جب ہم گندم کاٹیں گے ۔۔ اقصیٰ گیلانی
“جب ہم گندم کاٹیں گے” اقصیٰ گیلانی گیارہ مہینے بھوک کاٹ کر ایک مہینہ جی
“جب ہم گندم کاٹیں گے” اقصیٰ گیلانی گیارہ مہینے بھوک کاٹ کر ایک مہینہ جی
عذاب آگہی ثوبیہ یاسین جاڑے کی میٹھی،پرسکون نیند شائد اب میرے نصیب میں نہیں رہی
ماں اقصیٰ گیلانی ماں گونگی اندھی اور بہری کیوں ہے؟ میری ماں مجھ سے بہت
غزل شہناز پروین سحر ایک بلور سی مورت تھی سراپے میں سحر چھن سے ٹوٹی
تذبذب قائم نقوی سوچ کی گرہیں کھلیں تو رات کی اندھی مسافت جان پایئں ہم
خدا کہاں ہے ؟ صفیہ حیات خدا کہاں ہے ؟ بھوکے بچے نے کوڑے کے
انجام پر کھڑا آدمی صفی سرحدی شام ڈھلے مریل سورج سے آنکھیں ملائے اجنبی شہر
نظم نازیہ نگارش دکانوں پر سجی رنگ برنگی آرزویئں سادہ لوح دلوں کی راہ ایسے
~ زندگی – ( ناظم حکمت ) زندگی کوئی ہنسی مذاق نہیں : تُمھیں گہری
شزو فرینیاآ غلام حسین ساجد کوئی گھر سی گھر دی کندھ دے دوئے پاسے سنترے