چور گلی ۔۔۔ غلام دستگیر


چور گلی

غلام دستگیر ربانی

اس و قت وہ جہاں وہ کھڑا تھا،شاہی قلعے کا بلند ترین حصہ تھی۔وہ نہایت کشادہ سیڑھیاں جہاں سے ہاتھی گزرا کرتے تھے ،اور پہنچ کر ایک نیا دربار اور سبزہ ہی سبزہ۔

وہ قلعے کی تزئین و آرائش کے بعد اسے پھر سے دیکھ رہا تھا۔وہ پچپن سال کاوجیہہ، ولایت پلٹ۔ بہترین لباس پہن رکھا تھا، گھر کےتمام افراد کی اپنے موبائل کیمرے سے کئی تصویریں بنا چکا تھا۔بارہ(12 )چھوٹے بڑے افراد کا گاڈ فادر ہر اچھی بری حرکت اور اردگرد کے ماحول پر نظر رکھے ہوئے تھا کہ دشمن دار آدمی اور حساس شعوری لوگ اسی بات پر پہچانے جاتے ہیں۔جب وہ شہر کی تصویر بنانے لگا تو اسے کچھ ہو گیا۔موبائل فون کا وال پیپر تبدیل ہو چکا تھااور اسکے کانوں میں تیز ہوا کے شور کے ساتھ نمایاں آواز شامل ہو گئی۔کون؟

یہ قلعہ اور اس شہر کی ہر اینٹ۔ہرگلی بولتی ہے

کیا چاہتے ہو اس شہر سے۔

وہ بچہ کون تھا؟۔کیا میں؟۔۔۔۔نہیں۔۔۔

پچپن سالہ ق نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔۔۔کون؟

مجھے میرا ماضی بھول جانے دو۔میری اب نئی شناخت ہے۔میں وہ پہلی شناخت اورسب نقش۔ کہن مٹا دینا چاہتا ہوں جو مجھے ماضی کی جانب لے جائیں

لیکن اسی قلعے میں تم اور وہ ملے تھے

نہیں۔یہ جھوٹ ہے۔

ق کا ہاتھ کانپا اور موبائل فون سرخ پتھروں سے ٹکراتا ہوا دور جا گرا۔یہ محض اتفاق تھا کہ موبائل ہاتھ سے چھٹک گیاورنہ وہ تو مضبوط کلائی والا تھا۔

آنکھوں آگے خواب ٹوٹا نہیں

ق سیلن زدہ گلیوں میں بھاگتے ہوئے دس سالہ بچے کو دیکھ رہا تھا۔بچے کا چہرہ قریب آنے لگا۔۔اور قریب لیکن پھرچہرہ ڈی فوکس ہو گیا اور صرف پاؤں اور ٹانگیں نظر آنے لگیں۔بھاگتی۔بس بھاگتی ہوئی۔اندھیرا۔وہ کھمبے جیسے لوگوں سے بچ رہا تھا کبھی اینٹ،پتھر اور ٹھیلے والوں سے۔اوربار بار پیچھے مڑ کر بھی دیکھ رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس شہر نے بڑے بڑے باغیوں اور شہزادوں کوپناہ دی ہے۔ان پیچیدہ گلیوں کی چادر میں چھپا کر کئی معصوم جانوں کو بچایا گیا جو اس وقت کے قانون اور سماج کی نظر میں چور،ڈاکو اور مجرم تھے۔

چھوٹاجرم کرنے والے نے صدا لگائی تھی۔ماں مجھے چھپا لو کہ میں تاریخ ہوں۔اور ماں نے اسے اندھیرے کی چادر اوڑھا دی تھی۔

پہلے تمہارے باپ کو چھپاتی رہی کہ وہ انگریز کا دشمن تھا۔اور اب تو اپنادشمن ہے۔تو تاریخ نہیں ہے

اس روز اسکے اندرکہیں دل میں کوئی شئے ٹوٹ گئی تھی۔کوئی آنسوبہتے بہتے رک گیا تھا۔شہر کی عالی شان مسجد کے باہر حفاظتی جالیوں کو دیکھتے ہوئے وہ تیزی سے گزرا تو آنکھوں آگے کئی خانے بن گئے۔

دھت تیرے کی۔ آج کچھ زیادہ ہی پی گیا۔اس نے جھٹ سے آنکھیں ملیں تو سامنے وہی دوآنکھیں۔

وہ ایک ترنگ میں تھا لیکن وجود غم سے بوجھل۔

جب بھی پیتا ہوں تم آجاتی ہو۔تمہیں بھلانے کے لئے تو اس خانہ خراب کا سہارا لیتا ہوں لیکن تم ہو کہ ذہن کے کسی گوشے سےاچھل کر سامنے آ جاتی ہو۔تم نے بھی کوئی چور گلی ڈھونڈ لی ہے کیا؟

خود کلامی۔۔۔۔۔اور کوئی راہگیر اسے پہچاننے کی کوشش کرتا تو اس کا منہ

چڑا کر تیزی سے آگے بڑھ جاتا۔قبرستان والے راستے سے ہوکر ریلوے لائین کی طرف اور آگے بیری والا درخت۔گھر تک پہنچنے کے لئےنشے کی حالت میں بھی خاص نشانیاں تھیں لیکن اس روز اسکا جی چاہتا تھا کہ وہ نشانیاں

بھول کر صرف گنگنائے۔ خاموشی سے گھر داخل ہونے والاوجود اس روز دل کی باتیں باآوازِ۔ بلند کہناچاہتا تھا۔اس نے دھکا دے کردروازہ کھولا تو اس کی ماں سلائی مشین پردوسروں کے کپڑے سی رہی تھی۔

ماں دیکھنا میں ایک دن۔۔۔یہ مشین۔۔۔تم سے چھڑوا دوں گا۔

اس کی لڑھکتی ہوئی زبان دیکھ کر ماں خوفزدہ ہو گئی۔مشین چلتے چلتے رک گئی تھی۔

یہ جو تو نے پی رکھی ہے۔یہ آگ ہے،فتنہ اور سراب ہے۔اس نے ہنستے بستے گھروں کو اجاڑ دیا۔ یہ کسی کی دوست نہیں بنتی۔۔۔اور جگر اڑا کے رکھ دیتی ہے۔ماں کا جی چاہا کہ اسکاچہرہ نوچ لے،گریبان پھاڑ دے اور جوتیوں سے اسکی پٹائی کر دے لیکن وہ ایسا نہ کر سکی۔اس روزماں نے اسے نہ تو ٹھیک سے بلایا اور نہ ہی کھانے کو پوچھا۔وہ منہ لپیٹ کر سو گیا۔گھر کی بوسیدہ دیواروں اور ماں کے زخمی دل سے نظریں چرا کر دوسرے روز وہی ٹونی کاڈیرا اور وہی اسکے دوست۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہری رت کا گلاب کھلنے سے پہلے مرجھا چکا تھا۔نہ وہ کیمونسٹ نہ دہشتگردپھربھی پکڑے جانے کا خوف ہر وقت منڈلاتا رہتا تھا۔ٹونی

جرم کی دنیا کا پکا کھلاڑی تھا۔اس کے انڈر ورلڈ سے تعلقات تھے لیکن وہ ق کی بہتری چاہتا تھا۔ایک موقع دینا چاہتا تھا کہ پھر سے اپنی دنیا میں لوٹ جائے۔’’میری مانو تو ماں سے معافی مانگ لو۔

باس۔میں زندگی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گیا ہوں۔میں کچھ بنناچاہتا ہوں‘‘

ایک مرتبہ گھر جا کر ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ سوچ لو۔ پھر تمہیں پیچھے دیکھنے کا موقع نہیں ملے گا۔

ٹھیک ہے۔میں کل اگر ڈیرے پر آ گیا تو جان لینا۔زندگی یہیں کہیں ہے

اس رات اس نے اپنی آئندہ زندگی کا ایک بڑا فیصلہ کیا۔ماں،گھر،ٹونی اور شہر چھوڑ دیا۔

اگلے روز سے وہ چچا کی قید میں تھا۔اتھرا،انانیت پسند۔بات بات پر دوسرے کو نیچا دکھانے والااب چچا اور چچی کی ہر وقت کی کڑی نگرانی میں۔اور اسobservation میں بھی اسکی سگریٹ نوشی اور مے خواری پردوں میں جاری۔۔۔ یہ زندگی کا کنواں اور ہم کولہو کے بیل۔۔۔۔متوسط لوگوں کی تو پناہ کہیں نہیں۔

جب چچا کا بزنس سنبھال لیا تو چھ ماہ بعدچچا دنیا چھوڑ گئے۔

۔۔وہ رنگوں کی بارش کے لئے مچلنے لگا۔ ایک شخص کی موت سے نہ تو دنیا کا نظام رکتا ہے نہ ہی یہ غم تادیر یاد رکھا جاتا ہے۔محبت ہو تو پھر شمع سحر ہونے تک جلتی رہتی ہے۔لیکن یہاں تو معاملہ ہی اور طرح کا تھا۔اس کا اصول تھا کہ سیڑھی پہ چڑھتے ہیں اس سے محبت نہیں کرتے۔

پچھلے شہر موہ جس سے دل لگی تھی اسے موبائل پر نت نئے وعدوں کے گلاب بھیجتا۔اورماں کی فکربس اتنی کہ اسے اتنی جلد مرنا نہیں چاہیے

ماں کے پاس اس وقت جاتا جب اس شہر میں بزنس ٹور ہوتا۔اس نے اپنی طرف سے دو ایک قریبی رشتے داروں کی ڈیوٹی لگا دی

کہ وہ ماں کا ہر وقت خیال رکھیں۔ماں اپنا گھر۔اپنا ماضی چھوڑنے کو تیار نہ تھی۔پھر لیپ ٹاپ چلانا اور نئے دور کی تیکنیکی سہولتوں سے فائدہ اٹھانا بھی نہیں آتا تھا۔بس بیٹے کے دیئے ہوئے موبائل سے بات کر لیتی۔وہ قریب رہ کر بھی اس سے دور تھا۔اب آنکھوں میں تاریکی بڑھا گیا لیکن ماں کا دل تو وہ چاہے چور کی ماں ہو یا سادھ کی۔۔۔۔ایک پھیلتی ہوئی خاموش مہر۔سامنے پڑی سلائی مشین کی طرح۔۔ایک مرتبہ اس نے کہا تھا ماں تم سے یہ مشین چھڑوا دوں گا

اور دیکھوچھوٹ گئی نامشین۔۔۔اور اب تو ہاتھوں میں وہ زور بھی تو نہیں رہا۔۔۔اور آنسو آنسو لمحے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اپنے لئے سلاد تیار کرنے لگی تھی کہ امی پاس آ کر بیٹھ گئیں اور

باتوں باتوں میں ق کا ذکر چھڑ گیا۔

ٓامی جان۔۔۔۔ق نے خود کو سنبھالا اور ہر کام ذمے داری سے کرتاہے

اتنا کچھ جان گئیں!بیٹی تم ان بگڑے تگڑوں تم جانتی نہیں پہلے مستقل ٹھکانے ڈھونڈتے ہیں پھر گھروں کے گھر مہمان بن کر ٹوٹ پڑتے ہیں۔کبھی مقدمے بازی اور کبھی ہسپتالوں کے چکر۔

وہ ایسا نہیں ہے۔وہ اکیلا ہے۔اسکی ماں محنت کرکے روزی کماتی رہی ہے۔۔

بیٹا۔۔۔ اکیلا نظر آنے والا شخص دراصل کئی لوگوں سے جڑا ہوتا ہے۔یہ لوگ گرگٹ اور سانپ کی طرح باہر سے خوبصورت دکھائی دیتے ہیں۔لیکن ان کا ڈسا پانی نہیں مانگتا۔ میں ان کے خاندان سے نہیں ہوں لیکن جانتی سب کو ہوں

جب یہ پہلے دن ہمارے گھر آیا تھا تو میرا ماتھا ٹھنکا تھا۔

امی آپ تو حد کردیتی ہیں۔میں گزارہ کر لوں گی۔

تم جیسی لڑکیاں ایسا ہی کہتی ہیں اور بعد میں عمروں کے دکھ اپنے نام لکھوا لیتی ہیں۔ میں کہتی ہوں محرومیوں اورکمپلکسز کے مارے ہوئے لوگ۔بیٹا ان کی شخصیت بٹی ہوئی ہوتی ہے جوانھیں اچھا شوہر بننے نہیں دیتی۔وہ سہولتوں کے ہوتے ہوئے بھی سہولتوں کو ترستے ہیں۔ تم اسے چاہتے ہوئے بھی چاہ نہ سکو گی۔

آپ کہناکیاچاہتی ہیں؟

بیٹا یہ عمر ہی ایسی ہے۔کان وہ بات سننا چاہتے ہیں جو دل کہتا ہے۔

رشتے داروں کی لگائی بجھائی،ماں کے جانے انجانے خوف اورآنے والے کل کے بھید۔۔۔۔۔سب مل کر شور مچاتے رہے اورق اور راشدہ شادی ہو گئی۔

گھر نیا لے لیا گیا لیکن ماں کے گھر جیسی طمانیت کہاں؟

آنا جانا لگا رہا۔۔۔۔چھ ماہ گزر گئے۔

یہ تم ہر بات میں امی کا ذکر کیوں لے آتی ہو۔تمہارے بہن بھائی بھی تو بھی تو ہیں لیکن تان وہیں پہ ٹوٹتی ہے امی کی یہ بات۔امی کی وہ بات۔

میں کہتی ہوں اسی دن کا ڈر تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پہلے ایسے لگا تھا کہ تم کامیاب ہو گے لیکن اب وہی رنگ نظر آنے لگے ہیں جن سے مجھے ڈرایا گیا تھا۔تمہیں کزن نہیں،اپنے تسور میں کچھ اورہی طرح کا صنم بنایا تھا ۔۔۔۔۔تم ریت کے نگلے

۔پہلے ایسے لگا تھا کہ تم کامیاب ہو جاو گے لیکن اب وہی رنگ نظر آنے لگے ہیں جن سے مجھے ڈرایا گیا تھا۔

یہی تو میں کہتا ہوں۔اس وقت فیصلہ تم نے اور تمہارے گھر والوں نے کیا۔ اب ہم دونوں نے مل کر فیصلے کرنے ہیں

ٰؒلیکن مشورہ لینے میں کیا ہرج ہے؟

ہرج کوئی نہیں۔پھر بھی اپنے شعور سے تو کام لو ورنہ ان کی محتاج بن کر رہ جاؤ گی۔

راشدہ کی سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی تھی کہ دل گرمانے والی باتیں ان کی زندگی سے کم کیوں ہونے لگی ہیں۔ایک میکانکی رویہ

صبح شام چخ چخ اور رات کے پچھلے پہر مہر محبت کی بارشیں وہ سوچنے لگی ایک مرد کی بے حسی پھیل کر پورا طبقہ کیوں بن جاتی ہے اور امی کو یہ طبقہ شادی سے پہلے ہی کیسے نظر آ گیا تھا۔

راشدہ حاملہ تھی۔اسکی کیفیات بدلنے لگیں۔اب اسے ق کبھی اچھا لگتا اور کبھی عجیب سا انجانا وجود۔عقابی نظر۔رزق سمیٹ کر پیچھے مڑ کر نہ دیکھنے والااس کے اندر پلنے والا

وہ خودایسا وجود بن چکی ہے جسے اسکی مرضی کے بغیر ہلایا جلایا نہیں جا سکتا۔وہ نہ تو کسی سہیلی کے گھر جا سکتی ہے اور نہ ہی اپنی ماں کے گھر ۔لیکن ماں کے گھر سہولتیں ہیں۔اسکی کیئر کرنے والے ہاتھ لیکن بھائیوں کے سامنے اسے شرم محسوس ہوتی ہے۔

یہ عورت ہے جو مرد کے مقابلے میں تخلیق کی صلاحیت رکھتی ہے۔جسے کچھ چھپانا ہے،کچھ دکھانا ہے۔اور بیدی کے الفاظ میں اس کا نام ہے خاک و خون ہونے کا ۔۔۔تو یہ انجانا سا خوف کیوں منڈلانے لگا ہے

وہ مردہ بچے کوجنم دے گی۔ق کو بتایا تو بولا۔وہم ہے الٹرا ساوںڈ میں سب پتہ چل جاتا ہے ۔

پھر ایک رات ماں سے فون پر بات کرنے کے بعد اداسی نے بال کھول دیئے ۔۔۔۔لیکن لیکن ۔۔۔۔۔۔ایک حاملہ عورت تنہا ہوتے ہوئے بھی تنہا نہیں ہوتی۔اسکے اندر ایک اور وجود ہوتاہے جو اس سے ہم کلام رہتاہے۔ہمکتا کھلکھلاتا وجود

لیکن ابھی تو نیند ہے کہ بس سوئی رہوں۔کل ہی کی بات ہے اسکی خادمہ اس کا پرس اڑا کر دفنان ہو گئی جب وہ غنودگی کے عالم میں تھی ۔۔۔۔

گھر میں ڈاکٹر،نرس کی توجہ کے باوجود راشدہ کی طبیعت سنبھل نہیں پا رہی تھی۔چنانچہ راشدہ کو فوری طور پر ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔

اگلی صبح راشدہ کا آپریشن تھا۔

رات بھر ق جاگتا رہا۔ موجود تو رہا لیکن۔ٹک کر بیتھا نہیں۔ ۔کبھی ایک ڈاکٹر کے پاس تو کبھی دوسرے کے کمرے میں ۔پھر راشدہ کو دیکھ جاتے۔جب وہ زچہ کودرد روکنے کا انجکشن لگا رہے تھے تو اس کے لب ہلے پر آواز نہ آئی۔اس نےتمنا کی تھی کہ آپریشن کے بعد جب میں ہوش میں آؤں تو میں اپنے بچے کو دیکھوں۔۔۔ آدھے گھنٹے بعد پھر تکلیف شروع۔ اس وقت وہ اکیلی تھی ۔اس نے نرس کو بلانے کیلئے گھنٹی بجائی۔ شاید ان کا خیال غلط ہو۔ کچھ دیر بعد ق،راشدہ کی امی، بہن اور ایک بھائی بھی پہنچ گئے۔ راشدہ اپنی کیفیت کے بارے میں ڈاکٹروں اور نرسوں سے کرید کرید کر پوچھتی رہی

شاید وہ غلط ہو۔۔۔۔۔۔۔لیکن میں ایسا کیوں سوچنے لگی ہوں

یہ ٹھیک ہے میں بچے سے متعلق ادھر ادھر کی باتیں سوچتی رہی لیکن اب چاہتی ہوں کہ سب ٹھیک ہو جائے۔

دوسرے روزشیشےکا پھولوں بھرا گلاس الٹ گیا

سٹل لائف۔۔۔۔مگر زچہ کو خبر نہ ہو

یہ پور پور استخواں

اماوسوں کی رات میں نہ لوریاں نہ پالنا۔۔۔(پروین شاکر)

راشدہ کے ایک بھائی کو اعتماد میں لے لیا گیا تھا۔

یہ کیسے ممکن ہے اب تو ڈاکٹر بھی کچھ نہیں چھپاتے اور جب آپریشن ہو گا۔۔۔تو چھپانا مشکل ہو گا

ہو سکتا ہے۔۔۔بلڈ کی بھی ضرورت پڑے

مگر کب؟

پرانے شہر کا اندھیری گلی میں دوڑتا بچہ کسی کھلے دروازے کی اوٹ میں چھپ گیا تھا

لیکن یہاں تو وجود ریزو ریزہ۔۔۔۔جب اسے دفنانے کے لئے دیا گیا تو اس کی چیخ نکل گئی۔راشدہ کے سوالوں کا جواب اس کے پاس نہ تھا

کہیں پاس کوئی چور گلی بھی تو نہ تھی

یہ دن ق کی زندگی میں عجیب طرح کی غم زدگی لائے تھے۔راشدہ کو فٹس پڑنے لگے۔۔۔۔۔اس نے بے وقت پینا شروع کر دی۔ایسی زندگی نہ تو نہ تھی جس کی خواہش اس نے کی تھی

شیشے کا کوئی گلاس تھا جس میں ق کی تصویر پھنس گئی تھی۔

راشدہ کے نفسیاتی مسائل بڑھتے جا رہے تھے۔راشدہ کے ساتھ جو کچھ ہوایہ ایک حیاتیاتی پیچیدگی تھی لیکن وہ ،ق کواپنے بچے کا قاتل سمجھتی تھی۔

پھر گھر میں کھلونے ،بچوں کی تصاویر اور روتے بچوں کی آوازوں پر پابندی لگ گئی۔ اور بکرے کی کلیجی پر بھی جسےدیکھ کر تو ق کو بھی کچھ ہونے لگتا تھا۔لیکن وہ ذہن سے مار نہیں کھا سکتا تھا۔اس نے نفسیات داں کی رائے اور راشدہ کی تمام رپورٹس کی فائل تیار کر لی تھی تاکہ ضرورت پڑنے پر کام ّآسکے۔اصل میں راشدہ کے نام ان کے والد کی طرف سے کچھ اثاثے تھے لیکن ابھی اثاثوں اور جائیداد کی تقسیم کا مرحلہ نہیں آیا تھا۔ ق اپنے منہ سے اثاثوں کے حصول کی بات نہیں کر سکتا تھا کہ وہ اپنے سسر کی دی ہوئی تمام سہولتیں استعمال میں لا رہا تھا دوسرے اسکے سالے ہر طرح سے تعاوں کر رہے تھے البتہ خوشدامن اس کی بعض حرکات سے خوش نہ تھیں اور اپنے بیٹوں کو خبردار کر تی رہتی تھیں ۔

وقت کی آندھی کے تیز،نوکیلے ہاتھ

ق کی ماں دنیا سے چلی گئی۔۔۔

ق کی بیوی فاوٹین ہاوس بھیج دی گئی۔۔

اور ق کو دو بچوں والی مگر قبول صورت بیگم مل گئی

میدان صاف

یہ کیسے لوگ ہوتے ہیں ۔۔۔۔پکی ہڈی جو ہر کہانی کے ہیرو بن جاتے ہیں

شاہی قلعے کی پکی دیوار جیسے لوگ

پکے پکے مکان اورقوی جثے جن کے سامنےڈھیر ہو گئے

لیکن ۔۔۔۔۔۔۔آج بھرے پرے گھر کے افراد کے بیچ وہ بھی ایک لرزتا ہوا پتا

سفید بال اور ڈاکٹروں کے رحم و کرم پر

وہ کوئی ہیرو نہیں، ہیرو وقت ہی ٹھہراجو اسے ہسپتال کے بستر پر لا کر مسکرارہا ہے اور پوچھتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔’’ اب رہ گئی کوئی چور گلی‘‘۔

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

March 2024
M T W T F S S
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031