زیر ِ تسلط ۔۔۔ شاذیہ محمود

زیر تسلط

( شاذیہ محمود )

زندگی خوبصورت ہے

ناشتے کے وقت کی ایمرجنسی

ہر روز ، لباس کے  انتخاب کی الجھن

ٹریفک کی بھیڑ میں بھاگم بھاگ

آٹھ گھنٹے کی ذہنی مشقت

ساتھیوں کی بے اعتنائی

سینیئرز کی پیشانی کے بل

زندگی پھر بھی خوبصورت ہے

آنکھیں دکھتی ہیں

جسم میں درد کا دورہ رہتا ہے

کمرے کی تنہائی

وقت کا دورانیہ بڑھا دیتی ہے

گزرے وقت کی تلخ یادیں

موجودہ وقت کی بندشیں

نہ کوئی ہمدرد نہ آشنا

نہ کوئی محب نہ با وفا

زندگی پھر بھی خوبصورت ہے

کہ میں زیر ِ تسلط نہیں

Read more from Shazia Mahmood

Read more Urdu Poetry

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: