سمپورن ۔۔۔ ابدال احمد جعفری

سمپُورن

ابدال احمد جعفری ۔

تین پیریڈ گزرچکے تھے اور اگلا پیریڈ ڈیڑھ گھنٹے بعد تھا۔ عمّا ر وقت گزاری کے لیے پہلے لائبریری گیا، دو تین اخبارات اُلٹے پلٹے اور بے دلی سے واپس نکل کر پارکنگ کی طرف چل پڑا۔

راستے میں اس کی نگاہ اوپر آسمان کی طرف تھی۔۔۔ جو ہلکا نیلا نظر آنے کے بجائے سرمئی سا لگ رہا تھا۔

پارکنگ میں اس نے اپنی بائک کے پاس آ کر ٹنکی کا ڈھکن کھولا اور اس کے ساتھ ناک لگا کر ایک نتھنے کو انگلی سے بند کر کے لمبا سانس اندر کھینچا۔ کچھ توقـف کے بعد اسی طرح دوسرے نتھنے سے، پہلے سے زیادہ گہرا سانس کھینچا۔ یہ چھوٹی سی مشق جو کبھی اس کے دل و دماغ کو معطّر کر دیتی تھی، آج اتنی کارگر ثابت نہ ہوئی۔ وہیں کھڑے کھڑے، آنکھیں بند کر کے اپنے سر کو ’نہیں‘ کہنے والے انداز میں اتنا زور دار جھٹکا دیا کہ اس کے دونوں گال کپکپاگئے۔

کنٹین سے ’کھویا کھجور‘ کا بڑا مگ لے کر وہ چھت پر آ گیااورتماشائیوں والی بڑی سیڑھیوں پر بیٹھ کر باسکٹ بال کے خالی کورٹ کو دیکھنے لگا۔ کورٹ کے سیمنٹ کے فرش سے سفید لکیریں مِٹ چکی تھیں اور کھلاڑی بس اندازے سے اپنی حدود کا تعیّن کیا کرتے تھے۔

مگ پر موجود مقعری دائروں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اس کا دھیان اپنے ملک شیک پر گیا۔۔۔

“ہوتا تو مزے کا ہے مگر… یہ کھجوریں دودھ کے ساتھ مل کر اس کا رنگ ہی خراب کر دیتی ہیں“۔

اس بے موقع انکشاف پر وہ ہلکا سا ہنس دیا اور سٹرا ایک طرف پھینک کر باقی ماندہ ’کھویا کھجور‘ ایک ہی سانس میں پی گیا۔ کنٹین میں کاؤنٹر پر مگ دے کر سیکیورٹی کے پیسے واپس لیے اوراحتیاط سے گِن کربٹوے میں رکھتے ہوئے اپنے لیکچر ہال کی طرف چل پڑا۔

پینتالیس منٹ کا یہ طویل لیکچر بھی ختم ہو ہی گیا۔

کچھ دیر بعد وہ مراتب علی روڈ سے کیولری گراؤنڈ کی طرف رواں دواں تھا۔ راستے میں ایک میڈیکل سٹورپر رُکا جہاں سے اس نے پہلے ایک چاکلیٹ لی، شولڈر بیگ میں ڈالی اور پھر ایک اورضروری چیز لے کر بٹوے میں رکھ لی۔

ٹھیک پونے تین بجے، تراب ہسپتال کی پارکنگ میں بائک پارک کرنے کے بعد، وہ اسکے عقب میں موجود کالونی کے مکان نمبر69 میں داخل ہوا۔ پورچ میں دو گاڑیاں کھڑی تھیں اور اگلی والی پر حسبِ معمول ملیشیے کے کپڑے کا غلاف بھی چڑھا تھا۔ وہ گاڑیوں کے ایک طرف بنتی گلی سے گھر کے داخلی دروازے کی طرف بڑھا جس کے پار ایک ایسی مسکراہٹ اس کی منتظر تھی جسے دیکھنے کی چاہت میں اس نے اس قدر بے کیف دن گزارا تھا!

فرح کی پہلی جھلک ملتے ہی عمار ساکت ہوگیا۔ اُس نے بھی استقبال کے لیے باہیں کھول دیں۔ مگر عمار نے ہاتھ کے اشارہ سے فرح کو بھی وہیں رُکے رہنے کا اشارہ دیا۔

اگر وہ دِیوانہ وار اس کے گلے لگ جاتا تو کومل سا یہ مدُھر لمحہ کِرچی کِرچی نہ ہو جاتا؟

اس کے مسکراتے ہونٹوں کے اطراف میں بنتی واوین پر نظریں جمائے وہ آہستگی سے اسکی طرف بڑھا اوراپنے آپ کو ان باہوں کے سپرد کر دیا۔ سیکنڈ کی سوئی بھی سلو موشن میں آ گئی تھی۔ کچھ لمحے، جنھیں کسی بھی گھڑی سے ماپا نہیں جاسکتا وہ یوں ہی چِپکے رہے۔ عمارکا دایاں گال فرح کے دائیں گال کا لمس یوں لے رہا تھا کہ وہ ایک دوسرے کی سانسوں کو سن بھی سکتے تھے اوران کی حِدّت اپنے کانوں کی لو پہ محسوس بھی کر سکتے تھے۔ یہ لمحہ ان کے لیے کسی بھی معاشرتی پیمانے پرپورا اُترتے رشتے، کسی قانونی دستاویز اور کسی بھی مذہبی صحیفے سے زیادہ مقدّس تھا۔

؎ کچھ لمحوں بعد عمار بے ساختہ گنگنایا:۔

“سکون دل کو ملا آ کے تیری با ہوں میں”

یہ سن کر فرح ہنس پڑی اور بولی:۔

“محمد رفیع صاحب… کبھی تو اپنے ڈرامے بند کر دیا کریں”

عمار نے اس بے ضرر سے طنز کوخاص توجہ نہ دی اور پیچھے ہٹتے ہوئے اس کے ہونٹوں پہ انگلی رکھ کر پھر گنگنایا:۔

؎

“کچھ نہ کہو۔۔۔ کچھ بھی نہ کہو”

“اچھا ناں… بیٹھ جاؤ اب”

“کل رات جب آپ نے بتایا تھا کہ آپ گیارہ بجے والی فلائٹ سے پہنچ رہی ہیں تب سے عجیب کیفیت ہے۔ نیند یس نو یس نو رہی۔ کالج میں چار پیریڈ لیے مگر مجال ہے جو کچھ بھی سمجھ آیا ہو۔ کلاس فیلوز، ٹیچرز، سڑکیں، فضا سب کچھ میلا کچیلا لگ رہا تھا بس ایک ہی سوچ تھی کہ انتظار کے اس دریا کے پار آپ سے ملا قات ہوگی تو۔۔۔”

“عمار۔۔۔ یہ باتیں نہ کیا کرو، اُکتاہٹ ہوتی ہے مجھے۔۔۔ بلکہ تمہاری شِدّت دیکھ کر کبھی کبھی وحشت بھی ہونے لگتی ہے”

عمار کو ایسے لگا جیسے اس کی بائک اچانک کسی سپیڈ بریکر سے ٹکرا گئی ہو۔ وہ کچھ دیر اُسے دیکھتا رہا ، پھر بولا:

“آپ کو لگتا ہے یہ سُوڈو رومینٹِسزم ہے؟”

” نوٹ ایز سچ ۔۔۔ لیکن یہ ٹھاٹھیں مارتے جذبے اپنی ہم عمر بچیوں کے لیے سنبھال رکھو، جب میں نہیں ہوں گی، تب کیا کرو گے؟”

” تب ۔۔۔ میرے ساتھ ہماری یادیں ہوں گی”

“خیر بتاؤ لنچ کر لیا؟” فرح نے بات بدلتے ہوئے کہا۔

” نہیں۔۔۔ بس کنٹین سے کھویا کھجور پیا تھا اور۔۔۔ یہ چاکلیٹ لایا ہوں ۔۔۔ آپ کی فیورٹ”

“یاد ہے پچھلی بار تم ہریسہ لائے تھے”

“جی، اس دن گھر سے آیا تھا راستے میں گوالمنڈی سے لیا تھا”

اس کے بعد کچھ دیر خاموشی رہی۔

“اچھا تو پھر؟” فرح نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا

“جی تو پھر!“ عمار نے اُسی کا سوال دہرا دیا۔

“کھانے کا موڈ نہیں تو پھر کافی بنا لو… فلائٹ میں تھی تو تمہارے ہاتھ کی کافی یاد آ رہی تھی”

یہ سن کر عمار کچن میں گیا، دودھ چولہے پر چڑھا کر، کافی کا سامان لیے اسکے پیچھے سِٹنگ روم میں ہی آ گیا، جہاں وہ تھری سیٹرپر ٹانگیں پسارے ٹی وی کے چینل بدل رہی تھی۔

“یار زیادہ بنا لینا پیسٹ، بعد میں بھی پیتی رہوں گی” فرح اپنے ساتھ عمار کے لیے جگہ بناتے ہوئے بولی۔

“چار کپ کا بنا لوں؟” عمار نے مطلوبہ مقدار میں کافی اور چینی ڈالتے ہوئے پوچھا۔

“بلکہ… چھ کا کر لو، کل راشد صاحب کے ساتھ بھی پی لوں گی”

“چھ کپوں کا پیسٹ پھینٹنے پھینٹتے میری کلائیاں رہ نہیں جائیں گی؟”

یہ کہتے ہوئے عمار فرح کو بہت معصوم لگا اس نے عمار کا ہاتھ پکڑ ا اور اسکی کلائی پہ بے ساختہ اپنے ہونٹ رکھ د یے۔

عمار نے اس کی آنکھوں میں آئی نمی دیکھی تو دوسرا ہاتھ اس کے کھلے بالوں میں پھیرتے ہوئے بولا

“آپ سب کچھ ہیں میرا”

“تم بھی رونق ہو میری زندگی کی” فرح نے اپنی آنکھوں کو عمار کے کندھوں سے کچھ ایسے پونچھا کہ اس کی آنکھوں میں لگے سرمے نے اس کی شرٹ پر ایک لائن سی بنا دی۔

پھر عمار کافی پھینٹتے ہوئے صبح سے اب تک کی ساری باتیں تفصیل سے بتاتا رہا۔ جب کلائیاں پیسٹ بنا چکیں تو حسبِ عادت اس نے کپ اُلٹا کر فرح کو دکھایا۔ فرح، جو اس کرتب سے ہمیشہ ڈر جاتی تھی، نے اس کے ہاتھ سے کپ لے کر سیدھا کرتے ہوئے کہا:

“ہاں ہاں مان گئی بھئی، تم نے گریوٹی کو شکست دے دی ہے، بہت گاڑھا ہے تمہارا پیسٹ”

“بس یہیں لانا چاہتا تھا مومنو” نہایت شوخی سے یہ کہتے ہوئے عمار کچن میں گیا، اور تیار کافی کے ساتھ واپس آ کر فرح کے ساتھ بیٹھ گیا۔

“آپ نے ’ہیلن آف ٹرائے‘ دیکھی ہے؟”

“نہیں، ’ایلیئڈ‘ پڑھی ہے کالج دور میں”

” فلم بھی تو دیکھیں ناں۔۔۔”

“نہیں، میرا مزا خراب ہوگا۔ اس داستان کو جیسے میں نے اپنے دماغ میں بُنا ہوا۔۔۔”

“ایک تو آپ کبھی میری بتائی ہوئی فلم نہیں دیکھتیں” عمار نے بات کاٹتے ہوئے کہا۔

“کیوں نہیں دیکھتی بھئی۔۔۔ ہاں اگر وہ میرے پڑھے ہوئے کسی ناول پہ مبنی ہو۔۔۔ تب نہیں دیکھتی کہ میری اپنے تصور میں کی ہوئی پکچرائزیشن، کسی ڈائریکٹر کے سوچے فریموں سے آ لودہ نہ ہو

“موٹے موٹے ناولوں میں ہفتے برباد کرنے سے بہتر ہے بندہ ڈیڑھ دو گھنٹے کی فلم دیکھ لے”۔

عمار نے،اپنے تئیں، دریا کو کوزے میں بند کرنا چاہا۔

” یار دیکھو، شوق خالصتاً ہماری اپنی ترجیح ہوتا ہے، نہ کہ کسی کی دی ہوئی ذمہ داری۔۔۔ لہذا اِسے

اپنے طریقے اور اپنی مرضی سے ہی پورا ہونا چاہیے”

” جی۔۔۔ بات تو ٹھیک ہے۔۔۔ بس اپنا اپنا مزا ہے۔۔۔ آپ کو کافی کیسی لگی؟ “

“ہاں۔۔۔ لاجواب ذائقہ بئی ی ی۔۔۔” فرح نے ایک ٹی وی اشتہار کی نقل اتارتے ہوئے متوقع جواب دے دیا۔

“ویسے ایک بات بتاؤں۔۔۔؟” کچھ دیر کی خاموشی کے بعد فرح بولی۔۔۔

“کہانیاں پڑھنا مجھے ایک دوست کی یاد دِلاتا ہے ۔۔۔ سکول میں ایک پارسی لڑکی تھی”

“پارسی؟” عمار نے حیرت سے پوچھا

“ہاں، 80ء کی دہائی کے شروع تک بھی لاہور میں کئی پارسی خاندان آباد تھے۔ پھر حالات بدلے اور بحیثیت قوم ہماری اجتماعی قوتِ برداشت کم ہوتی چلی گئی۔۔۔ اور اقلیتیں۔۔۔ چھوڑو۔۔۔ تم بور ہو رہے ہو گے”

” نہیں۔۔۔ مجھے اچھا لگتا ہے جب آپ اپنے بچپن کی باتیں بتاتی ہیں تو۔۔۔” عمارایکدم بولا

فرح نے اسکی دلچسپی دیکھتے ہوئے بات آگے بڑھائی کہ کیسے وہ پارسی دوست بستے میں چھپا کر نینسی فرائڈے کے ناول لاتی اوریہ دونوں کسی کونے کھدرے میں بیٹھ کر، کسی بڑی کتاب میں چھپا کروہ پڑھا کرتیں… اور پھر کیسے اچانک اسکی پارسی دوست کی فیملی کو لاہور سے ہجرت کرنی پڑی۔۔۔

فرح کی بات پوری ہونے تک عمار نے اونگھنا شروع کر دیا تھا۔ وہ زیرِلب مسکرائی اورعمار کو وہیں صوفے کے ایک طرف ٹیک لگوا دی اور کچن میں چلی گئی۔

جب وہ واپس آئی تب بھی عمار اُسی پوزیشن میں سویا ہوا تھا۔ وہ سامنے زمین پر بیٹھ گئی، کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھرآہستہ آہستہ اس کے پاؤں دبانے لگی۔ عمار غنودگی میں ہی بولا:۔

“نہ کریں، بس پاس آ جائیں اِدھر”

“کرنے دو۔۔۔ مجھے اچھا لگ رہا ہے۔۔۔ یاد ہے پچھلی بار جب تم صبح کو گئے تھے۔۔۔ جاتے جاتے تم نے سرسوں کے تیل سے میرے پاؤں کی مالش کی تھی”

“جی ، اُس دن کالج میں سوتا ہی رہا تھا میں۔”

“ہاں، اسی دن۔ بہت میٹھی نیند آئی تھی مجھے بھی۔ جب شام کو جاگی تو تمہیں دعائیں دیتی رہی تھی”

یہ کہتے ہوئے اس نے عمار کے پاؤں پہ ہلکا سا پیار کیا۔

عمار، جس کا نیند کا غلبہ بدستور قائم تھا، فرح کو روک نہ سکا۔ فرح پاس ہی رکھے لوشن سے عمارکے پاؤں پہ مساج کرتی کرتی خود بھی وہیں سر رکھ کر سو گئی۔

کافی دیر بعد جب عمار کی آنکھ کھلی تو فرح کھڑکی میں کھڑی باہر ہوتی بارش دیکھ رہی تھی۔

“ہیں… بارش شروع ہو گئی؟”

“ہاں، اچانک ہی آئے بادل”

” واہ۔۔۔ یہ تو ماحول ہی بن گیا… اُس دن کی طرح… ووڈکا چڑھائیں؟”

“نہیں، تمہاری صحت پہلے ہی ٹھیک نہیں لگ رہی مجھے، اور موسم بھی نہیں رہا اب اُس کا”

“بارش ہو رہی ہے، اور کیسا موسم چاہیے؟”

“نہیں بس۔۔۔ رہنے دو، راشد بوتل کھلی دیکھیں گے تو… سوال جواب کریں گے”

کچھ دیر بعد دونوں کچن میں چلے گئے جہاں فرح دھیمی آواز میں سمپورن راگوں والی سی ڈی لگا کر پاستا بنانے لگی اور عمار وہیں کرسی رکھ کر اسے دیکھتا رہا۔

” کیا دیکھتے رہتے ہوتم اتنی اتنی دیر تک؟”

“کچھ نہیں” عمار نے نظریں ہٹائے بغیرجواب دیا۔

“میرے چہرے کی جھریوں سے، ان رنگے بالوں سے کوفت نہیں ہوتی تمہیں ؟”

“نہیں، میں اتنا ”باریک بین“ نہیں بننا چاہتا۔ جیسے پڑھے ہوئے ناول پہ مبنی فلم آپ کی امیجینیشن کو پلیوٹ کرتی ہے، ایسے ہی میں بھی دنیاوی جمالیات بیچ میں لا کر اس تعلق کو آلودہ نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ و یسے اگر… آپ کی جمالیاتی حِس کسی دن جاگ گئی تو میرا کیا مستقبل ہوگا؟”

“مستقبل تو خیر ہم دونوں کا ہی نہیں۔ تم بس دِل لگا کر پڑھا کرو۔۔۔ میں چاہتی ہوں تم سی ایس ایس کرو، بڑے افسر بنو، اپنے گھر کو سہارا دو۔۔۔”

پاستا تیار ہوا۔ دونوں نے کچن میں رکھی ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ کر اس سے محظوظ ہوتے ہوئے اپنی نہ ختم ہونے والی باتوں کا سلسلہ جاری رکھا۔

“سنو، پچھلی بار تم نے ایک افسانے کی آؤٹ لائن سنائی تھی، وہ.. بھولی والا۔۔۔ وہ لکھا کہ نہیں”

“نہیں لکھ پایا، مصروفیت کی وجہ سے۔۔۔”

“نہیں خیر، وجہ کچھ اور ہے… تمہیں میں نے کتنی دفعہ کہا ہے کہ لکھنے سے پہلے اپنا آئیڈیا کسی کو نہ سنایا کرو۔۔۔ اس طرح آپ کی تحریر کا ابورشن ہو جاتا ہے”۔

“ٹھیک ہے، اگلی بار افسانہ مکمل ہونے کے بعد ہی سناؤں گا آپ کو”

” یہ بات ! “

اس کے بعد وہیں کچن کی غیر آرام دہ سی کرسیوں پر بیٹھے بیٹھے دو دُنیاوی گھنٹے گزر گئے!

فرح اچانک بولی: “تم نے جانا نہیں؟”

“صبح نہ چلا جاؤں؟” عمار نے ندیدے بچے کی طرح فرمائش کی۔

“نہیں، راشد رات کے کسی بھی پہر پہنچ جائیں گے۔ اب جاؤ تم”

عمار نے یہ سنا تو تھوک نگل کر فوراً کرسی سے کھڑا ہو گیا۔

اس کی اندرونی کیفیت بھانپتے ہوئے فرح نے اسے ایک پرانی بات یاد دلائی:۔

“تمہیں یاد ہے۔۔۔ ہماری دوستی کے شروع کے دنوں میں، میں نے کہا تھا کہ تعلق کی رسی میں اگر… جذبات کے نازک ریشے نہ ہوں تو یہ بہت مضبوط رہتی ہے”

عمارجو سامنے کھڑا اس کی دونوں آنکھوں میں باری باری دیکھ رہا تھا، مصنوعی ادب سے بولا۔۔۔

“جی… آپ نے ایسا ہی کہا تھا مجھے”

یہ کہہ کر وہ دروازے کی طرف بڑھا، ابھی نکلنے کو ہی تھا کہ پیچھے سے آواز آئی۔۔۔

“سنو۔۔۔”

“جی..؟”

“ادھر آؤ۔۔۔ “

عمار پلٹا اور اس کے پاس آ گیا۔

فرح نے گلے لگا کر اِسے ماتھے پر پیار کیا اور کولہوں کو سہلاتے ہوئے… اس کی پچھلی جیب میں کچھ پیسے اُڑس دیے۔

عمار نے تجسس میں نکال کر پیسے دیکھے تو آنکھیں پھاڑ کر بولا:

” اِتنے۔۔۔ اِتنے پیسے کیا کروں گا، کچھ کم کر لیں۔۔۔”

“نہیں رکھو، کالج میں کھویا کھجور بھی تو پینا ہوتا ہے”

“ہاں جی، ابھی آم آ جائیں گے تو مینگو ملک شیک بھی پیا کروں گا”۔ عمار نے سپاٹ لہجے میں

یہ کہہ کرپیسے سامنے کی جیب میں ڈالے اور باہر نکل آیا۔

فرح ہمیشہ کچھ دیر بعد ہی دروازہ بند کیا کرتی تھی۔

عمار نے ہسپتال کی پارکنگ سے بائک نکالی اور گھر کی طرف چل پڑا۔

ایک مکمل ملاقات نے فضا کی آلودگی کم کر دی تھی!

ابدال احمد

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: