مشعل ِ اُمید ۔۔۔ شیخ ایاز

امید

شیخ ایاز

(ترجمہ آفاق صدیقی)

زندگی کے جال میں

کتنی ہی خوشیاں اچانک آ گیئں

خوب ناچیں اور تڑپ کر مر گیئں

پیار کی کیا کیا امنگیں نت نئی خوشیوں میں تھیں

اس بھری دنیا کی ہر شے بے ثبات

موت سے بچ کر رہی ہے کس کی ذات

پھر بھی پیاری ہے ہمیں یہ کائنات

کون کہتا ہے کہ رنجیدہ رہو

ہر گھڑی ہے اک دفینہ

اس میں تم کرتے رہو انمول ہیروں کی تلاش

ہر غبار آلودہ شام اک نیاریئے کی جھول ہے

وقت آئے گا کہ جب اس جھول سے

نکلیں گے لاکھوں ستارے جگمگاتے جاگتے

سونے کے ذروں کی طرح

حسن استقلال سے اس وقت تک

لو ہماری مشعل امید کی

اپنے سب ہمراہیوں کی راہ میں

نو بہ نو ہوتی رہے گی ضو فشاں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.