خود شکستہ ۔۔۔ سرمد سروش
خود شکستہ
(سرمد سروش)
۔خود شکستہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عجیب بے تاب دل دیا ہے
کہ زندگانی کی لے کا دم ساز ہو نہ پایا
مجھے نہ باہر سے آنچ آئی
میں اپنے اندر سے زلزلایا
مثالِ قشرِ زمین اک بار
پھر سے شاداب ہو رہا ہوں
تو خوف یہ ہے
کہ جیسے لاوا ہے مرکزے میں
دروں میں اپنے دہک رہا ہے
خموش آتش فشاں نما ہوں
میں اپنے اندر کا شور سننے سے ڈر رہا ہوں
میں اپنی محفل میں بیٹھنے سے گریز پا ہوں
میں اپنی کشتی کا چھید ہوں اور
اپنی راہوں میں سنگِ رہ ہوں
کمان کھینچی ہوئی ہے جس نے، وہ شخص میں ہوں
جو تیر چلے سے چھوٹنے کو مچل رہا ہے
وہ تیر میں ہوں
ہدف پہ جو آدمی کھڑا ہے، وہ آدمی ہوں
تضادِ فطرت کا آئینہ ہوں،
بہار کے ہاتھ سے جو گلشن سجا کے
دستِ خزاں سے پھولوں کو توڑتی ہے!
سو آپ اپنے سے ڈر رہا ہوں
عجیب بے چین آدمی ہوں