غزل ۔۔۔ احمد مشتاق

غزل

احمد مشتاق

یہ ہم غزل میں جو حرف و بیاں بناتے ہیں

ہوائے غم کے لیے کھڑکیاں بناتے ہیں​

انہیں بھی دیکھ کبھی اے نگارِ شامِ بہار​

جو ایک رنگ سے تصویرِ جاں بناتے ہیں​

نگاہِ ناز کچھ ان کی بھی ہے خبر تجھ کو؟​

جو دھوپ میں ہیں مگر بدلیاں بناتے ہیں​

ہمارا کیا ہے جو ہوتا ہے جی اداس بہت​

تو گل تراشتے ہیں، تتلیاں بناتے ہیں​

کسی طرح نہیں جاتی فسردگی دل کی​

تو زرد رنگ کا اِک آسماں بناتے ہیں​

دلِ ستم زدہ کیا ہے؟ لہو کی بوند تو ہے​

اس ایک بوند کو ہم بیکراں بناتے ہیں​

بلا کی دھوپ تھی دن بھر تو سائے بُنتے تھے​

اندھیری رات ہے، چنگاریاں بناتے ہیں​

ہنر کی بات جو پوچھو تو مختصر یہ ہے​

کشید کرتے ہیں آگ اور دھواں بناتے ہیں​

Similar Posts:

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

October 2021
M T W T F S S
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031
Show Buttons
Hide Buttons