تمہاری یاد بھی شوق طلب میں تم پہ گئی ۔۔۔ فرح رضوی
غزل
فرح رضوی
کھٹک رہا تھا کہیں جھول جب روانی کو
کہانی بان بھگانے لگا کہانی کو
گداز، وحشت گریہ کے واسطے لاو
کہ نم کا ناب میسر تو آئے پانی کو
تمہاری یاد بھی شوق طلب میں تم پہ گئی
نئی نے آ ہی لیا آج پھر پرانی کو
تہہ چراغ جو یہ داغ سا چمکتا ہے
ابھارتا ہے اجالے کی جاودانی کو
وہ دل نشیں سا جمال سخن رچاو بھرا
کہ جس پہ ناز ہماری سبک بیانی کو
ابھی بھی تہہ میں جھلکتا ہے کرب کا کنکر
اُلٹ کے پھر سے بھرو جام رایئگانی کو
Facebook Comments Box