درد کا جغرافیہ ۔۔۔ ثروت نجیب

درد کا جغرافیہ

ثروت نجیب

چرچ میں ایک کمیونٹی دعوت تھی ۔ ایسی دعوتوں کا مقصد دراصل کمیونٹی کو آپس میں جوڑے رکھنا ہے ۔ اچھی بات یہ ہے کہ وہ ہمیں بھی بلاتے رہتے ہیں تاکہ دو مذہبوں کے درمیان محبت و بھائی چاری کی فضا قائم ہو ۔ وہاں مجھے ایک خاتون ملیں جو اپنی کرسی چھوڑ کر میرے پاس آ کر بیٹھ گئیں ۔ خاتون عمر کے لحاظ سے ستر سال سے اوپر تھی مگر صحت اور ظاہری حلیے سے لگتا تھا جیسے ابھی ابھی ساٹھویں سالگرہ منا کر آ رہی ہوں ۔ فراغ پیشانی اور نمایاں لافٹر لائن سے معلوم ہو رہا تھا کہ خوش مزاج خاتون ہیں ۔ سلام دعا کے بعد انھوں نے افغانستان کے بارے میں بات چیت شروع کر دی ۔ کہنے لگیں پہلے تو روس اتنی دور سے آ کر افغانستان پہ حملہ آور ہوا اور سب تہس نہس کر دیا ہھر افغان پاکستان جا بسے ایسا کیوں ؟

۔ میں حیران ہوئی شاید مغالطہ ہوا ہو پھر ہجرت کی بات چلی تو کہنے لگیں افغان مہاجرین پاکستان کیوں گے ؟ مڈل ایسٹ کے پڑوسی ممالک نے مدد کیوں نہیں کی ؟ میں نے انھیں سمجھایا کہ روس ہمارا پڑوسی ملک ہے وہ دور سے بالکل نہیں آیا تھا بس دیوار پھلانگ کے آ گیا تھا ۔ دیوار جو سرے سے وجود ہی نہیں رکھتی ۔ دوسرا پاکستان بھی ہمسایہ ملک ہے ۔ تو وہ چونکیں کہ اچھا اچھا مطلب افغانستان مڈل ایسٹ میں نہیں ہے ؟ ۔

میں یکسر انکار کرنے کے بعد تھوڑا نقشہ سمجھایا تو ان کا سوال تھا چین کیسے نزدیک ہوگیا افغانستان کے وہ تو پرلے ہہاڑوں کے ہیچھے نہیں ہے ؟

میں نے پھر وضاحت کی کہ پرلے پہاڑوں کے ہیچھے تو منگولیا ہے ۔

میں دھیرے دھیرے بور ہونے لگی ۔ معلوم نہیں کہ ان کا جغرافیہ عمر کی وجہ سے کمزور ہوگیا تھا یا پہلے سے ہی ایسا تھا ۔ ویسے امریکیوں کا جغرافیہ کافی خراب ہے ۔ میرے بیٹے نے بھی یہی شکایت کی تھی کہ مورے ؛ سکول میں ایک بچے کو جب میں نے کہا کہ میں ایشیا سے آیا ہوں تو اس نے کہا وہ کیسے ؟

تم تو افغان ہو اور ایشیا تو ویت نام کو کہتے ہیں ۔

ایشیا سے یاد آیا ایک دفعہ مجھے ایک فارم فل کرنا تھا جہاں مختلف نسلیں لکھیں تھیں ۔ ہسپینک ، نیٹو امریکن ، ایشئن ، وغیرہ وغیرہ میں نے فارم فل کر دیا ۔

تو خاتون فارم دوبارہ لے کر آئیں کہ آر یو شور تم ائشین ہو ؟

میں نے کہا بالکل مجھ سے کوئی غلطی نہیں ہوئی ۔مسکرا کر کہنے لگی میں نے پہلی بار سبز آنکھوں والی ایشئن دیکھی ہے ۔ پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا ؟ پھر ہوچھنے لگیں تمھارے آباو اجداد بھی ایشئن ہی تھے کیا ؟

میں نے کہا میرے آباواجداد اور ان کے آباء سب ایشین تھے ۔

وہ قہقہ مار کر ہنسی اور کہا مائی گڈنس ۔

یوں تو مجھے وہ افلاطون بھی ملے جو مجھ سے ذیادہ سنٹرل ایشیا کو جانتے تھے ۔ ایسے ایسے علمی سوالات پوچھ لیتے جن کا جواب دینا مشکل ہو جاتا ۔ کئی بار میں سوچ میں پڑ جاتی یہ کون سی کتابیں پڑھ کر آیا ہے ؟ کابل گیا نہیں مگر کابل میں چوک کے اندر دفن پیر کی زیارت کا بھی علم ہے ۔

جن کو افغانستان کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا مشکل وہ کھڑی کر دیتے تھے ۔

وہ خاتون سوال پہ سوال کر رہی تھی اور ہر سوال انتہائی بےتُکا ۔ میرے مفصل جواب اسے اور الجھا رہے تھے ۔ آخر کہنے لگیں مجھے لگتا ہے اس کے لیے ہمیں ایک دو بار اور ملنا ہوگا ۔ اگر برا نہ منائیں تو میں آپ کو کافی پہ بلانا چاہتی ہوں ۔

میں نے کہا ضرور میں ملوں گی آپ سے ۔ میں نے تین چار کتابوں کے نام لکھ دیے کہ ان کو پڑھ لیں بہت اچھی اور علم افزاء ہیں ۔ل۔ یہ آپ کو افغانستان ، سنٹرل ایشیا اس کی ثقافت اور سیاست کو سمجھنے میں مدد کریں گی ۔

خاتون بہت خوش ہوئیں پر مجھے ایسے لگا جیسے میں بھینس کے آگے بین بجاتی رہی میرا ایک گھنٹہ ضائع کر دیا ، کھانا بھی میرا ٹھنڈا ہو گیا اور محفل بھی ختم ہوچکی تھی ۔

ہفتہ دس دن نہیں گزرے ہوں گے کہ مجھے بلانش ملی ۔ وہ لڑکی نہیں سلگتا ہوا ایک انگارہ تھی جس نے میرا جغرافیہ بھی درست کر دیا ۔

بلانش سے میری ملاقات ایک تقریب میں ہوئی جہاں ہم دونوں گیسٹ سپیکر کے طور پہ بلائے گئے تھے ۔ بلانش افریقی خواتین کی نمائندگی کر رہی تھی جبکہ میں افغان خواتین کی ہجرت کے قصے سنانے کے لیے گئی تھی ۔ بلانش کی آواز بہت مدھم تھی جسے ہم انگلش میں soft spoken کہتے ہیں مجھے تعجیب ہوا میری معلومات کے مطابق افریقی لوگ اونچا اونچا بولنے کے عادی ہوتے ہیں ۔ بلانش کی داستان سن کر میرا دل دہل گیا مجھے اپنی ہجرت معمولی دیکھائی دینے لگی یا یوں کہہ لیں مجھے امریکہ آنے والے افغان مہاجرین وی آئی پی لگنے لگے ۔

بلانش کا تعلق کانگو سے تھا ۔ جب اس نے مجھے کہا ” میں کانگولیس ہوں “ تو میں پوچھا یہ افریقہ کا کوئی قبیلہ ہے اس نے کہا نہیں ، جیسے تم افغانستان سے افغان ایسے میں کانگو سے کانگولیس ۔

اس نے نے سات سال زمبیا کے ایک مہاجر کیمپ میں گزارے ۔ سات سال ایک جیسی خواک ملتی رہی صبح دوپہر شام اور سات سال تک اس نے اپنی ماں کو نہیں دیکھا جبکہ اس کی والدہ اس کے کیمپ کے پہلو میں ایک دوسرے کیمپ میں تھی ۔ بلانش نے کہا “ میں سات سال اس دیوار تو دیکھتی تھی کہ اس دیوار کے اُس پار میری ماں رہتی ہے ۔ مجھے بس اتنا علم تھا کہ وہ زندہ ہے ۔ ماں بیٹی کو ایک کیمپ میں رکھنے کی کسی نے کوئی کوشش ہی نہیں کی وہ ماں کے دیدار کو ترستی رہی کہ اس کے نام ایک بار پھر ہجرت کا قرعہ فال نکلا ۔ اس بار اسے ہزاروں میل دور امریکہ جانا تھا ۔

امریکہ ! اس نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ کبھی امریکہ جانا ہوگا ۔ اپنجے والدین اور بھائیوں کے بغیر بالکل تن تنہا ، وہ یہ کہتے ہوئے رونے لگی کہ کیمپ میں اس کے ساتھ دو بھائی تو تھے مگر انھیں امریکہ نہیں بھیجا گیا ۔ بلانش کو اکیلے ہی سفر کرنا تھا ۔ اسے اچھی خاصی انگلش آتی مگر پھر بھی وہ بولتے بولتے بوکھلا جاتی ۔ میں نے اس سے پوچھا کہ زمبییا میں کیوں رہتی تھی ؟ اس نے کہا زمبییا ہمارا پڑوسی ملک ہے جب کانگو کے حالات خراب ہوئے تو وہ زمبییا پہنچے ۔ جہاں اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کے مہاجر کیمپ تھے ۔ وہ فر فر فرینچ بولتی تھی ۔ میں نے پوچھا اتنی اچھی فرینچ کہاں سے سیکھی جبکہ کانگو میں سکول کا بھی مسئلہ تھا اور زمبییا میں بھی تعلیم کا کوئی خاص بندوبست نہیں تھا ۔اس بار اس نے مجھے حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا کہ فرینچ ہماری قومی زبان ہے ۔ جب امریکی دوست مجھ سے پوچھتے کہ یہ افغان مہاجرین پاکستان کیوں گئے جبکہ افغانستا

ن تو مڈل ایسٹ میں کہیں ہے تو میں ان کی کم علمی پہ مسکرا دیتی اب مجھے اپنی کم علمی پہ رونا آ رہا تھا ۔ مجھے افریقہ لے بارے میں نہ ہونے کے برابر معلومات تھیں جو بلانش کے دکھ سمجھنے میں روکاوٹ بن رہی تھیں ۔ وہ ایک مکمل ملاقات مجھے ادھوری لگنے لگی ۔ اس کے بعد میں بلانش سے کئی بار ملی ہر بار ایک نئے راز سے پردہ اٹھا ہر بار مجھے افریقہ کا ایک اور چہرہ دیکھائی دیا جس نے افریقہ کے عوام کے لیے میرے دل کآ گوشہ نرم کر دیا ۔ مجھے بلانش کی کہانیوں سے مظلوم اور مجبور افریقی جھانکتے دیکھائی دینے لگے جن کے وسائل پہ قبضہ کرنے والے عفریت انھیں ویسے ہی آپس میں لڑوا رہے تھے جیسے افغان عوام کو کبھی مجاہدین اور کبھی مُلا کے نام پہ لوٹتے رہے ۔

اس نے کہا افریقہ کبھی ہوا کرتا تھا ہمارے بزرگ اپنے اپنے قبیلوں میں بٹّے تھے اسلحے کے نام پہ ہمارے پاس نیزے اور بھالے ہوا کرتے تھے پھر کسی ان کے درمیان پھوٹ ڈال دی اور انھیں جدید ترین اسلحے اور گاڑیوں سے مزین کر دیا اب وہ آپس میں لڑتے ہیں اور اپنے وسائل کا اسلحے کے بدلے سودا کرتے ہیں ۔ بلانش نے اپنی گہری سیاہ لمبی پلکوں کو جھپکاتے ہوئے کہا کیا تمھیں پتہ ہے ایک بار بچپن میں ہم کھیل رہے تھے اور میں اور میری سہیلیاں اپنے ناخنوں سے زمین کھودنے لگیں کہ ہم گڑیوں کا کنواں کھودیں اور میرا ناخن ایک سخت پتھر سے لگا جس نے مجے زخمی کر دیا میں نے اس سے مٹی ہٹائی تو وہ ایک ہیرا تھا ۔ میں اسے گھر لائی اور ماں جو دیا ۔ میں نے کہا پھر تو تم لوگ امیر ہو گئے ہوگے اس نے کہا نہیں ! میری ماں نے وہ ہیرا اٹھا کر پھینک دیا ۔ اس ہیرے کو بیچنے کے لیے ہم کو جس راستے سے گزرنا تھا وہاں ناکے لگے رہتے ۔ وہاں گولیاں چلتیں اور اگر ہم وہاں تک پہنچ بھی جاتے تو کیا فائدہ وہ بیوپاری خود ابھی حملہ آوروں کا ساتھی نکلتا ۔ ہیرا بیچنے والا بھی ہیرے سمیت جان سے جاتا اور وہ کھیل کا میدان بھی ۔ اس نے نہایت دُکھی لہجے میں کہا دنیا سمجھتی ہے کہ ہم افریقی بھوک ننگ سے مرنے والے دنیا پہ بوجھ ہیں ، ہیں نا ؟

میں نے کہا یار تم کسی ادیب کا نام بتاؤ مجھے افریقی ادب پڑھنا ہے تو جواب ملا بیشتر کتابیں فرینچ میں ہیں کبھی انگلش ترجمہ ملا تو بتاؤں گی ۔ میں اب کانگو کا ادب ڈھونڈ رہی ہوں بلانش اور اس کے بھائی پیٹرک سے کبھی کبھی ملاقات ہو جاتی ہے ۔ پیٹرک سے یاد آیا دو سال بعد بلانش نے اپنی کوششیں کر کے اپنے دو بھائیوں کو امریکہ بلا لیا مگر ماں چونکہ دوسرے کیمپ میں تھی اس کو وہاں سے نکالنا ممکن نہ ہو سکا۔ بلانش اپنے دو بھائیوں کے ساتھ رہتی ہے اور ماں سے ملنے کے لیے وہ اب بھی منتظر ہے

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

September 2023
M T W T F S S
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
252627282930