ادراک ۔۔۔ نائلہ راٹھور
ادراک
نائلہ راٹھور
اب مجھے خود پر رحم نہیں آتا
خود ترسی کی کیفیت نے مجھے نگل لیا تھا
اداسی میرے ساتھ بوڑھی ہو چکی ہے
اب اسکی لاٹھی کی آواز
میری سماعتوں کو بھلی لگنے لگی ہے
خامشی کانوں میں رس گھولتی ہے
گریز کڑوا نہیں لگتا
زبان کو زہر بھرے لہجوں کا ذائقہ بھانے لگا ہے
مجھے خود سے لڑنا اچھا لگتا ہے
زخم زخم وجود میں درد کی لہریں
من کو اشانت رکھتی ہیں
یاد ملنے بھی آئے اسے دروازہ بند ملے گا
فراموشی کا قفل لگا کر
میں نے چابی
نسیان کے سمندر میں پھینک دی تھی
اب اداسی گھر میں پھلتی پھولتی اورتنہائی گنگناتی ہے