عام عورت کی عام کہانی ۔۔۔ کوثر جمال

“عام عورت کی عام کہانی”

( کوثر جمال )

الوہی شبدوں کی ہمراہی،
چار بڑوں کی گواہی،
اور کچھ مال و اسباب کے ساتھ
وہ پرانے گھر سے نئے گھر بھیجی گئی تھی
نئے گھر میں اسے
وہ سب کام کرنا تھے
جو وہ پرانے گھر میں کیا کرتی تھی
ان کاموں کو گھر داری کہتے ہیں
وہ پرانے گھر میں اپنی ماں کی ماتحت تھی
اور کبھی کبھی کام میں کچھ سہولت مل جایا کرتی تھی
وہ سہولت
جو ماں کے دل میں بیٹی کے لیے موجود ہوتی ہے
کچھ محبت لے لینے
اور کچھ آنسو بہا لینے کی سہولت
——–
نئے گھر میں
وہ اپنی ساس کی ماتحت تھی
یہاں کسی کام سے کوئی نجات نہیں تھی
وہ صبح دم اٹھ کر کاموں میں جت جاتی
اور رات گئے تک کام جاری رہتے
کھانا بنانا، صفائی ستھرائی، دھلائی
خدمت گزاری اور تابعداری اس پر سوا تھی
نئے گھر میں تو رات بھی
اس کی اپنی نہیں تھی
یہ ایک اضافی کام تھا
جو مقدس کاغذ کے بندھن نے
اس کے ذمے لگایا تھا
اس ساری مشقت کے بدلے اسے عطا ہوئی
گھر کی چھت
نان نفقہ
اور اس کے زیرِ پا
وہ جنت
کہ جس کا وعدہ ہے

Read more from Dr. Kausar Jamal

Read more Urdu Poetry

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: