کرونائی دور ۔۔۔ تمثیلہ لطیف

کروناٸی دور اور اہل وطن کا چلن

۔۔۔ تمثیلہ لطیف

جب سے دنیا بنی عذابوں اور ثوابوں کیطرح وبا بھی آتی جاتی رہی دنیا پہلی بار وبا کو نہیں جھیل رہی ۔ وبا میں جس طرح عام طرز زندگی متاثر ہوتا ہے ایک خاص ہمدرد انداز ان دنوں کی مشکلات کو سہل بناتا ہے ۔ رنگ ، نسل ، مذہب کی تخصیص کے بغیر ہر کس و ناکس کو اپناٸیت سے گلے لگایا جاتا ہے ۔ مخیر حضرات اپنے خزانوں کے منہ خلق خدا کے لٸے کھول دیتے ہیں ۔ وبا جنہیں لے گٸی وہ اچھی جگہ پہنچ گٸے جو بچ گٸے وہ دنیا کے کاروبار کو پھر رواں کرکے آگے بڑھتے ہیں ۔

موجودہ کروناٸی وبا کو لیکر شکوک و شبہات ہیں اور ایسے شواہد بھی موجود ہیں جو اس وبا کو ماضی کی وباوں سے مختلف بتاتے ہیں ۔ قدرتی وباٸیں مخصوص علاقوں تک محدود رہیں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ خالق مخلوق کی جان پر بنادے ۔ وہ وباٸیں مخلوق خدا کے لٸے تنبیہیں تھیں کے اپنے اعمال کو سدھار کر بہتر معاشرہ تخلیق کریں جہاں ضروریات زندگی ہر امیر غریب کی پہنچ میں ہوں ۔ قدرتی وبا انسانوں کو سبق دینے کے لٸے آٸی انسانی وجود کی بقا کا امتحان نہیں بنی ۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ وبا ایک علاقہ میں پھوٹی اور پھیل کر پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیا ۔

بہرحال وجوہات جو بھی ہوں دنیا کروناٸی دور سے گزر رہی ہے ۔ یہود و نصاری کے مخیر حضرات عوامی خدمات کے لٸے میدان عمل میں ہیں حکومتیں ریلیف پیکجز کے ذریعے عوامی زخموں پر مرہم رکھ رہی ہیں ۔ قرنطیناٸی طرز زندگی نے انسان کو انسان سے دور کردیا ہے لیکن احساس کی جڑیں اب بھی ہر انسان کو شجر انسانی سے جوڑے ہوۓ ہیں ۔ مغربی ممالک میں لوگوں کا طرز عمل مثالی و قابل تقلید ہے ۔ ایک ہاتھ سے دو تو پہلے کو پتہ نہ چلے اس حدیث سے ناواقف ہوکر بھی وہ اس حدیث پر عمل پیرا ہیں ۔ لب ِ سڑک ضروریات زندگی کے شاپرز و بنڈل پڑے ہیں لوگ بقدر ِ ضرورت لیکر اپنی راہ ہولیتے ہیں نہ کوٸی رکھوالا نہ سیلفی کا مارا وہاں موجود ہوتا ہے ۔

اس تناظر میں جب وطن ِ عزیز پر نظر ڈالتے ہیں تو ندامت و پشیمانی گھیر لیتی ہے ۔ اگر ٹیکنالوجی یہ برتری حاصل کرلیتی کہ لکھے ہوۓ کیساتھ ویڈیو ثبوت بھی نتھی کرسکتے تو ایسی کتنی ویڈیوز و تصاویر دکھاٸی جاسکتی تھیں جن کے سامنے انسانیت شرمندہ کھڑی ہوتی ۔

ان مناظر کی تصویر کشی کیسے کی جاۓ جہاں ایک ضرورت مند بچی ایک انسان نما جانور سے آٹے کا تھیلا وصول کررہی ہے اور اس کا سر اتنا جھکا ہوا ہے کہ شکل نظر نہ آۓ اور وہ ہمدردوں کا چیمپین ایسے تن کر کھڑا تصویر بنوارہا ہے کہ جیسے اسکی نیکی کی قبولیت کی بشارت لیکر فرشتے نازل ہوۓ ہیں ۔

بنک کے اے ٹی ایم جہاں ہینڈ سینیٹاٸزر عوامی سہولت کے بطور رکھے گٸے ہیں لوگ مشین استعمال کرتے یا بہانہ سے آکر وہ بوتل اٹھا کر اس شان سے نکلتے ہیں کہ دیکھ کر آنکھیں جلنے لگتی ہیں ۔ بنک میں رکھی  وہ بوتل کسی مزدور ، پھیری والے ، خوانچہ فروش نے نہیں اٹھاٸی پڑھے لکھے لوگوں کا یہ طرز عمل افسوسناک ہے ۔

اس حساس صورتحال میں بھی ملکی مافیاز اپنی دو نمبری سے تاٸب نہیں ہورہے ۔ ایک گندم کے گودام میں گندم کے ذخیرے میں مٹی ملاٸی جارہی ہے تاکہ بوری کا وزن معیار کے مطابق ہو اور چیز کم تلے ۔ حکومتی عہدہ دار مصنوعی قلت اور قیمتوں میں اضافے کے مجرم ہوتے ہوۓ بھی صرف وزارت کی تبدیلی کی سزا کے مستحق ٹھہرتے ہیں ۔

ملک کے مخیر حضرات سلیمانی رداوں میں گھسے عوام الناس کی نظر سے اوجھل ہیں ۔ امیر شہر کے کتوں کے راج میں بلکتی عوام حکومت کا سر درد نہیں ۔ راشن کی فراہمی کی سوشل میڈیاٸی خبریں کیا حقیقی مستحق تک پہنچ رہی ہیں جو ٹچ موباٸل تو کیا سادہ موباٸل بھی نہیں رکھتا ۔ حکومت کا احساس پروگرام یا اور دیگر تکنیکی عوامی فلاح کے منصوبےحقیقی حقدار تک رساٸی سے دور ہیں ۔ 22 کروڑ کی آبادی میں کتنے آٸی ڈی کارڈز کا ریکارڈ PTA کے پاس موجود ہے ؟ اس اعداد و شمار کی روشنی میں خانہ بدوش اور کچی بستیوں پسماندہ علاقوں تک راشن کیسے پہنچانا ہے کوٸی حکومتی موثر منصوبہ نہیں ۔ پولیو ورکرز کے ذریعہ غریب عوام تک گھر بیٹھے کوٸی میلہ اور دھکم پیل کے بغیر باوقار طریقہ سے راشن کی فراہمی ممکن بناٸی جاسکتی ہے لیکن یہ باتیں حکومتی عہدہداروں کی سیاسی منشوروں میں نہیں ۔ اس طرح صرف عوامی غم و غصہ اور احساس محرومی پنپ رہا ہے جو کسی آتش فشاں میں نہ بدل جاۓ ۔

ہم زندہ قوم ہیں ۔۔ ہم سب کی ہے پہچان ۔۔ بے ایمانی ، جھوٹ ، فراڈ

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: