُن کے نعروں سے گونج اُٹھا۔پدرِ بزرگ نے اپنے مِیر منشی کی زِیرِ نگرانی اور چار نوکروں کے ساتھ آٹھ دنبے او رغلّے سے لدے چھ گدھے لشکر کے پڑاﺅ کے لے روانہ کردیے، اورجیسے ہی یہ گاﺅں کی آخری پگڈنڈی سے باہر نکلے تو وہیں سے مسجد کا امام اور ادھیڑ عمری سے سر نکالے چندگاﺅں والے،جو اپنا گھریلوبچت والا سامان جس میں خوراک بھی شامل تھی ،اپنی اپنی استعاعت کے مطابق غریبِ شہرلشکریوں کی مدداور خیرات و زکو ةکے حساب سے گھٹڑیوں میں باندھے ،کندھوں پر لٹکائے اُن کے ساتھ شامل ہوگئے۔اور اس قطار کے پیچھے سردارکی اجازت سے اُس کا پوتا اوردس مسیں بِھیگتے اُس کے ہم عمربھی نکل پڑے،جب پا پیدل چلتے ، تھکے ہارے لشکر میں پہنچے تو اتنا بڑا مسلح لشکر دیکھتے ہی اُن سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ،خیموں کا اک شہر بسا ہواتھا،اوراُن کے بیچ میں خالی جگہیں،آپ ہی آپ بنی خود ساختہ گلیاں،آتے جاتے لشکریوں کے قدموں سے اُٹھتی دھول میں ملفوف ۔اُس نے میر منشی سے لشکر کی تعداد پوچھی تو وہ ہنس دیا ،یہی کوئی آٹھ دس ہزار سے کیا کم ہو گا ۔اور جب عشا کی نماز کے بعد ہر خیمے کے لشکری اپنے اپنے صفرے پر بیٹھے تو خوراک کے محدود کیے جانے کا طبل اُن کے اندر بجنے لگا ۔مگر اس کے باوجودانہیں شراکتی محدود خوراک کے سنگ جیسے تیسے ایک خیمے میں رات بھر کے لے کھپایا گیا ۔صبح فجر کے بعد ناشتے پر نواح کے دیہاتوں سے آنے والی خشک خواک کاڈھیر اک دو اطراف سے کُھلے وسیع شامیانے تلے میر منشی کے ساتھ لائے سامان کے ساتھ رکھا ہوا نظرپڑ گیا۔ میر منشی سے اُس نے اپنی الجھن کو سنوارنے کی سعی کر ہی ڈالی ۔کیا یہ لوگ ہمیشہ سے اسی طرح آدھے شکم صُفرے سے اُٹھ جاتے ہیں۔؟اور وہ کھلکھلا کر ہنس دیا ،،خوراک کی کمیابی کو یہ ناپ تول سے پورا کرکے خرچ کررہے ہیں،و رنہ مُلّا کی خوراک کبھی تم نے اُن کے شکم میں اُترتی نہیں دیکھی ،ہم درانیوں سے دُگنی تِگنی مقدار پر بھی وہ مطمعن نہیں ہوتے۔!
تو پھرمیں پدرِ بزرگ سے اور خوراک بھجوانے کے لےے کہوں گا ۔!
بہت مشکل ہے ،کہہ دیکھو، کیونکہ میرے آقا کی جان ،پردیسی کی مہمانداری کے علاوہ خیرات کی ساری حد بھی انہوں نے لُدوا کر بھجوا دی تھی ، تم اپنی فرمائش کی جدول اُن کے سامنے کھول کر دیکھ لو،شاید کسی اور بہی کھاتے کو کھول کر کِسی مخفی لےے دےے کو نچوڑ کر تمہاری ضد پوری کرسکیں۔
پدرِ بزرگ اُس کی فرمائش سُنتے ہی بولے پردیسیوں کی مہمانداری اور پھر خیرات کی مخصوص بندھی گھٹڑی بھی کھول کرساری اُن کی جھولی میں اُلٹا ڈالی۔بس اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے۔تو وہ اپنی ماں کی طرف لپکا جو اُس کی پیدائش کے جشن کی بہت ہی زیادہ رطب السان تھی ۔
قندھار سے کو ئی بیس بائیس میل کی دوری پر منڈی گاک اک نو احی گاﺅں میں اولین لحن میرے کانوں میں اُتارا گیا ۔اور جب میں سمجھ بوجھ کے حواسوں میں اُترا تو ماں نے کئی بار،میری پیدائش پر ہونے والے درانیوں کے جشن ، پے درپے شوشکی دھماکو ں، اوربیک وقت کئی ایک ڈھولوں کے، کان کے پردہ شِکن ڈغوں میں لِپٹی مبارکبادیاں،جو حجرے میں بیک وقت میرے پدر اور پدرِ بزرگ کو دی گئیں اور اور پھر بلا کسی مرتبے کے بچھے دستر خوان پر پلاﺅ،اور دنبوں کی چرب زدہ بھنی ہوئی چانپوں،تکوں،کبابوں کے بھرے طباق ،اور سِیرو سیراب کرنے والی تین چار شیرنیاں ۔اور گاﺅںکے ہر گھر میں پہنچائی گئی شیرنی کے بھرے روسی پیالے اُس کے علاوہ تھے ،کہ سردار کے گھر مدتوں بعد پوتا پیدا ہوا ۔خوراک اور شِیرنی کا بہتات تو قبیلے کی روا¿یت تھی ۔مگر اُس کی ماں کے آگے پھیلائی گئی لاڈوں بھی جھولی پہلی بار خالی ہی رہ گئی کہ پدرِ بزرگ نے اپنی استعاعت سے زیادہ لشکر کو پہنچا دیا تھا ۔اب اگر ایک شاہی خوراک نکال دی جاتی تو فاقوں کے ایام سے سامنا ہو سکتا تھا ۔
افغانستان کی آبادکاری میں مختلف قومیں شامل ہیں۔ لیکن قندھار میں غلزی اور ابدالیوں کی کثرت تھی مگر غلزیوں کی حاکمیت اصفہان میں شکست کے بعدہاتھ سے ایسے نکلی کہ قندھار بھی کچھ عرصے کے بعد اُن کے ہاتھ سے نکل گیا اورغلزی دریائے کابل کے جنوب میں کوہ سفیداور کوہ سلیمان کے بیچ اور مشرق میںہزارہ جات اور مغرب میں قندھار کے نیچے کے صوبے میں بکھر گئے ۔اور قندھار میںابدالیوں کی مختلف شاخوں نے حالات کو دیکھتے لوئی جرگے میں احمد شاہ ابدالی کو اپنا امیر چُن لیا ،جس نے درانی نام سے سارے ابدالیوں کو ایک بڑے قبیلے میں پیوست کر دیا،ان درانیوں کے مجموعی طور پر کردار میں حد درجہ تضادات شروع سے ہی ہیں ۔ خوش خلق ،وجیہ ،خوبصورت ،مہمان نواز،بہادر،باوقار اورذی شان توہیں ہی۔لیکن جو خصوصیت ان کے کردار کو نمایاں کرتی ہیں ۔ان کے مرد اور عورتیں بلا امتیاز جب تشدد پر اُتر آئیں تو خون آشام ،ایسے ہی رنگ روپ اور چُلبلاہٹ پر نگاہ پڑتے ہی آنکھیں شہوت سے بھر پور، بدکرداری میں بھی ملوث ہونے پر مجبور کردیتی۔مال و دولت اکٹھا کرنے کے لےے ساری صفتیں موقوف کرتے برق آسا ،انتہائی درجے کے متشددحملہ آور لٹیرے،ڈاکو ۔۔
مگر۔؟
شدید سردی کا عالم اوربھوک کی شدت اور سامانِ رسد نا پید ،اس تلخی اور تنگی کے کی سرد آہوں کو سُننے کے باوجود درانی اور دوجے چھوٹے قبائل کے افراد یا سردارکہاں تک سید کے لشکریوں کے شکم بھرتے رہتے ،اُن کے تو اپنے ہاتھ موسم کی شدت سے تنگ ہونے لگے تھے۔آزادی کی خواہش اور سکھوں سے نبر آزمائی کی بدولت سردار کا پوتا، گاﺅں کے چند لوگوں کے ساتھ ،اپنے ذاتی زاد راہ کے ساتھ شاملِ لشکر ہوئے تھے ،اور دستر خوان پر ہمراہی لشکریوں کو شامل کرنے نے اور سال بھر میں ہی دیہاتی معصومیت اور جب تنگی کا زمان اُن کے شکموں میں بِلبلانے لگا توسادگی اُڑن چھو ہوگئی اور دھیرے دھیرے اُس کے وجود میں اُترتاسید کا مبہم اور انتہا پسندی کا غرور اندر ہی اندر اپنی ساری پرتیں اُتارتے ،لشکریوں کی مبہم مکریاںکُھلتی چلی گئی۔اور آمد کے تمام پینترے ،رنگ روپ بدلتی چالیں ، پشاور کی فتح سے پہلے حاکمِ پشاور درانی سردار کے بھائی کے تصادم میں قتل نے ہی سب کچھ نہاں کر ڈالا۔مگر علیحدگی کی راہ میں مذہبی حجت سدّ بنے کھڑی تھی ۔ورنہ بات تو ساری روزِ روشن کی طرح واضح ہو گئی تھی ۔
کہ وہ دِلّی سے چلے توچمن تک تواُن کا نصیبا جاگا رہا ،کہ فرنگی کا علمدار ہُن برسانے کے حکم نامہ¿ بالا سے عہد بند ہونے کے سبب ،اُن کی دست رس میں مال و سرمائے کی چھنک گونجتی رہی۔چمن سے قندھار پہنچے توپھلوں کے باغات کی شہرت سید کے کانوں میں دِلّی ہی میں پڑ گئی تھی ۔سرسبز درختوں اور کھیتوں میں گِھرے ،انجیر،انگور ، ناشپاتی اور اناروں کی بہتات سے لدے باغات توسارے لشکر کی آنکھوں میں رچ بس گئے تھے ۔ اس فراوانی کے سبب امید تھی کہ اُن کا خوراک سے خالی ہوتا دامن بھر دیا جائے گا۔کہ مسلمان غریب لشکر کی بھوک کو درانیوں کی اناج بھری کوٹھیاںکیسے فراموش کر سکتی ہیںاور درانیوں کی مہمان نوازی کی تو ان گنت مثالیں موجود تھیں۔مگر وہ اپنی بھوک اور طمع میں یہ بھول گئے کہ یہ پھل اگر دساور نہ جائے تو چند متمول سرداروں کو چھوڑ کر سارے قندھاریوں کو روٹی کے لالے پڑجائیں۔جتنا وہ کر سکتے تھے وہ سمیٹ سماٹ کر سید کی جھولی میں ڈال دیا گیاتھا۔
قندھار سے نکلے تو کابل پہنچنے تک فرنگی کے لادے گے خزانے کا بوجھ ہلکا ہوتے ہوئے ،رتتّیوں کی صورت بھی ناپید، یعنی ہوئے بالکل خلاص ہوگیا۔ورنہ جہا دی عہد نامے سے بندھنے سے پہلے تو نہ صرف شکم بلکہ حلق تک خوراک سے پُر رکھنے کے عادی تھے ۔جو ایک وقت کا فاقہ برداشت کرنے کے بھی قابل نہ تھے۔مگر اب وہ نصف شکم کو بھرتے اور نصف شکم بھوک سے مجبور ،بِلبلاہٹ میں کھنچتے، بلاآخراسی شکم کو خالی رہنے کی بندش نے اتنے سخت تنا ﺅ سے کسا کہ اُن کا بھوکا درندہ باہردبے پاﺅں شکار کی تلاش میںنکلنے کو بیتابی¿ امکانات کی مُشکوں میں کسا،حا لتِ بے کسی ،مگر صبر کی طنابیں توڑتادرندہ ،جب اپنوں کو ہی پھاڑ کھانے کے نزدیک پہنچ گیاتو۔۔؟
مگرکابل سے نکلے جلال آباد اور پشاور میں پھر بھی خوانین کے وظیفے ،خیرات و صدقات ،دیارِ غیر کے فقیر سمجھتے آپ ہی آپ اُن کی جھولی میں آگرا۔مگر یہی خوراک اتنی تسلی بخش کہاں،جیسی کہ فرنگی عملداری میں تھی۔۔!
فرنگی کی عملداری سے گزرتے ہوئے مالی اور غذائی اجناس کے بندھے گٹھڑ متواتر ملتے رہے ۔مگر آگے کا کوئی بھی علاقہ فرنگی مقبوضہ تو نہیں تھا،جو وائسرائے کی ہدایت کے مطابق مقامی انتظامیہ سے ہر نوع کمک ملتی رہتی۔چمن سے قندھار تک جمع کیا ہوا سٹورراشن بندھی کے بَل سسک سسک کر چلتا رہا۔مگر قندھا رمیں اس بے ترتیب قافلہ نما تھکاوٹ سے چُور ا جتماع کے پاﺅں دھرنے سے لے کر،کئی ہفتوںکا طویل فاصلہ پشاور تک بیچ میں حائیل، اُس مقررہ منزل تک پہنچنے تک خوراک اور دیگر اجناس اور سرمائے نے ختم ہونا ہی تھا۔ آخرمجاہدین کی خوراک اک انبار کی صورت اُن کے وجود میں پرویش ہوتی تھی اور ساری راہ میں آتی بستیوں کی مُسلم آبادیاں ،مسجدوں میں اُن کا واویلا سنتے ،غریبِ شہر جانتے ، جتنی اُن کی حیثیت تھی اُس سے زیادہ خیرات اُن کی جھولی میں ڈالتے رہے ۔مگر وہ ساری اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر،جو باجرے جوی اور گندم کی ملی جُلی روٹی اور پیازاور سِیر پر مبنی تھی ،مگر جیسے تیسے وہ پشاور پہنچے تو سہی۔مگر پشاور کے مختصر قیام میں نواحی بستیاں انجان بھیس بدلے ، چہروں پر ڈھاٹھے مڑے لٹیروں کے شب خون سے بِلبلاا ُٹھیں۔لٹیرے ڈاکو کون تھے ،اس کی ساری حقیقت تو اُن کے آگے نکلنے کے بعد کُھل گئی۔
ضرورتِ شکمی کے لئے خوراک اک لازمی ضرورت، مگر بے سروسامانی کے ان ایام سے نکلنے کی واحد راہ ، بستیوں پر شب خون، اور قتل وغارت گری میں لُوٹ سے ہی یہ سامان ہتھے لگ سکتا تھا ۔تو کفر و الحاد کے الزامات تھوپتے جا بجا حملوں کی ابتدا بھی ہوئی اور منڈیوں کے دیگر مذاہب کے نہتے مکینوں کی رہائش گاہوں اوردکانوںمیں مقتل گاہیں کُھل گئیں اورلُوٹ سے اُن جگہوں پر اتنا سا بھی اثاثہ باقی نہ بچاکہ بچے کھچے فراری پھر لوٹ کر اپنا ٹھیہ جما سکیں ۔
کیا عجب تھے ناصیہ سائی کے محرم۔!کِس انتہا پسندی کے بِرتے پر شرفِ وقار کو اپنایا ،کہ جس میں دوسرے کا احترام ملیا میٹ کرتے ،اپنے آپ کو حق پر موجزن قرار دیتے ایسے بے رحم طریقے اپنائے۔رائے بریلی کا سید اپنی سپاہ سنگ دِلّی سے ملتان ،اور پھر فرنگیوں کے مطیع میروں کے سندھ سے گزرتے چمن قندھار کابل ہوتے پشاور میں اُترا ،تین دن قیام کے بعد وہاں سے چمکنی ہوتے ہوئے ہشت نگر پہنچا اور خویشگی سے کوچ کیا تو نوشہرہ میں پڑاﺅ ڈال دیا ۔کہ دریائے سندھ کے اِس کنارے باجگذارمطیع قبائل کی علمداری تھی اور دریا پاررنجیت سنگھ کی ۔ دریا سندھ کے پار جرنیل بُدھ سنگھ اپنے لشکر کے ساتھ قیام پذیر تھا ۔سکھوں سے جنگ سے قبل روایتی طریقِ کار سے رنجیت سنگھ کو ایک اعلامیہ بھیجا جو کہ اک دکھاوا تھا ،اپنے ہر چہ کار میں تقدس کا شہد ٹپکاتے ۔اعلامیہ میں اُسے مسلمان ہونے کی دعوت دی بصورتِ دیگر اُن کی اطاعت کے سنگ جزیہ دینا قبولنے کا حکم نامہ ،ورنہ جنگ! ۔لیکن جواب آنے انتظار کِس کو تھا ،احتمامِ حجت تو اطلاع نامے کی کسروں میں مقید،سو جواب آنے میں تو دیر ہونی ہی تھی ۔ نامہ ¿ سید دربار میں بھجوانے سے پہلے، نامہ برہوا برابر پُرانی آشنائی کے بل بوتے رنجیت سنگھ کے مقررہ قاضی فتح الدین کی عدالت میں جا پہنچے ۔پُرانی شناسائی کے پھول توقاضی کے ذہن میں نہ کِھلے،مگر دربار میں حاضری دینے کی بجائے اُس کی عدالت کے در کھٹکھٹائے جانے پر شدیدالجھن میں لِپٹی حیرت ہوئی،مگرغریبِ شہر جانتے کسی کی شوریدہ سری کاقیاس دماغ میں اُترتے ہی وہ لرز گیا۔ فوراً حاضری کی اجازت مِلتے ہی وہ پانچوں کے پانچوں پگڑیاں گلے میں ڈالے ،ننگے سر ، اور ننگے پاﺅں ،ہاتھ جوڑے ہوئے داخل ہوئے ۔قاضی اُن کی حالت دیکھتے ہی جلال سے بھر گیا ،وہ ذہن میںاُٹھا پولا پھر گونج گیا،سمجھا کہ ان پردیسیوں پر کسی نے اپنی درندگی ہُشکار دی ہے ،جو سِکھ نہنگوں سے بعید نہیں تھا ۔اور اُس کی ایک للکار پر عدالت پہرے داروں سے بھر گئی ۔بتاﺅ غریبانِ شہر تمھارے ساتھ کِس نے ظلم روا رکھا ہے۔اس حکم کے جاری ہوتے ہی نامہ بروں کے چہرے یک دم آنسوﺅں کی چلتی چلہاروں سے بھیگ گئے ۔نہیں قاضی صاحب ہم پر یہاں کسی نے کوئی ظلم نہیں کیا ۔ہم تو مذہبی تُندی کے ہاتھوں مصلوب ہو رہے ہیں ۔ہم سکھوں کو ظالم اور بے دِین سمجھتے سید کے ساتھ اودھ سے ساتھ ہولےے تھے مگر مہا ساگر پارکرتے ہی یہاں کی شاہراہوں اور راستے کی سراﺅں نے تو مظالم کی کھنچی تصویر ہی جلا ڈالی۔ الزامات سوائے افواہوں کے پلندوں میں چُھپا جھوٹ تھا جو عیاں ہو گیا ۔رنجیت سنگھ کی عملداری میں تو کوئی گریہ نہیں سُنا۔آدھا دربار مُسلمانوں سے بھرا ہواحتاکہ کہ وزیر اعظم بھی مُسلمان اور آپ خود ۔۔؟
اتنے اہم عہدے پر آپ خود مسلمان ہوتے ہوئے بھی موجود ہیں بس ہمیںجواب کے ساتھ واپس نہ بھیجا جائے ، اور اس کے ساتھ ہی ہمارے دینی مدرسے کی یہ بات بھی عیاں ہوگئی کہ کتھولک چرچ کے ہاتھوں اور پوپ کے بحکم تین سو سال جو ظلم یورپ نے روا رکھا اُس کی انتہائی شکل پرتگیزیوں کی تجارت کے نام پر تنی چادرکے پھیلاﺅ تلے وہ اپنے بادبانی جہازوں پرجب سورت میں آئے تو مشنری اور پوپ کے بحکم مسجد کو آگ لگاتے تمام مُسلمانوں کو تہہ تیغ کیا ۔اس کا ثبوت اُن کے خطوط سے ملتا ہے ۔پرتگیزیوں کے ان مظالمانہ رویے کو رنجیت سنگھ کے سکھ ہونے کے ساتھ چسپاں گیا۔ یہ بھی اک جھوٹ دوجی نوعیت کے الزام سے مرصع تھا۔ اور شاہی مسجد اور نیلا گنبد والی مساجد جو مغلوں کی ہی بنوائی اور زیر انتظام چلتی تھیں اُن میں بارود کے گودام بنانے اور گھوڑے باندھنے کا اہتمام تو اک انتقام تھا جو مغلوں نے اُن کے ساتھ کیا اور پھر ابدالی کے سنہرے گردوارے کی تباہی اور لید اور تارکول سے بھری گئی امرت جھیل بھی اِسی بدلے کے پلڑے میں رکھی ہوئی تھی۔ کیونکہ کسی بھی مسلم فرقے نے مغلوں سے یا ابدالی سے اس سلسلے میں کوئی احتجاج نہیں کیا ۔بلکہ اُن پر ڈھائے گئے مظالم اور شکست پر دیو بند میں شادیانے بجائے گئے،مگرکسی کے دماغ میں یہ احساس نہیں گونجاکہ سنہری گوردوارے کی بنیاد تو میاں میر نے رکھی تھی ۔مگر اہلِحدیثوں اور دیوبندیوں نے تو،دِلّی چاندنی چوک اوردیو بندمیں سنہری گوردوار کی لُٹائی اور تباہی پرباقاعدہ گِھی کے چراغ جلائے ،اور پھر اسی گوردوارے کو، امرت پانی کی جھیل کو اور بابے کی کٹیا کو رنجیت سنگھ نے دوبارہ بنوایاتھا۔بس اسی مذہبی منافقت کا پردہ چاک ہونے پر ہمارے پاﺅں زنجیر ڈال دی ہے ۔ہم واپس جانے کے لےے تیار نہیں۔۔!    آپ ۔۔؟
آپ ہمیں بس یہاں ہی کسی بھی مُسلمان محلے میں رہنے کی جگہ دے دیں ۔اور کام کاج تو ہم نخاس میں ڈھونڈ ہی لےں گے ۔ویسے ہم پانچوں گھوڑوں کی نسلی اور کاکردگی کی پہچان سے بخوبی آشنا ہیںاور کِسی حد تک گھوڑوں کو سدھا بھی سکتے ہیں ۔اور پھر شمشیر زنی سے بخوبی آشنا ہیں۔
آپ نے جو کچھ کہا وہ سچ تو ہے مگرآپ احمد شاہ کے بھیجے ہوئے نامہ بر ہیں دربار کے، اور دربار میں حاضری آپ کی لازم ،مگر ساتھ ہی مجھے یوں محسوس ہواجیسے آپ تفصیل سے اِن تمام معاملات کو نہیں جانتے ۔ورنہ ابتدا سے ہی آپ لوگ اس انتہا پسندی کے جتھے کے ساتھ شریک نہ ہوتے،آپ چاہیں تودربار میں حاضری کے بعد میرے ساتھ کھانا کھائیں،وہیں یہ باتیں ہوجائیں گی ۔باقی رہی آپ کے قیام کی بات تو وہ بالکل عیاں ہے،آپ تخت لہور کے مہمان ہیںاور اُسی کے مہمان خانے میں ہی قیام کریں گے ۔
سِر شام بچھے صُفرہ پر پھیلی غذا سے جب سیر ہوگئے تو ان ہی کی فرمائش پر قاضی نے تاریخ کے پوشیدہ بکھرے ہوئے اوراق پلٹ ڈالے ۔یورپی مذہبی تشدد کے پیچھے در اصل مال و دولت اکٹھا کرنے کا جنون اور خونخواری لگی ہوئی تھی ۔پرتگیزیوں کے ملازم عرب جہاز رانوں کے بَل بوتے واسکوڈی گاما مئی ۸۹۴۱ءمیں براعظم افریقہ کا چکر کاٹ کر کالی کٹ کے مقام پر لنگر انداز ہوا ۔تجارت اُس کی آمد کا ظاہری سبب تھی ،جوہندوستان کے ساتھ منسلک تھی ۔مگر اس کی تہہ میںمذہبی انتہا پرستی کے پھیلاﺅ کا جنوں بھی چمٹا ہوا تھا ۔یعنی الف لیلہ کے اوراق سے سندباد جہازی نکلا ،اِدھر کا مال اُدھر،بحری جہازوں پر لیے پھرتا اور دولت کے ڈھیر سمیٹتا چلا جاتا ۔مشرق کی تمام تر تجارت داستانی تاجر کی طرح عرب جہازرانوںکی راہنمائی اور بدست پرتگیز یورپ منتقل ہوجاتی تھی ۔مشرق کی تمام تر اشیا بحیرہ قُلزم کے راستے مصر ہوتی ہوئی بحرِ روم کی بندرگاہوں تک پہنچتی تھی ۔اور زمانہ جہالت کے عرب جب مسلمان ہوئے تو یہی تجارت اُن کے مذہبی مقسوم میں منتقِل ہو گئی ۔ساری تجارت مسلمانوں کے ہاتھ میں تھی اور ہر ملک کی بندرگاہوں میں اُن کی تجارتی کوٹھیاں قائم تھیں۔ مصری بندرگاہوں سے لے کر انڈونیشیا اور چین تک بندرگاہوں میں سمندری بیڑے بھی مسلمانوں کے تھے ۔ملاح سے لے کر امیر البحر مسلمان تھے ۔پندرھویں صدی میں پہلی بار پرتگیزی جہاز ران سوداگری کا علم اُٹھائے مشرقی ساحلوں تک پہنچے اور پھر اسی سوداگری میں دیگر یورپین ممالک ولندریزی (ہالینڈ) اُن کے بعدہسپانوی، انگریز اور فرانسیسی بھی شامل ہوگئے ۔پُرتگیزیوں کی اُبھرتی ہوئی بحری تجارت کے پیچھے بحری لوٹ مار ،مذہبی جنون اور انتہا پسندی بھی شامل تھی۔ اسپین اور پرتگال سے مسلمانوں کو نکالنے میں پوپ کا پروانہ¿ جنت اور پُرتگیزی بادشاہ کی بھی اشیر باد شامل رہی ۔اسپین اورپُرتگال سے مسلمانوں کو نکالنے،سمندر میں دھکیلنے کی تمنا کے سنگ اُن صلیبی مجاہدوںکا انہیںتجارت سے بھی محروم کرنے کا عزم شامل تھا ۔جس میں بے شمار مسلمان لالچ اور عیاری میں پھنسے ان کے ممد و معاون رہے ،خصوصاً عرب نیوی گیٹر اور ملاح ۔پُرتگیزیوں نے بحر ہند میں آنے جانے والے جہازوں کو بے دریغ لُوٹا اور قتال کی رسم زندہ رکھی کہ اس سے جنت کی راہ اور بھی ہموار اور کشادہ ہوتی تھی ۔جنوبی ہند کے ساحلی علاقے بھی ان لٹیروں کی لوٹ اورقتال سے روندے گئے ۔۔!
پُرتگیزی امیرالبحر البوقرق نے گوا کو جب فتح کیا تو اپنے بادشاہ کو مطلع کرتے لکھا کہ گوا میں جو بھی مسلمان نظر آیا اسے تہہ تیغ کیا اور جو بچ کر مسجدوں میں جمع ہوئے تو ہم نے ان مسجدوں کو آگ لگا کر خاکستر کیا ۔سمندر سے آنے والے ہر قومیت کے لُٹیرے ،شمال سے آنے والے لٹیروں سے کم نہ تھے، اورنگ زیب کی بد انتظامی کی بدولت سارا ملک طوائف الملکی کی لپیٹ میں آچُکا تھا۔لیکن طوائف الملوکی اور سمندری بھوکی مخلُوق کے تصادم سے ضرور ایک شکل واضح ہوگئی اور وہ سارا علاقہ بلا آخرِ فرنگی کی مرضی میں گُھل مِل گیا ۔مگر پنجاب کا ہراک باشندہ شمال سے آنے والے حملہ آور لٹیروں کی بدولت سو سال تک سُکھ کی نیند نہیں سو پایا ۔اور پھر اپنوں اوربیرونی اور اندرونی قاتلوں اور لٹیروں کی تلوار کی دھار کے نیچے ہی لگا کٹتا رہا ۔اور جو کچھ بھی ہوا مذہبی انتہا پرستی کی بدولت ۔مگر رنجیت سنگھ کا دربار سجتے ہی جا بجا بے ہنگام علاقوں میں امن ہوتا چلا گیا ۔مہاراجہ کی عقل و فراست کی بدولت چالیس سال انگریز ستلج پار ہی ٹِکے رہ گئے اور اُس پتن کو پار کرنے کی کبھی جرا¿ت نہ ہوئی اور اب پھر سے مذہبی بنیاد پر سید باشاہ توسیع پسندی کا جال بچھانے میں لگے ہیں جس کا فائیدہ فرنگی کو ہوگا ۔بات تو بہت لمبی اور تفصیل مانگتی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ عقلمند کے لےے اتنا ہی اشارہ کافی ہے اور۔۔؟
اور اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ۔۔!
لیکن پیشتر اس کے کہ رنجیت سنگھ کی جانب سے کوئی جواب آئے رائے بریلوی ،سید احمدکے مو لوی شکم گُندے میں چُھپا ،بھوکا تیندوا پہاڑوں سے ترائی میں اُتر کھڑا ہوا۔
اکوڑہ میں سکھ سپاہ اپنی لشکر گاہ میںجو اکوڑہ سے باہر کُھلے میدان میں لگے خیموں میں محوِ خواب تھے ۔اور اس اطمینان سے لمبی تانے ہوئے تھے کہ مراسلہ لہور دربار چلا گیا ہے ۔اب جو کچھ بھی ہوگا وہ جواب پرہی اپنے پٹ کھولے گا ۔زیادہ سے زیادہ میدان جنگ میں دُو بدو ہونے کا سبب بنے گا اس دورانیے میں شب خون کاکوئی اندیشہ نہیں۔لیکن ۔۔؟
تیندوے کی بھوک تو پہلے ہی خوراک کی کمی کے سبب شدید تھی ۔مگر پہلے فاقے کی نوبت نے رائے بریلی کے انتہا پسند ایمانی متشددمولوی اور اُس کے بھوکے تیندوںکوشب خون مارنے پر مجبور کر دیا۔اور پوری درندگی سے چاروں چھاپہ مار دستے ،تین چار فرلانگ کے فاصلے پر خُشک پہاڑی نالے میں چُھپے کن سوئیاں لیتے رہے۔ سکھی لشکر کے طلایہ نے ناگہانی حملے سے محفوظ رہنے کے لےے خار دار جھاڑیاں اور ببول کے درخت کاٹ کر پڑاﺅ کے چاروں طرف ڈالے ہوئے تھے ۔مگر انتہا پرستوں کے چاروں دستے سنگھرکوصبح کاذب سے قبل آگ دکھاتے ،پھلانگتے لشکر گاہ میں گُھس گئے اور ہڑبونگ میں سکھی پہرے داروں کے ہاتھوں چلتی گولیوں سے تین چار مارے بھی گئے مگر انتہا پسند مختلف اطراف سے اندر گُھس پڑے اور خیموں کی طنابیں کاٹتے ،سوئے ہوئے ہڑبونگ کی سراسیمگی میں بیدار ہوتے سکھ فوجی جو مئے خوری کی انتہائی آخری لپیٹ سے باہر بھی نہ نکل پائے تھے کہ شروع کے خیموں کے کچھ فوجی اوپر تلے برچھیوں تلواروں اور گولیوں کی لپیٹ میںآکر دم توڑ گئے ۔اِس مکارانہ ہڑبونگ میںکافی سکھ فوجی مارے گئے ۔مگر ساتھ ہی اس غُل غڑپے کے سبب سکھی لشکر بیدار ہوگیا اور سنبھلنے کا لمحہ ساتھ ہی اُن پر وارد ہوگیا اور جنگ شروع ہو گئی ۔اس ہڑبونگ اور بادلوں کی تاریکی کی بدولت بُدھ سنگھ کے لشکریوں نے سمجھا کہ دشمن کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔مگر توپچی کے رن مہتابی جلانے اور کھینچی ڈور سے بلند ہونے پرسارے حملہ آوروںکی تعداد اور جگہیں واضح ہوگئیں اور ان چھاپہ ماروں میںسے بیشتر کا لمحوں میں ہی قلع قمع کرڈالا گیا، اور باقی فرار ہونے والوں کی زیادہ تعداد زخمی تھی۔اس کے بعد اُنہوں نے حضرو کے قریب سکھی عملداری کی منڈیوں اور قصبوں اور مختلف دیہاتوں پر چھاپے مارتے،قتل و غارت کرتے لُوٹ میں سارا سامان سمیٹ کرلیجاتے رہے ۔۔لیکن مال غنیمت کی مقدار دیکھتے ہی بیت المال کا شرعی حوالہ بیدار ہوگیااور لوٹا ہوامال اکھٹا کرنا چاہا ۔تو وہ آپس میں ہی لڑنے مرنے پر تُل گئے ۔مگر رائے بریلوی سید کی مداخلت پر باہمی فساد تو رُک گیا مگرلوٹا ہوا مال واپس نہ مِل سکا ۔تو اُس نے شرعی نفاذ کے حوالے سے ہی اپنی امامت کی بیت کروا لی ۔اور امامت کے واضح کیے گئے قانون کی بدولت تمام حواری قبائل کے سرداروں کی راسیں رائے بریلوی کے ہاتھ میں آگئی ۔اور وہ اسّی ہزار کے جنگجو لشکر کے ساتھ بالا کوٹ پردوبدو ہونے کے لےے اُتر آیا ۔لیکن بُدھ سنگھ کے قبائلی سرداروںسے سلسلہ جنبانی کی بدولت وہ سردار اور قبیلے جو خود سر تھے اور صرف اپنے سردار کی آوازپراپنے مفادات کی خاطر میدانِ کارزار میں اُترتے تھے ،اور اپنے قبیلے سے باہر کسی کے آگے سَرِ تسلیم خم نہیں کرتے تھے ۔اس بار رائے بریلی کے سید کے ہاتھ میں باگ ڈور دیکھتے ہی تلملائے بیٹھے تھے ۔ سید رائے بریلوی کی حیثیت کی حاکمانہ اطاعت اُن سب کو کِھل رہی تھی ۔اور وہ سب جدائی کے لمحے کے لےے کسی بیرونی طاقت کے اشاروں کے منتظر بیٹھے تھے کہ وہ بدھ سنگھ کی گفت و شنید کے بعد بالا کوٹ کا معرکہ شروع ہونے سے پہلے ہی وہ خوانین سید کی فوج سے علیحدہ ہوکر اپنے علاقوں میں پلٹ گئے ۔اور پھر۔۔؟
بالا کوٹ کے معرکے سے پہلے خوانین کے لشکروں کے ساتھ اسّی ہزار کی تعدار شمار کی گئی ،اور اسی کثرت کے غرور کے بَل سید رائے بریلی نے سردار بُدھ کے لشکر پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔سردار یار محمد کی بیس ہزار چاک و چو بند فوج اور توپ خانہ اس کے علاوہ تھا ۔سید بادشاہ ہنڈ سے نو شہرہ پہنچے ،تھوڑے سے توقف کے بعد شیدو کی جانب چل پڑے ۔جہاں سردار بُدھ سنگھ اپنے لشکر کے ساتھ پڑاﺅ ڈالے ہوئے تھا ۔شیدو کے میدان میں دونوں لشکر پہلی بار آمنے سامنے ہوئے ۔شیدو گاﺅں سے جنوب مغرب کی جانب سِکھی لشکرچاروں جانب سنگھرکے حصار میں خیمہ زن تھے۔سید بادشاہ کا لشکرخٹک کی پہاڑیوں سے متصل دریائے لنڈا تک ہلالی شکل میں جنگی ترتیب سے آ جما ۔سرداریار محمد اور اُس کے گھڑ سوار انتہائی مغرب میں تھے بائیں جانب متعین کیے فاصلے پریار محمد کے دونوں بھائی سُلطان محمد خان اور پیر محمدصف آرا تھے۔پیر محمد کے بائیں جانب سمہ کے خوانین فتح خان ،اشرف خان ،خادی خان اپنے اپنے سپاہ کے ساتھ صف آرا تھے اور اُن کے بائیں جانب سید بادشاہ کا لشکراور ساتھ ہی گودڑی شہزادہ کا لشکر مورچہ بند تھا ۔سنگھر سے نکلے اک سِکھی دستے نے دونوں لشکروں کے درمیانی پہاڑی نالے میں چار مورچے بنا لےے تھے اور سکھ لشکر کی توپیں اس طریقے سے نصب کی گئیں کہ پورا سید بادشاہ کالشکر اُن کی زد میں تھا ۔لڑائی کا آغاز مجاہدوں کے بے قابو و بے تاب دستوں نے کیا ۔سکھوں نے انہیں گولیوں پر رکھ لیا۔اور مجاہدین پر توپوں سے بمباری بھی کی مگر لُوٹ مار نے ان سے جان کاخوف چھین لیا ۔نالے کے چاروں سِکھی مورچوں پر گھمسان کی جنگ شروع ہوگئی اور قلب سے گودڑی شہزاد اور اُس کے ساتھی مجاہدگولیوں کی بارش سے اپنے ساتھیوں کی گِرتی لاشوں اور اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے سنگھر پھلانگ کر سِکھ لشکر گاہ میں جاگُھسے ۔قریب تھا کہ اس طوفانی جھڑپوں سے سردار محمد یار خان بُدھ سنگھ سے کیے معاہدے سے پھر کر لُوٹ مار کو روبروہوتے دیکھ کر شامل جنگ ہو جاتا۔ کہ ایک توپچی کا گولہ عین اُس کے قریب آگرا ،وہ تو بچ گیا،مگر اُس کے قریب ہی کھڑے کئی سواروں جو میدان جنگ کے اُتار چڑھاﺅ دیکھنے میں محوتھے ،اُن کے پرخچے اُڑ گئے ۔اور یار محمد اِسے بدھ سنگھ کا انتباہ سمجھتے اپنے فوجیوں کو نکل لینے کا نعرہ لگاتے بھاگ نکلا ۔مجاہدوں کے لشکر میں اُس کے بھاگتے ہی اک آوازہ اُس کی فراریت کا گونجا تو اُس کے دونوں بھائی جو خشک نالے میں اُتر کر دست بدستہ معرکے میں پھنسے ہوئے تھے ،وہ خبر سنتے ہی پیچھے نکل پڑے اور ساتھ ہی سمہ کے خوانین میں ابتری پھیل گئی ۔باقی ماندہ مقامی خوانین بھی شکست سمجھتے ہوئے اپنے لشکروں سمیت بھاگ نکلے اور ساتھ ہی سکھوں نے اپنا دباﺅ بڑھایا تو سید کے ساتھ آئے مجاہد بھی پسپا ہوگئے ۔اور واویلا ،فرنگی مورخوں نے رنجیت سنگھ کے مقابل یہ ہی تحریر کر وایا کہ مجاہدین سردار یار محمد خان کی بدولت جیتی ہوئی جنگ ہار گئے ۔شیدو کی جنگ کے فوراً بعد ڈمگلہ اور شنکیاری جیسی چھوٹی چھوٹی شب خون ماری گئی جھڑپوں کو بھی بہت اُچھالا گیا۔جس میں اچانک حملوں سے تقریباً دوسو سپاہ سکھ مارے گئے ۔!
اور پھر خونین کی علمداریاں مذہبی توضیحات کی بدولت پشاور سے امب تک سید بادشاہ کے زیرِ تسلط ہونے کے بموجب اُن کے دماغ میں اپنی فرقے کے قوانین ،جو دیگر فرقے کے ایمان کو شرک اور بدعت کے فارمولوں میں انتہا پرستی کی چکی میں پیستے مشرکین کو واجبِ قتل قرار دینے کا اک انتہائی شدید قہر کا ملغوبہ بنائے ہوئے اُن کے سروں پر ننگی تلواریں لےے کھڑے تھے ۔ اور بین ہی عبدالوہاب نجدی کے نقشے قدم پرچلتے تمام درس و تدریس سے جا بجا انتہا پسندوں کی ایک واضح جماعت بنانی شروع کردی اور اسی کے بل بوتے امامت اور امیری کا کج کلاہ نمایاںکرتے ،قوت اور تمام علمداریاں خوانینیں کی ہتھیا لیں ۔اور خوانین کے اندر اپنی بے ثباطی پر ایسی ہل چل اُٹھی کہ وہ سید بادشاہ کے سامنے سینہ سپر ہوگئے ۔جس میں اُن غیظ وغضب کے انگار ے برسا تے خوانین کی جنگی بے ترتیبی کی بدولت پے در پے تین معرکو ں میں شکست ہوئی اور پشاو ر بھی اُن کے قبضے میں آگیا ۔لیکن اس تسلط نے جس ریاست کی داغ بیل ڈالنے کی سعی کی ، وہی مذہبی تدبیر الٹی پڑ گئی ۔کہ معرکہ بالا کوٹ رونما ہوگیا ۔اور سارے خوانین سے کیے معاہدے ہواﺅں میں تحلیل ہوگئے اور عین وقت پر یوسف زئی اور درانی ان کا ساتھ چھوڑ گئے ۔لیکن اس کے باوجود سید بادشاہ کا ذہن اپنے ساتھ کی فوجی طاقت بدھ سنگھ سے ڈیڑھ پونے دو گُنا اب بھی زیادہ ہونے کی بدولت اور دوجے خوانین سے جھڑپوں میں فتح یابی کے غرور سے بپھرا ہوا،حد درجہ تیقن کہ اس فاتح نفری سے وہ سردار بُدھ سنگھ کی فوج کو مسل کر رکھ دیں گے ۔اور دوجے اُن کے اندر چُھپی ہوئی فرنگیوں سے زبانی قول و اقرار کی بندش سے نمو پائی درندگی ایسی کہ رنجیت سنگھ کے مضبوط فوجی بازو کو سید سے اُلجھے ہوئے دیکھتے ہی فرنگی دوجی جانب یعنی ستلج سے اُتر آئیں گے ۔مگر فرنگیوں کی چلتر بازی تھی کہ فتح یا شکست کسی کی بھی ہو،دونوں کی ہی قوت بُری طرح مجروح ہونے میں فائیدہ اُسی کا تھا۔بدھ سنگھ کی قوت کیا کم ہوتی ۔اُس کی منظم تربیت یافتہ فوج نے کُھلی جنگ میں سید بادشاہ کی تمام نفری کا تہس نہس کر ڈالا۔اور بچے کھچے مذہبی انتہا پرست کچھ ستھانہ کی جانب نکل گئے اور کچھ پنجتارکچھ کوائی،کچھ سوات ،بونیر، کچھ اسمست اور کچھ چمر کنڈ کے پہاڑی سلسلوں میں بکھر گئے ۔اس انتہا پسندی کے فرقے میں اک مُلّا عبدالغفور اخوند بھی تھا۔ جس کا نہ صرف سوات میںبلکہ پورے سرحدی قبائل میں بہت ہی نیچے تک احکامات کا وسیع جادو چلتا تھااور والی¿ سوات سید اکبر شاہ بھی جو جنگجو مزاج رکھتا تھا وہ بھی اس مُلّا کی مرضی کے خلاف کوئی قدم نہیں اُٹھا سکتا تھا ۔فرنگیوں نے جتنا فائیدہ ان مذہبی دیوانگی میں پھنسے ہوئے مجاہدین سے اُٹھانا تھا وہ تو اُٹھا چکی تھی اور اب وہ ان سرحدی قبائل میں اُن کی شدت پسندی کو برداشت نہیں کر سکتے تھے ۔ کل تک مجاہدین کی جماعت فرنگیوں کی حمایت سمیٹے ہوئے تھی ،لیکن رنجیت سنگھ کی علمداری پر فرنگیوں کا قبضہ ہوتے ہی اُن ہی کے خلاف ان کے پر نکل آئے ،اوکنلے کے بقول :
”مجاہدین کی باتوں میں اب انگریز کافر،اور اُن کے خلاف مسلسل نفرت کی آگ بڑکانے میں لگے ہوئے تھے ۔مولانا عنایت علی کی سربراہی میں مجاہد روزانہ پریڈاور ہتھیا استعمال کرنے اور جنگ لڑنے کی مشقیں کرتے اور جہاد کے متعلق نظمیں پڑھی جاتیں ،جمعے کی نماز کے بعد بہشت کی شادمانیوںکے بارے میں وعظ دیے جاتے ۔“
” مَیں اُن بے عزتیوں ، حملوں اور قتل و غارت کی تفصیلات میں جانا نہیں چاہتا جو۶۵۸۱ءمیں سرحدی جنگ کا باعث ہوئے ۔اس دوران میں ان مذہبی دیوانوں نے سرحدی قبائل کو انگریزی حکومت کے خلاف متواتر اُکسائے رکھا ۔ایک ہی بات سے حالات کا بڑی حد تک اندازہ ہوجائے گا ۔یعنی ۰۵۸۱ ءسے ۷۵۸۱ ءتک ہم علیحدہ علیحدہ سولہ فوجی مہمیں بھیجنے پر مجبور ہوئے جس سے باقاعدہ فوج کی تعداد۵۳ ہزار ہوگئی تھی ۔اور ۶۵۸۱ءسے ۰۶۸۱ءتک اُن فوجی مہموں کی گنتی بیس تک پہنچ گئی تھی اور باقاعدہ فوج کی مجموعی تعدادساٹھ ہزار تک ہوگئی تھی ،بے قاعدہ فوج اور پولیس اس کے علاوہ تھی “
یعنی ان انتہا پسندوں کے شرعی اصول صرف تلوار کی دھار سے ہم کلام ہونے کا شیوا اپنائے ہوئے تھے ۔ہر کس کہ ان کی متعین کر دہ راہ پرنہ چلے وہ کافر اور اُس سے جنگ لازم، اگر مارے گئے تو شہید جس کی جگہ جنت میں محفوظ،مگر بچ جائے تو غازی اور رستا خیزی میں اوراپنی جنت پانے کے لےے اور زیادہ کُفّار کا قتال کرے۔۔!
فرنگیوںنے اپنی طاقت میں مجموعی اضافے کی خاطرسرحدی صوبے میں جا بجا چھاونیاں بنا ڈالیں۔ اپنے مرا¿ت یافتہ خوانین سرداروں میں سے چناﺅ کرتے مختلف علاقائی ٹکڑوں کو ریاستی شکل دیتے اُن کو اپنی حکومت کے زِیرِ دست اک نیم خود مختار علمداری کا نواب یا بڑا خان بنا ڈالا ۔اور یہی اخوندسوات میں کیا گیا ۔مُلّا عبدالغفوراخوند ایک متشدد وہابی تھا ۔اور وہ اپنے پروگرام پکانے میں کِسی طرح بھی فرنگیوں سے پیچھے نہیں تھا۔وہ مجاہدین کے معرکوں میں ہار جیت پر کڑی نگاہ رکھتا ،اور انعام میں اپنے منصوبہ جاتی مذہبی تسلط کو اپنی ریاست میں قائم کرنا چاہتا تھا ۔اور جو ریاستوں کی علمداری ملتے ہی شروع ہوگئی اور سوات میں اُس کا چاک شدہ متشدد قانون نافظ ہوگیا ۔لیکن اس کے انسانیت کُش نتائج آنے والی نسل کو بھگتنے پڑے ۔فرنگیوں کا کیا گیا۔اس نے تو بس لالچ کا اک ایسا لاسہ لگایا تھاجو انتہائی وجود کے رگ و ریشے میں نسل در نسل رواں دواں ہوگیا ۔
فرنگیوں سے سیکھی سید بادشاہ کی ساری فریب کاری اور مکاری کی شطرنج چالیں،اُسی زمان میں عیاں ہوگئی تھیں ۔اگر ایک اسلامک سیٹیٹ کو وجود میں لانے کی ان متشدد وہابیوں کے دل میں آرزو تھی تو اس کام کے لےے پور ا افغانستان کُھلا پڑا تھا۔مگر مذہبی انتہا پسندی کی انتظامیہ میں کوئی سلوک کی صورت ہی نہیں ہوسکتی۔ وہ توسعودی ریگ زاروں کے مسافر تھے،جو زمین سے کالا سونا برآمد ہونے کے بعد قوانین کو اپنی نمائشی صورت میں انصاف سے پُر کرتے ،اپنی آمدنی سے ہر سعودی کا وظیفہ باندھے ہوئے تھے۔ جس کی بدولت ،اُن کی پہلے والی خونخوار چِیرپھاڑ کرتی ،لُوٹتی فطرت معدوم ہوگئی ۔ورنہ اس سے پیشتر قتال کرنے کی رسم کو اپنا عقیدہ مانتے اور لُوٹ کے مال کو مال غنیمت جانتے تھے،حتاکہ حج پر آتے حاجی بھی ان کی دریدہ دہنی سے کبھی نہ بچے ،وہ تو حاجیوں کی جیب الٹا کر الف ننگا ،انہیںبھوکے پیاسے، صحرا کی پیاس بجھانے،ریتلے مرغولوں میں اُتار کر ، دوڑلگوا دیتے تھے۔۔اور یہی شیوا صرف الفاظ کے ہیر پھیر سے یہاں کے مجاہدین اور طالبان کا ہے ۔ افغانستان میں وہ تصادم کے بغیرتبلیغی حربہ آزما تے ہوئے اپنے مقصد کو پہنچ سکتے تھے ۔اورسنٹرل ایشیا میں توسیع پسند زارِ روس کی وحشی و ظالمانہ کاروائیوںسے اپنے مسلمان بھائیوں کے بچانے کے لےے یہ ہی بفر اسٹیٹ محافظت اور پناہ گاہ کا کام کر جاتی۔مگر اُن کی قہار،درندہ صفت حریص آنکھیں تو کہیں اور ہی لگی رہتی تھیں ۔ہندوستان کی بات تو بہت بعد کی ہے ۔اور وہاں فرنگی سے دوستی کی بجائے تصادم کا در کھول بیٹھتے ۔مگر وہ رنجیت سنگھ کو فنا کرنے یا کمزور کرنے کے لےے آزاد قبائلی علاقے میں فرنگی کی پوری مدد کے ساتھ جاپہنچے ۔جب کہ اس سکھا شاہی حکومت پر انگریز چڑھائی کرنے اور دو بدو ہونے سے ہچکچاتا رہا ۔ حقائق سے اجتناب کرنے والے تو ان کے حق میں یہ بھی کہتے ہیں اگر خوانین آزاد قبائل سید باشاہ سے انحراف نہ کرتے اور بادشاہ سید پر چھوٹے چھوٹے خوانین کے ساتھ ٹکراﺅ کی فتح کاہوائی کُلاہ سر پر کسا گیا نہ ہوتا اور رنجیت سنگھ پر فتح پانے کی جلد بازی میںان کے لشکر کوبدھ سنگھ کی فوج معرکہ¿ بالا کوٹ میں تہس نہس نہ کرگئی ہوتی تو شایدفرنگی دریائے سندھ کے پار کے علاقے میں مجاہدین کے مقبوضہ کے سامنے گُھٹنے ٹیک چُکے ہوتے ۔مگر جنگی معرکوں میں تدبر کی اہمیت اولین حیثیت ہے ۔مگر اُسی تدبر میں یہ بات گھول کر پِلائی جاتی ہے کہ آپ کس کی طرف ہیں ظاہری طور پر ،اور کس کی طرف تشریف کا ٹوکرا جمائے ہوئے ،انتہائی اتھاہ میں سازشی انگلی کس کی ہے اور کِس کَس بل پر تھامی ۔ اس ساری تشریح کے باوجود آپ کی آنکھوں پر مذہبی پٹی بندھی ہوئی ہے اور وہ بھی انتہا پسندی کی تو ہم اس جھوٹ گٹھڑکے بندنہیں کھولتے اور مان لیتے ہیں کہ غلطیاں ہوئیں اور اس میں بنیادی غلطی یہ ہوئی کہ سید رائے بریلی نے ہندوستان سے سرحدِ آزاد میں پہنچ کر دعوت و تبلیغ کے کام کِیے اور تحریک کے مقاصد مقامی لوگوں کے دل و دماغ میں بٹھائے بغیر محض اس مفروضے پر سکھوں سے جنگ چھیڑ دی کہ اس علاقے کے پختون لوگ مسلمان ہیں اور سکھوں کے ہاتھوں زخم خوردہ ، اس مہم میں لازماً ان کا ساتھ دیں گے کہ یہ جنگ برصغیر کے مسلمانوں کی نہیں خود اُن کی اپنی جنگ تھی ۔تیز و تند حالات سے نبٹنے کے جذبے نے یہ حقیقت اُن کی نگاہوں سے اوجھل کردی کہ محض جذباتی عقیدت بے بنیاد ہوتی ہے اور جذباتی رشتے جذبات کی بڑھتی گھٹتی لہروں کے ساتھ ساتھ متاثر ہوتے رہتے ہیں ۔جذبات اور صرف جذبات کے سہارے کوئی ٹھوس اور پائدار کام سر انجام نہیں دیا جا سکتا اور نہ نِرے جذباتی انسان کسی موقف پر اس طرح جمے رہ سکتے ہیں کہ حالات کی آندھیاں اور طوفان چاہے کتنی ہی شدید اُٹھیں وہ اپنی جگہ سے ہلنے نہیں پاتے ۔جذبات بلا شبہ کسی تحریک اور دعوت کی کامیابی میں اہم کر دار ادا کرتے ہیں لیکن اُس کی اصل قوّت محض جذبات کے مدوجذر پر چلنے والے لوگ نہیںہوتے بلکہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس تحریک اور دعوت کو حق سمجھ کر شعوری طور پر قبول کرتے ہیں اوراس کے اصول و نظریات اور مقاصد اور اُن کی زندگیوں میں روح کی طرح رچ بس جاتے ہیں اور اس کے نصب العین کو پوری طرح سمجھ کر اپنی زندگی کا نصب العین قرار دیتے ہیں۔
معرکہ¿ بالا کوٹ فرنگی کے لےے انتہائی تحیر خیز اور جنگی چالوں کا محفوظ درس تھا ۔شمال سے جنوب تک کا پہاڑی سلسلہ دریائے کنہار کی بدولت اب بھی دوپھاڑ ہے اور زمانِ تندی میں دریا دائیں بائیں رگڑ کھاتے پہاڑی مٹی ریت اور سنگلاخ سنگ ریزوں کو ساتھ لےے جنوب کی پہاڑی سدّکو چیرتا ہوا وادی¿ کاغان سے نئی وادی میں داخل ہوتا ہے جہاں پہاڑی نشیب وفراز کے پھیلاﺅ پربالا کوٹ کی آبادی ہے ۔مٹی گاﺅں کے دامن میں اونچی نیچی پہاڑی کھیتیاں ہیں جو مٹی کوٹ نالے سے ست بنے نالے سے بھی آگے تک پھیل جاتی ہیں۔اسی پہاڑی نشیب و فراز میں مجاہدوں کے لشکر نے ہلالی شکل میں صف بندی کی کہ اس پہاڑی نشیب وفراز میں مخصوص پہاڑی تربیت جو سکھوں میں اورنگ زیب کے وقت سے پرویش کر گئی تھی ۔اسی کی بدولت اُن کے ہلالی قدامت کو بدھ سنگھ کی میمنا اور میسرا بازوں سے دوبدو ہونے ،اور سکھی توپ خانے کی گولہ باری اور گولیوں کی گھن گرج اور جا بجا دست بدست تصادم کے سورج کے ڈھلتی ہوئی دھوپ میں اُن کے مقتولوں کی زیادتی کے سبب سید کے لشکر میں پسپائی کے آثار نمایاں ہونے لگے۔مگر محفوظ دستوں سے کمک پہنچ گئی ۔اور تھکے ہوئے اور زخمیوں کو ایک طرف ہٹاتے اُن کی جگہ لیتے سکھی فوج کے روبرو ہوگئے ۔ اور تصادم کے شروع ہوتے ہی قلب بھی اس گھمسان جنگ میں بے خوف و خطر ٹوٹ پڑا ۔مجاہدوں اورسکھ فوج کی توپوں کی گرج سے زیریں محلے سے بالا پہاڑیاں مٹی ریت اور دھویں سے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں چُھپ گئیں اور رایفلوں سے چلتی گولیوں ، تلواروں ،برچھیوں سے بالا کوٹ کی زمین بھر گئی ۔دونوں جانب سے لشکری انتہائی سرفروشی اور جاں نثاری سے لڑے کہ سورج غروب ہوتے ہی جنگ نے دونوں فوجوں کے درمیان ایک سیاہی کا پردہ حائل کر ڈالا ۔اوردوجا روز بھی اسی سرشاری سے غروب آفتاب تک چلا مگر ایک بڑی تعداد مجاہدوں کی رات کی سیاہی میں نکل بھاگی تیجے روزسے ابھی سورج نصف النھار پر بھی نہیں پہنچا تھا کہ سیدبادشاہ اور دیگرمقابرین کے ختم ہوتے بچے کھچے مجاہد اپنی جانیں بچاتے مختلف علاقوں میں فرار ہوگئے ۔اور ستھانہ ،سوات بنیر کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے میں ان گنت غاربیشتر کی پناہ گاہ بن گئے اور بیشترکے لےے تیراہ کی وادی اُن کی رہائش گاہ بنی ۔اور سید بادشاہ کے بعد قیادت مولانا ولایت علی کے ہاتھ آئی اور پھر۔۔؟
اُس کے بعد مولاناعنایت کی امیر ی پر بیت ہوئی ،مولانا منگل تھانہ سے ستھانہ اکٹھے ہوئے ۔اور ۳ دسمبر ۲۵۸۱ءمیں علاقہ¿ امب میں شب خون مارا اور عشرہ اورکوٹلہ پر قبضہ کر لیا لیکن نواب کے حلیف نواب کی مدد کو آپہنچے اور زبر دست جنگ کے بعد مجاہدین کو عشرہ اور کوٹلہ لُوٹ کے مال سمیت خالی کرنے پڑے مگر جنگ میں مجاہدوںکا انفرادی نقصان بہت زیادہ ہونے کی بدولت پھر فرار ہوگئے ۔اُس میں سے کافی لوگ ستھانہ سوات اور بُنیر کی نشیب و فراز کی دشوار گذار پہاڑی پناہ گاہوں میں جاچھپے۔ اور وہ قندھاری دُرانی، پدرِ بزرگ کا لاڈلا پوتا ،معرکہ¿ بالا کوٹ کے بعد مجاہدین کی کسی پناہ گاہ کی طرف نہیں لپکا۔وہ تو قندھار کے نواحی گاﺅں کی جانب پلٹ گیا ۔
لیکن سوات میں اخند مُلّا کی مرضی کے بغیر کوئی قدم نہیں اُٹھاسکتے تھے جو وہابی العقدہ ہونے کے ساتھ ساتھ انتہا درجے کا متشدد بھی تھا اور انگریزوں کے بنائے قوانین کو اپنی مذہبی انتہا پسندی کے لےے لازمی جُز قرار دیتا۔ پہلے تو درگذر کی پالیسی اُس کی جانب بڑھائی اور پھر اُسے اُس علمداری میں اپنا بنایا ہوا نظام لگانے کی اجازت دیے دی لیکن وہ اپنے دائرہ اثر و رسوخ میں مکمل آزاد قرار دیے جانے کی بدولت وہ معتدل وصلح پسند مجاہدین کے مقابل آکھڑا ہوا اور اسی صورتِ تصادم میں فرنگی کی بھلائی تھی مگر اس کا اثر اُس وقت تک رہا جب تک مالی معاونت چلتی رہی اور جو فرنگی صاحب بہادرکی منڈی خرید و فروخت کی چادر تلے پنہاں انگلیوں کی حرکتِ لسان نے اُسے فرمانِ الامر بنادیا گیا ۔مگر جب مفادات ختم ہوئے تو مال بھی بند تو متشددانتہا پسند پھر سے بپھر پڑے۔مگر اب ابتلائی ظلم ٹوٹا مظلوم آبادیوں پر۔ فرنگی سے دوبدو ہونے کی صورت تو لُکن میٹی میں کھیلتی ،دوچار کا اپنوں میں سے خون دیتے اور دوچار فرنگیوں کا خون پیتے،فرار کی راہ سے دشوار گزار پہاڑوں میں جا چُھپتے ۔ اورپھر اس کے بعدکے ادوارمیںیہی عمل، تیغ کی زُبان فتووں کے سلاسل میں جکڑتی اور اُسی کی دھار ن سہتی آبادیوں کی گردنوں پر پھرتی رہی ۔حاکمیت تو پھر بھی فرنگی کی ہی رہی۔جو سجدے کی محراب میں انگریز کے روبرو دوزانوں ہوا۔اُسے اپنے مطالیب کی مساجد بنانے اور خطبے دینے اور چندے اکٹھے کرنے کی مکمل آزادی ،مگر اُس ممبر سے کبھی بھی فرنگی کے خلاف بغاوت پر نہیں اُکسایا گیا ۔۔!
کیا عجب تھے ناصیہ سائی کے محرم ۔!کِس انتہا پسندی کے بِرتے پر شرفِ وقار کو اپنایا ،کہ جس میں دوسرے کا احترام ملیا میٹ کرتے ،اپنے آپ کو حق پر موجزن قرار دیتے ایسے بے رحم طریقے اپنائے ۔اِسی طور پر اپنا قہر منوانے فرنگی کی قانونی حیثیت کو سلام کرتے،فرنگی کی ہی مفتوح دِلّی میںایک روز میںدس ہزار کامُسلح اجتماع اکھٹا ہو گیا تھا ۔!کچھ وقت تو ضرور لگا ہوگا ۔ان کی ضروریاتِ زندگی کے لوازمات بھی ضرور لائے گئے ہوں گے ۔مگر ان کی سمجھ بوجھ میں یہ بات آج تک نہیں آئی کہ فرنگی نے اتنی بڑی تعداد کیسے برداشت کی ۔اگر وہ فرنگیوں کے پروردہ نہیں تھے تو نکلے کیسے دِلّی چاندنی چوک کی مسجد سے مسلح دس ہزار سپاہ کے ساتھ ،اورپھرجا نکلے قندھار باراستہ ملتان وچمن کہ تمام تر زمین مقبوضہ تھی فرنگی کی ،جس کی شفقت کافلک الآفلاک اُن کے سر پر تنا ہوا اور ہر نوع محبت بشمولِ دامِ درمے شاملِ حال تھی ۔یعنی اُن کے خون میں رچی مرا¿ت یافتگی کی اُتاری گئی خالص مکھن دودھ اور گھی کی چکناہٹ میں پلی چاپلُوسی نے غیریت کی ہر رمق کو مِٹاڈالا تھا ۔اور۔۔؟
اور اُن کی نظر میں وہ توسیع پسند ظالم نہیںتھا کہ جس نے ،بنگال و بہار لوٹا ،پورا یوپی روند ڈالتے ہی اپنی امارت اور عملداری کی دہشت پھیلاتا فوجوں کی چھاونیاںنیٹو کی لاشوں پر استوار کر ڈالیں۔اور فرنگی سوداگروں نے ان ہی مقامات سے سونے چاندی کے انبار اپنی لوٹ کھسوٹ سے اپنے خزانوں کو پُر کر ڈالا۔ظالم فرنگی نہیں بلکہ ظالم تھا رنجیت سنگھ ۔؟کیا عجب فیصلہ ہے مذہبی دھار سے گردن کاٹنے کا ۔!جس نے چالیس سال امن قائم رکھا ۔ اور لوٹ مار کرتے خوانین کو خراج کی راسیں ڈال دیں تھیں۔جس کی انگریز مورخین اور مقابرین فوج اور ویسرائے تک معترف رہے ۔لیکن سازشی سیندھ لگانے سے وہ خودکبھی بھی موقعہ محل کو اپنے چَلِتّر فریب کوٹالے نہیں ٹلے۔اور مجاہدین کا منفجر کرتا بارود گھر اُن ہی کے اشارے پر بنتا چلا گیا ۔جو اپنی لُوٹ اور خونخواری کا پیٹ بھرنے کے لےے اب تک دوجے فرقوں کی معتقدین سے بھری عبادت گاہوں ،عمارتوں او ر لوگوں کے اجتماع کو چُھپتے چُھپاتے ،بھیس بدلے ،منفجر کرتا پھرتا موجود ہے ۔ اور فرنگی تو اپنے خوف کو چھپانے اور اپنی حفاظت کے لےے مقامی جوانوں کی وافر تعداد سے جا بجا چھاونیاں بناتے ،اُس کے پڑاﺅ کو مضبوط کرتے،بھرتے چلے گئے ۔جن کی شاہ رگ ناردرن کمانڈ چھاونی میں کمک کے سرے پر جمی حفاظتی تمغہ سجائے بیٹھی تھی ۔۔

٭ ٭ ٭ ٭ ٭

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: