رومانس ۔۔۔ ثروت عبد الجبار

رومانس

ثروت عبدالجبار

اس کا چہرہ میں نے دیکھ رکھا تھا، اور سچ پوچھیں تو چہرے میں ایسا کچھ جادو تھا کہ ایک لمحے کو دل کی دھڑکن تہہ و بالا ہو گئی۔ لیکن اب سمندر پار کے کسی چہرے سے جی کو لگانا کیا۔ یہ امل کی بات ہے جو ہمارے دفتر کی ریموٹ ٹیم کا حصہ تھی اور بیرونِ ملک سے ویڈیو میٹنگز میں شامل ہوا کرتی تھی۔ لیکن بات یہ ہے کہ ایک لمحے کو اس کا سحر چاروں جانب محسوس ہوتا اور پھر میٹنگ میں بات جاری رکھنے کے لیے میں اپنے حواس بحال کرتا تھا۔

ہاں یہ ایک مرد کا دل تھا جس کی دھڑکنیں اکثر و بیشتر بےترتیب ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن عمر کے ایک مخصوص بےتاب حصے کے گزرجانے کے بعد وارداتِ قلبی کی ترتیب کچھ یوں تھی کہ دل خوب مستی کرنے کے بعد، حسین ترین تصورات کے بادلوں پر اڑنے کے بعد، دماغ کے آستانے پر جا بیٹھتا اور پھر حساب کتاب کے کھاتے کھول کر اس فیصلے پر پہنچتا کہ نہیں، یہ اپنے وارے کا کام نہیں۔ محبت وغیرہ کا جھنجھنٹ پالنے کی نہ تو ہمت تھی اور نہ ہی شوق۔ لیکن سوال اپنی جگہ کھڑا تھا کہ آخر اس عورت میں ایسا کیا ہے جو ایک لمحے کو میرا سسٹم ہیک ہو جاتا ہے۔

میری زندگی میں فضہ کی صورت میں ایک حسین ترین بیوی موجود تھی۔ فضہ اماں کے خاندان سے تھی اور جب اماں نے اس کے بارے میں پوچھا تو ہاں کرتے ہی وہ مجھے اچھی بھی لگنے لگی تھی۔ چلیں کہہ لیں کہ محبت سی ہو گئی تھی۔ اور اب یہ محبت عادت بن گئی تھی۔ بظاہر مرد ہونے کے ناتے میں اس پر ظاہر نہیں کرتا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے چیخنے چلانے اور ڈانٹ ڈپٹ کا نشہ سا ہو گیا تھا۔ اور اسی تعلق کو محبت سمجھ کر میں پرسکون رہتا تھا اور پوری طرح اس کے سامنے ہتھیار ڈال چکا تھا اور وہ بھی میرے مزاج کے سب رموز سے واقف تھی۔ ہمارے دو پیارے سے بچے تھے۔ بچوں کی ضروریات اور کام کی مصروفیات کے دم سے زندگی کی رونقیں آباد تھیں۔

زندگی کی گاڑی خوب مزے سے چل رہی تھی پھر دفتر میں اس نئی لڑکی نے جوائن کیا اور آہستہ آہستہ مجھے احساس ہونے لگا کہ اس لڑکی میں کوئی ایسی خاص بات ہے جو مجھے چونکا دیتی ہے۔ امل کو دیکھ کر اور سن کر ایک عجب سی کیفیت طاری ہو جاتی تھی اور پھر میں اس کیفیت پر قابو بھی پا لیتا تھا۔ لیکن اس کو کوئی نام نہیں دے سکتا تھا۔

اور ایک دن وہ دفتر میں موجود تھی بلکہ میری ٹیم میں ہی اس کی تقرری بھی ہوچکی تھی۔ معمول کے برعکس مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی تھی لیکن ظاہری طور پر دفتری ذمہ داریاں نبھانی تھیں۔ ٹیم ممبر ہونے کے ناتے اکثر تبادلۂ خیال ہوتا اور وہ برملا اپنی بات کہہ دیا کرتی تھی۔ اس کی بذاتِ خود موجودگی سے وہ طلسم سا بھی غائب ہونے لگا تھا۔ وہ نو وارد تھی اور اس کے اطوار بھی کچھ بدیسی تھے اس وجہ سے اکثر وہ مرکزِ نگاہ بن جایا کرتی تھی۔ کسی کولیگ کے غیر معمولی التفات پر اس کا کہنا تھا کہ یہ لوگ ترسے ہوئے ہوتے ہیں جو خود کو حد سے زیادہ پُراعتماد ظاہر کرتے ہیں۔ اور اپنی محرومیوں کی وجہ سے دوسری خواتین میں مداوا تلاش کرتے ہیں۔

ایک اعتبار سے میں بھی اسی نشانے کی زد میں تھا۔ لیکن ٹیم لیڈ ہونے کے باعث مصروفیت اورذمہ داری کی وجہ سے میرا پردہ برقرار تھا۔ اس کی توجیہہ کے پیمانے پر میں نے کچھ خاص سوچا ہی نہیں تھا۔ اکثر لنچ کے اوقات میں یہ موضوع چھڑ جاتا اور وہ اپنے مؤقف پر قائم تھی۔ ایک دن بحث نے طُول پکڑا تو میں نے کہہ دیا: امل یہ رویہ یہاں کے دیسی مردوں سے مخصوص ہے اور تم باہر سے آئی ہو تو تم اس کو ٹھیک سے سمجھ نہیں سکتیں۔ ان کی بیویاں چاہے حسن کی پریاں بھی ہوں لیکن پھر بھی یہ اجنبی سنوری ہوئی خاتون کو نظر بھر کر دیکھنے اور خوش اخلاقی نچھاور کرنے سے باز نہیں آئیں گے۔ یہ کس طرح ترسے ہوئے ہو سکتے ہیں۔ یہ گھر پر الگ سسٹم اور باہر الگ سسٹم کی مراعات کے قائل ہیں۔ دراصل جب وہ کسی بھی مہربان یا چھچھورے نما رویے کو بےچارگی سے تعبیر کرتی تھی تو امل کے سب کمنٹس مجھے اپنی ذات پر وار محسوس ہوتے تھے۔ آخر کو میں بھی اسی زمرے میں شامل تھا، اور گمنام رہتے ہوئے اپنا دفاع کر رہا تھا۔

وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ اس کی بے ساختہ ہنسی نے میرے دل کو ایک دفعہ ساکت ہی کر دیا تھا۔ میں اپنی جگہ ششدر تھا کہ آخر سب عورتیں ہی ہنستی ہیں لیکن یہ کیا عذاب ہے۔ اس کے انداز کا رسان اور ہنسی کی کشش پر خوشگواریت کی بجائے کوفت ہونے لگی تھی۔ پھر امل کہنے لگی: دیکھیں سر، آپ نے گیس لائٹنگ کی ٹرم سنی ہے کبھی؟ میں نے کہا: ہاں شاید، کچھ نفسیاتی ویڈیوز میں سنی ہے۔ سر یہ جو گیس لائٹنگ ہوتی ہے نا یہ دیسی لوگ بھی کرتے ہیں لیکن اس عمل کو کوئی نام نہیں دے سکے۔ ہاں انگریزی میں گیس لائٹنگ کی اصطلاح وضع کی گئی تھی۔ فرق صرف یہ ہے کہ ان کے ہاں اس رویے کی شناخت اور نشاندہی ہو گئی تھی۔ یعنی کہ یہ طرزِ عمل ہر جگہ موجود ہے۔

میں جھنجھلا اٹھا: “امل، گیس لائٹنگ کا ہماری بات سے کیا تعلق ہے؟ تم ٹاپک سے ہٹ رہی ہو۔

امل نے کہا؛ “سر، گیس لائٹنگ تو صرف ایک ایسا منفی رویہ ہے جس کے نتیجے میں یہ محروم چہروں والے مرد آپ کو نظر آتے ہیں۔ ایسے بہت سے دوسرے رویے موجود ہیں، اور سرِ عام ہر معاشرے میں موجود ہیں، جو مرد کو ہمیشہ محرومی سے دوچار رکھتے ہیں۔ یہی مرد اپنی عورتوں یعنی گھر کی سب عورتوں سے وربل ابیوز کرکے ان کی اصل روح مار دیتے ہیں۔ بات بے بات طعنے دینا، عورت کی ہر بات میں نقص نکالنا، اور سب سے بڑھ کر عزت نہ کرنا۔

وہ بے چاری کبھی کھل کر دل سے ہنستی نہیں، پہنتی نہیں، جو دل چاہے کھا نہیں سکتیں، دوستوں سے ملنے نہیں جا سکتیں۔ یہ سب ظاہری طور پر بہت اچھے شوہر ہونے کا لبادہ اوڑھے ہوئے نظر آئیں گے۔ ہر انداز میں سرِ تسلیم خم کیے ہوئے ملیں گے۔ لیکن کبھی اپنی عورت کو کُھل کر زندگی جینے نہیں دیں گے۔ چاہے جاب کی مصروفیت کا بہانہ کریں یا والدین کی بزرگی کا، لیکن جو عورت ان کے گھر میں ان کی بیوی بن کر داخل ہو جائے اس کے ساتھ مٹھاس کے ساتھ بات کرنے میں ان کی سبکی ہوتی ہے وہ بےچاریاں تو خود اپنی ہنسی سے انجان رہتی ہیں۔”

“رومانس کا مطلب ہے کسی فلم کی تفصیل میں لکھا ہوا لفظ، یا ناولز میں محبت کی کہانی۔ وہ رومانس اپنی عورت سے کبھی نہیں کر سکتے۔ اپنی عورت ہو یا بیوی ہو، اس کے ساتھ گیس لائٹنگ، توہین، تمسخر، تحقیر یا تذلیل کا رویہ اپنا کر اپنی مردانہ انا کو تسکین دیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ آپ کے اپنے وربل ابیوز سے ٹراماٹائزڈ، پھیکی، دل شکستہ عورت خود آپ کی شکست ہے۔ سر آپ خود بتائیں کہ کتنی عورتیں اپنے شوہروں کی آنکھوں میں دیکھ کر مسکرا سکتی ہیں۔ جس مرد نے کھلکھلاتی ہوئی عورت نہ دیکھی ہو، اپنی عورت کی آنکھوں میں چمک نہ پیدا کی ہو، اس سے بڑھ کر بھی کوئی ترسا ہوا اور محروم ہو سکتا ہے۔”

میرے پاس اس کی دلیل کا کوئی جواب نہ تھا۔

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

February 2024
M T W T F S S
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
26272829