بلھا میرا مرشد ۔۔۔ سید عبداللہ شاہ

گھونگٹ اوہلے نہ لک سوہنیا

( بلھا شاہ )


میں مشتاق دیدار دی ہاں

پردے کے پیچھے نہ چھپ سوہنیا
میں  شوق زیارت رکھتی ہوں

جانی باجھ دیوانی ہوئی
ٹوکاں کردے لوک سبھوئی
جیکر یار کرے دِل جوئی
میں تاں فریاد پَکار دِی ہاں

محبوب کی جدائی میں دیوانی ہو گئی ہوں
سب لوگ مجھے طعنے دیتے ہیں
اگر سوہنا یار میری دلجوئی کرے
میں تو دن رات دیدار کی پکار کر رہی ہوں

گھنگٹ اوہلے نہ لک سوہنیا
میں مشتاق دیدار دی ہاں

پردے کے پیچھے نہ چھپ سوہنیا
میں  شوق زیارت رکھتی ہوں

مفت وِکاندی جانّدی بَاندی
مل ماہی جِند اَینویں جَاندی
اک دم ہجر نہیں میں سہندی
میں بُلبُل اُس گلزار دی ہاں

تیرے عشق میں  بے قیمت باندی ہوں
آ مل جا کہ میری جان نکلی جا رہی ہے
میں اک پل بھی جدائی برداشت نہیں کر سکتی
میں باغ حسن کی بلبل ہوں بھلا جدا کیسے رہوں

گھنگٹ اوہلے نہ لک سوہنیا
میں مشتاق دیدار دی ہاں

پردے کے پیچھے نہ چھپ سوہنیا
میں  شوق زیارت رکھتی ہوں

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: