خود کشی اور معاشرہ ۔۔۔ ابصار فاطمہ

خود کشی اور معاشرہ

ابصار فاطمہ

معاشرے کو سمجھنا بھی سائنس ہے معاشرتی سائنس۔ جس کے کچھ معیار ہیں۔ اور کچھ طے شدہ طریقے اور پیمانے۔ ان میں چار اہم طریقہ کار ہیں جن کی مدد سے کسی بھی معاشرے کو تہہ در تہہ سمجھا جا سکتا ہے۔ تقابلی جائزہ ، تاریخی جائزہ، تو جیہاتی جائزہ اور نظریاتی جائزہ۔

آج ہم اسی طریقہ کار کو استعمال کر کے دیکھتے ہیں کہ خود کشی جیسا اہم مسئلہ بھی معاشرتی پہلو رکھتا ہے یا صرف انفرادی حیثیت کا حامل ہے اور یہ بھی سوچنا ہو گا کہ جب ہم خود کشی یا اس جیسے کسی مسئلے پر کوئی رائے قائم کرتے ہیں تو ہم کیا طریقہ کار اپناتے ہیں۔ بلکہ کیا ہم رائے قائم کرتے ہوئے کوئی طریقہ کار اپناتے بھی ہیں یا نہیں۔

بہت سے مسائل اور معاملات پہ ہماری کوئی رائے ہوتی ہے۔ جو عموما نظریاتی ہوتی ہے۔ ہم بچپن سے کسی نہ کسی مخصوص نظریے کے حوالے سے معلومات حاصل کرتے ہیں جس میں ناصرف مذہب، اخلاقیات بلکہ سائنس کے بھی بہت سے نظریات شامل ہیں۔ زمین گول ہے یادن میں 24 گھنٹے ہوتے ہیں یہ سب ہم نے یاد کیا ہوا ہے۔ پانی آکسیجن اور ہائڈروجن سے مل کے بنتا ہے اس کا ثبوت شاید لیبارٹری میں آبادی کا مشکل سے دس فیصد حصہ ہی دیکھتا ہو گا۔ اہم چیز جو ہم لوگ مسں

کر جاتے ہیں کیوں کہ ہمیں یہ سکھایا نہیں جاتاوہ ہے مزید تین طریقوں کا استعمال۔

کسی بھی مسئلے کو سمجھنے اور جانچنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ہم دیکھیں کہ اس کی ابتداء کیسے ہوئی۔ یہ سمجھنے کے لیے ہم سوال میں استعمال ہوئی مثال یعنی خود کشی پر بات کرتے ہیں۔ خود کشی سے متعلق جو تاریخی شواہد ملتے ہیں ان میں زیادہ تر خود کشیاں یا تور ضا کارانہ طور پر کی جاتی تھیں یا سزا کے طور پر کچھ خود کشیاں کسی جسمانی تکلیف سے چھٹکارے کے لیے بھی کی جاتی تھیں۔ آپ کو سقراط کا قصہ یاد ہو گا کہ اسے سزا کے طور پر خود زہر کا پیالہ پینا پڑا تھا۔

بہت سے علاقوں اور مذاہب کا رواج تھا کہ ملک یا قوم کی حفاظت کے لیے یا کسی بڑے مقصد کی تعمیل کے لیے خود کو رضا کارانہ طور پہ پیش کیا جاتا تھا۔ انڈیا میں یہ رسم بھی رہی کہ جب راجہ پرجا کسی بیرونی حملے سے محفوظ نہیں رکھ پاتا تھا تو خود کشی کر لیتا تھا۔

تاریخ کے شواہد دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ایک لمبے عرصے تک خود کشی کو برا عمل نہیں سمجھا جاتا تھانہ زندگی کی حفاظت کو اس طرح ضروری سمجھا جاتا تھا جیسے کہ اب سمجھا جاتا ہے۔ یہ خود کشی کی تار یخی پہلو کی بات تھی اب آتے ہیں تو جیہاتی پہلو۔ یعنی کن کن وجوہات کی بنا پہ خود کشیاں کی جاتی ہیں۔ خود کش حملے سے لے کر عزت بچانے کے لیے کی جانے والی خود کشیوں تک  کے بیچ میں کئی وجوہات اور حقائق موجود ہیں۔ کسی ملک میں خود کشی کے زیادہ رجحان کے پیچھے نہ صرف وہاں پر مسائل کا زیادہ ہو نا مگر ساتھ ساتھ کسی مخصوص قسم کی خود کشی سے متعلق نظریہ بھی بہت اہم ہے۔ یہ بات سمجھناضروری ہے کہ کسی مسئلے کو ختم کرنے کے لیے اس سے جڑے نظریہ کو بدلنا انتہائی اہم ہے کیونکہ وہ افراد جو مسئلہ پیدا کرنے کے جرم میں پکڑے جاتے ہیں وہ چند ہوتے ہیں جبکہ اس نظریہ کے حامل افراد کہیں زیادہ۔ صرف قانون سازی کرنے سے وہ مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ اس بات کا تجربہ کئی ترقی یافتہ ممالک کر چکے ہیں جہاں مختلف بڑے مسائل جن میں خود کشی، نشہ ، ڈکیتی اور قتل وغیرہ جیسے جرائم کے لیے جب قانون سازی ناکام ہو گئی تو انہوں نے اگلا قدم اٹھایا اور عوام کو آگاہی کی طرف لے کر گئے۔ کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جہاں سزا کارجحان کم ہوتا جارہا ہے اور بڑے پیمانے پر لوگوں کو ریبیٹیشن یا سدھار کی سہولتیں مہیا کی جارہی ہیں۔ اور یہ یاد رکھیے گا کہ ان ترقی یافتہ ممالک سے مراد ” امریکہ ” نہیں ہے کیوں کہ ہماری عمومی غلط فہمی یہ ہے کہ جب بھی مغربی ترقی یافتہ ممالک کا نام لیا جاتا ہے تو ہم صرف امریکہ کا تصور کرتے ہیں جبکہ سوائے بڑی فوج اور مہنگی کرنسی کے امریکہ میں اکثر ایسی خصوصیات نہیں ہیں جو کہ ترقی یافتہ ملک کے معیار پر پوری اترے خاص طور پر جب ہم معاشرتی بہتری، ایک عام شہری کے زندگی کے معیار کے حوالے سے اور سوشل سائنس کے بنیادی نظریات کے حوالے سے دیکھیں تو امریکہ اور کئی ایسے ممالک جنہیں ترقی کا استعارہ سمجھا جاتا ہے وہ اصل معیار سے کہیں پیچھے ہیں۔ امریکہ کا نام یہاں اس لیے بھی استعمال کیا کیوں کہ دنیا میں سب سے زیادہ خود کشیاں جن ممالک میں ہوتی ہیں امریکہ ان پچاس ممالک میں شامل ہے۔

چلیے پہلے تو دیکھتے ہیں کہ کن ممالک میں سب سے زیادہ خود کشیاں ہوتی ہیں اور تحقیق کے بعد کیا وجوہات سامنے آئی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں پچھلے چند سالوں میں سب سے زور خود کشیاں سری لنکا، قازقستان ، غانا، لیتھوینیا اور سا وتھ کوریا میں ہو ئیں۔ ان میں سے کسی کو اول یا دوم اس لیے نہیں کہا جاسکتا کیوں کہ تناسب کی تھوڑے بہت فرق سے ہر سال کوئی ایک ملک زیادہ اور کوئی اس سے کچھ کم ہو جاتا ہے۔ مگر کئی سالوں سے یہی ممالک صف اول ہیں۔ اور یہاں خود کشیوں کے تناسب میں ہر سال بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ اگردنیا کے 2500 ممالک دیکھیں جہاں خود کشی کا تناسب سب سے زیادہ ہے اس میں حیرت انگیز طور پر کچھ بہت ترقی یافتہ ممالک بھی شامل ہیں جیسے کہ جاپان اور روس۔ مگر زیادہ تر ممالک انتہائی غریب ہیں۔ ایک اہم بات جو تمام ممالک کے خود کشی کیسٹر میں یکساں ہے وہ یہ کہ خود کشی کرنے والوں کی اکثریت کا تعلق کم تعلیم یافتہ اور غریب گھرانوں سے ہے ان میں بے روزگار ہونا سر فہرست مسئلہ ہے اس کے بعد گھریلو مسائل اور نشہ کرنا سب سے زیادہ پائے جانے والے مسائل ہیں۔ خود کشی کے کیسز میں اہم بات جو قابل توجہ ہے وہ یہ کہ ہر جگہ مردوں کا خود کشی کا تناسب اس ملک کی خواتین سے کہیں زیادہ ہے کہیں پر دو گنا اور کہیں پہ دو گئے سے بھی زیادہ۔ مگر جب آپ خود کشی سے متعلق جمع ہونے والے ڈیٹا کا مرید گہرائی سے مطالعہ کریں تو اس تناسب کی مزید وجوہات نظر آتی ہیں۔ سب سے پہلی وجہ یہ کہ مرد عموما زیادہ سریع الاثر طریقہ استعمال کرتے ہیں مثلا کسی ہتھیار سے خود پر وار کرنا کسی گاڑی یا ٹرین کے سامنے آ جانا یاخود کو جلا لینا۔ جبکہ خواتین عموما ز ہر خورانی کا طریقہ استعمال کرتی ہیں جس کی فوری طبی امداد دینی به نسبت باقی طریقوں کے آسان ہے۔ ایسے میں یہ کوشش خودکشی کے اعداد وشمار میں شامل نہیں ہو پاتی۔ اس کے بعد آتا ہے کیس رجسٹر کرنے کا طریقہ ، بہت سی خود کشیاں گھر والوں کی جانب سے چھپالی جاتی ہیں کیونکہ اسے حادثے کا رنگ دینا آسان ہوتا ہے اور بہت ذاتی مسائل سامنے آنے سے بچ جاتے ہیں۔ چھت سے کودنا، گاڑی کے سامنے آجانا دوا کا اور ڈوز ، دریا میں ڈوب جانا ایسے طریقے ہیں جو کہ عموما حادثے کے زمرے میں آسانی سے ڈال دیئے جاتے ہیں اور یا تو اہل خانہ یا پھر پولیس اسے خود کشی کے طور پر رجسٹر

نہیں کرتی۔

سوال یہ آتا ہے کہ اہل خانہ تو معاملے کو چھپا لیں یہ بات سمجھ آتی ہے مگر پو لیس ، اسپتال اور اس جیسے دوسرے حکومتی ادارے ایسا کیوں کرتے ہیں تو اس کی وجہ سامنے ہے کہ جس جگہ سے  آپ کی ذمہ داری ہو وہاں اعداد و شمار یہ دکھائے  کہ یہاں سب سے زیادہ مسائل ہیں تو آپ کی کارکردگی پہ سوالیہ نشان ہوگا۔

اب بر سبیل تذکرہ یہ بھی بتاتی جاؤں کہ عالمی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اس فہرست میں 177 ویں نمبر پہ ہے اور ہمارے ملک میں ہر سال ہر ایک لاکھ مردوں میں سے ہر ڈھائی مرد اور ہر ایک لاکھ عورتوں میں سے ہر ڈھائی عورت ، خود کشی کا شکار ہوتے ہیں۔ اور یہ اعداد و شمار حکومتی سطح پر رجسٹر ڈ اعداد و شمار ہیں۔

ایسے ہی برسبیل تذکرہ کہ امریکہ اس فہرست میں 48 ویں جبکہ انڈیا 24 ویں نمبر پر ہے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ عالمی ادارہ صحت ہمیشہ حکومتی سطح پر رجسٹر ڈ کیسز کے اعداد و شمار بتاتا ہے جبکہ کچھ ادارے اپنے ذرائع سے بھی یہ اعداد و شمار اکھٹے کرتے ہیں ایسے میں ان کی بنائی ہوئی فہرست میں یہ ترتیب کچھ آگے پیچھے ہوتی ہے۔ مگر اس کے باوجود سر فہرست پانچ سے دس ممالک تھوڑے بہت تعداد کے فرق کے ساتھ وہی ہیں۔

خود کشی کے حوالے سے یہ سب تو تھا اجتماعی در جے اور اعداد و شمار کا تذکرہ۔ اب دیکھتے ہیں کہ خود کشی کرنے والا کس ذہنی کیفیت کا شکار ہوتا ہے۔ خود کشی کے عموما کیسز میں متاثرہ شخص انتہائی شدید ذہنی تناؤ کا شکار رہا ہوتا ہے۔ افسردگی، زندگی سے بیزاری، اکیلے پن کا احساس، کوئی بھی اچانک اور شدید صدمه و غیره عموما کیسز میں خود کشی سے پہلے وہ اپنے ارادے کا اظہار کسی قریبی شخص سے ضرور کرتا ہے۔ جو کہ اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا پھر اسے مزید ذہنی دباو میں مبتلا کرنے والی رائے سے نوازا جاتا ہے۔ جس میں سر فہرست رویہ متاثرہ شخص کے مسئلے کو کھلے الفاظ میں غیر اہم اور عمومی قرار دینا ہے۔ عموما جب خود کشی معاشرتی عوامل کا نتیجہ نظر آتی ہے وہاں اکثر وہ فرد پہلے سے شدید ڈپریشن کا شکار ہوتا ہے۔ ڈپریشن میں بیک وقت کئی عوامل مل کے انسانی جذبات پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ معاشرتی عوامل بتدریج اسے ہر وقت اعصابی دباؤ کا شکار رکھیں گے جس کی وجہ سے اس کے جسم میں

اسٹریس کی کیفیت بنانے والے کیمیکل مستقل بنتے رہیں گے ۔ اور بالآخر جب اسٹریس کی کیفیت نہ ہو وہ تب بھی موجود رہیں گے۔ یہی نتیجہ لمبی بیماری یا کسی جینیاتی مسئلے کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ کیمیکلز کا غیر متوازن ہو نا بذات خود ڈپریشن کا شکار نہیں کرتا کہ وہ انسانی دماغ کی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت بندر بیج کم اور پھر ختم کرتا چلا جاتا ہے۔ اس لیے جیسے کچھ لوگ دعوی کرتے ہیں کہ ہم پہ بھی  اتنے مشکل حالات پڑے ہم نے ڈٹ کے مقابلہ کیا تمہیں بھی کرنا چاہیے۔ یہاں فرق صرف آتا ہے کہ آپ کا مینٹل فکنشن اس بات کی صلاحیت رکھتا ہے کہ مسئلے کا منطقی مشاہدہ کر کے دھیرے دھیرے ہی سہی لیکن مسئلے کے حل کی طرف جاسکے۔ لیکن شدید ڈپریشن کا شکار ذہن  ایسا نہیں کر پاتا۔ اسے مسائل تو نظر آئیں گے لیکن حل نظر نہیں آئے گا۔ جس طرح کسی ایسے شخص کو جسے نمک یا چکنائی سے مسئلہ نہیں وہ تیز نمک اور چکنائی والا کھانا بھی مزے سے کھالے گا لیکن سے بی پی کا مسئلہ ہو وہ ذراسی چکنائی بھی نہیں سہہ سکے گا۔ اسے یہ کہنا کہ دیکھو ہمیں تو کچھ نہیں ہوا ہم نے تو تم سے کہیں زیادہ نمک اور چکنائی کھائی ہے بالکل بھی منطقی دلیل نہیں۔

ڈپریشن کے علاوہ خودکشی میں اور وجوہات بھی ہوتی ہیں۔ کچھ نفسیاتی امراض میں مریض کو لگتا ہے کوئی غیبی طاقت اسے کچھ کام کرنے کا کہہ رہی ہے اور وہ کام اس کے لیے یا کسی اور کے لیے جان لیوا حد تک خطر ناک ہو سکتے ہیں۔

کچھ جسمانی بیماریاں جسم میں ایسے کیمیکل پیدا کرتی ہیں جو سو سائیڈل تھانس پیدا کرتے ہیں۔ کچھ ادویات بھی سوسائیڈل تھانس والے سائیڈ ایفیکٹس رکھتی ہیں۔ لہذا ہر بار خود کشی کرنے والے کو یہ الزام دینا کہ وہ اعصابی دباؤ سہہ نہیں سکا بالکل ہی غیر متعلق بات ہوتی ہے۔ یادرکھیے کہ ڈپریشن کے باعث کی گئی خود کشی کسی شخص کے جذباتی طور پر اکیلے ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ہے اور اس کے ارد گرد موجود قربت کے دعوے داروں کی مجرمانہ غفلت کا بھی، خود کشی مذہبی اعتبار سے یقینا ایک گناہ ہے مگر خود کشی کرتے ہوئے بندے کا مسئلہ حل کرنے کی بجائے بے لچک روپے کے ساتھ یہ بتانا غیر انسانی رویہ ہے اور ایساہی ہے جیسے بھوک سے مرتے ہوئے شخص کو مردار کھاتے دیکھ کر آپ اس کی بھوک منانے کی بجائے یہ سکھانے میں لگ جائیں کہ مردار حرام ہوتا ہے۔ لعن طعن کرنا کسی بھی مسئلے کو بڑھانے کا طریقہ ہو سکتا ہے ختم کرنے کا ہر گز نہیں.

( ماخذ :: نفسیات کی باتیں۔ از ابصار فاطمہ)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.