انقلاب ۔۔۔ ارجن ڈانگلے
انقلاب
(چھاونی ہلتی ہے)
ارجن ڈانگلے
ہم اس وقت بھی ان کے دوست تھے
جب مٹی کے برتن ہماری گردنوں سے لٹکے ہوتے تھے
ہمارے پہلو میں جھاڑو بندھی ہوتی تھی
ہم اونچے محلوں میں کام کرنے جاتے تھے
اور سب کو ” جے ہو مائی باپ” کہتے جاتے تھے
ہم کووں سے لڑتے تھے
اور اپنی ناک کی غلاظت تک انہیں نہیں دیتے تھے
لیکن جب اونچے محلوں سے ہم مردہ جانور گھسیٹتے
بڑی احتیاط سے ان کی کھال اتارتے
اور گوشت آپس میں بانٹ لیتے
تو وہ ہم سے مانوس ہو جاتے
ہم گیدڑوں، کتوں، گدھوں اور چیلوں سے لڑتے
کیونکہ ہم ان کا حصہ کھا جاتے
اب ہمیں نیچے سے اوپر تک ایک تبدیلی نظر آتی ہے
کوے، گیدڑ، کتے، گدھ اور چیلیں
ہمارے بہترین دوست ہیں
اونچے محلوں کے دروازے ہم پر بند ہو گئے ہیں
انقلاب کی فتح کے نعرے لگاو
فتح کے نعرے لگاو
جلادو، ان کو جلا دو جو روایات کو توڑتے ہیں۔
( اٹھارہویں صدی میں اچھوتوں کی گردن میں مٹی کے پیالے بندھے ہوتے تھے کہ وہ زمین پر تھوک کر کر اسے گندہ نہ کریں اور اپنے ساتھ جھاڑو رکھتے تھے تاکہ اپنے قدموں کے نشان بھی مٹاتے جایئں۔ بستیوں سے مردہ جانور اٹھانے کا کام بھی انہی کا تھا۔ یہ اچھوت، اونچی ذات کے ہندووں کو ” جے ہو مائی باپ” کہتے تھے۔ )