غزل ۔۔۔ زہرا نگاہ

غزل

زہرا نگاہ

یہ سچ ہے یہاں شور زیادہ نہیں ہوتا

گھر بار کے بازار میں پر کیا نہیں ہوتا

جبر دل بے مہر کا چرچا نہیں ہوتا

تاریکئ شب میں کوئی چہرہ نہیں ہوتا

ہر جذبۂ معصوم کی لگ جاتی ہے بولی

کہنے کو خریدار پرایا نہیں ہوتا

عورت کے خدا دو ہیں حقیقی و مجازی

پر اس کے لیے کوئی بھی اچھا نہیں ہوتا

شب بھر کا ترا جاگنا اچھا نہیں زہراؔ

پھر دن کا کوئی کام بھی پورا نہیں ہوتا

Similar Posts:

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

August 2021
M T W T F S S
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
3031  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: