تیری کنویں اکھ لگ گئی ۔۔۔ شہناز پروین سحر


تیری کنویں اکھ لگ گئی ۔۔۔


( شہناز پروین سحر )


۔
میں سو رہی تھی اورآج پھر حسب ِ عادت میرے سونے کے وقت پر بے وقت کی راگنی شروع ہو گئی تھی ۔۔۔ 
ٹرن ٹرن ٹرن ۔۔۔ پھرسے وہی ریحانہ اور وہی اس کا فون ۔۔۔
ْسُتی پئی ایں ۔۔۔ْ
” اچھا توں بھنڈیاں کنویں پکائی ایں ایہہ دس کے سوں جا ۔۔ “
” تیرا درزی سوٹ دے کنے پیسے لیندا اے ۔۔۔ اچھے سیندا اے ؟ “
” نالے دے کول باسمتی چاول سب توں چنگے ملدے نیں ۔۔ “
” مرغی دا گوشت منگا لئیں اج ۔۔ سستا ملدا پیا اے ۔۔۔ “
” ویکھ ذرا اوس نصرت نے اج میرے نال کیہہ کیتا ۔۔ “
” میں سبزی لین گئی تے تیرا میاں کسے کڑی نال جا رئیا سی ۔۔۔ قسمے تینوں جگان لئی نئیں کہہ رئی ۔۔ “
” ایہہ ڈاکٹر ادریس دا نمبر لخ لے ذرا ۔۔۔ کدی لوڑ ای پے جاندی اے ۔ “
یہ سب بک بک کرنے کی بجائے آج تو وہ کچھ اور ہی کہہ رہی تھی ۔۔۔ اس کی بات کا مفہوم تھا کہ
” چشتی کی بیوی مر گئی ہے ۔۔۔۔۔ تم بیمار ہو ۔۔ جا تو نہیں سکو گی ۔ لیکن فون کر کے اس سے تعزیت ضرورکر لو ۔ “
” یہ کیا بکواس کر رہی ہو تم ریحانہ ” میں نے ڈانٹا لیکن وہ ٹھیک کہہ رہی تھی
چشتی کی بیوی دنیا سے جا چکی تھی
اف چشتی کی بیوی ۔۔۔۔ یہ کیا ہو گیا ۔۔۔ مجھے جھٹکا سا لگا 
وقت اچانک اپنے پچھلے قدموں پر تیزی سے گھوم گیا ۔۔۔ اور کچھ بیتے ہوئے منظر بھیگتی آنکھوں سے الجھنے لگے ۔۔
یاد آیا ۔۔۔ چشتی کہا کرتا تھا میں نے سبزی کاٹنے کی ایک قینچی رکھی ہوئی ہے اور میں ساری مشکل سبزی اسی سے کاٹتا ہوں ۔۔ ویسے میں اپنی بیوی کو ساری سبزی ہمیشہ خود ہی بنا کر دیتا ہوں مونگرے ، میتھی ، کچنار ، مٹر ، پالک ، بھنڈی ۔۔ امبی اور پودینے کی چٹنی ہری مرچی والی ، بھی بناتا ہوں ۔۔۔ ہم ہنستے ۔۔ واہ چشتی اور کیا کیا کام کرتے ہو اپنی بیوی کے ساتھ ۔۔۔ ؟ سب کام 
سب کام کونسے ۔۔ یہی کہ وہ جھاڑو لگاتی ہے تو میں پیچھے تپڑی مارتا آتا ہوں ۔۔ وہ برتن دھوتی ہے تو میں برتن خشک کر کے ریک میں رکھتا جاتا ہوں وہ روٹی بناتی ہے تو میں ساتھ میں پیڑے کر کے رکھتا جاتا ہوں ۔۔۔ بس میں دفتر آنے سے پہلے اس کے سارے کام ختم کروا کے آتا ہوں ۔
اچھا دفتر میں تو تم اکیلے کام کرتے ہو ، وہ تو تمہارے ساتھ کوئی کام نہیں کراتی پھر تم کیوں اس کے سارے کام ختم کرا کے آتے ہو ۔۔۔
کیوں وہ تلملا کر جواب دیتا ۔۔۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں میں جب میں دفتر آجاتا ہوں تو وہ ان کو سنبھالے گی کہ گھر کے کام کرے گی ۔ ۔۔۔ ہم لا جواب ہو کر حیرت سے چشتی کا منہہ دیکھتے ۔۔ اب سمجھ میں آیا وہ ہمیشہ شام کی شفٹ میں کام پر آنا کیوں پسند کرتا تھا ۔
میرے دفتر میں ہم خواتین زیادہ تھیں مرد صرف دو ۔۔۔ 
وہ دوسرا ساتھی کولیگ اپنی بیوی کو دن بھر میں بس ایک فون کرتا تھا ۔۔۔ّّ ہاں ۔۔۔ کیہہ پکایا ای ۔۔۔ چل توں روٹی بنانی شروع کر میں آریا واں ۔۔۔ 
اور چشتی کو تو اکثر خبر گیری کرنی ہوتی تھی ۔۔ میں کھانا کھا رہا ہوں تم بھی کھالو نا ۔۔
بچے آگئے سکول سے ؟ 
کوئی کام نہ کرنا اب میں آجاؤن گا تو دونوں مل کر کر لیں گے ۔
رات کے کھانے کی روٹیاں بازار سے لیتا آؤں گا پکانے نہ بیٹھ جانا ۔
ہماری کنٹین نیچے بیسمنٹ میں تھی ۔۔ وہاں ایک بڑا سا کیرم بورڈ پڑا ہوتا تھا ۔۔ چشتی فارغ وقت میں وہیں کیرم کھیلتا رہتا تھا ۔۔۔ اسے کیرم کا اتنا شوقین تھا کہ کھیلتے سمے کسی کی بات نہیں سنتا تھا ۔۔ ہاں گھر سے اگر فون آجاتا تو کنٹین کی ایکسٹینشن سے بات نہیں کرتا تھا فون کا پیغام ملتے ہی سیدھا اوپر بھاگا چلا آتا تھا اور ڈائیریکٹ بات کرتا ۔۔۔ ہاں ، سب خیر ہے ناں ۔۔۔ ؟ ّ
چشتی نوکری کے لیئے آفس میں صرف سات گھنٹے گذارتا تھا لیکن اس کی بیوی ان سات گھنٹوں میں بھی چوبیس گھنٹے اس کے ساتھ ہوتی تھی ۔
چشتی کی بیوی امید سے ہوتی تو ہم سب ساتھی ورکرز ہنستیں اب یہ لونگ لیو پر بھی جائے گا ۔۔ ہاں تو نہیں جاؤں گا کیا ۔۔۔ وہ باقاعدہ لڑ پڑتا ۔
ایک دن میں آفس گئی تو چشتی کو ڈیوٹی سے ریلیو کرنا تھا ۔۔ اس کے ساتھ ایک انتہائی خوبصورت لڑکا بیٹھا ہوا تھا ۔۔ میں نے پوچھا یہ کون ہے چشتی ۔۔ فخر سے ہنستا ہوا بولا ّ ” یہ میرا بیٹا ہے ۔۔ “
یہ تو بہت پیارا ہے اور تم تو شکل سے بالکل پیدل لگتے ہو ۔۔ میں نے ہنستے ہوئے پوچھا ۔۔ تو کہنے لگا یہ اپنی ماں پر گیا ہے ۔۔ میرے سارے بچے اپنی ماں کی طرح سے خوبصورت ہیں ۔ 
پھر ایک فنکشن میں ہم نے چشتی کی بیوی کو دیکھا ۔۔ آفس میں کوئی فنکشن ہو یا عام حاضری وہ ہمیشہ واجبی سے لباس میں ہوتا تھا ۔۔ لیکن ہم نے اس فنکشن میں دیکھا چشتی کی بیوی بہترین کپڑوں میں ملبوس تھی اس کے جوتے اس کی تمام تیاری عمدہ تھی چشتی خوشی خوشی اس کا تعارف ہم سے کروا رہا تھا یہ میری بیوی ہے ۔۔
تمہاری بیوی تو بہت پیاری ہے چشتی ۔۔ یہ تم سے شادی کے لیئے مان کیسے گئی ۔۔۔ اس کی بیوی اور وہ دونوں ہنستے رہے ۔ 
چشتی کی سسرال بہت دور وہاڑی میں تھی ۔۔ جب کبھی چھٹی لیتا تو اپنی بیوی کو اس کے مائیکے ملوانے لے جانا ہوتا تھا ۔۔ یا پھر اپنی بیوی کی بیماری میں چھٹی لیا کرتا تھا ۔۔ 
ہم میں سے جب کسی نے کوئی عمدہ پرنٹ ، اچھا جوتا جیولری وغیرہ پہنی ہوتی تھی تو پوچھتا کہاں سے لیا ۔ کتنے میں لیا ۔۔۔ میں بھی ایسا ہی لوں گا ۔۔۔ہماری ہنسی ہی نہ رکتی ، کہتے تمیں کیا دلچسپی ہے ان عورتوں والی چیزوں سے تم تو مرد ہو ۔ تو کہتا میں اپنی بیوی کے لیئے بالکل یہی چیز لاؤں گا ۔۔ کئی بار اسے جو چیز اچھی لگتی پیسے دے کر ہم سے ویسی سی چیز منگوا لیا کرتا تھا ۔۔۔
اس کی شادی ہمارے سامنے ہی ہوئی بیوی سے اس کا عشق عمر کے کسی بھی حصے میں کم نہیں ہوا تھا ہر بچے کی پیدائش پر اس کی گھبراہٹیں دیدنی ہوا کرتی تھی ۔ طوطا مینا کی یہ ساری کہانی بڑی ہی پیاری اور قابل ِ فخر تھی ۔۔۔ لیکن آج 
ریحانہ کہہ رہی تھی ۔۔ چشتی کی بیوی مر گئی ہے اس سے تعزیت کر لینا ۔۔۔ 
اس کی بیوی کی فوتیدگی کے بعد جب اس سے میری بات ہوئی تو اس کے لہجے کا خالی پن اور اندھیرا مجھ سے ضبط چھینے لے رہا تھا ۔۔۔
کیا ہوا تھا چشتی ۔۔ تم تو اتنا خیال رکھتے تھے اس کا
بہت بیمار تھی وہ ۔۔ میں نے اس کو بیماری کی تکلیف میں کبھی بھی اکیلا نہیں چھوڑا تھا ۔۔ اس کے ساتھ جاگتا رہتا تھا ۔۔ لیکن اس نے جھوٹ کہا کہ مجھے نیند آ رہی ہے تم بھی سو جاؤ ۔۔ میں نے اسے سہارا دے کر اٹھایا ، دوا دی ، پانی پلایا ، اور لٹا دیا ۔۔۔ کہنے لگی میں بہتر محسوس کر رہی ہوں اور اب سو جاؤں گی تم بھی کچھ نیند لے لو۔۔۔ اور پھر پتہ نہیں میں کیوں سو گیا ۔۔۔ بیس منٹ یا آدھ گھنٹہ ہی سویا ہوں گا اسے دیکھنے کے لیئے آنکھ کھل گئی کہ وہ ٹھیک ہے ناں ۔۔۔ لیکن اس کا سر ایک طرف کو ڈھلکا ہوا تھا اور بازو بھی نیچے لٹک گیا تھا ۔۔ میں ایک دم اُٹھ گیا اور اس کا بازو اس کا سر ٹھیک کرنا چاہا لیکن وہ تھی ہی نہیں ۔۔ مجھے سلا کر ۔۔۔ یہ کس گڑھے میں دھکا دے گئی مجھے وہ ۔۔۔ چشتی رو نہیں رہا تھا لیکن اسے اتنا ویران کبھی کسی نے نہیں دیکھا تھا ۔ اسے اپنے سو جانے کا دکھ مارے دے رہا تھا ۔۔ کیسا انسان ہوں میں ۔۔۔ وہ مر رہی تھی اور میں سو رہا تھا ۔۔۔ 
سنا ہے اب نیند کی گولیاں کھا کر بھی چشتی سے سویا نہیں جاتا ۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: