صحرا کی ریت پھانکتی لڑکی ۔۔۔ صفیہ حیات

صحرا کی ریت پھانکتی لڑکی

( صفیہ حیات )

تم نے الزامات کی پوٹلی 
سر راہ کھول کر
زمانے بھر کی خاک میری مانگ میں بھر دی
میں چپ رہی۔
۔
تم نے اک اک سے
ناکردہ گناہوں کی خود گھڑی داستاں کہی۔
میں نے لب سی لئے۔
۔
معصوم فرشتوں کی بھولی مسکان
میں ھمکتی امیدیں
مجھے جاں سے بڑھ کر عزیز تھیں۔
تونے سب روشنیاں گل کر دیں۔
میرے سینے میں زخم در زخم
فروزاں کی ہیں سب لہو کی شمعیں
۔
تاریک راہوں کو میرا پتہ دے کر
جنگلوں میں بھٹکا کر
آبلہ پیروں میں صحرا باندھ کر
مجھے تنہا چھوڑ دیا۔
میں روئی
کوئی حرف شکایت نہ کہا۔
۔
مگر تو نے تو۔۔۔۔۔۔
کل شام حد کر دی۔
میری پیوند لگی چادر کھینچ کر
بیچ بازار بو لی لگا دی۔
بھت سستے میں بیچ کر
اپنی انا بچانے والے
یاد تو کر
میں نے کہاں کہاں 
اپنی کنواری خواہشوں کو گروی رکھا
صحراوءوں کی ریت پھانکی
اپنی تشنگی بیچ کر 
تیری راہ میں رل گئ۔
اور 
تم رشتوں کی زنجیر بدلنے میں 
کتنے جلد باز نکلے۔
میں نے تیرے پیروں کے کانٹے نکال کر
دل میں چھپا لئے۔
۔
میری زباں پہ تیرے بھرم کے وعدے رکھے رہے
اور 
زمانہ بھر کی رسوائیاں 
میری جھولی میں گرا کر 
اب تم کہتے ھو۔۔۔۔
میں وہ نہیں 
جسے تم چاھو۔
۔
سنو میرے دوست!
اس نے کیسے مجھے باندھ کر مارا۔
ذات پہ لگے
رسوائیوں کے داغ کیسے دھلتے ہیں
یہ کون بتائے گا۔۔۔۔؟؟؟؟؟
 

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: