چلتے چلتے ۔۔۔ خرم شاہ
چلتے چلتے خُرم شاہ جنوری کی ٹھنڈک سے بھرپور صبح، جوہڈیوں میں سرایت کرکے انہیں
چلتے چلتے خُرم شاہ جنوری کی ٹھنڈک سے بھرپور صبح، جوہڈیوں میں سرایت کرکے انہیں
پلائی کی دیوار سبین علی شارک نے تیز دانت پیٹھ میں گاڑے اور درد
ڈوبنے والوں کے خواب محمد جمیل اختر اس ملک کے لوگوں کی نیندوں میں دکھ
سِحر انگیز سید کامی شاہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کسی شہر میں ایک رومان
زندہ درگور قیصر نذیر خاورؔ اُس کی آنکھ بین اورآہ و بکا سے کھل گئی
خود فریبی کے فریب تنویر سجیل خود ساختہ بے بسی کی ایسی وبا پھیلی ہے
ایک تھی جولی مریم عرفان شہر میں سرکس لگ چکا تھا، رنگ برنگی کرسیاں پنڈال
اچھا بچہمُحمد جاوید انور ۔ اُسے بچپن ہی سے جو کچھ پڑھایا اور بتایا گیا
نہ مرنے والا انورسجاد وہ نیچے پان والے کی دکان پر ریڈیو پر پورے اعلانات
عرش منور ملیاں بانگاں مصباح نوید گندھے مٹھی بھر آٹے کو ہتھیلی پر جمایا۔ انگلیوں