غزل ۔۔۔ اختر کاظمی

غزل

( اختر کاظمی )

شہر کب تک رہیں گے یونہی بے صدا
کب کھلے گا کوئی پھول آواز کا

فرش سے عرش تک خوف ہی خوف ہے
خوف ہو حاکموں کا کہ خوف خدا

اپنے گھر میں رہیں یا سفر میں رہیں
زندگی کا فصیلوں سے ہے رابطہ

سامنے بھی سمندر سرابوں کا ہے
واپسی کا بھی کوئی نہیں راستہ

سو رہو لب نہ کھولو سنو چپ رہو
کوئی اختر کو سمجھائے یہ تو ذرا

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: