گیلی دھوپ ۔۔۔ سید کامی شاہ

گیلی دھوپ

سید کامی شاہ۔

اُس کا شمار ایسی عورتوں میں کیا جاسکتا تھا جن کی آواز سن کر آدمی ان سے ملنے کی تمنّا کرے اور ملنے کے بعد تمنّا کے سراب اور دنیا کے بے ثبات ہونے پر ایمان لے آئے۔

میں خوش قسمت رہا کہ وہ دفتر میں میرے بعد نوکری پر آئی اور یوں میں اس کی آواز سننے سے پہلے اسے دیکھ چکا تھا۔ پہلی بار اس سے دفتری ہائے ہیلو ہوئی تو مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ اس کی آواز اس کے جثے سے کسی طرح بھی موافقت نہیں رکھتی تھی۔ وہ بھری بھری سی، بوجھل اور جنس زدہ آواز والی تیس بتیس سال کی درمیانے قد اور صاف رنگ کی موٹی سی عورت تھی جس کی گردن اور ٹھوڑی کے درمیان گوشت کی ایک تہہ دُہری ہوتی تھی۔ اس کے ظاہری حلیے میں سوائے موٹاپے کے کوئی بھی چیز قابل ذکر نہیں تھی مگر اس کی آواز۔۔۔۔۔۔ بھری بھری، بوجھل بوجھل، بھیگی ہوئی، ہیجان خیزی سے لبریز۔۔۔۔ جیسے زرخیزی کے دنوں میں بیشتر عورتوں کی آواز اکثر ہوجایا کرتی ہے۔  وہ ایسی عورت دکھائی پڑتی تھی جو بستر میں ہو تو زیادہ عورت لگتی ہے۔ ادارے نے اُس کی پُرکشش آواز کی وجہ سے ہی اسے ریسیپشنسٹ کی نوکری دی تھی۔  وہ عام سے گھر کی ایک عام سی عورت تھی۔ جس کی شادی کی عمر تیزی سے ڈھل رہی تھی اور بدن روز با روز فربہی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ مجھے اس دن قسمت کے لکھے پر پکا یقین ہوگیا جس روز وہ بیاہ کر میرے گھر آئی۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں کسی ایسی عورت سے شادی کروں گا جو فقط آواز ہی آواز ہو۔ مگر اس سے شادی کے بعد میرے بہت سے نظریات تبدیل ہوگئے اور بہت سی الجھی گھتیاں سلجھ گئیں۔ اس کے ساتھ گزرے وقت نے مجھے بتایا کہ عورتیں وہ نہیں ہوتیں جو بظاہر وہ دکھائی دیتی ہیں یا ظاہر کرتی ہیں۔ ہر عورت کے اندر ایک اور خالص اور مکمل عورت ہوتی ہے جو اس کی مرضی سے باہر آتی ہے اور صرف اُسی شخص کے سامنے آتی ہے جسے وہ پسند کرتی ہو۔ مجھے اس نے کبھی ناپسند نہیں کیا۔

 مجھے اس شہر میں آئے ہوئے کئی سال ہوچکے تھے۔ آتے ہی پہلی نوکری ایک اخبار کے دفتر میں ملی۔ کئی ماہ تک نائٹ شفٹ میں رہنے کے بعد ایک دن میری ڈیوٹی صبح دس سے شام چھ بجے تک کردی گئی۔ اسی دوران وہ آئی مٹھائی کا ڈبہ اٹھاکر آگے آگے چلتے چپراسی کے پیچھے پیچھے نئی نوکری کی مبارکبادیں وصول کرتے ہوئے وہ خاصی ہنس مکھ دکھائی دیتی تھی۔

یہ فاخرہ ہیں۔ انہوں نے آج ہی ریسیپشنسٹ کے طور پر ہمارے ادارے کو جوائن کیا ہے۔،،

 ہمارے ایڈیٹر صاحب نے سب سے اس کا تعارف کروایا اور نیوزروم میں موجود تمام اسٹاف نے اسے مبارک باد دیتےہوئے خوش آمدید کہا۔    

اخبار کے دفتر میں مار دھاڑ، کرپشن، لوٹ مار،تشدد اور آبرو ریزی کی خبریں بناتے بناتے پتہ نہیں کب وہ فضول سی لت میرے قلم سے چمٹ گئی۔ ہر روز جب اخبار چھپ کر پریس سے آتا تو ہم اس میں غلطیاں مارک کرنےکےلیے انتہائی باریک بینی سے دیکھاکرتے۔ مجھے اپنے کام پر اعتماد تھا اس لیے میں غلطیاں ڈھونڈنے کے بجائے اخبار میں چھپنے والی زیادتی کی خبروں کے گرد حاشیے بناتا رہتا۔ چپراسی سے لے کر ایڈیٹر تک روزانہ دفتر سے اخبار کی تازہ اور اعزازی کاپی حاصل کرتا تھا کچھ لوگ گھر لے جاتے کچھ وہیں چھوڑ جاتے۔ میں بھی اخبار لپیٹ کر جیب میں ڈال لیا کرتا۔

   میرے ڈیڑھ کمرے کے گھر میں وہ اخبار اس آدھے کمرے میں پڑے رہتے جو لکھنے پڑھنے اور یار باشی کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ اس گھر میں میرے سوا کوئی تھا ہی نہیں سو کبھی کبھار چھٹی والے دن کچھ دوست آجاتے۔ زیادہ تر اخباری دوست تھے، سوائے مرزا صاحب کے جو ہمارے پڑوسی تھے۔ ہمارے سامنے والا فلیٹ ان کا تھا اور میری طرح وہ بھی اکیلے ہی رہتے تھے۔ ساٹھ ایک سال کے سفید بالوں اور لمبی طوطے جیسی ناک والے مرزا صاحب محکمہ ڈاک سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد تنہا زندگی گزار رہے تھے۔ بیوی داغِ مفارقت دے چکی تھی اور اکلوتا بیٹا عرب کے صحرائوں میں کسی تیل کمپنی کا ملازم تھا جو مہینے میں ایک آدھ بار باپ کو فون کرلیا کرتا تھا۔ وہ ہر ماہ کچھ پیسے انہیں بھجوادیا کرتا جبکہ سرکار کی طرف سے انہیں پینشن کی مد میں بھی چند ہزار روپے مل جایا کرتے تھے۔ ہماری تنخواہ آنے میں اگر دو چار روز کی دیر سویر ہوجاتی تو مرزا صاحب بہت کام آتے۔  

 اس شہر میں آنے کے بعد لوئر مڈل کلاس علاقے میں جو ڈیڑھ کمرے اور آدھے کچن کا فلیٹ ملا اس کا کرایہ مناسب تھا اور میں اپنی محدود تنخواہ میں اس کا کرایہ ادا کرسکتا تھا۔ یہ ایک چار منزلہ عمارت تھی جس کے نیچے چھوٹی موٹی دکانیں تھیں۔ آمنے سامنے بلند و بالا عمارتوں کے باعث وہاں سے ہوا کا گزر مشکل تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ان گھٹے گھٹے فلیٹوں میں ہر وقت ایسی بساندھ بسی رہتی جیسے کسی بند جگہ پر بہت سارے میلے کپڑے رکھ دیئے گئے ہوں۔ کبوتروں کے کابکوں جیسے ان فلیٹوں میں پورے پورے خاندان آباد تھے۔ میں سوچتا ان لوگوں کا دم نہیں گھٹتا۔ پھر خود ہی ہنس پڑتا کہ صاحب آپ بھی تو اسی ڈربہ نما فلیٹ میں رہتے ہیں آپ کا تو دم نہیں گھٹا کبھی۔۔۔،،

پھر ایک فلاسفر دوست کی بات یاد آتی۔۔ آدمی کا سب سے بڑا کمال ایڈجسٹمنٹ ہے کم بخت ہر قسم کے حالات میں خود کو ایڈجسٹ کرلیتا ہے۔ حالات چاہے جیسے بھی ہوں حیاتِ آدم کا پہیہ چلتا رہتا ہے۔،،   

مرزا صاحب چونکہ سامنے والے فلیٹ میں رہتے تھے تو ان سے آمنا سامنا ہوتا رہتا۔ انہوں نے یہ فلیٹ اس وقت خریدا تھا جب یہ عمارت بالکل نئی بنی تھی یوں انہیں ان فلیٹوں کا قدیم ترین رہائشی بھی کہا جاسکتا تھا۔ مچی مچی آنکھوں والے مرزا صاحب بڑی زیرک نگاہ رکھتے تھے۔ پان کھانے اور چائے پینے کے حد درجہ شوقین تھے اور ہمارے نوجوان دوستوں کی بیٹھک میں خوب چہکا کرتے تھے۔ ان کی ہر بات ۔۔۔ ارے میاں تمہیں کیا پتہ سے شروع ہوتی اور اللہ ہی جانے کون بشر ہے پر ختم ہوتی۔،، وہ دنیا کے ہر موضوع میں اپنا تکیہ کلام جوڑنے میں مہارت رکھتے تھے۔ پڑھے لکھے آدمی تھے اور شعر و ادب کا بھی خاصا ذوق رکھتے تھے۔ ہر دو چار دن بعد جب آتے تو ہفتے بھر کے اخبار جمع کرکے لے جاتے کہ اخبار گردی میں اچھا ٹائم پاس ہوجاتا ہے۔

مرزا صاحب میری چھٹی والے روز شام کو آجایا کرتے یا کبھی کسی اور وقت میں اگر انہیں سن گن مل جاتی کہ میں گھر پر ہوں تو فوراً ٹپک پڑتے۔۔۔

ارے میاں ہم نے سوچا نوشے میاں سے ملاقات بھی ہوجائے گی اور بہو کے ہاتھ کی چائے بھی پی لیں گے۔۔ ہی ہی ہی ہی۔۔۔۔،،

ارے ارے کیوں نہیں۔۔۔ آیئے آیئے۔۔ آپ کا اپنا گھر ہے۔۔۔،،

مجھے کبھی ان کا وقت بے وقت آنا برا نہیں لگا تھا مگر شادی کے بعد مجھے بعض اوقات ان کی آمد سے کوفت سی ہونے لگتی۔

ہم اُسی آدھے کمرے میں بیٹھا کرتے جسے مہمان خانے کا درجہ بھی حاصل تھا اور کتب خانے کا بھی۔ شادی کے بعد اس کمرے میں ہم نے ایک پرانا صوفہ سیٹ ڈال لیا تھا کہ مہمانوں کو زمین پر بٹھانا اچھا نہیں لگتا۔ یہ بھی ہماری بیگم کا فلسفہ تھا۔ شادی سے پہلے تو ہمارے دوست ایسے ہی بے تکلفی سے زمین پر بچھی دری پر ہی آلتی پالتی مار کر بیٹھ جاتے بلکہ کئی تو لیٹ بھی جاتے کہ اب صبح ہونے میں تھوڑی سی دیر ہی تو رہ گئی ہے۔ کتابیں، پرانے اخبار، سگریٹ کے پیکٹ، ڈائجسٹ، پرانی ڈائریاں سب ادھر ادھر بکھرے پڑے رہتے۔۔ میں کئی بار پڑھتے پڑھتے وہیں سوجایا کرتا۔ شادی کے بعد زندگی میں تھوڑا سا ڈسپلن آیا اور اس کمرے نے بھی ترتیب کا منہ دیکھا۔ آمنے سامنے صوفے رکھنے کے بعد بیگم نےدرمیان میں ایک میز لگوادی تاکہ چائے پانی اور ناشتے کا سامان رکھا جاسکے۔ جب چائے پانی نہ ہوتا تو اس میز پر کتابیں اور اخباریں ہی بکھری نظر آتیں۔ یہ میز بڑی کارآمد تھی اس پر چڑھ کر ہم پنکھا اور کونوں کھدروں میں لگے وہ جالے صاف کرلیا کرتے جن کی طرف ہمیشہ ہماری بیگم دھیان دلاتیں ورنہ ہمیں تو کبھی ایسی چیزیں دکھائی ہی نہیں دیتی تھیں۔ کپڑے استری کرنے ہوتے تو اس میز کو اٹھا کر سوئچ بورڈ کے قریب رکھ لیاجاتا۔

اس دن بھی ایسا ہی ہوا۔۔۔ ہمیں فاخرہ کی امی کی طرف جانا تھا اور وہ کافی دیر سے گھر کے کام نمٹانے میں لگی ہوئی تھی۔ مجھے بھی کوئی جلدی نہیں تھی سو مزے سےبستر پر نیم دراز ہوکر ٹی وی دیکھتا رہا۔

یار پنکھا تو تیز کرو۔۔۔۔،،

وہ باہر سے اندر آئی اور پنکھے کا ریگولیٹر گھما کر اس کی رفتار تیز کردی۔ پھر وہ بستر پر بیٹھ کر دونوں ہاتھوں سے بال سمیٹنے لگی۔ اس کی گردن اور سینے پر پسینے کی لکیریں بہہ رہی تھیں۔

اُف۔۔۔۔ کتنی گرمی ہے۔۔۔۔۔،،

اس نے دنوں ہاتھوں میں بال سمیٹ کر چہرہ اوپر کیا۔ اس کے ماتھے اور چہرے پر بھی پسینہ چمک رہا تھا۔ چہرہ اور بازو اوپر کرنے سے اس کی گردن تن گئی اور سینے کے ابھار مزید نمایاں ہونے لگے۔ میں ٹی وی چھوڑ کر اسے دیکھنے لگا۔

اس نے ایک ہاتھ میں بال تھامے ہوئے دوسرے سے اپنی قیمیض کا گریبان پکڑ کر ذرا سا کھینچا اور اپنے سینے پر ٹھنڈی ہوا کو محسوس کرنے لگی۔

تو نہا لو ناں جاکر!!!

میں نے اس کی بند آنکھوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

ہاں ۔۔۔ جاتی ہوں۔۔۔۔۔ ذرا یہ پسینہ خشک کرلوں۔۔۔،،

یار ہمیں کب پہنچنا ہے وہاں۔۔۔؟

میں نے پوچھا۔

پانچ۔۔۔۔ ساڑھے پانچ تک پہنچ جائیں گے۔۔۔ شام کی چائے وہیں پئیں گے۔۔۔،،

اس نے آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا اور بایاں ہاتھ گریبان میں ڈال کے قمیض کے اندر سے دائیں بغل کو کھجانے لگی۔۔۔ قمیض کی دونوں بغلیں پسینے سے تر ہورہی تھیں۔

کیوں۔۔۔ آپ کیوں پوچھ رہے ہیں۔۔؟

ایسے ہی۔۔۔۔ ابھی ایک گھنٹے سے زیادہ وقت ہے ناں ہمارے پاس۔۔۔۔۔تو۔۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔ میں۔۔ یہ سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔،،،

میں نے شرارت سے اس کے بھرے بھرے سینے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

جی نہیں۔۔۔۔،،

اس نے تنک کر کہا اور ایک جھٹکے سے ہاتھ گریبان سے نکال کر کھڑی ہوگئی۔

آپ کو تو ناں ۔۔۔ ہر وقت۔۔۔۔،،

وہ کپڑوں والی الماری کی طرف بڑھی۔ میں اس کی وسیع پشت کو دیکھ رہا تھا۔ وہ جب چلتی تو توجہ کھینچتی تھی۔

کوئی ہر وقت نہیں، کبھی کبھی ہی مہربان ہوتی ہیں آپ محترمہ۔۔۔،، میں ہنسا۔۔۔۔

    اس نے جلدی سے الماری سے ایک تہہ کیا ہوا سوٹ نکالا اور میری طرف پھینکا۔ میں اس ریشمی کپڑے پر ہاتھ پھیرنے لگا۔

وہ جھک کر الماری کے نچلے خانے میں میچنگ کا دوپٹہ تلاش کرنے لگی۔ جب جھکے جھکے تلاش کامیاب نہ ہوئی تو وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔ اس کے بھاری کولہے اس کی ایڑھیوں پر دھرے تھے اور وہ انہماک سے الماری میں بقیہ کپڑے تلاش کررہی تھی۔ اس کے بازوئوں کی حرکت سے اس کا بدن مرتعش ہوتا تھا اور ایڑھیوں پر دھرے کولہوں میں کشش کی لہریں بل کھاتی تھیں۔ میں اس کی کمر اور کولہوں کو دیکھتا رہا۔

اس کی کمر پر بائیں کندھے اور بازو کو جوڑنے والی چپٹی ہڈی کے نیچے ایک بڑا سا کالا تل تھا جسے وہ کوشش کرکے بھی دیکھ نہیں پاتی تھی۔ میں نے پہلی بار اسے بتایا تو بہت حیران ہوئی اور آئنے میں گھوم گھوم کر خود کو دیکھنے کی کوشش کرتی رہی مگر گردن گھمانے سے کندھاوپر ا اٹھ جاتا اور چپٹی ہڈی کے نیچے بنا ہوا تل اور نیچے ہو کر اس کی نگاہ سے اوجھل ہی رہتا۔

مجھے کیوں نظر نہیں آتا۔،،

ایسے ہی ایک دن اس نے آئنے میں اپنی برہنہ پشت کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا تھا۔

ایسی بہت ساری چیزیں ہماری ذات میں یا ذات سے جڑی ہوتی ہیں جنہیں ہم نہیں دیکھ پاتے، دوسرے دیکھ کے بتاتے ہیں کیا اچھا ہے کیا برا ہے۔،،

 میں نے اسے بتایا تھا

تو مجھ میں کیا کیا اچھا ہے۔؟

اس نے پوچھا تھا اور میں بہت دیر تک اسے بتاتارہا تھا۔

اس کی پشت سے دھیان ہٹا کر میں نے دیوار گیر گھڑی کی طرف دیکھا۔

ابھی تو چار بھی نہیں بجے۔۔۔۔،، میں نے سوچا۔

اتنے میں وہ اٹھ کر کھڑی ہوئی اور دوپٹے کے ساتھ ایک اور چیز میری طرف اچھالی۔

میں نے ہاتھ بڑھا کر اسے اٹھالیا۔

وہ آئنے کے سامنے کھڑی ہوکر پھر سے اپنے بالوں مین انگلیاں چلانے لگی۔

میں اس کی طرف دیکھے جارہا تھا۔

اس نے آئنے میں میری آنکھیں پکڑیں۔۔۔

جلدی آجائیں گے ناں وہاں سے۔۔۔۔۔،،

اس نے بالوں کو دونوں ہاتھوں میں لے کر سمیٹا اور میری طرف پلٹی۔۔

آپ کو نہیں نہانا۔۔۔؟

صبح ہی تو نہایا ہوں۔۔۔۔۔،، میں نے کہا

پھر سے نہالیں۔۔۔ گرمی ہورہی ہے۔۔۔۔،،

اس نے ہتھیلی سے گردن کا پسینہ پونچھتے ہوئے کہا

نہانے والا کام کرلیں پہلے۔۔۔۔۔؟

میں بستر سے اتر کر اس کی طرف بڑھا۔

اُف۔۔ فوہ۔۔۔ کیا مشکل ہے۔۔۔،،

وہ میری بانہوں میں کسمسائی

اتنی گرمی میں۔۔۔۔۔ خود سے وحشت ہورہی ہے مجھے تو۔۔۔۔،،

اس نے پیار سے مجھے خود سے الگ کیا اور بستر پر دھرے کپڑے اٹھا کر میری طرف بڑھائے۔

میں جلدی سے نہا کر آتی ہوں۔ آپ ذرا ان پر استری تو ماردیں۔،،

اپنے کام کرواتی رہتی ہو۔۔،،

میں نے کپڑے اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے اس کی کلائی تھام لی۔

کریں گے ناں۔۔۔۔۔۔،، اس نے میرے ہونٹوں پر انگلی رکھی

آپ کا کام بھی کریں گے ناں۔۔۔۔ جلدی کس بات کی ہے۔۔۔ میں کوئی وہاں رہنے تو نہیں جارہی۔۔۔۔،،

میں لاجواب ہو کر کپڑوں کی طرف دیکھنے لگا۔ وہ چار قسم کے کپڑے تھے۔

اچھے سے استری کیجئے گا۔۔۔ پلیزززززز۔۔۔،، اس نے الگنی سے تولیہ اتارا۔

اس کو بھی استری کرنا ہے۔۔۔؟

میں نے ایک چیز انگلی پر لٹکا کر جُھلاتے ہوئے پوچھا

جی نہیں۔۔۔ اِسے ایسے ہی پہنتے ہیں۔۔۔۔،،

وہ مسکرائی اور غسل خانے میں گھس گئی۔

میں نے آدھے کمرے میں آکر سارے کپڑے صوفے پر رکھے اور میز پر پڑی اشیاٗ کو اٹھا کر دوسرے صوفے پر رکھنے لگا۔ میز کو خالی کرکے میں نے سوئچ بورڈ کے قریب رکھا اور اس پر ایک موٹا کپڑا بچھایا۔

استری کا پلگ سوئچ بورڈ میں لگا کر میں اس کی قمیض کو میز پر سیدھی کرکے بچھانے لگا۔ گرم استری اس رشیمی قیمیض پر پھسلنے لگی۔ استری کرکے میں نے احتیاط سے قمیض کو صوفے پر رکھا اور شلوار کو میز پر بچھادیا۔

اس کے کپڑے استری ہوچکے تو میں نے استری کا پلگ نکالا اور میز کو دوبارہ صوفوں کے بیچ رکھ ہی رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی اور پیچھے پیچھے مرزا صاحب کی آواز آئی۔

ارے بھئی نوشے میاں!!!

ارے یہ کہاں سے ٹپک پڑے۔۔،،

بے ساختہ میرے منہ سے نکلا

دروازہ کھولا تو مرزا صاحب کلے میں پان دبائے سفید کرتا پاجامہ میں ملبوس میرے سامنے کھڑے تھے۔

  ارے مرزا صاحب۔۔۔ کیسے مزاج ہیں۔۔۔؟ میں نے خوشدلی کا مظاہرہ کیا

ارے بھئی ہم نے سوچا آج چھٹی کا دن ہے۔ نوشے میاں اور بہو گھر پر ہی ہوں گے۔ آپ سے گپ شپ ہوجائے گی اور بہو بیگم کے ہاتھ کی چائے بھی پی لیں گے۔۔۔ ہی ہی ہی ہی ہی۔۔۔۔۔

جی جی کیوں نہیں۔۔۔ آئیے۔۔۔ تشریف لایئے۔۔۔۔،،

میں نے دروازہ کھولا اور وہ کھی کھوں کھی کھوں کرتے ہوئے اندر داخل ہوگئے۔

آپ بیٹھیں۔۔ میں ذرا ۔۔۔ یہ کپڑے۔۔۔۔۔،،

میں نے جلدی سے بیگم کے استری شدہ کپڑے اٹھائے اور ان کے جواب کا انتظار کیے بغیر دوسرے کمرے کی طرف چلا۔۔

بستر پر احتیاط سے کپڑے رکھ کر میں کچن میں جاگھسا۔ مرزا صاحب آئے تھے تو چائے تو بہرحال بنانی ہی تھی۔ فاخرہ کو پتہ نہیں مزید کتنا وقت لگنا تھا غسل خانے میں۔

پتیلے میں چائے کا پانی اور چینی پتی ڈال کر میں نے چولہے کی آنچ تیز کردی۔

تم چائے پیو گی۔؟ میں نے غسل خانے کا دروازہ کھٹکھٹا کر اس سے پوچھا۔

آپ بنارہے ہیں۔۔۔،،، اندر سے اس کی کھلکھلاتی ہوئی آواز آئی۔

کوئی پہلی دفعہ تو نہیں بنا رہا۔۔۔،، میں نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔

تم ایک منٹ کو باہرآئو۔،،

جی۔۔؟

اس نے ذرا سا پٹ کھولا اور چہرہ باہر نکالا۔ اس کا چہرہ کھِلا ہوا تھا۔ وہ نہا کر تازہ دم ہوچکی تھی۔

یار وہ مرزا صاحب آئے ہیں تو چائے پیے بغیر کہاں ٹلیں گے۔۔۔۔ میں نے دو کپ چائے چڑھائی ہے تم پیو گی تو پانی بڑھا دیتا ہوں۔۔۔۔تم نہا چکی ہو یا ابھی کچھ رہتا ہے۔؟

کچھ نہیں رہتا۔۔۔۔ بس ایک منٹ میں آتی ہوں۔۔۔۔ میری چائے بھی بنالیں۔۔۔۔،،

اس نے کہا اور دروازہ بند کرلیا۔

میں نے کچن میں آکر چائے کا پانی بڑھایا اور چینی پتی کا اضافہ کرکے پانی میں رنگ چھوڑتی چائے کی پتیوں کو دیکھنے لگا۔

اتنے میں فاخرہ نہا کر نکل آئی۔ اس نے بدن کے گرد تولیہ لپیٹ رکھا تھا جو اس کے فربہ بدن کو ڈھانپنے کے لیے ناکافی تھا۔ اس کے بدن کے کئی اُجلے حصے میری توجہ کھینچنے لگے۔

میرے کپڑے کہاں ہیں۔۔۔؟

اس نے سینے پر دونوں ہاتھوں سے تولیے کے پلو سنبھالتے ہوئے پوچھا۔

اس کے بالوں سے گرتی پانی کی بوندیں اس کے شانوں پر پھسلتی تھیں۔

بیڈ پر رکھے ہیں۔۔۔۔ ،،

میں نے چائے میں دودھ ڈال کر چولہے کی آنچ کم کرتے ہوئے کہا۔

چائے بن جائے تو مجھے آواز دے لینا۔ میں ذرا بڑے میاں کو دیکھوں۔۔۔۔،،

وہ ایک ہاتھ سے تولیہ تھامے دوسرے ہاتھ سے بالوں کو جھٹکتی ہوئی بیڈروم میں چلی گئی اور میں آدھے کمرے میں آگیا۔

مرزا صاحب صوفے پر بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ میں ان کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا۔ کہیے کیسے مزاج ہیں صاحب!!!

میں نے صوفے پر رکھے تین چار ڈائجسٹ اٹھائے اور انہیں اوپر نیچے ترتیب سے رکھنے کے بعد میز پر رکھتے ہوئے پوچھا۔

مرزا صاحب کی نظریں مسلسل اخبار پر تھیں۔ میز پر میری استری کی ہوئی شرٹ کھلے بازوئوں کے ساتھ ویسے ہی پڑی تھی جیسی میں چھوڑ کر گیا تھا۔  

کچھ نہیں۔۔۔ بس یونہی آگیا تھا۔۔۔۔ آپ لوگ کہیں جارہے ہیں ۔۔۔ شاید۔۔۔۔،،

انہوں نے اخبار سے نظریں ہٹائے بغیر جواب دیا۔

نہیں۔۔۔ ہاں۔۔۔ وہ اس کی امی کی طرف جارہے ہیں۔۔۔ رات کو دیر سے آئیں گے۔،،

میں نے شرٹ اٹھا کر صوفے کی پشت پر ڈال دی اور ایش ٹرے، سگریٹ کے پیکٹ اور دیگر چیزیں اٹھا کر ترتیب سے میز پر رکھنے لگا۔

میں شاید مخل ہوا۔۔۔ ،، انہوں نے اخبار کوتہہ لگاتے ہوئے کہا

ان کے جھریوں بھرے پتلے پتلے ہاتھوں پر نیلی اور ہری رگوں کے جال پھیلے تھے۔

ارے نہیں۔۔۔ میں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ فاخرہ کی آواز سنائی دی۔

ذرا سنیے!!!

وہ۔۔۔ میں۔۔۔ شاید چائے بن گئی۔۔۔،،

میں نے پہلے گھر کے اندر کی طرف کھلنے والے دروازے اور پھر مرزا صاحب کی طرف دیکھا جو اخبار کو سلیقے سے تہہ لگارہے تھے۔

 ان کے کچھ کہنے سے پہلے ہی میں اٹھا اور آواز کی طرف بڑھا۔

بن گئی چائے۔؟ میں نے اپنے پیچھے دروازہ بھیڑتے ہوئے پوچھا۔

وہ مجھے آواز دینے کے بعد بیڈروم میں چلی گئی تھی۔ میں اس کے پیچھے پیچھے اندر چلا آیا۔

بستر پر اس کے استری کئے ہوئے کپڑے دھرے تھے۔

میری وہ کہاں ہے۔؟

اس نے ایک ہاتھ میں قمیض اور دوسرے میں شلوار اٹھا کر میرے سامنے لہرائی۔

ارے یہیں ہوگی۔۔۔،، میں نے آگے بڑھ کر دوپٹہ اٹھایا اور ہوا میں پٹخا اس میں کچھ بھی نہیں تھا۔

میں نے بستر پر پھینکا گیا تولیہ بھی اٹھا کر جھاڑا جسے وہ کپڑے پہننے کے لیے اپنے بدن سے علاحدہ کرکے بستر پر پھینک چکی تھی۔

کپڑوں کے ساتھ ہی تو تھی۔،، میں نے تولیہ بستر پر پھینک کر دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے سر کھجایا۔

وہیں چھوڑ دی ہوگی آپ نے۔۔۔۔ حد کرتے ہیں۔۔۔ مرزا صاحب کیا سوچیں گے۔۔۔،،

اس نے برا سا منہ بنایا۔

دیکھتا ہوں۔۔۔۔،، میں نے خجالت سے کہا۔

تم یہ تو پہنو۔۔۔،، میں ںے اس کے ہاتھوں میں موجود کپڑوں کی طرف اشارہ کیا۔

اُس کے بغیر کیسے پہن لوں۔۔۔؟

اُس کی آواز میں خفگی تھی۔

اچھا بابا ناراض کیوں ہوتی ہو۔،،

 میں نے جان چھڑائی اور آدھے کمرے کی طرف پلٹا۔ دروازہ کھول کر اندر آیا تو مرزا صاحب جانے کے لیے اٹھ کر کھڑے ہوچکے تھے۔ میں استری والی میز کی طرف آیا اس کے دائیں بائیں دیکھنے کے بعد نیچے جھانکا۔ پھر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر صوفے کے نیچے تلاش کرنے لگا۔

کچھ ڈھونڈ رہے ہیں کیا۔؟

میرے کانوں سے مرزا صاحب کی آواز ٹکرائی۔

ہاں۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔،،

میں صوفے پر پڑے پرانے ڈائجسٹوں کو ایسے ہی بلاوجہ ادھر ادھر کرنے لگا۔

اچھا میں چلتا ہوں۔ آپ شاید ڈسٹرب ہوئے ہیں میری مداخلت سے۔۔۔۔،،

مرزا صاحب نے میری طرف دیکھے بغیر کہا

ارے نہیں۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔،،

میں میز پر ہاتھ رکھ کر سیدھا کھڑا ہوگیا۔ مرزا صاحب  دروازے تک پہنچ چکے تھے۔

چلیں پھر ملیں گے۔،، انہوں نے دروازے کے ہینڈل کو گھمایا۔

دروازہ کھُلا نہیں اور ہینڈل ان کے ہاتھ میں گھوم کر رہ گیا۔

میں نے آگے بڑھ کر دروازے کا ہینڈل تھاما اور اسے کھولنے کے لیے زور لگایا۔ دروازہ کھلتے ہی مرزا صاحب تیر کی طرح باہر نکلے۔

وہ چائے۔۔۔۔۔،، میں نے کہا

نہیں، نہیں، پھر کبھی سہی۔۔۔،،

مرزا صاحب کی آواز میں عجلت سرسرارہی تھی، انہوں نے بے دھیانی میں اپنے کرتے کی داہنی جیب کو ہاتھ لگایا۔ ان کی سانسوں کے ساتھ ساتھ کرتے کی جیب بھی بری طرح پھولی ہوئی تھی۔

تمام شُد۔   

گیلی دھوپ۔۔۔۔ افسانہ۔۔۔ سید کامی شاہ۔ کراچی۔

اُس کا شمار ایسی عورتوں میں کیا جاسکتا تھا جن کی آواز سن کر آدمی ان سے ملنے کی تمنّا کرے اور ملنے کے بعد تمنّا کے سراب اور دنیا کے بے ثبات ہونے پر ایمان لے آئے۔

میں خوش قسمت رہا کہ وہ دفتر میں میرے بعد نوکری پر آئی اور یوں میں اس کی آواز سننے سے پہلے اسے دیکھ چکا تھا۔ پہلی بار اس سے دفتری ہائے ہیلو ہوئی تو مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ اس کی آواز اس کے جثے سے کسی طرح بھی موافقت نہیں رکھتی تھی۔ وہ بھری بھری سی، بوجھل اور جنس زدہ آواز والی تیس بتیس سال کی درمیانے قد اور صاف رنگ کی موٹی سی عورت تھی جس کی گردن اور ٹھوڑی کے درمیان گوشت کی ایک تہہ دُہری ہوتی تھی۔ اس کے ظاہری حلیے میں سوائے موٹاپے کے کوئی بھی چیز قابل ذکر نہیں تھی مگر اس کی آواز۔۔۔۔۔۔ بھری بھری، بوجھل بوجھل، بھیگی ہوئی، ہیجان خیزی سے لبریز۔۔۔۔ جیسے زرخیزی کے دنوں میں بیشتر عورتوں کی آواز اکثر ہوجایا کرتی ہے۔  وہ ایسی عورت دکھائی پڑتی تھی جو بستر میں ہو تو زیادہ عورت لگتی ہے۔ ادارے نے اُس کی پُرکشش آواز کی وجہ سے ہی اسے ریسیپشنسٹ کی نوکری دی تھی۔  وہ عام سے گھر کی ایک عام سی عورت تھی۔ جس کی شادی کی عمر تیزی سے ڈھل رہی تھی اور بدن روز با روز فربہی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ مجھے اس دن قسمت کے لکھے پر پکا یقین ہوگیا جس روز وہ بیاہ کر میرے گھر آئی۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں کسی ایسی عورت سے شادی کروں گا جو فقط آواز ہی آواز ہو۔ مگر اس سے شادی کے بعد میرے بہت سے نظریات تبدیل ہوگئے اور بہت سی الجھی گھتیاں سلجھ گئیں۔ اس کے ساتھ گزرے وقت نے مجھے بتایا کہ عورتیں وہ نہیں ہوتیں جو بظاہر وہ دکھائی دیتی ہیں یا ظاہر کرتی ہیں۔ ہر عورت کے اندر ایک اور خالص اور مکمل عورت ہوتی ہے جو اس کی مرضی سے باہر آتی ہے اور صرف اُسی شخص کے سامنے آتی ہے جسے وہ پسند کرتی ہو۔ مجھے اس نے کبھی ناپسند نہیں کیا۔

 مجھے اس شہر میں آئے ہوئے کئی سال ہوچکے تھے۔ آتے ہی پہلی نوکری ایک اخبار کے دفتر میں ملی۔ کئی ماہ تک نائٹ شفٹ میں رہنے کے بعد ایک دن میری ڈیوٹی صبح دس سے شام چھ بجے تک کردی گئی۔ اسی دوران وہ آئی مٹھائی کا ڈبہ اٹھاکر آگے آگے چلتے چپراسی کے پیچھے پیچھے نئی نوکری کی مبارکبادیں وصول کرتے ہوئے وہ خاصی ہنس مکھ دکھائی دیتی تھی۔

یہ فاخرہ ہیں۔ انہوں نے آج ہی ریسیپشنسٹ کے طور پر ہمارے ادارے کو جوائن کیا ہے۔،،

 ہمارے ایڈیٹر صاحب نے سب سے اس کا تعارف کروایا اور نیوزروم میں موجود تمام اسٹاف نے اسے مبارک باد دیتےہوئے خوش آمدید کہا۔    

اخبار کے دفتر میں مار دھاڑ، کرپشن، لوٹ مار،تشدد اور آبرو ریزی کی خبریں بناتے بناتے پتہ نہیں کب وہ فضول سی لت میرے قلم سے چمٹ گئی۔ ہر روز جب اخبار چھپ کر پریس سے آتا تو ہم اس میں غلطیاں مارک کرنےکےلیے انتہائی باریک بینی سے دیکھاکرتے۔ مجھے اپنے کام پر اعتماد تھا اس لیے میں غلطیاں ڈھونڈنے کے بجائے اخبار میں چھپنے والی زیادتی کی خبروں کے گرد حاشیے بناتا رہتا۔ چپراسی سے لے کر ایڈیٹر تک روزانہ دفتر سے اخبار کی تازہ اور اعزازی کاپی حاصل کرتا تھا کچھ لوگ گھر لے جاتے کچھ وہیں چھوڑ جاتے۔ میں بھی اخبار لپیٹ کر جیب میں ڈال لیا کرتا۔

   میرے ڈیڑھ کمرے کے گھر میں وہ اخبار اس آدھے کمرے میں پڑے رہتے جو لکھنے پڑھنے اور یار باشی کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ اس گھر میں میرے سوا کوئی تھا ہی نہیں سو کبھی کبھار چھٹی والے دن کچھ دوست آجاتے۔ زیادہ تر اخباری دوست تھے، سوائے مرزا صاحب کے جو ہمارے پڑوسی تھے۔ ہمارے سامنے والا فلیٹ ان کا تھا اور میری طرح وہ بھی اکیلے ہی رہتے تھے۔ ساٹھ ایک سال کے سفید بالوں اور لمبی طوطے جیسی ناک والے مرزا صاحب محکمہ ڈاک سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد تنہا زندگی گزار رہے تھے۔ بیوی داغِ مفارقت دے چکی تھی اور اکلوتا بیٹا عرب کے صحرائوں میں کسی تیل کمپنی کا ملازم تھا جو مہینے میں ایک آدھ بار باپ کو فون کرلیا کرتا تھا۔ وہ ہر ماہ کچھ پیسے انہیں بھجوادیا کرتا جبکہ سرکار کی طرف سے انہیں پینشن کی مد میں بھی چند ہزار روپے مل جایا کرتے تھے۔ ہماری تنخواہ آنے میں اگر دو چار روز کی دیر سویر ہوجاتی تو مرزا صاحب بہت کام آتے۔  

 اس شہر میں آنے کے بعد لوئر مڈل کلاس علاقے میں جو ڈیڑھ کمرے اور آدھے کچن کا فلیٹ ملا اس کا کرایہ مناسب تھا اور میں اپنی محدود تنخواہ میں اس کا کرایہ ادا کرسکتا تھا۔ یہ ایک چار منزلہ عمارت تھی جس کے نیچے چھوٹی موٹی دکانیں تھیں۔ آمنے سامنے بلند و بالا عمارتوں کے باعث وہاں سے ہوا کا گزر مشکل تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ان گھٹے گھٹے فلیٹوں میں ہر وقت ایسی بساندھ بسی رہتی جیسے کسی بند جگہ پر بہت سارے میلے کپڑے رکھ دیئے گئے ہوں۔ کبوتروں کے کابکوں جیسے ان فلیٹوں میں پورے پورے خاندان آباد تھے۔ میں سوچتا ان لوگوں کا دم نہیں گھٹتا۔ پھر خود ہی ہنس پڑتا کہ صاحب آپ بھی تو اسی ڈربہ نما فلیٹ میں رہتے ہیں آپ کا تو دم نہیں گھٹا کبھی۔۔۔،،

پھر ایک فلاسفر دوست کی بات یاد آتی۔۔ آدمی کا سب سے بڑا کمال ایڈجسٹمنٹ ہے کم بخت ہر قسم کے حالات میں خود کو ایڈجسٹ کرلیتا ہے۔ حالات چاہے جیسے بھی ہوں حیاتِ آدم کا پہیہ چلتا رہتا ہے۔،،   

مرزا صاحب چونکہ سامنے والے فلیٹ میں رہتے تھے تو ان سے آمنا سامنا ہوتا رہتا۔ انہوں نے یہ فلیٹ اس وقت خریدا تھا جب یہ عمارت بالکل نئی بنی تھی یوں انہیں ان فلیٹوں کا قدیم ترین رہائشی بھی کہا جاسکتا تھا۔ مچی مچی آنکھوں والے مرزا صاحب بڑی زیرک نگاہ رکھتے تھے۔ پان کھانے اور چائے پینے کے حد درجہ شوقین تھے اور ہمارے نوجوان دوستوں کی بیٹھک میں خوب چہکا کرتے تھے۔ ان کی ہر بات ۔۔۔ ارے میاں تمہیں کیا پتہ سے شروع ہوتی اور اللہ ہی جانے کون بشر ہے پر ختم ہوتی۔،، وہ دنیا کے ہر موضوع میں اپنا تکیہ کلام جوڑنے میں مہارت رکھتے تھے۔ پڑھے لکھے آدمی تھے اور شعر و ادب کا بھی خاصا ذوق رکھتے تھے۔ ہر دو چار دن بعد جب آتے تو ہفتے بھر کے اخبار جمع کرکے لے جاتے کہ اخبار گردی میں اچھا ٹائم پاس ہوجاتا ہے۔

مرزا صاحب میری چھٹی والے روز شام کو آجایا کرتے یا کبھی کسی اور وقت میں اگر انہیں سن گن مل جاتی کہ میں گھر پر ہوں تو فوراً ٹپک پڑتے۔۔۔

ارے میاں ہم نے سوچا نوشے میاں سے ملاقات بھی ہوجائے گی اور بہو کے ہاتھ کی چائے بھی پی لیں گے۔۔ ہی ہی ہی ہی۔۔۔۔،،

ارے ارے کیوں نہیں۔۔۔ آیئے آیئے۔۔ آپ کا اپنا گھر ہے۔۔۔،،

مجھے کبھی ان کا وقت بے وقت آنا برا نہیں لگا تھا مگر شادی کے بعد مجھے بعض اوقات ان کی آمد سے کوفت سی ہونے لگتی۔

ہم اُسی آدھے کمرے میں بیٹھا کرتے جسے مہمان خانے کا درجہ بھی حاصل تھا اور کتب خانے کا بھی۔ شادی کے بعد اس کمرے میں ہم نے ایک پرانا صوفہ سیٹ ڈال لیا تھا کہ مہمانوں کو زمین پر بٹھانا اچھا نہیں لگتا۔ یہ بھی ہماری بیگم کا فلسفہ تھا۔ شادی سے پہلے تو ہمارے دوست ایسے ہی بے تکلفی سے زمین پر بچھی دری پر ہی آلتی پالتی مار کر بیٹھ جاتے بلکہ کئی تو لیٹ بھی جاتے کہ اب صبح ہونے میں تھوڑی سی دیر ہی تو رہ گئی ہے۔ کتابیں، پرانے اخبار، سگریٹ کے پیکٹ، ڈائجسٹ، پرانی ڈائریاں سب ادھر ادھر بکھرے پڑے رہتے۔۔ میں کئی بار پڑھتے پڑھتے وہیں سوجایا کرتا۔ شادی کے بعد زندگی میں تھوڑا سا ڈسپلن آیا اور اس کمرے نے بھی ترتیب کا منہ دیکھا۔ آمنے سامنے صوفے رکھنے کے بعد بیگم نےدرمیان میں ایک میز لگوادی تاکہ چائے پانی اور ناشتے کا سامان رکھا جاسکے۔ جب چائے پانی نہ ہوتا تو اس میز پر کتابیں اور اخباریں ہی بکھری نظر آتیں۔ یہ میز بڑی کارآمد تھی اس پر چڑھ کر ہم پنکھا اور کونوں کھدروں میں لگے وہ جالے صاف کرلیا کرتے جن کی طرف ہمیشہ ہماری بیگم دھیان دلاتیں ورنہ ہمیں تو کبھی ایسی چیزیں دکھائی ہی نہیں دیتی تھیں۔ کپڑے استری کرنے ہوتے تو اس میز کو اٹھا کر سوئچ بورڈ کے قریب رکھ لیاجاتا۔

اس دن بھی ایسا ہی ہوا۔۔۔ ہمیں فاخرہ کی امی کی طرف جانا تھا اور وہ کافی دیر سے گھر کے کام نمٹانے میں لگی ہوئی تھی۔ مجھے بھی کوئی جلدی نہیں تھی سو مزے سےبستر پر نیم دراز ہوکر ٹی وی دیکھتا رہا۔

یار پنکھا تو تیز کرو۔۔۔۔،،

وہ باہر سے اندر آئی اور پنکھے کا ریگولیٹر گھما کر اس کی رفتار تیز کردی۔ پھر وہ بستر پر بیٹھ کر دونوں ہاتھوں سے بال سمیٹنے لگی۔ اس کی گردن اور سینے پر پسینے کی لکیریں بہہ رہی تھیں۔

اُف۔۔۔۔ کتنی گرمی ہے۔۔۔۔۔،،

اس نے دنوں ہاتھوں میں بال سمیٹ کر چہرہ اوپر کیا۔ اس کے ماتھے اور چہرے پر بھی پسینہ چمک رہا تھا۔ چہرہ اور بازو اوپر کرنے سے اس کی گردن تن گئی اور سینے کے ابھار مزید نمایاں ہونے لگے۔ میں ٹی وی چھوڑ کر اسے دیکھنے لگا۔

اس نے ایک ہاتھ میں بال تھامے ہوئے دوسرے سے اپنی قیمیض کا گریبان پکڑ کر ذرا سا کھینچا اور اپنے سینے پر ٹھنڈی ہوا کو محسوس کرنے لگی۔

تو نہا لو ناں جاکر!!!

میں نے اس کی بند آنکھوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

ہاں ۔۔۔ جاتی ہوں۔۔۔۔۔ ذرا یہ پسینہ خشک کرلوں۔۔۔،،

یار ہمیں کب پہنچنا ہے وہاں۔۔۔؟

میں نے پوچھا۔

پانچ۔۔۔۔ ساڑھے پانچ تک پہنچ جائیں گے۔۔۔ شام کی چائے وہیں پئیں گے۔۔۔،،

اس نے آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا اور بایاں ہاتھ گریبان میں ڈال کے قمیض کے اندر سے دائیں بغل کو کھجانے لگی۔۔۔ قمیض کی دونوں بغلیں پسینے سے تر ہورہی تھیں۔

کیوں۔۔۔ آپ کیوں پوچھ رہے ہیں۔۔؟

ایسے ہی۔۔۔۔ ابھی ایک گھنٹے سے زیادہ وقت ہے ناں ہمارے پاس۔۔۔۔۔تو۔۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔ میں۔۔ یہ سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔،،،

میں نے شرارت سے اس کے بھرے بھرے سینے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

جی نہیں۔۔۔۔،،

اس نے تنک کر کہا اور ایک جھٹکے سے ہاتھ گریبان سے نکال کر کھڑی ہوگئی۔

آپ کو تو ناں ۔۔۔ ہر وقت۔۔۔۔،،

وہ کپڑوں والی الماری کی طرف بڑھی۔ میں اس کی وسیع پشت کو دیکھ رہا تھا۔ وہ جب چلتی تو توجہ کھینچتی تھی۔

کوئی ہر وقت نہیں، کبھی کبھی ہی مہربان ہوتی ہیں آپ محترمہ۔۔۔،، میں ہنسا۔۔۔۔

    اس نے جلدی سے الماری سے ایک تہہ کیا ہوا سوٹ نکالا اور میری طرف پھینکا۔ میں اس ریشمی کپڑے پر ہاتھ پھیرنے لگا۔

وہ جھک کر الماری کے نچلے خانے میں میچنگ کا دوپٹہ تلاش کرنے لگی۔ جب جھکے جھکے تلاش کامیاب نہ ہوئی تو وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔ اس کے بھاری کولہے اس کی ایڑھیوں پر دھرے تھے اور وہ انہماک سے الماری میں بقیہ کپڑے تلاش کررہی تھی۔ اس کے بازوئوں کی حرکت سے اس کا بدن مرتعش ہوتا تھا اور ایڑھیوں پر دھرے کولہوں میں کشش کی لہریں بل کھاتی تھیں۔ میں اس کی کمر اور کولہوں کو دیکھتا رہا۔

اس کی کمر پر بائیں کندھے اور بازو کو جوڑنے والی چپٹی ہڈی کے نیچے ایک بڑا سا کالا تل تھا جسے وہ کوشش کرکے بھی دیکھ نہیں پاتی تھی۔ میں نے پہلی بار اسے بتایا تو بہت حیران ہوئی اور آئنے میں گھوم گھوم کر خود کو دیکھنے کی کوشش کرتی رہی مگر گردن گھمانے سے کندھاوپر ا اٹھ جاتا اور چپٹی ہڈی کے نیچے بنا ہوا تل اور نیچے ہو کر اس کی نگاہ سے اوجھل ہی رہتا۔

مجھے کیوں نظر نہیں آتا۔،،

ایسے ہی ایک دن اس نے آئنے میں اپنی برہنہ پشت کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا تھا۔

ایسی بہت ساری چیزیں ہماری ذات میں یا ذات سے جڑی ہوتی ہیں جنہیں ہم نہیں دیکھ پاتے، دوسرے دیکھ کے بتاتے ہیں کیا اچھا ہے کیا برا ہے۔،،

 میں نے اسے بتایا تھا

تو مجھ میں کیا کیا اچھا ہے۔؟

اس نے پوچھا تھا اور میں بہت دیر تک اسے بتاتارہا تھا۔

اس کی پشت سے دھیان ہٹا کر میں نے دیوار گیر گھڑی کی طرف دیکھا۔

ابھی تو چار بھی نہیں بجے۔۔۔۔،، میں نے سوچا۔

اتنے میں وہ اٹھ کر کھڑی ہوئی اور دوپٹے کے ساتھ ایک اور چیز میری طرف اچھالی۔

میں نے ہاتھ بڑھا کر اسے اٹھالیا۔

وہ آئنے کے سامنے کھڑی ہوکر پھر سے اپنے بالوں مین انگلیاں چلانے لگی۔

میں اس کی طرف دیکھے جارہا تھا۔

اس نے آئنے میں میری آنکھیں پکڑیں۔۔۔

جلدی آجائیں گے ناں وہاں سے۔۔۔۔۔،،

اس نے بالوں کو دونوں ہاتھوں میں لے کر سمیٹا اور میری طرف پلٹی۔۔

آپ کو نہیں نہانا۔۔۔؟

صبح ہی تو نہایا ہوں۔۔۔۔۔،، میں نے کہا

پھر سے نہالیں۔۔۔ گرمی ہورہی ہے۔۔۔۔،،

اس نے ہتھیلی سے گردن کا پسینہ پونچھتے ہوئے کہا

نہانے والا کام کرلیں پہلے۔۔۔۔۔؟

میں بستر سے اتر کر اس کی طرف بڑھا۔

اُف۔۔ فوہ۔۔۔ کیا مشکل ہے۔۔۔،،

وہ میری بانہوں میں کسمسائی

اتنی گرمی میں۔۔۔۔۔ خود سے وحشت ہورہی ہے مجھے تو۔۔۔۔،،

اس نے پیار سے مجھے خود سے الگ کیا اور بستر پر دھرے کپڑے اٹھا کر میری طرف بڑھائے۔

میں جلدی سے نہا کر آتی ہوں۔ آپ ذرا ان پر استری تو ماردیں۔،،

اپنے کام کرواتی رہتی ہو۔۔،،

میں نے کپڑے اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے اس کی کلائی تھام لی۔

کریں گے ناں۔۔۔۔۔۔،، اس نے میرے ہونٹوں پر انگلی رکھی

آپ کا کام بھی کریں گے ناں۔۔۔۔ جلدی کس بات کی ہے۔۔۔ میں کوئی وہاں رہنے تو نہیں جارہی۔۔۔۔،،

میں لاجواب ہو کر کپڑوں کی طرف دیکھنے لگا۔ وہ چار قسم کے کپڑے تھے۔

اچھے سے استری کیجئے گا۔۔۔ پلیزززززز۔۔۔،، اس نے الگنی سے تولیہ اتارا۔

اس کو بھی استری کرنا ہے۔۔۔؟

میں نے ایک چیز انگلی پر لٹکا کر جُھلاتے ہوئے پوچھا

جی نہیں۔۔۔ اِسے ایسے ہی پہنتے ہیں۔۔۔۔،،

وہ مسکرائی اور غسل خانے میں گھس گئی۔

میں نے آدھے کمرے میں آکر سارے کپڑے صوفے پر رکھے اور میز پر پڑی اشیاٗ کو اٹھا کر دوسرے صوفے پر رکھنے لگا۔ میز کو خالی کرکے میں نے سوئچ بورڈ کے قریب رکھا اور اس پر ایک موٹا کپڑا بچھایا۔

استری کا پلگ سوئچ بورڈ میں لگا کر میں اس کی قمیض کو میز پر سیدھی کرکے بچھانے لگا۔ گرم استری اس رشیمی قیمیض پر پھسلنے لگی۔ استری کرکے میں نے احتیاط سے قمیض کو صوفے پر رکھا اور شلوار کو میز پر بچھادیا۔

اس کے کپڑے استری ہوچکے تو میں نے استری کا پلگ نکالا اور میز کو دوبارہ صوفوں کے بیچ رکھ ہی رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی اور پیچھے پیچھے مرزا صاحب کی آواز آئی۔

ارے بھئی نوشے میاں!!!

ارے یہ کہاں سے ٹپک پڑے۔۔،،

بے ساختہ میرے منہ سے نکلا

دروازہ کھولا تو مرزا صاحب کلے میں پان دبائے سفید کرتا پاجامہ میں ملبوس میرے سامنے کھڑے تھے۔

  ارے مرزا صاحب۔۔۔ کیسے مزاج ہیں۔۔۔؟ میں نے خوشدلی کا مظاہرہ کیا

ارے بھئی ہم نے سوچا آج چھٹی کا دن ہے۔ نوشے میاں اور بہو گھر پر ہی ہوں گے۔ آپ سے گپ شپ ہوجائے گی اور بہو بیگم کے ہاتھ کی چائے بھی پی لیں گے۔۔۔ ہی ہی ہی ہی ہی۔۔۔۔۔

جی جی کیوں نہیں۔۔۔ آئیے۔۔۔ تشریف لایئے۔۔۔۔،،

میں نے دروازہ کھولا اور وہ کھی کھوں کھی کھوں کرتے ہوئے اندر داخل ہوگئے۔

آپ بیٹھیں۔۔ میں ذرا ۔۔۔ یہ کپڑے۔۔۔۔۔،،

میں نے جلدی سے بیگم کے استری شدہ کپڑے اٹھائے اور ان کے جواب کا انتظار کیے بغیر دوسرے کمرے کی طرف چلا۔۔

بستر پر احتیاط سے کپڑے رکھ کر میں کچن میں جاگھسا۔ مرزا صاحب آئے تھے تو چائے تو بہرحال بنانی ہی تھی۔ فاخرہ کو پتہ نہیں مزید کتنا وقت لگنا تھا غسل خانے میں۔

پتیلے میں چائے کا پانی اور چینی پتی ڈال کر میں نے چولہے کی آنچ تیز کردی۔

تم چائے پیو گی۔؟ میں نے غسل خانے کا دروازہ کھٹکھٹا کر اس سے پوچھا۔

آپ بنارہے ہیں۔۔۔،،، اندر سے اس کی کھلکھلاتی ہوئی آواز آئی۔

کوئی پہلی دفعہ تو نہیں بنا رہا۔۔۔،، میں نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔

تم ایک منٹ کو باہرآئو۔،،

جی۔۔؟

اس نے ذرا سا پٹ کھولا اور چہرہ باہر نکالا۔ اس کا چہرہ کھِلا ہوا تھا۔ وہ نہا کر تازہ دم ہوچکی تھی۔

یار وہ مرزا صاحب آئے ہیں تو چائے پیے بغیر کہاں ٹلیں گے۔۔۔۔ میں نے دو کپ چائے چڑھائی ہے تم پیو گی تو پانی بڑھا دیتا ہوں۔۔۔۔تم نہا چکی ہو یا ابھی کچھ رہتا ہے۔؟

کچھ نہیں رہتا۔۔۔۔ بس ایک منٹ میں آتی ہوں۔۔۔۔ میری چائے بھی بنالیں۔۔۔۔،،

اس نے کہا اور دروازہ بند کرلیا۔

میں نے کچن میں آکر چائے کا پانی بڑھایا اور چینی پتی کا اضافہ کرکے پانی میں رنگ چھوڑتی چائے کی پتیوں کو دیکھنے لگا۔

اتنے میں فاخرہ نہا کر نکل آئی۔ اس نے بدن کے گرد تولیہ لپیٹ رکھا تھا جو اس کے فربہ بدن کو ڈھانپنے کے لیے ناکافی تھا۔ اس کے بدن کے کئی اُجلے حصے میری توجہ کھینچنے لگے۔

میرے کپڑے کہاں ہیں۔۔۔؟

اس نے سینے پر دونوں ہاتھوں سے تولیے کے پلو سنبھالتے ہوئے پوچھا۔

اس کے بالوں سے گرتی پانی کی بوندیں اس کے شانوں پر پھسلتی تھیں۔

بیڈ پر رکھے ہیں۔۔۔۔ ،،

میں نے چائے میں دودھ ڈال کر چولہے کی آنچ کم کرتے ہوئے کہا۔

چائے بن جائے تو مجھے آواز دے لینا۔ میں ذرا بڑے میاں کو دیکھوں۔۔۔۔،،

وہ ایک ہاتھ سے تولیہ تھامے دوسرے ہاتھ سے بالوں کو جھٹکتی ہوئی بیڈروم میں چلی گئی اور میں آدھے کمرے میں آگیا۔

مرزا صاحب صوفے پر بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ میں ان کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا۔ کہیے کیسے مزاج ہیں صاحب!!!

میں نے صوفے پر رکھے تین چار ڈائجسٹ اٹھائے اور انہیں اوپر نیچے ترتیب سے رکھنے کے بعد میز پر رکھتے ہوئے پوچھا۔

مرزا صاحب کی نظریں مسلسل اخبار پر تھیں۔ میز پر میری استری کی ہوئی شرٹ کھلے بازوئوں کے ساتھ ویسے ہی پڑی تھی جیسی میں چھوڑ کر گیا تھا۔  

کچھ نہیں۔۔۔ بس یونہی آگیا تھا۔۔۔۔ آپ لوگ کہیں جارہے ہیں ۔۔۔ شاید۔۔۔۔،،

انہوں نے اخبار سے نظریں ہٹائے بغیر جواب دیا۔

نہیں۔۔۔ ہاں۔۔۔ وہ اس کی امی کی طرف جارہے ہیں۔۔۔ رات کو دیر سے آئیں گے۔،،

میں نے شرٹ اٹھا کر صوفے کی پشت پر ڈال دی اور ایش ٹرے، سگریٹ کے پیکٹ اور دیگر چیزیں اٹھا کر ترتیب سے میز پر رکھنے لگا۔

میں شاید مخل ہوا۔۔۔ ،، انہوں نے اخبار کوتہہ لگاتے ہوئے کہا

ان کے جھریوں بھرے پتلے پتلے ہاتھوں پر نیلی اور ہری رگوں کے جال پھیلے تھے۔

ارے نہیں۔۔۔ میں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ فاخرہ کی آواز سنائی دی۔

ذرا سنیے!!!

وہ۔۔۔ میں۔۔۔ شاید چائے بن گئی۔۔۔،،

میں نے پہلے گھر کے اندر کی طرف کھلنے والے دروازے اور پھر مرزا صاحب کی طرف دیکھا جو اخبار کو سلیقے سے تہہ لگارہے تھے۔

 ان کے کچھ کہنے سے پہلے ہی میں اٹھا اور آواز کی طرف بڑھا۔

بن گئی چائے۔؟ میں نے اپنے پیچھے دروازہ بھیڑتے ہوئے پوچھا۔

وہ مجھے آواز دینے کے بعد بیڈروم میں چلی گئی تھی۔ میں اس کے پیچھے پیچھے اندر چلا آیا۔

بستر پر اس کے استری کئے ہوئے کپڑے دھرے تھے۔

میری وہ کہاں ہے۔؟

اس نے ایک ہاتھ میں قمیض اور دوسرے میں شلوار اٹھا کر میرے سامنے لہرائی۔

ارے یہیں ہوگی۔۔۔،، میں نے آگے بڑھ کر دوپٹہ اٹھایا اور ہوا میں پٹخا اس میں کچھ بھی نہیں تھا۔

میں نے بستر پر پھینکا گیا تولیہ بھی اٹھا کر جھاڑا جسے وہ کپڑے پہننے کے لیے اپنے بدن سے علاحدہ کرکے بستر پر پھینک چکی تھی۔

کپڑوں کے ساتھ ہی تو تھی۔،، میں نے تولیہ بستر پر پھینک کر دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے سر کھجایا۔

وہیں چھوڑ دی ہوگی آپ نے۔۔۔۔ حد کرتے ہیں۔۔۔ مرزا صاحب کیا سوچیں گے۔۔۔،،

اس نے برا سا منہ بنایا۔

دیکھتا ہوں۔۔۔۔،، میں نے خجالت سے کہا۔

تم یہ تو پہنو۔۔۔،، میں ںے اس کے ہاتھوں میں موجود کپڑوں کی طرف اشارہ کیا۔

اُس کے بغیر کیسے پہن لوں۔۔۔؟

اُس کی آواز میں خفگی تھی۔

اچھا بابا ناراض کیوں ہوتی ہو۔،،

 میں نے جان چھڑائی اور آدھے کمرے کی طرف پلٹا۔ دروازہ کھول کر اندر آیا تو مرزا صاحب جانے کے لیے اٹھ کر کھڑے ہوچکے تھے۔ میں استری والی میز کی طرف آیا اس کے دائیں بائیں دیکھنے کے بعد نیچے جھانکا۔ پھر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر صوفے کے نیچے تلاش کرنے لگا۔

کچھ ڈھونڈ رہے ہیں کیا۔؟

میرے کانوں سے مرزا صاحب کی آواز ٹکرائی۔

ہاں۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔،،

میں صوفے پر پڑے پرانے ڈائجسٹوں کو ایسے ہی بلاوجہ ادھر ادھر کرنے لگا۔

اچھا میں چلتا ہوں۔ آپ شاید ڈسٹرب ہوئے ہیں میری مداخلت سے۔۔۔۔،،

مرزا صاحب نے میری طرف دیکھے بغیر کہا

ارے نہیں۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔،،

میں میز پر ہاتھ رکھ کر سیدھا کھڑا ہوگیا۔ مرزا صاحب  دروازے تک پہنچ چکے تھے۔

چلیں پھر ملیں گے۔،، انہوں نے دروازے کے ہینڈل کو گھمایا۔

دروازہ کھُلا نہیں اور ہینڈل ان کے ہاتھ میں گھوم کر رہ گیا۔

میں نے آگے بڑھ کر دروازے کا ہینڈل تھاما اور اسے کھولنے کے لیے زور لگایا۔ دروازہ کھلتے ہی مرزا صاحب تیر کی طرح باہر نکلے۔

وہ چائے۔۔۔۔۔،، میں نے کہا

نہیں، نہیں، پھر کبھی سہی۔۔۔،،

مرزا صاحب کی آواز میں عجلت سرسرارہی تھی، انہوں نے بے دھیانی میں اپنے کرتے کی داہنی جیب کو ہاتھ لگایا۔ ان کی سانسوں کے ساتھ ساتھ کرتے کی جیب بھی بری طرح پھولی ہوئی تھی۔

تمام شُد۔   

گیلی دھوپ۔۔۔۔ افسانہ۔۔۔ سید کامی شاہ۔ کراچی۔

اُس کا شمار ایسی عورتوں میں کیا جاسکتا تھا جن کی آواز سن کر آدمی ان سے ملنے کی تمنّا کرے اور ملنے کے بعد تمنّا کے سراب اور دنیا کے بے ثبات ہونے پر ایمان لے آئے۔

میں خوش قسمت رہا کہ وہ دفتر میں میرے بعد نوکری پر آئی اور یوں میں اس کی آواز سننے سے پہلے اسے دیکھ چکا تھا۔ پہلی بار اس سے دفتری ہائے ہیلو ہوئی تو مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ اس کی آواز اس کے جثے سے کسی طرح بھی موافقت نہیں رکھتی تھی۔ وہ بھری بھری سی، بوجھل اور جنس زدہ آواز والی تیس بتیس سال کی درمیانے قد اور صاف رنگ کی موٹی سی عورت تھی جس کی گردن اور ٹھوڑی کے درمیان گوشت کی ایک تہہ دُہری ہوتی تھی۔ اس کے ظاہری حلیے میں سوائے موٹاپے کے کوئی بھی چیز قابل ذکر نہیں تھی مگر اس کی آواز۔۔۔۔۔۔ بھری بھری، بوجھل بوجھل، بھیگی ہوئی، ہیجان خیزی سے لبریز۔۔۔۔ جیسے زرخیزی کے دنوں میں بیشتر عورتوں کی آواز اکثر ہوجایا کرتی ہے۔  وہ ایسی عورت دکھائی پڑتی تھی جو بستر میں ہو تو زیادہ عورت لگتی ہے۔ ادارے نے اُس کی پُرکشش آواز کی وجہ سے ہی اسے ریسیپشنسٹ کی نوکری دی تھی۔  وہ عام سے گھر کی ایک عام سی عورت تھی۔ جس کی شادی کی عمر تیزی سے ڈھل رہی تھی اور بدن روز با روز فربہی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ مجھے اس دن قسمت کے لکھے پر پکا یقین ہوگیا جس روز وہ بیاہ کر میرے گھر آئی۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں کسی ایسی عورت سے شادی کروں گا جو فقط آواز ہی آواز ہو۔ مگر اس سے شادی کے بعد میرے بہت سے نظریات تبدیل ہوگئے اور بہت سی الجھی گھتیاں سلجھ گئیں۔ اس کے ساتھ گزرے وقت نے مجھے بتایا کہ عورتیں وہ نہیں ہوتیں جو بظاہر وہ دکھائی دیتی ہیں یا ظاہر کرتی ہیں۔ ہر عورت کے اندر ایک اور خالص اور مکمل عورت ہوتی ہے جو اس کی مرضی سے باہر آتی ہے اور صرف اُسی شخص کے سامنے آتی ہے جسے وہ پسند کرتی ہو۔ مجھے اس نے کبھی ناپسند نہیں کیا۔

 مجھے اس شہر میں آئے ہوئے کئی سال ہوچکے تھے۔ آتے ہی پہلی نوکری ایک اخبار کے دفتر میں ملی۔ کئی ماہ تک نائٹ شفٹ میں رہنے کے بعد ایک دن میری ڈیوٹی صبح دس سے شام چھ بجے تک کردی گئی۔ اسی دوران وہ آئی مٹھائی کا ڈبہ اٹھاکر آگے آگے چلتے چپراسی کے پیچھے پیچھے نئی نوکری کی مبارکبادیں وصول کرتے ہوئے وہ خاصی ہنس مکھ دکھائی دیتی تھی۔

یہ فاخرہ ہیں۔ انہوں نے آج ہی ریسیپشنسٹ کے طور پر ہمارے ادارے کو جوائن کیا ہے۔،،

 ہمارے ایڈیٹر صاحب نے سب سے اس کا تعارف کروایا اور نیوزروم میں موجود تمام اسٹاف نے اسے مبارک باد دیتےہوئے خوش آمدید کہا۔    

اخبار کے دفتر میں مار دھاڑ، کرپشن، لوٹ مار،تشدد اور آبرو ریزی کی خبریں بناتے بناتے پتہ نہیں کب وہ فضول سی لت میرے قلم سے چمٹ گئی۔ ہر روز جب اخبار چھپ کر پریس سے آتا تو ہم اس میں غلطیاں مارک کرنےکےلیے انتہائی باریک بینی سے دیکھاکرتے۔ مجھے اپنے کام پر اعتماد تھا اس لیے میں غلطیاں ڈھونڈنے کے بجائے اخبار میں چھپنے والی زیادتی کی خبروں کے گرد حاشیے بناتا رہتا۔ چپراسی سے لے کر ایڈیٹر تک روزانہ دفتر سے اخبار کی تازہ اور اعزازی کاپی حاصل کرتا تھا کچھ لوگ گھر لے جاتے کچھ وہیں چھوڑ جاتے۔ میں بھی اخبار لپیٹ کر جیب میں ڈال لیا کرتا۔

   میرے ڈیڑھ کمرے کے گھر میں وہ اخبار اس آدھے کمرے میں پڑے رہتے جو لکھنے پڑھنے اور یار باشی کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ اس گھر میں میرے سوا کوئی تھا ہی نہیں سو کبھی کبھار چھٹی والے دن کچھ دوست آجاتے۔ زیادہ تر اخباری دوست تھے، سوائے مرزا صاحب کے جو ہمارے پڑوسی تھے۔ ہمارے سامنے والا فلیٹ ان کا تھا اور میری طرح وہ بھی اکیلے ہی رہتے تھے۔ ساٹھ ایک سال کے سفید بالوں اور لمبی طوطے جیسی ناک والے مرزا صاحب محکمہ ڈاک سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد تنہا زندگی گزار رہے تھے۔ بیوی داغِ مفارقت دے چکی تھی اور اکلوتا بیٹا عرب کے صحرائوں میں کسی تیل کمپنی کا ملازم تھا جو مہینے میں ایک آدھ بار باپ کو فون کرلیا کرتا تھا۔ وہ ہر ماہ کچھ پیسے انہیں بھجوادیا کرتا جبکہ سرکار کی طرف سے انہیں پینشن کی مد میں بھی چند ہزار روپے مل جایا کرتے تھے۔ ہماری تنخواہ آنے میں اگر دو چار روز کی دیر سویر ہوجاتی تو مرزا صاحب بہت کام آتے۔  

 اس شہر میں آنے کے بعد لوئر مڈل کلاس علاقے میں جو ڈیڑھ کمرے اور آدھے کچن کا فلیٹ ملا اس کا کرایہ مناسب تھا اور میں اپنی محدود تنخواہ میں اس کا کرایہ ادا کرسکتا تھا۔ یہ ایک چار منزلہ عمارت تھی جس کے نیچے چھوٹی موٹی دکانیں تھیں۔ آمنے سامنے بلند و بالا عمارتوں کے باعث وہاں سے ہوا کا گزر مشکل تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ان گھٹے گھٹے فلیٹوں میں ہر وقت ایسی بساندھ بسی رہتی جیسے کسی بند جگہ پر بہت سارے میلے کپڑے رکھ دیئے گئے ہوں۔ کبوتروں کے کابکوں جیسے ان فلیٹوں میں پورے پورے خاندان آباد تھے۔ میں سوچتا ان لوگوں کا دم نہیں گھٹتا۔ پھر خود ہی ہنس پڑتا کہ صاحب آپ بھی تو اسی ڈربہ نما فلیٹ میں رہتے ہیں آپ کا تو دم نہیں گھٹا کبھی۔۔۔،،

پھر ایک فلاسفر دوست کی بات یاد آتی۔۔ آدمی کا سب سے بڑا کمال ایڈجسٹمنٹ ہے کم بخت ہر قسم کے حالات میں خود کو ایڈجسٹ کرلیتا ہے۔ حالات چاہے جیسے بھی ہوں حیاتِ آدم کا پہیہ چلتا رہتا ہے۔،،   

مرزا صاحب چونکہ سامنے والے فلیٹ میں رہتے تھے تو ان سے آمنا سامنا ہوتا رہتا۔ انہوں نے یہ فلیٹ اس وقت خریدا تھا جب یہ عمارت بالکل نئی بنی تھی یوں انہیں ان فلیٹوں کا قدیم ترین رہائشی بھی کہا جاسکتا تھا۔ مچی مچی آنکھوں والے مرزا صاحب بڑی زیرک نگاہ رکھتے تھے۔ پان کھانے اور چائے پینے کے حد درجہ شوقین تھے اور ہمارے نوجوان دوستوں کی بیٹھک میں خوب چہکا کرتے تھے۔ ان کی ہر بات ۔۔۔ ارے میاں تمہیں کیا پتہ سے شروع ہوتی اور اللہ ہی جانے کون بشر ہے پر ختم ہوتی۔،، وہ دنیا کے ہر موضوع میں اپنا تکیہ کلام جوڑنے میں مہارت رکھتے تھے۔ پڑھے لکھے آدمی تھے اور شعر و ادب کا بھی خاصا ذوق رکھتے تھے۔ ہر دو چار دن بعد جب آتے تو ہفتے بھر کے اخبار جمع کرکے لے جاتے کہ اخبار گردی میں اچھا ٹائم پاس ہوجاتا ہے۔

مرزا صاحب میری چھٹی والے روز شام کو آجایا کرتے یا کبھی کسی اور وقت میں اگر انہیں سن گن مل جاتی کہ میں گھر پر ہوں تو فوراً ٹپک پڑتے۔۔۔

ارے میاں ہم نے سوچا نوشے میاں سے ملاقات بھی ہوجائے گی اور بہو کے ہاتھ کی چائے بھی پی لیں گے۔۔ ہی ہی ہی ہی۔۔۔۔،،

ارے ارے کیوں نہیں۔۔۔ آیئے آیئے۔۔ آپ کا اپنا گھر ہے۔۔۔،،

مجھے کبھی ان کا وقت بے وقت آنا برا نہیں لگا تھا مگر شادی کے بعد مجھے بعض اوقات ان کی آمد سے کوفت سی ہونے لگتی۔

ہم اُسی آدھے کمرے میں بیٹھا کرتے جسے مہمان خانے کا درجہ بھی حاصل تھا اور کتب خانے کا بھی۔ شادی کے بعد اس کمرے میں ہم نے ایک پرانا صوفہ سیٹ ڈال لیا تھا کہ مہمانوں کو زمین پر بٹھانا اچھا نہیں لگتا۔ یہ بھی ہماری بیگم کا فلسفہ تھا۔ شادی سے پہلے تو ہمارے دوست ایسے ہی بے تکلفی سے زمین پر بچھی دری پر ہی آلتی پالتی مار کر بیٹھ جاتے بلکہ کئی تو لیٹ بھی جاتے کہ اب صبح ہونے میں تھوڑی سی دیر ہی تو رہ گئی ہے۔ کتابیں، پرانے اخبار، سگریٹ کے پیکٹ، ڈائجسٹ، پرانی ڈائریاں سب ادھر ادھر بکھرے پڑے رہتے۔۔ میں کئی بار پڑھتے پڑھتے وہیں سوجایا کرتا۔ شادی کے بعد زندگی میں تھوڑا سا ڈسپلن آیا اور اس کمرے نے بھی ترتیب کا منہ دیکھا۔ آمنے سامنے صوفے رکھنے کے بعد بیگم نےدرمیان میں ایک میز لگوادی تاکہ چائے پانی اور ناشتے کا سامان رکھا جاسکے۔ جب چائے پانی نہ ہوتا تو اس میز پر کتابیں اور اخباریں ہی بکھری نظر آتیں۔ یہ میز بڑی کارآمد تھی اس پر چڑھ کر ہم پنکھا اور کونوں کھدروں میں لگے وہ جالے صاف کرلیا کرتے جن کی طرف ہمیشہ ہماری بیگم دھیان دلاتیں ورنہ ہمیں تو کبھی ایسی چیزیں دکھائی ہی نہیں دیتی تھیں۔ کپڑے استری کرنے ہوتے تو اس میز کو اٹھا کر سوئچ بورڈ کے قریب رکھ لیاجاتا۔

اس دن بھی ایسا ہی ہوا۔۔۔ ہمیں فاخرہ کی امی کی طرف جانا تھا اور وہ کافی دیر سے گھر کے کام نمٹانے میں لگی ہوئی تھی۔ مجھے بھی کوئی جلدی نہیں تھی سو مزے سےبستر پر نیم دراز ہوکر ٹی وی دیکھتا رہا۔

یار پنکھا تو تیز کرو۔۔۔۔،،

وہ باہر سے اندر آئی اور پنکھے کا ریگولیٹر گھما کر اس کی رفتار تیز کردی۔ پھر وہ بستر پر بیٹھ کر دونوں ہاتھوں سے بال سمیٹنے لگی۔ اس کی گردن اور سینے پر پسینے کی لکیریں بہہ رہی تھیں۔

اُف۔۔۔۔ کتنی گرمی ہے۔۔۔۔۔،،

اس نے دنوں ہاتھوں میں بال سمیٹ کر چہرہ اوپر کیا۔ اس کے ماتھے اور چہرے پر بھی پسینہ چمک رہا تھا۔ چہرہ اور بازو اوپر کرنے سے اس کی گردن تن گئی اور سینے کے ابھار مزید نمایاں ہونے لگے۔ میں ٹی وی چھوڑ کر اسے دیکھنے لگا۔

اس نے ایک ہاتھ میں بال تھامے ہوئے دوسرے سے اپنی قیمیض کا گریبان پکڑ کر ذرا سا کھینچا اور اپنے سینے پر ٹھنڈی ہوا کو محسوس کرنے لگی۔

تو نہا لو ناں جاکر!!!

میں نے اس کی بند آنکھوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

ہاں ۔۔۔ جاتی ہوں۔۔۔۔۔ ذرا یہ پسینہ خشک کرلوں۔۔۔،،

یار ہمیں کب پہنچنا ہے وہاں۔۔۔؟

میں نے پوچھا۔

پانچ۔۔۔۔ ساڑھے پانچ تک پہنچ جائیں گے۔۔۔ شام کی چائے وہیں پئیں گے۔۔۔،،

اس نے آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا اور بایاں ہاتھ گریبان میں ڈال کے قمیض کے اندر سے دائیں بغل کو کھجانے لگی۔۔۔ قمیض کی دونوں بغلیں پسینے سے تر ہورہی تھیں۔

کیوں۔۔۔ آپ کیوں پوچھ رہے ہیں۔۔؟

ایسے ہی۔۔۔۔ ابھی ایک گھنٹے سے زیادہ وقت ہے ناں ہمارے پاس۔۔۔۔۔تو۔۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔ میں۔۔ یہ سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔،،،

میں نے شرارت سے اس کے بھرے بھرے سینے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

جی نہیں۔۔۔۔،،

اس نے تنک کر کہا اور ایک جھٹکے سے ہاتھ گریبان سے نکال کر کھڑی ہوگئی۔

آپ کو تو ناں ۔۔۔ ہر وقت۔۔۔۔،،

وہ کپڑوں والی الماری کی طرف بڑھی۔ میں اس کی وسیع پشت کو دیکھ رہا تھا۔ وہ جب چلتی تو توجہ کھینچتی تھی۔

کوئی ہر وقت نہیں، کبھی کبھی ہی مہربان ہوتی ہیں آپ محترمہ۔۔۔،، میں ہنسا۔۔۔۔

    اس نے جلدی سے الماری سے ایک تہہ کیا ہوا سوٹ نکالا اور میری طرف پھینکا۔ میں اس ریشمی کپڑے پر ہاتھ پھیرنے لگا۔

وہ جھک کر الماری کے نچلے خانے میں میچنگ کا دوپٹہ تلاش کرنے لگی۔ جب جھکے جھکے تلاش کامیاب نہ ہوئی تو وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔ اس کے بھاری کولہے اس کی ایڑھیوں پر دھرے تھے اور وہ انہماک سے الماری میں بقیہ کپڑے تلاش کررہی تھی۔ اس کے بازوئوں کی حرکت سے اس کا بدن مرتعش ہوتا تھا اور ایڑھیوں پر دھرے کولہوں میں کشش کی لہریں بل کھاتی تھیں۔ میں اس کی کمر اور کولہوں کو دیکھتا رہا۔

اس کی کمر پر بائیں کندھے اور بازو کو جوڑنے والی چپٹی ہڈی کے نیچے ایک بڑا سا کالا تل تھا جسے وہ کوشش کرکے بھی دیکھ نہیں پاتی تھی۔ میں نے پہلی بار اسے بتایا تو بہت حیران ہوئی اور آئنے میں گھوم گھوم کر خود کو دیکھنے کی کوشش کرتی رہی مگر گردن گھمانے سے کندھاوپر ا اٹھ جاتا اور چپٹی ہڈی کے نیچے بنا ہوا تل اور نیچے ہو کر اس کی نگاہ سے اوجھل ہی رہتا۔

مجھے کیوں نظر نہیں آتا۔،،

ایسے ہی ایک دن اس نے آئنے میں اپنی برہنہ پشت کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا تھا۔

ایسی بہت ساری چیزیں ہماری ذات میں یا ذات سے جڑی ہوتی ہیں جنہیں ہم نہیں دیکھ پاتے، دوسرے دیکھ کے بتاتے ہیں کیا اچھا ہے کیا برا ہے۔،،

 میں نے اسے بتایا تھا

تو مجھ میں کیا کیا اچھا ہے۔؟

اس نے پوچھا تھا اور میں بہت دیر تک اسے بتاتارہا تھا۔

اس کی پشت سے دھیان ہٹا کر میں نے دیوار گیر گھڑی کی طرف دیکھا۔

ابھی تو چار بھی نہیں بجے۔۔۔۔،، میں نے سوچا۔

اتنے میں وہ اٹھ کر کھڑی ہوئی اور دوپٹے کے ساتھ ایک اور چیز میری طرف اچھالی۔

میں نے ہاتھ بڑھا کر اسے اٹھالیا۔

وہ آئنے کے سامنے کھڑی ہوکر پھر سے اپنے بالوں مین انگلیاں چلانے لگی۔

میں اس کی طرف دیکھے جارہا تھا۔

اس نے آئنے میں میری آنکھیں پکڑیں۔۔۔

جلدی آجائیں گے ناں وہاں سے۔۔۔۔۔،،

اس نے بالوں کو دونوں ہاتھوں میں لے کر سمیٹا اور میری طرف پلٹی۔۔

آپ کو نہیں نہانا۔۔۔؟

صبح ہی تو نہایا ہوں۔۔۔۔۔،، میں نے کہا

پھر سے نہالیں۔۔۔ گرمی ہورہی ہے۔۔۔۔،،

اس نے ہتھیلی سے گردن کا پسینہ پونچھتے ہوئے کہا

نہانے والا کام کرلیں پہلے۔۔۔۔۔؟

میں بستر سے اتر کر اس کی طرف بڑھا۔

اُف۔۔ فوہ۔۔۔ کیا مشکل ہے۔۔۔،،

وہ میری بانہوں میں کسمسائی

اتنی گرمی میں۔۔۔۔۔ خود سے وحشت ہورہی ہے مجھے تو۔۔۔۔،،

اس نے پیار سے مجھے خود سے الگ کیا اور بستر پر دھرے کپڑے اٹھا کر میری طرف بڑھائے۔

میں جلدی سے نہا کر آتی ہوں۔ آپ ذرا ان پر استری تو ماردیں۔،،

اپنے کام کرواتی رہتی ہو۔۔،،

میں نے کپڑے اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے اس کی کلائی تھام لی۔

کریں گے ناں۔۔۔۔۔۔،، اس نے میرے ہونٹوں پر انگلی رکھی

آپ کا کام بھی کریں گے ناں۔۔۔۔ جلدی کس بات کی ہے۔۔۔ میں کوئی وہاں رہنے تو نہیں جارہی۔۔۔۔،،

میں لاجواب ہو کر کپڑوں کی طرف دیکھنے لگا۔ وہ چار قسم کے کپڑے تھے۔

اچھے سے استری کیجئے گا۔۔۔ پلیزززززز۔۔۔،، اس نے الگنی سے تولیہ اتارا۔

اس کو بھی استری کرنا ہے۔۔۔؟

میں نے ایک چیز انگلی پر لٹکا کر جُھلاتے ہوئے پوچھا

جی نہیں۔۔۔ اِسے ایسے ہی پہنتے ہیں۔۔۔۔،،

وہ مسکرائی اور غسل خانے میں گھس گئی۔

میں نے آدھے کمرے میں آکر سارے کپڑے صوفے پر رکھے اور میز پر پڑی اشیاٗ کو اٹھا کر دوسرے صوفے پر رکھنے لگا۔ میز کو خالی کرکے میں نے سوئچ بورڈ کے قریب رکھا اور اس پر ایک موٹا کپڑا بچھایا۔

استری کا پلگ سوئچ بورڈ میں لگا کر میں اس کی قمیض کو میز پر سیدھی کرکے بچھانے لگا۔ گرم استری اس رشیمی قیمیض پر پھسلنے لگی۔ استری کرکے میں نے احتیاط سے قمیض کو صوفے پر رکھا اور شلوار کو میز پر بچھادیا۔

اس کے کپڑے استری ہوچکے تو میں نے استری کا پلگ نکالا اور میز کو دوبارہ صوفوں کے بیچ رکھ ہی رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی اور پیچھے پیچھے مرزا صاحب کی آواز آئی۔

ارے بھئی نوشے میاں!!!

ارے یہ کہاں سے ٹپک پڑے۔۔،،

بے ساختہ میرے منہ سے نکلا

دروازہ کھولا تو مرزا صاحب کلے میں پان دبائے سفید کرتا پاجامہ میں ملبوس میرے سامنے کھڑے تھے۔

  ارے مرزا صاحب۔۔۔ کیسے مزاج ہیں۔۔۔؟ میں نے خوشدلی کا مظاہرہ کیا

ارے بھئی ہم نے سوچا آج چھٹی کا دن ہے۔ نوشے میاں اور بہو گھر پر ہی ہوں گے۔ آپ سے گپ شپ ہوجائے گی اور بہو بیگم کے ہاتھ کی چائے بھی پی لیں گے۔۔۔ ہی ہی ہی ہی ہی۔۔۔۔۔

جی جی کیوں نہیں۔۔۔ آئیے۔۔۔ تشریف لایئے۔۔۔۔،،

میں نے دروازہ کھولا اور وہ کھی کھوں کھی کھوں کرتے ہوئے اندر داخل ہوگئے۔

آپ بیٹھیں۔۔ میں ذرا ۔۔۔ یہ کپڑے۔۔۔۔۔،،

میں نے جلدی سے بیگم کے استری شدہ کپڑے اٹھائے اور ان کے جواب کا انتظار کیے بغیر دوسرے کمرے کی طرف چلا۔۔

بستر پر احتیاط سے کپڑے رکھ کر میں کچن میں جاگھسا۔ مرزا صاحب آئے تھے تو چائے تو بہرحال بنانی ہی تھی۔ فاخرہ کو پتہ نہیں مزید کتنا وقت لگنا تھا غسل خانے میں۔

پتیلے میں چائے کا پانی اور چینی پتی ڈال کر میں نے چولہے کی آنچ تیز کردی۔

تم چائے پیو گی۔؟ میں نے غسل خانے کا دروازہ کھٹکھٹا کر اس سے پوچھا۔

آپ بنارہے ہیں۔۔۔،،، اندر سے اس کی کھلکھلاتی ہوئی آواز آئی۔

کوئی پہلی دفعہ تو نہیں بنا رہا۔۔۔،، میں نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔

تم ایک منٹ کو باہرآئو۔،،

جی۔۔؟

اس نے ذرا سا پٹ کھولا اور چہرہ باہر نکالا۔ اس کا چہرہ کھِلا ہوا تھا۔ وہ نہا کر تازہ دم ہوچکی تھی۔

یار وہ مرزا صاحب آئے ہیں تو چائے پیے بغیر کہاں ٹلیں گے۔۔۔۔ میں نے دو کپ چائے چڑھائی ہے تم پیو گی تو پانی بڑھا دیتا ہوں۔۔۔۔تم نہا چکی ہو یا ابھی کچھ رہتا ہے۔؟

کچھ نہیں رہتا۔۔۔۔ بس ایک منٹ میں آتی ہوں۔۔۔۔ میری چائے بھی بنالیں۔۔۔۔،،

اس نے کہا اور دروازہ بند کرلیا۔

میں نے کچن میں آکر چائے کا پانی بڑھایا اور چینی پتی کا اضافہ کرکے پانی میں رنگ چھوڑتی چائے کی پتیوں کو دیکھنے لگا۔

اتنے میں فاخرہ نہا کر نکل آئی۔ اس نے بدن کے گرد تولیہ لپیٹ رکھا تھا جو اس کے فربہ بدن کو ڈھانپنے کے لیے ناکافی تھا۔ اس کے بدن کے کئی اُجلے حصے میری توجہ کھینچنے لگے۔

میرے کپڑے کہاں ہیں۔۔۔؟

اس نے سینے پر دونوں ہاتھوں سے تولیے کے پلو سنبھالتے ہوئے پوچھا۔

اس کے بالوں سے گرتی پانی کی بوندیں اس کے شانوں پر پھسلتی تھیں۔

بیڈ پر رکھے ہیں۔۔۔۔ ،،

میں نے چائے میں دودھ ڈال کر چولہے کی آنچ کم کرتے ہوئے کہا۔

چائے بن جائے تو مجھے آواز دے لینا۔ میں ذرا بڑے میاں کو دیکھوں۔۔۔۔،،

وہ ایک ہاتھ سے تولیہ تھامے دوسرے ہاتھ سے بالوں کو جھٹکتی ہوئی بیڈروم میں چلی گئی اور میں آدھے کمرے میں آگیا۔

مرزا صاحب صوفے پر بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ میں ان کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا۔ کہیے کیسے مزاج ہیں صاحب!!!

میں نے صوفے پر رکھے تین چار ڈائجسٹ اٹھائے اور انہیں اوپر نیچے ترتیب سے رکھنے کے بعد میز پر رکھتے ہوئے پوچھا۔

مرزا صاحب کی نظریں مسلسل اخبار پر تھیں۔ میز پر میری استری کی ہوئی شرٹ کھلے بازوئوں کے ساتھ ویسے ہی پڑی تھی جیسی میں چھوڑ کر گیا تھا۔  

کچھ نہیں۔۔۔ بس یونہی آگیا تھا۔۔۔۔ آپ لوگ کہیں جارہے ہیں ۔۔۔ شاید۔۔۔۔،،

انہوں نے اخبار سے نظریں ہٹائے بغیر جواب دیا۔

نہیں۔۔۔ ہاں۔۔۔ وہ اس کی امی کی طرف جارہے ہیں۔۔۔ رات کو دیر سے آئیں گے۔،،

میں نے شرٹ اٹھا کر صوفے کی پشت پر ڈال دی اور ایش ٹرے، سگریٹ کے پیکٹ اور دیگر چیزیں اٹھا کر ترتیب سے میز پر رکھنے لگا۔

میں شاید مخل ہوا۔۔۔ ،، انہوں نے اخبار کوتہہ لگاتے ہوئے کہا

ان کے جھریوں بھرے پتلے پتلے ہاتھوں پر نیلی اور ہری رگوں کے جال پھیلے تھے۔

ارے نہیں۔۔۔ میں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ فاخرہ کی آواز سنائی دی۔

ذرا سنیے!!!

وہ۔۔۔ میں۔۔۔ شاید چائے بن گئی۔۔۔،،

میں نے پہلے گھر کے اندر کی طرف کھلنے والے دروازے اور پھر مرزا صاحب کی طرف دیکھا جو اخبار کو سلیقے سے تہہ لگارہے تھے۔

 ان کے کچھ کہنے سے پہلے ہی میں اٹھا اور آواز کی طرف بڑھا۔

بن گئی چائے۔؟ میں نے اپنے پیچھے دروازہ بھیڑتے ہوئے پوچھا۔

وہ مجھے آواز دینے کے بعد بیڈروم میں چلی گئی تھی۔ میں اس کے پیچھے پیچھے اندر چلا آیا۔

بستر پر اس کے استری کئے ہوئے کپڑے دھرے تھے۔

میری وہ کہاں ہے۔؟

اس نے ایک ہاتھ میں قمیض اور دوسرے میں شلوار اٹھا کر میرے سامنے لہرائی۔

ارے یہیں ہوگی۔۔۔،، میں نے آگے بڑھ کر دوپٹہ اٹھایا اور ہوا میں پٹخا اس میں کچھ بھی نہیں تھا۔

میں نے بستر پر پھینکا گیا تولیہ بھی اٹھا کر جھاڑا جسے وہ کپڑے پہننے کے لیے اپنے بدن سے علاحدہ کرکے بستر پر پھینک چکی تھی۔

کپڑوں کے ساتھ ہی تو تھی۔،، میں نے تولیہ بستر پر پھینک کر دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے سر کھجایا۔

وہیں چھوڑ دی ہوگی آپ نے۔۔۔۔ حد کرتے ہیں۔۔۔ مرزا صاحب کیا سوچیں گے۔۔۔،،

اس نے برا سا منہ بنایا۔

دیکھتا ہوں۔۔۔۔،، میں نے خجالت سے کہا۔

تم یہ تو پہنو۔۔۔،، میں ںے اس کے ہاتھوں میں موجود کپڑوں کی طرف اشارہ کیا۔

اُس کے بغیر کیسے پہن لوں۔۔۔؟

اُس کی آواز میں خفگی تھی۔

اچھا بابا ناراض کیوں ہوتی ہو۔،،

 میں نے جان چھڑائی اور آدھے کمرے کی طرف پلٹا۔ دروازہ کھول کر اندر آیا تو مرزا صاحب جانے کے لیے اٹھ کر کھڑے ہوچکے تھے۔ میں استری والی میز کی طرف آیا اس کے دائیں بائیں دیکھنے کے بعد نیچے جھانکا۔ پھر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر صوفے کے نیچے تلاش کرنے لگا۔

کچھ ڈھونڈ رہے ہیں کیا۔؟

میرے کانوں سے مرزا صاحب کی آواز ٹکرائی۔

ہاں۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔،،

میں صوفے پر پڑے پرانے ڈائجسٹوں کو ایسے ہی بلاوجہ ادھر ادھر کرنے لگا۔

اچھا میں چلتا ہوں۔ آپ شاید ڈسٹرب ہوئے ہیں میری مداخلت سے۔۔۔۔،،

مرزا صاحب نے میری طرف دیکھے بغیر کہا

ارے نہیں۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔،،

میں میز پر ہاتھ رکھ کر سیدھا کھڑا ہوگیا۔ مرزا صاحب  دروازے تک پہنچ چکے تھے۔

چلیں پھر ملیں گے۔،، انہوں نے دروازے کے ہینڈل کو گھمایا۔

دروازہ کھُلا نہیں اور ہینڈل ان کے ہاتھ میں گھوم کر رہ گیا۔

میں نے آگے بڑھ کر دروازے کا ہینڈل تھاما اور اسے کھولنے کے لیے زور لگایا۔ دروازہ کھلتے ہی مرزا صاحب تیر کی طرح باہر نکلے۔

وہ چائے۔۔۔۔۔،، میں نے کہا

نہیں، نہیں، پھر کبھی سہی۔۔۔،،

مرزا صاحب کی آواز میں عجلت سرسرارہی تھی، انہوں نے بے دھیانی میں اپنے کرتے کی داہنی جیب کو ہاتھ لگایا۔ ان کی سانسوں کے ساتھ ساتھ کرتے کی جیب بھی بری طرح پھولی ہوئی تھی۔

تمام شُد۔   

گیلی دھوپ۔۔۔۔ افسانہ۔۔۔ سید کامی شاہ۔ کراچی۔

اُس کا شمار ایسی عورتوں میں کیا جاسکتا تھا جن کی آواز سن کر آدمی ان سے ملنے کی تمنّا کرے اور ملنے کے بعد تمنّا کے سراب اور دنیا کے بے ثبات ہونے پر ایمان لے آئے۔

میں خوش قسمت رہا کہ وہ دفتر میں میرے بعد نوکری پر آئی اور یوں میں اس کی آواز سننے سے پہلے اسے دیکھ چکا تھا۔ پہلی بار اس سے دفتری ہائے ہیلو ہوئی تو مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ اس کی آواز اس کے جثے سے کسی طرح بھی موافقت نہیں رکھتی تھی۔ وہ بھری بھری سی، بوجھل اور جنس زدہ آواز والی تیس بتیس سال کی درمیانے قد اور صاف رنگ کی موٹی سی عورت تھی جس کی گردن اور ٹھوڑی کے درمیان گوشت کی ایک تہہ دُہری ہوتی تھی۔ اس کے ظاہری حلیے میں سوائے موٹاپے کے کوئی بھی چیز قابل ذکر نہیں تھی مگر اس کی آواز۔۔۔۔۔۔ بھری بھری، بوجھل بوجھل، بھیگی ہوئی، ہیجان خیزی سے لبریز۔۔۔۔ جیسے زرخیزی کے دنوں میں بیشتر عورتوں کی آواز اکثر ہوجایا کرتی ہے۔  وہ ایسی عورت دکھائی پڑتی تھی جو بستر میں ہو تو زیادہ عورت لگتی ہے۔ ادارے نے اُس کی پُرکشش آواز کی وجہ سے ہی اسے ریسیپشنسٹ کی نوکری دی تھی۔  وہ عام سے گھر کی ایک عام سی عورت تھی۔ جس کی شادی کی عمر تیزی سے ڈھل رہی تھی اور بدن روز با روز فربہی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ مجھے اس دن قسمت کے لکھے پر پکا یقین ہوگیا جس روز وہ بیاہ کر میرے گھر آئی۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں کسی ایسی عورت سے شادی کروں گا جو فقط آواز ہی آواز ہو۔ مگر اس سے شادی کے بعد میرے بہت سے نظریات تبدیل ہوگئے اور بہت سی الجھی گھتیاں سلجھ گئیں۔ اس کے ساتھ گزرے وقت نے مجھے بتایا کہ عورتیں وہ نہیں ہوتیں جو بظاہر وہ دکھائی دیتی ہیں یا ظاہر کرتی ہیں۔ ہر عورت کے اندر ایک اور خالص اور مکمل عورت ہوتی ہے جو اس کی مرضی سے باہر آتی ہے اور صرف اُسی شخص کے سامنے آتی ہے جسے وہ پسند کرتی ہو۔ مجھے اس نے کبھی ناپسند نہیں کیا۔

 مجھے اس شہر میں آئے ہوئے کئی سال ہوچکے تھے۔ آتے ہی پہلی نوکری ایک اخبار کے دفتر میں ملی۔ کئی ماہ تک نائٹ شفٹ میں رہنے کے بعد ایک دن میری ڈیوٹی صبح دس سے شام چھ بجے تک کردی گئی۔ اسی دوران وہ آئی مٹھائی کا ڈبہ اٹھاکر آگے آگے چلتے چپراسی کے پیچھے پیچھے نئی نوکری کی مبارکبادیں وصول کرتے ہوئے وہ خاصی ہنس مکھ دکھائی دیتی تھی۔

یہ فاخرہ ہیں۔ انہوں نے آج ہی ریسیپشنسٹ کے طور پر ہمارے ادارے کو جوائن کیا ہے۔،،

 ہمارے ایڈیٹر صاحب نے سب سے اس کا تعارف کروایا اور نیوزروم میں موجود تمام اسٹاف نے اسے مبارک باد دیتےہوئے خوش آمدید کہا۔    

اخبار کے دفتر میں مار دھاڑ، کرپشن، لوٹ مار،تشدد اور آبرو ریزی کی خبریں بناتے بناتے پتہ نہیں کب وہ فضول سی لت میرے قلم سے چمٹ گئی۔ ہر روز جب اخبار چھپ کر پریس سے آتا تو ہم اس میں غلطیاں مارک کرنےکےلیے انتہائی باریک بینی سے دیکھاکرتے۔ مجھے اپنے کام پر اعتماد تھا اس لیے میں غلطیاں ڈھونڈنے کے بجائے اخبار میں چھپنے والی زیادتی کی خبروں کے گرد حاشیے بناتا رہتا۔ چپراسی سے لے کر ایڈیٹر تک روزانہ دفتر سے اخبار کی تازہ اور اعزازی کاپی حاصل کرتا تھا کچھ لوگ گھر لے جاتے کچھ وہیں چھوڑ جاتے۔ میں بھی اخبار لپیٹ کر جیب میں ڈال لیا کرتا۔

   میرے ڈیڑھ کمرے کے گھر میں وہ اخبار اس آدھے کمرے میں پڑے رہتے جو لکھنے پڑھنے اور یار باشی کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ اس گھر میں میرے سوا کوئی تھا ہی نہیں سو کبھی کبھار چھٹی والے دن کچھ دوست آجاتے۔ زیادہ تر اخباری دوست تھے، سوائے مرزا صاحب کے جو ہمارے پڑوسی تھے۔ ہمارے سامنے والا فلیٹ ان کا تھا اور میری طرح وہ بھی اکیلے ہی رہتے تھے۔ ساٹھ ایک سال کے سفید بالوں اور لمبی طوطے جیسی ناک والے مرزا صاحب محکمہ ڈاک سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد تنہا زندگی گزار رہے تھے۔ بیوی داغِ مفارقت دے چکی تھی اور اکلوتا بیٹا عرب کے صحرائوں میں کسی تیل کمپنی کا ملازم تھا جو مہینے میں ایک آدھ بار باپ کو فون کرلیا کرتا تھا۔ وہ ہر ماہ کچھ پیسے انہیں بھجوادیا کرتا جبکہ سرکار کی طرف سے انہیں پینشن کی مد میں بھی چند ہزار روپے مل جایا کرتے تھے۔ ہماری تنخواہ آنے میں اگر دو چار روز کی دیر سویر ہوجاتی تو مرزا صاحب بہت کام آتے۔  

 اس شہر میں آنے کے بعد لوئر مڈل کلاس علاقے میں جو ڈیڑھ کمرے اور آدھے کچن کا فلیٹ ملا اس کا کرایہ مناسب تھا اور میں اپنی محدود تنخواہ میں اس کا کرایہ ادا کرسکتا تھا۔ یہ ایک چار منزلہ عمارت تھی جس کے نیچے چھوٹی موٹی دکانیں تھیں۔ آمنے سامنے بلند و بالا عمارتوں کے باعث وہاں سے ہوا کا گزر مشکل تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ان گھٹے گھٹے فلیٹوں میں ہر وقت ایسی بساندھ بسی رہتی جیسے کسی بند جگہ پر بہت سارے میلے کپڑے رکھ دیئے گئے ہوں۔ کبوتروں کے کابکوں جیسے ان فلیٹوں میں پورے پورے خاندان آباد تھے۔ میں سوچتا ان لوگوں کا دم نہیں گھٹتا۔ پھر خود ہی ہنس پڑتا کہ صاحب آپ بھی تو اسی ڈربہ نما فلیٹ میں رہتے ہیں آپ کا تو دم نہیں گھٹا کبھی۔۔۔،،

پھر ایک فلاسفر دوست کی بات یاد آتی۔۔ آدمی کا سب سے بڑا کمال ایڈجسٹمنٹ ہے کم بخت ہر قسم کے حالات میں خود کو ایڈجسٹ کرلیتا ہے۔ حالات چاہے جیسے بھی ہوں حیاتِ آدم کا پہیہ چلتا رہتا ہے۔،،   

مرزا صاحب چونکہ سامنے والے فلیٹ میں رہتے تھے تو ان سے آمنا سامنا ہوتا رہتا۔ انہوں نے یہ فلیٹ اس وقت خریدا تھا جب یہ عمارت بالکل نئی بنی تھی یوں انہیں ان فلیٹوں کا قدیم ترین رہائشی بھی کہا جاسکتا تھا۔ مچی مچی آنکھوں والے مرزا صاحب بڑی زیرک نگاہ رکھتے تھے۔ پان کھانے اور چائے پینے کے حد درجہ شوقین تھے اور ہمارے نوجوان دوستوں کی بیٹھک میں خوب چہکا کرتے تھے۔ ان کی ہر بات ۔۔۔ ارے میاں تمہیں کیا پتہ سے شروع ہوتی اور اللہ ہی جانے کون بشر ہے پر ختم ہوتی۔،، وہ دنیا کے ہر موضوع میں اپنا تکیہ کلام جوڑنے میں مہارت رکھتے تھے۔ پڑھے لکھے آدمی تھے اور شعر و ادب کا بھی خاصا ذوق رکھتے تھے۔ ہر دو چار دن بعد جب آتے تو ہفتے بھر کے اخبار جمع کرکے لے جاتے کہ اخبار گردی میں اچھا ٹائم پاس ہوجاتا ہے۔

مرزا صاحب میری چھٹی والے روز شام کو آجایا کرتے یا کبھی کسی اور وقت میں اگر انہیں سن گن مل جاتی کہ میں گھر پر ہوں تو فوراً ٹپک پڑتے۔۔۔

ارے میاں ہم نے سوچا نوشے میاں سے ملاقات بھی ہوجائے گی اور بہو کے ہاتھ کی چائے بھی پی لیں گے۔۔ ہی ہی ہی ہی۔۔۔۔،،

ارے ارے کیوں نہیں۔۔۔ آیئے آیئے۔۔ آپ کا اپنا گھر ہے۔۔۔،،

مجھے کبھی ان کا وقت بے وقت آنا برا نہیں لگا تھا مگر شادی کے بعد مجھے بعض اوقات ان کی آمد سے کوفت سی ہونے لگتی۔

ہم اُسی آدھے کمرے میں بیٹھا کرتے جسے مہمان خانے کا درجہ بھی حاصل تھا اور کتب خانے کا بھی۔ شادی کے بعد اس کمرے میں ہم نے ایک پرانا صوفہ سیٹ ڈال لیا تھا کہ مہمانوں کو زمین پر بٹھانا اچھا نہیں لگتا۔ یہ بھی ہماری بیگم کا فلسفہ تھا۔ شادی سے پہلے تو ہمارے دوست ایسے ہی بے تکلفی سے زمین پر بچھی دری پر ہی آلتی پالتی مار کر بیٹھ جاتے بلکہ کئی تو لیٹ بھی جاتے کہ اب صبح ہونے میں تھوڑی سی دیر ہی تو رہ گئی ہے۔ کتابیں، پرانے اخبار، سگریٹ کے پیکٹ، ڈائجسٹ، پرانی ڈائریاں سب ادھر ادھر بکھرے پڑے رہتے۔۔ میں کئی بار پڑھتے پڑھتے وہیں سوجایا کرتا۔ شادی کے بعد زندگی میں تھوڑا سا ڈسپلن آیا اور اس کمرے نے بھی ترتیب کا منہ دیکھا۔ آمنے سامنے صوفے رکھنے کے بعد بیگم نےدرمیان میں ایک میز لگوادی تاکہ چائے پانی اور ناشتے کا سامان رکھا جاسکے۔ جب چائے پانی نہ ہوتا تو اس میز پر کتابیں اور اخباریں ہی بکھری نظر آتیں۔ یہ میز بڑی کارآمد تھی اس پر چڑھ کر ہم پنکھا اور کونوں کھدروں میں لگے وہ جالے صاف کرلیا کرتے جن کی طرف ہمیشہ ہماری بیگم دھیان دلاتیں ورنہ ہمیں تو کبھی ایسی چیزیں دکھائی ہی نہیں دیتی تھیں۔ کپڑے استری کرنے ہوتے تو اس میز کو اٹھا کر سوئچ بورڈ کے قریب رکھ لیاجاتا۔

اس دن بھی ایسا ہی ہوا۔۔۔ ہمیں فاخرہ کی امی کی طرف جانا تھا اور وہ کافی دیر سے گھر کے کام نمٹانے میں لگی ہوئی تھی۔ مجھے بھی کوئی جلدی نہیں تھی سو مزے سےبستر پر نیم دراز ہوکر ٹی وی دیکھتا رہا۔

یار پنکھا تو تیز کرو۔۔۔۔،،

وہ باہر سے اندر آئی اور پنکھے کا ریگولیٹر گھما کر اس کی رفتار تیز کردی۔ پھر وہ بستر پر بیٹھ کر دونوں ہاتھوں سے بال سمیٹنے لگی۔ اس کی گردن اور سینے پر پسینے کی لکیریں بہہ رہی تھیں۔

اُف۔۔۔۔ کتنی گرمی ہے۔۔۔۔۔،،

اس نے دنوں ہاتھوں میں بال سمیٹ کر چہرہ اوپر کیا۔ اس کے ماتھے اور چہرے پر بھی پسینہ چمک رہا تھا۔ چہرہ اور بازو اوپر کرنے سے اس کی گردن تن گئی اور سینے کے ابھار مزید نمایاں ہونے لگے۔ میں ٹی وی چھوڑ کر اسے دیکھنے لگا۔

اس نے ایک ہاتھ میں بال تھامے ہوئے دوسرے سے اپنی قیمیض کا گریبان پکڑ کر ذرا سا کھینچا اور اپنے سینے پر ٹھنڈی ہوا کو محسوس کرنے لگی۔

تو نہا لو ناں جاکر!!!

میں نے اس کی بند آنکھوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

ہاں ۔۔۔ جاتی ہوں۔۔۔۔۔ ذرا یہ پسینہ خشک کرلوں۔۔۔،،

یار ہمیں کب پہنچنا ہے وہاں۔۔۔؟

میں نے پوچھا۔

پانچ۔۔۔۔ ساڑھے پانچ تک پہنچ جائیں گے۔۔۔ شام کی چائے وہیں پئیں گے۔۔۔،،

اس نے آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا اور بایاں ہاتھ گریبان میں ڈال کے قمیض کے اندر سے دائیں بغل کو کھجانے لگی۔۔۔ قمیض کی دونوں بغلیں پسینے سے تر ہورہی تھیں۔

کیوں۔۔۔ آپ کیوں پوچھ رہے ہیں۔۔؟

ایسے ہی۔۔۔۔ ابھی ایک گھنٹے سے زیادہ وقت ہے ناں ہمارے پاس۔۔۔۔۔تو۔۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔ میں۔۔ یہ سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔،،،

میں نے شرارت سے اس کے بھرے بھرے سینے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

جی نہیں۔۔۔۔،،

اس نے تنک کر کہا اور ایک جھٹکے سے ہاتھ گریبان سے نکال کر کھڑی ہوگئی۔

آپ کو تو ناں ۔۔۔ ہر وقت۔۔۔۔،،

وہ کپڑوں والی الماری کی طرف بڑھی۔ میں اس کی وسیع پشت کو دیکھ رہا تھا۔ وہ جب چلتی تو توجہ کھینچتی تھی۔

کوئی ہر وقت نہیں، کبھی کبھی ہی مہربان ہوتی ہیں آپ محترمہ۔۔۔،، میں ہنسا۔۔۔۔

    اس نے جلدی سے الماری سے ایک تہہ کیا ہوا سوٹ نکالا اور میری طرف پھینکا۔ میں اس ریشمی کپڑے پر ہاتھ پھیرنے لگا۔

وہ جھک کر الماری کے نچلے خانے میں میچنگ کا دوپٹہ تلاش کرنے لگی۔ جب جھکے جھکے تلاش کامیاب نہ ہوئی تو وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔ اس کے بھاری کولہے اس کی ایڑھیوں پر دھرے تھے اور وہ انہماک سے الماری میں بقیہ کپڑے تلاش کررہی تھی۔ اس کے بازوئوں کی حرکت سے اس کا بدن مرتعش ہوتا تھا اور ایڑھیوں پر دھرے کولہوں میں کشش کی لہریں بل کھاتی تھیں۔ میں اس کی کمر اور کولہوں کو دیکھتا رہا۔

اس کی کمر پر بائیں کندھے اور بازو کو جوڑنے والی چپٹی ہڈی کے نیچے ایک بڑا سا کالا تل تھا جسے وہ کوشش کرکے بھی دیکھ نہیں پاتی تھی۔ میں نے پہلی بار اسے بتایا تو بہت حیران ہوئی اور آئنے میں گھوم گھوم کر خود کو دیکھنے کی کوشش کرتی رہی مگر گردن گھمانے سے کندھاوپر ا اٹھ جاتا اور چپٹی ہڈی کے نیچے بنا ہوا تل اور نیچے ہو کر اس کی نگاہ سے اوجھل ہی رہتا۔

مجھے کیوں نظر نہیں آتا۔،،

ایسے ہی ایک دن اس نے آئنے میں اپنی برہنہ پشت کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا تھا۔

ایسی بہت ساری چیزیں ہماری ذات میں یا ذات سے جڑی ہوتی ہیں جنہیں ہم نہیں دیکھ پاتے، دوسرے دیکھ کے بتاتے ہیں کیا اچھا ہے کیا برا ہے۔،،

 میں نے اسے بتایا تھا

تو مجھ میں کیا کیا اچھا ہے۔؟

اس نے پوچھا تھا اور میں بہت دیر تک اسے بتاتارہا تھا۔

اس کی پشت سے دھیان ہٹا کر میں نے دیوار گیر گھڑی کی طرف دیکھا۔

ابھی تو چار بھی نہیں بجے۔۔۔۔،، میں نے سوچا۔

اتنے میں وہ اٹھ کر کھڑی ہوئی اور دوپٹے کے ساتھ ایک اور چیز میری طرف اچھالی۔

میں نے ہاتھ بڑھا کر اسے اٹھالیا۔

وہ آئنے کے سامنے کھڑی ہوکر پھر سے اپنے بالوں مین انگلیاں چلانے لگی۔

میں اس کی طرف دیکھے جارہا تھا۔

اس نے آئنے میں میری آنکھیں پکڑیں۔۔۔

جلدی آجائیں گے ناں وہاں سے۔۔۔۔۔،،

اس نے بالوں کو دونوں ہاتھوں میں لے کر سمیٹا اور میری طرف پلٹی۔۔

آپ کو نہیں نہانا۔۔۔؟

صبح ہی تو نہایا ہوں۔۔۔۔۔،، میں نے کہا

پھر سے نہالیں۔۔۔ گرمی ہورہی ہے۔۔۔۔،،

اس نے ہتھیلی سے گردن کا پسینہ پونچھتے ہوئے کہا

نہانے والا کام کرلیں پہلے۔۔۔۔۔؟

میں بستر سے اتر کر اس کی طرف بڑھا۔

اُف۔۔ فوہ۔۔۔ کیا مشکل ہے۔۔۔،،

وہ میری بانہوں میں کسمسائی

اتنی گرمی میں۔۔۔۔۔ خود سے وحشت ہورہی ہے مجھے تو۔۔۔۔،،

اس نے پیار سے مجھے خود سے الگ کیا اور بستر پر دھرے کپڑے اٹھا کر میری طرف بڑھائے۔

میں جلدی سے نہا کر آتی ہوں۔ آپ ذرا ان پر استری تو ماردیں۔،،

اپنے کام کرواتی رہتی ہو۔۔،،

میں نے کپڑے اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے اس کی کلائی تھام لی۔

کریں گے ناں۔۔۔۔۔۔،، اس نے میرے ہونٹوں پر انگلی رکھی

آپ کا کام بھی کریں گے ناں۔۔۔۔ جلدی کس بات کی ہے۔۔۔ میں کوئی وہاں رہنے تو نہیں جارہی۔۔۔۔،،

میں لاجواب ہو کر کپڑوں کی طرف دیکھنے لگا۔ وہ چار قسم کے کپڑے تھے۔

اچھے سے استری کیجئے گا۔۔۔ پلیزززززز۔۔۔،، اس نے الگنی سے تولیہ اتارا۔

اس کو بھی استری کرنا ہے۔۔۔؟

میں نے ایک چیز انگلی پر لٹکا کر جُھلاتے ہوئے پوچھا

جی نہیں۔۔۔ اِسے ایسے ہی پہنتے ہیں۔۔۔۔،،

وہ مسکرائی اور غسل خانے میں گھس گئی۔

میں نے آدھے کمرے میں آکر سارے کپڑے صوفے پر رکھے اور میز پر پڑی اشیاٗ کو اٹھا کر دوسرے صوفے پر رکھنے لگا۔ میز کو خالی کرکے میں نے سوئچ بورڈ کے قریب رکھا اور اس پر ایک موٹا کپڑا بچھایا۔

استری کا پلگ سوئچ بورڈ میں لگا کر میں اس کی قمیض کو میز پر سیدھی کرکے بچھانے لگا۔ گرم استری اس رشیمی قیمیض پر پھسلنے لگی۔ استری کرکے میں نے احتیاط سے قمیض کو صوفے پر رکھا اور شلوار کو میز پر بچھادیا۔

اس کے کپڑے استری ہوچکے تو میں نے استری کا پلگ نکالا اور میز کو دوبارہ صوفوں کے بیچ رکھ ہی رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی اور پیچھے پیچھے مرزا صاحب کی آواز آئی۔

ارے بھئی نوشے میاں!!!

ارے یہ کہاں سے ٹپک پڑے۔۔،،

بے ساختہ میرے منہ سے نکلا

دروازہ کھولا تو مرزا صاحب کلے میں پان دبائے سفید کرتا پاجامہ میں ملبوس میرے سامنے کھڑے تھے۔

  ارے مرزا صاحب۔۔۔ کیسے مزاج ہیں۔۔۔؟ میں نے خوشدلی کا مظاہرہ کیا

ارے بھئی ہم نے سوچا آج چھٹی کا دن ہے۔ نوشے میاں اور بہو گھر پر ہی ہوں گے۔ آپ سے گپ شپ ہوجائے گی اور بہو بیگم کے ہاتھ کی چائے بھی پی لیں گے۔۔۔ ہی ہی ہی ہی ہی۔۔۔۔۔

جی جی کیوں نہیں۔۔۔ آئیے۔۔۔ تشریف لایئے۔۔۔۔،،

میں نے دروازہ کھولا اور وہ کھی کھوں کھی کھوں کرتے ہوئے اندر داخل ہوگئے۔

آپ بیٹھیں۔۔ میں ذرا ۔۔۔ یہ کپڑے۔۔۔۔۔،،

میں نے جلدی سے بیگم کے استری شدہ کپڑے اٹھائے اور ان کے جواب کا انتظار کیے بغیر دوسرے کمرے کی طرف چلا۔۔

بستر پر احتیاط سے کپڑے رکھ کر میں کچن میں جاگھسا۔ مرزا صاحب آئے تھے تو چائے تو بہرحال بنانی ہی تھی۔ فاخرہ کو پتہ نہیں مزید کتنا وقت لگنا تھا غسل خانے میں۔

پتیلے میں چائے کا پانی اور چینی پتی ڈال کر میں نے چولہے کی آنچ تیز کردی۔

تم چائے پیو گی۔؟ میں نے غسل خانے کا دروازہ کھٹکھٹا کر اس سے پوچھا۔

آپ بنارہے ہیں۔۔۔،،، اندر سے اس کی کھلکھلاتی ہوئی آواز آئی۔

کوئی پہلی دفعہ تو نہیں بنا رہا۔۔۔،، میں نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔

تم ایک منٹ کو باہرآئو۔،،

جی۔۔؟

اس نے ذرا سا پٹ کھولا اور چہرہ باہر نکالا۔ اس کا چہرہ کھِلا ہوا تھا۔ وہ نہا کر تازہ دم ہوچکی تھی۔

یار وہ مرزا صاحب آئے ہیں تو چائے پیے بغیر کہاں ٹلیں گے۔۔۔۔ میں نے دو کپ چائے چڑھائی ہے تم پیو گی تو پانی بڑھا دیتا ہوں۔۔۔۔تم نہا چکی ہو یا ابھی کچھ رہتا ہے۔؟

کچھ نہیں رہتا۔۔۔۔ بس ایک منٹ میں آتی ہوں۔۔۔۔ میری چائے بھی بنالیں۔۔۔۔،،

اس نے کہا اور دروازہ بند کرلیا۔

میں نے کچن میں آکر چائے کا پانی بڑھایا اور چینی پتی کا اضافہ کرکے پانی میں رنگ چھوڑتی چائے کی پتیوں کو دیکھنے لگا۔

اتنے میں فاخرہ نہا کر نکل آئی۔ اس نے بدن کے گرد تولیہ لپیٹ رکھا تھا جو اس کے فربہ بدن کو ڈھانپنے کے لیے ناکافی تھا۔ اس کے بدن کے کئی اُجلے حصے میری توجہ کھینچنے لگے۔

میرے کپڑے کہاں ہیں۔۔۔؟

اس نے سینے پر دونوں ہاتھوں سے تولیے کے پلو سنبھالتے ہوئے پوچھا۔

اس کے بالوں سے گرتی پانی کی بوندیں اس کے شانوں پر پھسلتی تھیں۔

بیڈ پر رکھے ہیں۔۔۔۔ ،،

میں نے چائے میں دودھ ڈال کر چولہے کی آنچ کم کرتے ہوئے کہا۔

چائے بن جائے تو مجھے آواز دے لینا۔ میں ذرا بڑے میاں کو دیکھوں۔۔۔۔،،

وہ ایک ہاتھ سے تولیہ تھامے دوسرے ہاتھ سے بالوں کو جھٹکتی ہوئی بیڈروم میں چلی گئی اور میں آدھے کمرے میں آگیا۔

مرزا صاحب صوفے پر بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ میں ان کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا۔ کہیے کیسے مزاج ہیں صاحب!!!

میں نے صوفے پر رکھے تین چار ڈائجسٹ اٹھائے اور انہیں اوپر نیچے ترتیب سے رکھنے کے بعد میز پر رکھتے ہوئے پوچھا۔

مرزا صاحب کی نظریں مسلسل اخبار پر تھیں۔ میز پر میری استری کی ہوئی شرٹ کھلے بازوئوں کے ساتھ ویسے ہی پڑی تھی جیسی میں چھوڑ کر گیا تھا۔  

کچھ نہیں۔۔۔ بس یونہی آگیا تھا۔۔۔۔ آپ لوگ کہیں جارہے ہیں ۔۔۔ شاید۔۔۔۔،،

انہوں نے اخبار سے نظریں ہٹائے بغیر جواب دیا۔

نہیں۔۔۔ ہاں۔۔۔ وہ اس کی امی کی طرف جارہے ہیں۔۔۔ رات کو دیر سے آئیں گے۔،،

میں نے شرٹ اٹھا کر صوفے کی پشت پر ڈال دی اور ایش ٹرے، سگریٹ کے پیکٹ اور دیگر چیزیں اٹھا کر ترتیب سے میز پر رکھنے لگا۔

میں شاید مخل ہوا۔۔۔ ،، انہوں نے اخبار کوتہہ لگاتے ہوئے کہا

ان کے جھریوں بھرے پتلے پتلے ہاتھوں پر نیلی اور ہری رگوں کے جال پھیلے تھے۔

ارے نہیں۔۔۔ میں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ فاخرہ کی آواز سنائی دی۔

ذرا سنیے!!!

وہ۔۔۔ میں۔۔۔ شاید چائے بن گئی۔۔۔،،

میں نے پہلے گھر کے اندر کی طرف کھلنے والے دروازے اور پھر مرزا صاحب کی طرف دیکھا جو اخبار کو سلیقے سے تہہ لگارہے تھے۔

 ان کے کچھ کہنے سے پہلے ہی میں اٹھا اور آواز کی طرف بڑھا۔

بن گئی چائے۔؟ میں نے اپنے پیچھے دروازہ بھیڑتے ہوئے پوچھا۔

وہ مجھے آواز دینے کے بعد بیڈروم میں چلی گئی تھی۔ میں اس کے پیچھے پیچھے اندر چلا آیا۔

بستر پر اس کے استری کئے ہوئے کپڑے دھرے تھے۔

میری وہ کہاں ہے۔؟

اس نے ایک ہاتھ میں قمیض اور دوسرے میں شلوار اٹھا کر میرے سامنے لہرائی۔

ارے یہیں ہوگی۔۔۔،، میں نے آگے بڑھ کر دوپٹہ اٹھایا اور ہوا میں پٹخا اس میں کچھ بھی نہیں تھا۔

میں نے بستر پر پھینکا گیا تولیہ بھی اٹھا کر جھاڑا جسے وہ کپڑے پہننے کے لیے اپنے بدن سے علاحدہ کرکے بستر پر پھینک چکی تھی۔

کپڑوں کے ساتھ ہی تو تھی۔،، میں نے تولیہ بستر پر پھینک کر دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے سر کھجایا۔

وہیں چھوڑ دی ہوگی آپ نے۔۔۔۔ حد کرتے ہیں۔۔۔ مرزا صاحب کیا سوچیں گے۔۔۔،،

اس نے برا سا منہ بنایا۔

دیکھتا ہوں۔۔۔۔،، میں نے خجالت سے کہا۔

تم یہ تو پہنو۔۔۔،، میں ںے اس کے ہاتھوں میں موجود کپڑوں کی طرف اشارہ کیا۔

اُس کے بغیر کیسے پہن لوں۔۔۔؟

اُس کی آواز میں خفگی تھی۔

اچھا بابا ناراض کیوں ہوتی ہو۔،،

 میں نے جان چھڑائی اور آدھے کمرے کی طرف پلٹا۔ دروازہ کھول کر اندر آیا تو مرزا صاحب جانے کے لیے اٹھ کر کھڑے ہوچکے تھے۔ میں استری والی میز کی طرف آیا اس کے دائیں بائیں دیکھنے کے بعد نیچے جھانکا۔ پھر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر صوفے کے نیچے تلاش کرنے لگا۔

کچھ ڈھونڈ رہے ہیں کیا۔؟

میرے کانوں سے مرزا صاحب کی آواز ٹکرائی۔

ہاں۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔،،

میں صوفے پر پڑے پرانے ڈائجسٹوں کو ایسے ہی بلاوجہ ادھر ادھر کرنے لگا۔

اچھا میں چلتا ہوں۔ آپ شاید ڈسٹرب ہوئے ہیں میری مداخلت سے۔۔۔۔،،

مرزا صاحب نے میری طرف دیکھے بغیر کہا

ارے نہیں۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔،،

میں میز پر ہاتھ رکھ کر سیدھا کھڑا ہوگیا۔ مرزا صاحب  دروازے تک پہنچ چکے تھے۔

چلیں پھر ملیں گے۔،، انہوں نے دروازے کے ہینڈل کو گھمایا۔

دروازہ کھُلا نہیں اور ہینڈل ان کے ہاتھ میں گھوم کر رہ گیا۔

میں نے آگے بڑھ کر دروازے کا ہینڈل تھاما اور اسے کھولنے کے لیے زور لگایا۔ دروازہ کھلتے ہی مرزا صاحب تیر کی طرح باہر نکلے۔

وہ چائے۔۔۔۔۔،، میں نے کہا

نہیں، نہیں، پھر کبھی سہی۔۔۔،،

مرزا صاحب کی آواز میں عجلت سرسرارہی تھی، انہوں نے بے دھیانی میں اپنے کرتے کی داہنی جیب کو ہاتھ لگایا۔ ان کی سانسوں کے ساتھ ساتھ کرتے کی جیب بھی بری طرح پھولی ہوئی تھی۔

تمام شُد۔   

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.