کاش ۔۔۔ اصغر لعل

کاش

 اصغرلعل  

           کچھ عرصے کیلئے گرمی رخصت ہوکر کہیں غائب ہوگئی تھی اور اس کی جگہ سردی پنکھ پھیلائے چاروں طرف چھاچکی تھی۔

           چاکر،نوروز،فقیر اور داد جان ‘’’شیداہوٹل‘‘کے کونے والی سیٹ پر بیٹھے سیاسی اور سماجی مسائل پر بحث و مباحثہ کررہے تھے۔

          ’’ چارچائے‘‘۔داد جان نےہاتھ جیب میں ڈال کر سگریٹ کا پیکٹ سامنے رکھ کر ویٹر کو مخاطب ہوکر کہا۔

           ’’کل بین الاقوامی ادارے کی رپورٹ میری نظروں کے سامنے سے گزری ،جس کے مطابق ہماراملک بیروزگاری اور مہنگائی کی فہرست میں دنیا میں اولین نمبروں پر ہے‘‘فقیر نے پیکٹ سے سگریٹ نکال کر کہا۔

          ’’بالکل دُرست ہے!کیونکہ جب سے یہ نئی سرکار آئی ہےمہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے،اوربیروزگاری کا تو پوچھو ہی نہیں۔۔۔‘‘داد جان نے سگریٹ کا کش لگاکر کہا۔

           ’’پیکٹ اِس طرف گھمائیں،ہمیں بھی پھیپھڑوں میںدھواں بھرنے دیں ‘‘نوروز نے دادجان کی طرف دیکھ کر کہا۔

           ’’اِسی مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے گداگروں کی بھرمار ہے شہر میں فقیروں سے فقیر دست پھیلائے کھڑے نظر آتے ہیں ہر سو ، ایسا لگ رہا ہے ملک گہری کھائی کی طرف بڑھ رہا ہو جیسے ،‘‘فقیر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔

           ’’بھیک مانگنا بُری بات ہے ،اُن کے لئے جو سفید پوش ہو اور عزت بھی رکھتا ہو۔۔۔۔سرکار کا کہنا ہے بھیک مانگنا بُری بات نہیں۔ہاہاہاہا‘‘۔داد جان نے قہقہ لگاکر کہا۔

          ہوٹل میں بیٹھے دوسرے لوگ اِن کی طرف دیکھنے لگے۔

           ’’زرا شائستگی سے ہنسو،لوگ ہماری جانب دیکھ رہے ہیں‘‘نوروز نے سگریٹ کی راکھ جھٹک کرکہا۔

          ’’ہنسنے دو ،ویسے بھی یہاں ہنسنے کا موقع بہت کم ملتاہے‘‘فقیر نے مسکرا کر نوروز کی سمت دیکھ کرکہا۔

          ویٹر چائے میزپر رکھ کر چلا گیا۔

           ’’یار! ایک وقت ایسا بھی تھا ہم فخر کرتے تھے کہ ہم میں بھکاری نہیں ہے۔ اب مردوں کو چھوڑئیے ہماری عورتیں بھی بھیک مانگ رہی ہیں۔‘‘چاکرنے خاموشی توڑ کر کہا۔

           ’’نہیں!یہ جو ہماری قومی پوشاک پہن کر بھیک مانگتی ہیں یہ ہم سے نہیں ہیں۔‘‘دادجان نے سگریٹ بُجھا کر کہا۔

           ’’ہاں!یہ ہم میں نہیں ہیں،مگر ہماری خواتین اِنکو دیکھ کر بھیک مانگنے لگی ہیں،اور ہم اپنی عورتوں کو یہ کہہ کر تھک چکے ہیں کہ اپنی پوشاک بھیک مانگنے والیوں کو نہ دیں۔‘‘چاکر نے داد جان کو جواب دیا۔

           ’’یار ! کچھ کرنا ہے۔‘‘نوروزنے ہوٹل میں بیٹھے لوگوں کی جانب دیکھ کر کہا۔

          ’’کچھ کرناہے مطلب؟؟‘‘تینوں نے ایک ساتھ پوچھا۔

           ’’ہاں یار !اپنے بے یار و مددگار لوگوں کے لئے کچھ کرناہے‘‘نوروز نے جواب دیا۔

          ’’دل تو چاہتاہے مگر ہمارے ہاتھ میں کیا ہے جو ہم کریں ۔‘‘داد جان نے ایک اور سگریٹ سُلگا کرکہا۔

          ’’دادجان! ہم خود کو پڑھے لکھے اور باشعور لوگوں میں تصور کرتے ہیں،ہمیں زیب نہیں دیتا کہ ہم مایوسی کی بات کریں،ہم چاہیں تو بہت کچھ کرسکتے ہیں۔‘‘نوروز نے ابھی اپنی بات ختم ہی نہیں کی تھی کہ ’’ماسی شمسی‘‘کھانستی کانپتی ہوئی ہوٹل میں داخل ہوئی اور اِدھر اُدھر دیکھ کر اِن دوستوں کی طرف آئی۔

          ماسی شمسی اِسی محلے میں رہتی تھی جہاں چاکر،نوروز،دادجان اور فقیر رہتے تھے۔ماسی شمسی کا ایک ہی سہارا اُسکا خاوندتھاجو جوانی میں فوت ہوچکاتھا۔ نصیب میں اولاد نہیں تھی ۔ماسی نے اپنی ساری زندگی لاچاری میں گذاری۔اب عمر کے آخری ایام میں پہنچ چکی تھی۔

           ’’بیٹے!یہ کاغذ مجھے ڈاکٹر نے دیا ہے،دوائی لینی ہے،میرے پاس پیسے نہیں ہیں کہ دوائی خرید سکوں ،یہ دوائی لیکر دے دیں اللہ تمہیں اِسکا اَجر دیگا۔‘‘

           نوروز نے اُس کے ہاتھ سے کاغذ لیکر کہا:’’ماسی!اس کاغذ میں صرف دوائی نہیں ہیں ،کچھ ٹیسٹ بھی لکھیں ہیں ۔‘‘

           ’’میرے بیٹے! مجھے ابھی دوائی کی ضرورت ہے کہ بخار اُتر نے کانام ہی نہیں لے رہا،اور کھانسی۔۔۔۔۔۔۔‘‘

           چاکرنےنوروز کے ہاتھ سے کاغذ لیکر پڑھا۔’’ماسی! یہ بہت ساری دوائیاں ہیں ۔۔۔۔۔ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔۔۔۔۔‘‘

           ’’باقی دوائی اگر نہیں لے سکتے۔۔۔۔بس یہی بخار اور کھانسی کی لے کردو، کھانسی کی وجہ سے مجھے سانس لینے میں دشواری ہورہی ہے۔‘‘

          چاروں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر آنکھیں جھکا دیں۔چاکر نے کاغذ ماسی کودیکر کہا:’’معاف کردو! ہمارے پاس پیسے نہیں کہ آپ کی دوائی خرید سکیں۔‘‘

           وہ کاغذ چاکر کے ہاتھ سے لے کر، آنسو بھری آنکھوں سے ہوٹل سے باہرنکل گئی۔

          ماسی کے جانے کے بعد یہ دوست خاموش ہوگئے ،اورپھر وہ بھی ہوٹل سے نکل کر اپنے اپنے گھروں کی جانب چل پڑے۔

          رات اپنےرنج و غم کی چادر جھاڑ کر رخصت ہوئی،طلوع آفتاب پرندوں کی چہچہاہٹ سے نمودار ہوا۔نوروز،چاکر،فقیراور دادجان اپنے اپنےگھرنرم بستر پرچین کی نیند سورہے تھے۔اِسی لمحہ مسجد کے لائوڈ اسپیکر سے ایک اعلان کی آواز گونجنے لگی جس سے یہ نیند سے بیدار ہوکر سننےلگے۔

          ’’حضرات!ایک اعلان سماعت فرمائیں۔ماسی شمسی رضاءالہٰی سے انتقال کرگئی ہے ۔نماز جنازہ آج صبح دس بجے قبرستان کی مسجد میں ہوگی، جنازے میں شرکت فرماکر ثواب دارین حاصل کریں۔

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

June 2024
M T W T F S S
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930