ناٹ سو لٹل ریڈ رائڈنگ ہُڈ ۔۔۔ ابصار فاطمہ

Not so little Red Riding Hood

ناٹ سو لٹل ریڈ رائڈنگ ہُڈ

ابصار فاطمہ

وہ خوف اور تجسس آنکھوں میں لیے جنگلے سے سر کی چادر سے اندر جھانکنے کی کوشش کر رہی تھی جہاں بڑی آپا کے ساتھ ہی کوئی اور بھی تھا۔ وہ چادریں لے کر نکلنے کے لیے تیار ہی تھی جب بڑی آپا کو بھی اماں جنگلے میں چھوڑ آیئں مگر انہیں کمرے سے نکالنے سے پہلے پہلے صحن کے کونے پہ پڑا تازہ اچار کا مرتبان چھپانا نہیں بھولیں۔وہ خاموشی سے سب ہوتا دیکھ رہی تھی اور ہولے ہولے کانپ رہی تھی۔ اماں نے بڑی آپا کے گلے میں پڑا مقدس تعویذ بھی اتار دیا اور پانی بھی دور کر دیا۔ اماں کہتی تھیں جس پہ یہ بلا آتی ہے اس کے لیے پانی آگ ہو جاتا ہے۔ نسلیں جلا دیتا ہے۔

 فیروزہ نے لحاف سر سے سرکایا۔ باہر پورے صحن میں جنوری کی نرم نرم دھوپ پھیلی ہوئی تھی۔ وہ لحاف لپیٹے لپیٹے اٹھی اور صحن کے بیچوں بیچ پڑے پلنگ پر آ کر ڈھیر ہو گئی۔ دوبارہ آنکھ کھلی تو دھوپ تیز ہو چکی تھی۔ باقی سب تو نجانے کب جاگ کر کاموں سے لگ چکے تھے۔ اس نے ایک طویل انگڑائی لی کہ دونوں بازو اور ایک ٹانگ پہ سے لحاف سرک گیا۔ ہوا میں ذرا سی خنکی محسوس ہوئی تو اس نے دوبارہ ٹانگ اور بازو لحاف میں چھپا لیے۔ ذہن اب بھی کچی پکی نیند سے بوجھل تھا۔ اس نے سر بھی دوبارہ لحاف میں گھسا کر آنکھیں بند کر لیں۔ کچھ ہی دیر بعد ہلکی ہلکی تپش سے جسم میں سویئاں سی چبھنے لگیں۔ گردن کے نیچے پسینے کی چپچپاہٹ محسوس ہو رہی تھی مگر اسے لگ رہا تھا کہ جسم ٹوٹ سا رہا ہے۔ دوپہر کی نسبتا تیز دھوپ میں بھی اس کا لحاف سے نکلنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔ کچھ دن سے اس کی عادتیں اور نیندیں سب الٹ پلٹ ہو گئی تھیں۔ کبھی دل چاہتا خوب ہنسے رنگ برنگے کپڑے پہنے، سہیلیوں سے سرگوشیاں کرے اور کبھی ایسا جی اچاٹ ہوتا کہ ساری دنیا دشمن لگتی۔ اور سب سے بڑی دشمن اماں لگتیں۔ جنہیں اب ہر بات پہ ٹوکنا ہوتا تھا۔ چلنے پہ ٹوکنا، ہنسنے پہ ٹوکنا، لڑکوں سے بات کرنے پہ ٹوکنا، بچوں کے ساتھ کھیلنے پہ ٹوکنا، بڑوں کے ساتھ بیٹھنے پہ ٹوکنا۔ اماں کی ساری توجہ ابھرتے سینے کو چھُپوانے پہ ہوتی تھی اور وہ اس مبہم سے شباب میں ہوتی دکھن سے پریشان۔ مسئلہ صرف بدلتے جسم کا ہی نہیں تھا، بچپن سے جن کے ساتھ کھیل کے بڑی ہوئی تھی ان کی نظریں بھی تو بدل گیئں تھیں۔ کچھ میں جھجھک در آئی تھی کچھ میں احترام مگر کچھ نظریں اندر تک چیرتی تھیں۔

کبھی رات دیر تک تارے گنتی رہتی ادھر ادھر کی باتیں سوچتی رہتی۔ اماں ، ابا سے پڑی ڈانٹ یاد کر کے تکیے میں منہ چھپا کے بلا وجہ روتی رہتی اور نیند آ جاتی تھی۔ کہیں جا کر فجر کی اذانوں کے وقت۔ پھر اٹھنے میں دیر ہا جاتی اور آدھا دن یوں ہی گزر جاتا۔ آخرکار اماں نے آ کر لحاف کھینچ ہی لیا۔

” اٹھ جا، کب سے چادریں تیار کر کے رکھی ہیں۔ رات کو بلا وجہ دیر دیر تک جاگتی ہے اور دوپہر تک پڑی سوتی ہے” وہ سست قدموں سے اٹھی جلدی جلدی منہ ہاتھ دھو کر صاف ستھرے کپڑے پہنے، اجلا سا دوپٹہ اچھی طرح سر پہ ڈھکا، ایک کپ چائے سے دو پاپے کھائے اور کڑھی ہوئی چادروں کی گٹھڑی اٹھا کر باہر کی طرف قدم اٹھائے۔

” ارے رُک تو، بڑی ہوتی جا رہی ہے دھیان کر ” اماں نے میلے کپڑوں سے کھنگال کر ایک میلی سی بدبودار چادر اسکے صاف ستھرے لباس پہ لپیٹ کر اسے تقریبا پورا ڈھک دیا۔ اسے ایک دم اُبکائی آئی۔

” اف اماں۔ یہ بہت گندی ہو ری ہے۔ اتارو اسے ۔”

” شش، چپ کر۔ تجھے پتا ہے وہ آنے والی ہے، اس سے کوئی نہیں بچ سکتا۔” اماں نے دبی آواز میں اس کے کان کے پاس سرگوشی کی۔ اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سرد سی لہر دوڑ گئی۔

” اماں کون آئے گی۔ میں نے کیا کیا جو مجھے پکڑے گی ” اپنے خوف کو جھنجھلاہٹ میں چھپانے کی کوشش میں اس کی آواز لا شعوری طور پر کچھ بلند ہو گئی۔

” آہستہ بات کر۔ اس کا نام یوں نہیں لیتے، وہ برا مان جاتی ہے۔ ” اماں نے اس کے بازو پہ بہت زور سے چٹکی لی۔ ان کی آنکھوں میں بہت سخت تنبیہہ تھی، ایک انجانا خوف بھی۔ اسی وقت ابا کمرے سے باہر نکلے۔

” اچھا کل کی طرح سستے میں چادریں نہ بیچ آنا اور نئے ڈیزائن سڑک پہ مت لٹکانا۔ جب کوئی گاہک کہے تو نکال کے دکھانا۔ گاڑیوں سے بچ کے کھڑی ہونا۔ ” اماں نے یوں کہا جیسے کافی دیر سے بات چیت چل رہی ہو۔ وہ سر ہلا کر دروازے تک آ گئی۔ اسی وقت سامنے والی خالہ مختاراں کے گھر کا دروازہ کھلا اور خالہ ، بتول باجی کو غلیظ چادر میں چھپائے نکلیں اور گھر کے نکڑ پہ بنے جنگلے میں دھکیل کر فورا جنگلے کو ایک اور چادر سے چھپا دیا اور واپس گھر چلی گیئں۔ اس نے خوف زدہ نظروں سے پیچھے آتی اماں کی طرف دیکھا۔ اماں کی نظروں میں وہی تنبیہہ تھی۔ وہ اور سہم گئی اور تیز قدم اٹھاتی گلی کے کونے تک آ گئی۔ ایک انجانے سے احساس کے تحت مڑ کے دوبارہ خالہ مختاراں کے گھر کی طرف دیکھا۔ دیوار کی اوٹ سے ایک لال اوڑھنی والا سر جھانک رہا تھا جو اس کے مڑکے دیکھتے ہی دیوار کے پیچھے غائب ہو گیا۔ فیروزہ کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ اس نے قدموں کی رفتار بڑھا دی۔ کئی بار اسے لگا کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہےلیکن جب جب مڑ کے دیکھتی کچھ نظر نہیں آتا۔وہ کوشش کر رہی تھی کہ تنگ گلیوں سے جلد گزر جائے۔ دس منٹ بعد جب وہ قریبی ہائی وے پہ اپنے مخصوص مقام پر پہنچی تو اس کی سانس معمول سے زیادہ پھولی ہوئی تھی۔

فیروزہ نے سڑک پر جانے سے پہلے درختوں کی اوٹ میں ہی ماں کی اوڑھائی چادر اتار کے پوٹلی میں رکھ لی اور دوپٹہ ٹھیک کر کے سڑک پہ آگئی۔ کچھ دیر سانس لینے وہیں سڑک کے کنارے  تھا رکاوٹ کے لیے لگے کالے پیلے پتھروں میں سے ایک پہ بیٹھ گئی۔ وہیں لائن سے چند کھوکھے اور بھی تھے۔ ایک پنکچر کا کھوکھا، ایک پان سگریٹ کا، کچھ فاصلہ چھوڑ کے بوتلیں جوس اور ایزی لوڈ کا کھوکھا۔ سڑک کے دوسرے کنارے پہ درخت کے نیچے ایک امرود والا ٹوکری لیے بیٹھا تھا۔ اس کی ٹوکری یں موسم کے حساب سے پھل اور چیزیں بدلتی رہتی تھیں۔

اس کے ساتھ ہی چائے پکوڑوں کی چھوٹی سی دکان تھی جس کے ارد گرد کچھ لکڑی کی بنچیں بھی پڑی تھیں۔ یہ سب ایک دوسرے کو بہت عرصے سے اچھی طرح جانتے تھے۔ پنکچر والا تو اسی علاقے کا تھا۔ باقی سب اردگرد کے قریبی علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ویسے تو وہ یہاں اماں کے ساتھ آتی تھی مگر جب سے وہ کچھ سمجھدار ہو گئی تھی تو اماں اسے اکیلے بھی بھیج دیتی تھی۔ جب جب اماں کو کئی سال سے ہڈیوں میں تکلیف ہو گئی تھی۔ یہاں اماں اور اس کی عمر سے بڑی سب ہی عورتوں کو کم و بیش یہ روگ تھا۔ سردیوں میں تو ایسا لگتاہڈیوں میں نشتر اتر رہے ہوں۔چلنا پھرنا دو بھر ہو جاتا تھا۔

اس کی دونوں بہنیں سارا دن لگا کر چادریں کاڑھتیں تھیں۔ پھر وہ اماں کے ساتھ یا اکیلے ہی ، چادریں لا کر سڑک کے کنارے ترتیب سے لٹکا دیتی اور گزرتی گاڑیوں میں آنے جانے والوں میں سے کسی کو کوئی چادر پسند آ جاتی تو خرید لیتے۔ دن میں ایک دو چادریں بک ہی جاتیں۔ کبھی کبھی نہیں بھی بکتی تھیں۔ اندھیرا پھیلنے لگتا تو وہ سامان سمیٹ کر واپس آ جاتی۔ اندھیرے میں وہاں رکنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ کسی کو چادریں دکھائی نہیں دیں گی تو خریدے گا کیسے۔

وہ کچھ دیر سستا کے اٹھی اور روز کی طرح چادریں دو کھوکھوں کے درمیان بندھی رسی پہ ٹانگ دیں۔ کچھ دیر یوں ہی آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھتی رہی۔ کبھی کھوکھوں کے مالکوں کے چہروں کو غور سے دیکھ کر کچھ کھوجنے کی کوشش کرتی۔ پان والے کو شاید کچھ اندازہ ہو ہی گیا۔ اسے اشارے سے بلایا

” کیا ہوا۔ کچھ پریشان ہے۔ کچھ پوچھنا ہے کیا ؟”

” نہیں چاچا۔ ” وہ کہہ کر خاموش ہو گئی۔ اماں نے منع کر رکھا تھا اس کے بارے میں بات نہیں کرنی۔ پھر کچھ سوچ کر گھما پھرا کے پوچھا

” چاچا۔ آپ کے علاقے میں سب خیریت ہے ؟ “

” ہاں سب خیر ہے۔ اللہ پاک کا کرم ہے۔ کیوں ؟ “

” سب ٹھیک ہے ؟ مطلب کوئی نیا جانور، بلا تو نہیں آگئی۔ مطلب وہ ہمارے علاقے میں کچھ دن سے چوزے غائب ہو رہے ہیں۔ سب کہہ رہے ہیں یہ کوئی نئی بلا ہے۔ ” وہ بلا وجہ چوزوں کا ذکر لے آئی تاہ اماں کی تاکید کا بھرم بھی رہ جائے۔

” نہیں نہیں۔ ہماری طرف سب خیر ہے۔ تمہارے علاقے میں بھی کوئی آوارہ بلی ہو گی۔ اپنے کتوں کو ہشیار رکھو بس۔ ” وہ سر ہلا کے خاموش ہو گئی مزید پوچھنا فضول تھا۔ چاچا کو با لکل اندازہ نہں ہوا تھا کہ وہ کیا پوچھنا چاہتی ہے۔

سارا دن یون ۃی کسی خریدار کے انتظار میں گزر گیا۔ جُھٹ پٹے کا وقت ہوا تو وہ ساری چادریں سمیٹ کر واپسی کے رستے ہولی۔ دوبارہ وہی احساس تھا جیسے کوئی پیچھا کر رہا ہے۔ اس نے ایک بار مڑ کے بھی دیکھا تو ایسا لگا کہ لال اوڑھنی پہنے کوئی ہیولا درختوں میں چھپ گیا ہو۔

پہلے سب کتنا پرسکون تھا۔ کوئی خوف نہیں۔ وہ سارا دن بے خوفی سے گھومتی پھرتی تھی۔ اماں کے ساتھ جاتی تھی ادھر ادھر کھیلتی، اچھلتی کودتی پھرتی ، بستر پہ لیٹتے ہی سو جاتی اور سورج کی پہلی کرن منہ پہ پڑتے ہی آنکھ کھل جاتی۔ مگر پچھلے کچھ ہفتوں سے اماں کے رویے سمیت سب کچھ بہت پر اسرار ہو گیا تھا۔ اماں کسی نادیدہ بلا کی آمد سے ڈرانے لگی تھیں۔ اسے تب احساس ہوا کہ وہ بلا نئی نہیں ہے بلکہ شاید پہلے سے تھی۔ یہ ایسا راز تھا جو وہاں کی آدھی آبادی کے لیے وجود رکھتا تھا اور آدھی کے لیے سرے سے تھا ہی نہیں۔  بہت کچھ اس کے سامنے تھا مگر جیسے پہلے کوئی جادو تھا کہ نظر ہی نہ آتا تھا۔ اسے اندازہ ہوا کہ وہاں کی عورتیں آپس میں سرگوشیاں کرتی ہیں جو شاید پہلے بھی تھیں مگر اس اب سنائی دینے لگی تھیں۔ کسی بھی دن کوئی جوان لڑکی کہیں کھو جاتی اور دوسری عورتیں پھر بھی اس کی موجودگی کا احساس دلاتی رہتیں۔ باپ بلاتا تو کہا جاتا پڑوس میں گئی ہے۔ بھائی پکارتا تو ماں یوں کھانا لاتی جیسے بیٹی سے لے کر آئی ہے۔ باپ بھایئوں کو یہ اندازہ ہی نہ ہوتا کہ وہ نہیں ہیں۔ پھر وہ آ جاتیں اور کسی کو احساس بھی نہ ہوتا۔ اسے ایک دن اتفاقا پتہ چلا یا شاید اب اسے یہ دکھلانا مقصود تھا۔ جنہیں وہ کھویا ہوا سمجھتی تھی وہ تو یہیں تھیں گھر کے پاس بنے جنگلوں میں۔ وہ بلا جس لڑکی پہ آتی اسے گندی سی چادر میں چھپا کے قید کر دیا جاتا تھا۔ وہ لڑکی سب کے سامنے ہوتے ہوئے بھی کھو جاتی تھی۔ فیروزہ الجھ جاتی۔ کیا گھر کے مردوں کو یہ جنگلے نظر نہیں آتے تھے، انہیں اس بلا کا پتہ تھا یا نہیں۔ یا وہ جانتے ہوئے نہ جاننے کا ڈھونگ کرتے تھے۔ کوئی لڑکیوں کو اس بلا سے بچاتا کیوں نہیں۔ وہاں صرف ایک گھر ایسا تھا جہاں باہر کوئی جنگلہ نہیں تھا۔ حالاں کہ وہاں بھی دو زنانہ وجود تھے۔ ماں جو کسی اور علاقے سے بیاہ کے آئی تھی اور ایک اس کی بیٹی جو فیروزہ سے کچھ سال ہی بڑی ہوگی۔ شاید سولہ سترہ سال کی۔ اور صرف اس ایک جنگلے کے نہ ہونے کی وجہ سے وہاں کی عورتیں اس گھر سے دور رہتی تھیں۔ فیروزہ نے اس گھر کی عورتوں کو کبھی گندی چادر میں لپٹے نہیں دیکھا تھا۔

وہ کبھی کبھی سوچتی کہ کیا مجھ پہ بھی بلا آئے گی۔ یہ خیال ذہن میں آتے ہی وہ سہم جاتی تھی۔ وہ اس بلا کا خیال ذہن سے نکال نہیں پا رہی تھی۔ کیا وہ خون پینے والی بلا ہے ؟ کیا وہ میرا سارا خون پی جائے گی ؟پھر تو میں مر جاوں گی۔ مگر باقی لڑکیاں تو نہیں مرتیں۔ انہیں سب سے الگ جنگلے میں کیوں قید کر دیتے ہیں۔ ؟ کیا وہ خوفناک ہو جاتی ہیں۔ ؟ کیا وہ دوسروں کو بھنبھوڑتی ہیں ؟کیا وہ بھی بلا بن جاتی ہیں ؟ اس کے ذہن میں اس بلا کا بہت خوفناک سا نقشہ بن گیا تھا۔ اسے خواب میں بھی یوں لگتا کہ کوئی لال اوڑھنی پہنے اس کا پیچھا کر رہا ہے۔ اور جب وہ شکل دیکھتی تو وہ لمبے لمبے دانتوں والی خوفناک، کریہہ صورت والی بڑھیا ہوتی۔ خوف سے اس کی آنکھ کھل جاتی۔

اگلی صبح پہلی بار اس کے سامنے بڑی آپا کو جنگلے میں بند کیا گیا ورنہ کب کونسی بہن کھو جاتی اسے پتہ ہی نہ چلتا تھا۔ وہ بہت زیادہ ڈر گئی تھی۔ جب ناشتہ کر کے جانے لگی تو اس کی نظر جنگلے پہ پڑی۔ ایک طرف سے چادر سرکی ہوئی تھی اور آپا کے ساتھ ہی کوئی لال اوڑھنی پہنے بیٹھی تھی۔ اس کے پیچھے پیچھے آتی اماں نے پھرتی سے چادر دوبارہ مکمل ڈھک دی۔ اسے ایک نظر میں ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ آپا کا چہرہ ویسا ہی تھا جیسا ہوتا ہے کوئی تبدیلی نہیں تھی۔ وہ اور الجھ گئی۔

وہ جلدی جلدی سڑک کی طرف چل دی۔ اس کا دل ایسے دھڑک رہا تھا جیسے بلا بس اسے ہی پکڑنے آ رہی ہے۔ خوف سے پیٹ میں مڑوڑ سا اٹھ رہا تھا۔ اس میلی چادر کی بدبو سے دل متلا رہا تھا۔ اسے اس چادر سے اتنی کراہت پہلے کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔ اس نے حسب عادت چادر اتار کر پوٹلی میں رکھ لی۔ سڑک پر پہنچ کر اس نے بہت بے دلی سے چادریں ترتیب سے لٹکایئں اور کونے پہ بیٹھ گئی۔ کچھ دیر بعد مڑوڑ واضح درد میں بدل گیا۔ کافی دیر وہ برداشت کرنے کی کوشش کرتی رہی مگر جب ہمت جواب دے گئی تو پنکچر والے کو چادروں کا دھیان رکھنے کا کہہ کر گھر کی طرف چل دی۔ اس میں پوٹلی اٹھانے کی ہمت بھی نہیں تھی۔ بس اماں کی دی ہوئی چادر اٹھا لی اور رستے میں پہن لی۔ وہ جلدی جلدی چلنے کی کوشش کر رہی تھی کہ بس گھر پہنچے اور لیٹ جائے۔ایک دم اس کے پیٹ میں درد کی شدید لہر اٹھی اور وہ ایک چبوترے پر بیٹھ گئی۔ وہ سر جھکائے بیٹھی تھی جب کسی نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔

” تمہیں مدد کی ضرورت ہے” اس نے سر اٹھا کے دیکھا۔ تقریبا اسی کی عمر کی ایک معصوم سی نو عمر لڑکی اس کے پاس کھڑی تھی۔ لڑکی کے چہرے پہ صحت مندی کی سرخی واضح نظر آ رہی تھی۔اس لڑکی نے ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھنے میں مدد دی اور جس گھر کے چبوترے پہ وہ بیٹھی تھی اسی میں جانے لگی۔  تب فیروزہ کو احساس ہوا کہ یہ وہی بغیر جنگلے والا گھر ہے۔ اسے پتا تھا کہ اسے یہاں نہیں جانا لیکن اس کے علاو کوئی چارہ نہیں تھا۔

اندر داخل ہوتے ہی لڑکی نے اندر موجود خاتوں کو مخاطب کیا

” آج پھر کسی کو آپ کی ضرورت ہے “

عورت دھیمے انداز میں مسکرائی۔

” تم اسکے ہاتھ پیر دھلواو بہت گرد ہو رہی ہے ” عورت کہیں اندر چلی گئی۔ لڑکی نے فیروزہ کی چادر اور دوپٹہ اتار کے پکڑ لیا تاکہ وہ آرام سے نیم گرم پانی سے ہاتھ پیر اور منہ دھو لے۔ فارغ ہو کر دوپتہ دوبارہ اوڑھ لیا۔ چادر بھی اوڑھنی چاہی تو لڑکی نے اشارے سے منع کر دیا اور نسبتا صاف چادر اوڑھنے کے لیے دے دی۔

” اپنی والی دھو کے اوڑھنا”

” اماں نے جیسے دی میں نے پہن لی “

” ہر ذمہ داری اماں کی تو نہیں، جو تمہیں خود غلط لگتا ہے اسے خود تم ہی سدھارو گی۔ ان کی زندگی یہی چادر دیکھتے گزری ہی یہ کبھی انہیں گندی نہیں لگے گی”

اس نے کچھ سوچ کے صاف چادر تو لے لی مگر یہ پتا تھا کہ اماں بہت ناراض ہوں گی۔ وہ آج کی ہر ہر غلطی پہ اپنی درگت بنتی دیکھ رہی تھی۔ وہ دونوں صحن پار کر کے کونے میں بنے چھوٹے سے کمرے میں آگیئں۔ جب اس نے دیکھا کہ خاتون کے ساتھ ان دونوں سے بڑی ایک اور لڑکی بھی تھی جو یقیننا اس عورت کی بیٹی تھی۔ اسے خیال آیا پھریہ لڑکی کون ہے ؟ اس کی نظریں لڑکی پر پڑیں تو لڑکی کے معصوم چہرے پہ شریر سی مسکراہٹ دوڑ گئی اور وہ دوسری طرف دیکھنے لگی جیسے اس کی کیفیت سے محظوظ ہو رہی ہو۔ شہد ملا دودھ پی کے اس میں کچھ طاقت آئی تو وہ جانے کے لیے اٹھ گئی مگر پھر رک گئی اور عرصے سے دل میں موجود سوال پوچھ ہی لیا۔

” آپ کے گھر کے باہر جنگلہ کیوں نہیں۔ ” اسے لگا شاید بلا یہاں نہ آتی ہو اور وہ بھی جان سکے کہ بلا سے کیسے بچتے ہیں۔

” کیوں کہ تم لوگ جسے بلا کہتے ہو وہ بلا نہیں ہے۔ چلو گھر چلتے ہیں۔ ” خاتون کی بجائے اس کی ہم عمر لڑکی نے جواب دیا اور گھر سے نکلنے سے پہلے گلے کے گرد پڑی لال اوڑھنی سر پر رکھی اور مضبوطی سے فیروزہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔

Similar Posts:

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

August 2021
M T W T F S S
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
3031  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: