کیا بات کریں ۔۔۔ اسنٰی بدر
کیا بات کریں (اسنٰی بدر ) کچھ ایسے لمحے آتے ہیں جب باتیں کم پڑ
A collection of Urdu poetry, short stories, and essays — classic and contemporary voices from Pakistan and beyond.
کیا بات کریں (اسنٰی بدر ) کچھ ایسے لمحے آتے ہیں جب باتیں کم پڑ
غزل (شہلا شہناز) کم وصل غزالوں کی طبیعت ہے مرے پاس زردائی ہوئی پهرتی ہوں
سمندر کی چوری ( آصف فرخی ) ابھی وقت تھا۔ پانی اور آسمان کے بیچ
خانساماں سے آخری مذاق ( کارل مارکس ) منظُوم ترجمہ: ياسرقاضی)) گوندھ لو اے خانساماں
تو نے بھی تو دیکھا ہوگا ( سرمد صہبائی ) تُو نے بھی تو دیکھا
ٹکسال کب بند ہونگے؟ ( شاہین کاظمی ) دوسروں کے اُتارے ہوئے لمحے پہن کر
پاکستان میں تاریخ کا المیہ ( ڈاکٹر مبارک علی ) وقت کے گزرنے کے ساتھ
رِپ وان وِنکل ( اسلم سراج دین ) خزانے کا دفتر سپرنٹنڈنٹ نے تربک کر
غزل ( جاوید شاہین ) تشہیر کو کچھ شوق ِ خریدار بھی رکھ لے چیزوں
بکنے کا غم ( اشفاق سلیم مرزا ) سر بازار مقتلوں پر پھر سے لفظ