نظم ۔۔۔ سرمد صہبائی
نظم (سرمد صبائی) ایک وہ پل جو شہر کی خفیہ مٹھی میں جگنو بن کر
نظم (سرمد صبائی) ایک وہ پل جو شہر کی خفیہ مٹھی میں جگنو بن کر
کسی انسان کو اپنا نہیں رہنے دیتے ( صغیر ملال ) کسی انسان کو اپنا
نئے سلیقے کا جشن غم ہے ( نسیم سیـد) تمہارے جملوں میں چھوٹی چھوٹی یہ
“غزل” غلام محمد قاصر کَشتی بھی نہیں بدلی، دریا بھی نہیں بدلا اور ڈوُبنے والوں
زندگی لاگرتھم کا مسئلہ نہیں ( ثروت زہرا ) میں تمھارے ہمراہ رقص کرنا چاہتی
غزل ( گلزار وفا چودھری ) کون سی منزل ہے جو بے خواب آنکھوں میں
شریک غم سمندر ہے ( صدف مرزا ) مقدر آبلے سارے ہمارے ہی برہنہ پا
غزل ( ذوالفقار تابش ) بہت سی روشنی تھی اور میں تھا تری موجودگی تھی
“عام عورت کی عام کہانی” ( کوثر جمال ) الوہی شبدوں کی ہمراہی،چار بڑوں کی
نظم (عائشہ اسلم) میں سایوں کو ٹتولتی رہی اور دھوپ آنگن چھوڑ کے بھاگ گئی