دس گھنٹے کی محبت ۔۔۔ فارحہ ارشد

دس گھنٹے کی محبت

فارحہ ارشد

مجھے اس سے دس گھنٹے محبت ہوئی تھی صرف دس گھنٹے۔۔۔اس کے بعد میرا دل خالی ہو گیا۔” وہ خالی نظروں سے دور کہیں ان دیکھے منظروں میں کھوئی کہہ رہی تھی۔ میں نے کچھ حیرانی اور قدرے دلچسپی سے اسے دیکھا اور بنا ٹوکے اسےکہنے دیا جو نجانے کب سے وہ کہنا چاہ رہی تھی۔  

“دل کی زمین بنا کسی کششِ ثقل کے خلا بن گئی جس میں یہ کم عمر محبت معلق ہو گئی ۔ اس کا ذرہ ذرہ دل کے خلا میں تیرنے لگا۔ و پھٹنے سے ذرا پہلے کی سحر انگیز روشنی جیسی ۔ تاریکی کی چادر اتارکر روشنی اوڑھنے تک کا دورانیہ یا پھر سورج کی معدوم ہوتی بنفشی شعاعوں کو نگلتی شام کی سیاہی جتنا وقت ۔۔۔ مختصر مگر مکمل اور بھرپور۔ 

“ایسی سرشاری کہ جیسے جسم و جاں ہلکے پھلکے ہو کر آسمانوں کو چیرتے اوپر ۔۔۔ اور اوپر اڑتے جا رہے ہوں۔ وہ کیفیت دسویں سے گیارہویں گھنٹے میں ختم ہو چکی تھی۔ اور پھر کبھی محسوس نہ ہو سکی ۔ 

“اب تو میں سوچتی ہوں کہ اگر وہ دس گھنٹے بھی میری زندگی میں نہ آئے ہوتے تو میں

کیا کر لیتی۔ ” اس نے مسکراتے ہوئے مگر اداس لہجے میں مجھ سے تائید چاہی۔ میں

 محض اس کی صورت دیکھ کر رہ گئی۔ 

“کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے اس کا بھی قصور نہیں تھا ۔ وہ تو جانتا ہی نہ تھا ان دس گھنٹوں کی محبت کی بابت۔ اور پھر میں خود ہی اس محبت کے ہونے کی مرضی کے خلاف اپنے ہی دل کے سامنے کھڑی ہو گئی ۔ اور اسے خالی کردیا بلکہ دل نے خود ہی کہہ دیا ۔ خالی ہی چھوڑ دو۔ اور میں نے ایسا ہی کیا جیسے قتل کے بعد پانی سے سارے نشان دھودئیے جائیں۔’ 

“میرا دل تو کوئی قدیم پتھر تھا جسے کدال سے توڑا گیا ۔ معبد خانے کی گھنٹیوں جیسی آواز آتی تھی جب اس پر کدال کی ضرب پڑتی تھی۔” اس کا چہرہ پچھلے کچھ وقت سے اب تک کئی ہزار کیفیتوں کی عکاسی کر چکا تھا۔  

“میں اپنے شہر میں آنے والے اندوہناک زلزلے سے بچ نکلنے والی ان انسانوں کی باقیات میں سے تھی جن کا گھر بچا تھا نہ گھر والے۔ وہ سامان سے بھرا ٹرک لے کر وہاں آیا تھا اور واپسی پر مجھے بھر لے گیا۔ اس کے لیے یہ سودا خسارے کا نہ تھا۔ وہ کہتا ” مجھے تمہارے کشمیری حسن نے گُنگ کر دیا تھا۔ ایسا جلا کر راکھ کر دینے والا ماہتابی حُسن۔۔۔ کہ مجھے کچھ یاد نہ رہا۔”  

مقامی باشندوں نے نکاح کرکے ٹرک میں سامان کی جگہ لاد دیا۔ 

“نکاح سے لے کر چھ گھنٹے کی مسافت تک وہ میرے دل کا بلا شرکت غیرے مالک بنا رہا۔ ٹرک کے پچھلے حصے میں وہ میرے حسن کے لمس میں بے خود رہا اور میں جو گھر والوں کے بعد تنہائی اور خوف کا شکار تھی دو بولوں کے بعد چادر اور چار دیواری کے احساس کی دنیا میں پاؤں دھرتے ہی اس سے محبت کرنے لگی۔ 

“اس نے نکاح سے ایک گھنٹہ پہلے مجھ سے بات کی۔ اس کی نگاہوں کی وارفتگی نے مجھ سے میرا مذہب بھی چھڑوایا اور میرا اپنا آپ بھی۔ ماتھے سے بند یا ہٹا دی ، پیا کے دیس سے آیا ٹیکا پہننے کی لگن میں۔ مگر اس کے خصم بنتے ہی محبت کی لکیر سانپ بن گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈراؤنی۔ 

پہاڑی لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں اعتبار کر لیا تو کر لیا۔ 

“اس کے مدھم اور مدہوش لہجے کی سرگوشیاں اور نگاہوں کی وارفتگی نے مجھے خود سپردگی کے اس مقام تک پہنچادیا جہاں من و تُو کی کوئی دیوار نہ رہی۔ مجھے ایسے میں دیوار ہی نظر نہ آئی پس دیوار کیا نظر آتا۔ مجھے تو آسمانوں کی طرف اڑانے والی سرشاری نے مسحور کر رکھا تھا۔ 

“نکاح سے لے کر چھ گھنٹے کی مسافت تک  میں نے محبت کو اپنے تن من پر کسی وحی کی طرح اترتے دیکھا۔ میں بھول گئی ماں کے سر تک لپٹی زمین،  باپ کی محنت سے بنائے درودیوار کے نیچے پھنسی لاش، بھائی اور بہنوں کے ساکت وجود۔۔۔سب ہی کچھ بھول گئی۔ 

“محبت کتنا طاقتور جذبہ ہے، ہے نا ؟ کتنی شدتوں میں جسم و جاں کو گھسیڑ دیتا ہے بالکل ویسے جیسے جوس نکالنے والی مشین میں پھل کو ۔۔۔ 

وہ تائید چاہ رہی تھی ۔ میں نے سر ہلانے پر اکتفا کیا ۔ کیونکہ مجھے تو کبھی اس جذبے سے آشنائی نہ رہی تھی۔ سیدھے سبھاؤ زندگی گذارتے معاشی طور پر اپنے سے بہتر شوہر ڈھونڈتے اور جب مل گیا تو حالات کو مزید بہتر بنانے کی سعی میں نو سے پانچ کی ملازمت سے تھکن بھرے وجود پر محبت کہاں سے نازل ہوتی ؟ میں نے تاسف سے سوچا۔

” اور کچھ کے نصیب میں تو دس گھنٹے کی محبت بھی نہیں ہوتی” میں کہنا چاہتی تھی پر کہہ نہ پائی۔  

شام کے سات بجنے والے تھے۔ آفس ڈرائیور کا فون آرہا تھا۔ دوسرے دن آنے کا وعدہ کر کےمیں نے جلدی سے ریکارڈر سنبھالا ۔ فائل اور پرس سنبھالتی ، تنگ گلیوں سے تیز تیز گذرتی باہر قدرے چوڑی سڑک پر کھڑی آفس کی گاڑی میں جا بیٹھی۔۔

” محبت ۔۔۔۔۔ دس دن کی محبت کافی ہے اگر ہو جائے تو۔ ” میں نےاپنا اور اس کا موازنہ کرتے ہوئے طنز سے سوچا۔ مگر دل کے اندر جیسے کچھ ٹوٹ سا گیا۔ باہر نکلتے ہی تیز گاڑیوں کا شور ، بھاگم دوڑ ، نفسا نفسی کا عالم ۔ نئے گھر کی تعمیر کے لیے اٹھایا قرض، پہلی قسط کی ادائیگی سر پر آن پہنچی تھی ابھی گھر کی تزئین و آرائش کا مسئلہ الگ تھا۔

شادی کو سال بھر ہونے کو تھا ۔ ہم دونوں میاں بیوی نے باہمی رضامندی سے باقاعدہ منصوبہ بندی کرتے ہوئے پہلے گھر اور پھر بچوں کا سوچ رکھا تھا۔ زمین کا قرض اتارنا میاں صاحب کے ذمے تھا جب کہ گھر کی تعمیر کے لیے بنک کا قرض مجھے چکانا تھا۔ 

اف۔ کس قدر تھکا دینے والے شب و روز ہیں۔ 

میں نے سر سیٹ کی پشت پر رکھا اورآنکھیں موند لیں۔ 

دوسرے روز میں وہاں پہنچی تو وہ ابھی سو کر اٹھی ہی تھی۔ نیم خوابیدہ آنکھیں اور بھی خوبصورت لگ رہی تھیں۔ 

“وہ دس گھنٹے کی محبت ۔ “مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ہزار بار کی سنی ہوئی کہانیوں پر کوئی سوال کیا کروں؟۔۔۔ اس کے سنانے کا انداز دلچسپ تھا ورنہ کل ہی یہ انٹرویو ختم ہو چکا ہوتا۔  

“پھر کیا ہونا تھا؟۔۔۔ وہ کہتا تھا میں نے آج تک اتنی حسین لڑکی کو چھوا تک نہیں تھا۔ صرف تمہیں چھونے کی خواہش اس قدر زور آور تھی کہ میں بھول گیا ۔اپنے بیوی بچے اور مشکل سے ہوتی گذر بسر ۔۔۔  

“اور پھر اس نے مجھے ٹرک سے اتار کر دہلی دروازے کے اندر اکبری منڈی کے اس چھوٹے سے کمرے میں منتقل کیا جو اس کے کسی یار دوست کا تھا۔ بدرنگ دریچوں پر لٹکے ہوئے میلے پردوں کے اس اکھڑے ہوئے پلستر والی دیوار کے اس پار میرے لیے جانے کیا تھا ۔ میں خوش بھی تھی اور کچھ سہمی ہوئی بھی۔ مگر جلد ہی قسمت نے حال بتا دیا۔

“اس کے پاس دوست کواس کمرےکے لیے دینے کوکچھ نہ تھا سواس نے مجھے پیش کر دیا ۔ 

اس کے دوست کے ہاتھ لگانے سے پہلے میں نے آخری بار اس کی طرف محبت سے دیکھنا چاہا مگر محبت اپنا وقت پورا کر چکی تھی۔

“محبت ۔۔۔ کئی قدم دور جا کھڑی ہوئی اور میرا جسم نکاح والا اور بنا نکاح والا جھنجھوڑتے رہے۔ خالی دل والے کو کوئی کہیں بھی پھینک دے وہ اپنے اندر لڑنے کی طاقت ہی نہیں پاتا۔ میرا حال بھی ایسا ہی تھا۔ جب اس کی جنسی کشش کم ہوئی تو وہ مجھے یہاں پھینک گیا۔ اس نے کیا پھینکنا تھا ۔ میں نے بھی خود کو پھینک ڈالا۔” ایک گدھ نوچے یا ہزار، کیا فرق پڑتا ہے۔ ” اس کا لہجہ بے حسی کی آخری حدود کو چھو رہا تھا۔ 

“ادھر طلاق کا کاغذ میری ہتھیلی پر رکھا ادھر چند نوٹ دوسرے ہاتھ میں بھینچے وہ یوں گیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ حسن والے کا رستہ بازارِ حسن پر ختم ہوگیا اور محبت کا رستہ نارسائی کے کرب پر۔” 

میں نے دکھ سے اسے دیکھا۔ وہ آنسو پینے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے مسکرا رہی تھی۔ 

وہ ہیرا منڈی میں نئ نئی آئی تھی مگر اس کی آنکھوں کی پراسرار خاموش اداسی بتاتی تھی کہ وہ لائی گئی ہے خود تو وہ کہیں اور رہتی ہے کسی نا معلوم جزیرے پر۔ 

اس روز اپنے سرخ مہندی سے سجی پوروں والے نازک پاؤں میں جھنجھناتی پازیب

پہنتے ہوئے مجھ سے بولی۔

“تم نے کبھی اپنے پاؤں دیکھے ہیں مقدس پانیوں میں تیرتے گلابیوں میں گھلی شفاف پتیوں جیسے ؟ موسیقیت تھرکتی ہے جب یہ اٹھتے اور تھمتے ہیں، ان چھوئے سے ، جن کے لمس سے چاند کھل اٹھے۔ بناوٹ اور خوبصورتی میں بالکل میرے پاؤں جیسے۔ مگر بس ایک ہی فرق ہے کہ میرے پاؤں ایک رقاصہ کے پاؤں ہیں۔ ان کو دیکھ کر احساسات میں وہ پاکیزگی نہیں آتی، وہ نرمیاں وہ مقدس شفاف روشنی نہیں آتی بلکہ ایک چیختا چنگھاڑتا ، نفس کے تاروں کو چھیڑتا ، رنگ و بو کا بھاری پن حواس پر طاری ہوجاتا ہے۔  

“کیسا وجود؟کیسی ذات۔۔۔؟ یہ سب آنکھ کی پُتلی سے نہیں دیکھا جاتا ۔ نظر صرف وہی آتا ہے جو آنکھ کی پُتلی کے پوشیدہ پردے میں چھپا ہوتا ہے۔ جو تمہارے پاؤں کو مقدس خیال سے چھونے کی جسارت کرتا ہے اور میرے پاؤں پر کیچڑ ڈال دیتا ہے۔۔۔ ورنہ دیکھو نا! کوئی فرق ہے دونوں میں؟۔۔۔۔ 

میں نے لاشعوری طور پر اپنے پاؤں کو سمیٹا۔ 

عجیبب لڑکی تھی وہ اور اس سے بھی عجیب اس کی باتیں۔ اس کی آخری بات نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ 

فرق؟۔۔۔۔ 

میں تو دس گھنٹے کی محبت کی سرشاری سے بھی محروم تھی۔ہاں۔ وہ رقاصہ تھی اور سیکس ورکر بھی تھی۔ وہ جانتی تھی اپنا کام بھی، مقام بھی، مگر میں ؟ مجھ میں اور اس میں کوئی خاص فرق تھا کیا ؟میں نے دیانت داری سے سوچا۔

کچھ خاص فرق نہیں۔ میرا نکاح والا ہر رات میرا جسم کسی گدھ کے جیسا نوچتا ہے اور ۔۔۔۔ اور ۔۔۔ میری ہر ہفتے کی رات کسی غیر مرد کے ساتھ ۔۔۔۔۔  

میں نے خود سے بھی چھپانا چاہا ور اسے اپنے خسارے کا بھی دکھ تھامگر مجھے؟۔۔۔سیل کی میسج بیپ نے مجھے چونکا دیا اور جس خسارے کا احساس ہونے چلا تھا اس سے باہر کھینچ کیا۔  

” “جلدی چلو ڈرائیور ۔۔۔ مجھے شام میں ایک میٹنگ میں جانا ہے۔ گھر ڈراپ کرو مجھے

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

April 2024
M T W T F S S
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728
2930