میرے دیدہ ورو ۔۔۔ شیخ ایاز

میرے دیدہ ورو

شیخ ایااز

میرے دیدہ ورو

میرے دانشورو

پاؤں زخمی سہی

ڈگمگاتے چلو

راہ میں سنگ و آہن

کے ٹکراؤ سے

اپنی زنجیر کو

جگمگاتے چلو

رود کش نیک و بد

کتنے کوتاہ قد

سر میں بادل لیے

ﮨﯿں ﺗﮩﯿﮧ کیے

بارش زہر کا

اک نئے قہر کا

میرے دیدہ ورو

میرے دانشورو

اپنی تحریر سے

اپنی تقدیر سے

نقش کرتے چلو

تھام لو ایک دم

یہ عصائے قلم

ایک فرعون کیا

لاکھ فرعون ہوں

ڈوب ہی جائیں گے

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

March 2021
M T W T F S S
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728
293031  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: