منجانب ۔۔۔ اسما عباسی
منجانب
اسماء عباسی
شہر کی شاہراہوں پر پڑتی دوپہر کی چلچلاتی دھوپ کے باوجود وہاں کے ہجوم میں کوئی کمی نہ آئی تھی۔ لوگوں کو شاید موسم کی تپش سے کوئی غرض نہ تھی۔ یا شاید انکے پاس ا ور کوئی چارا نہ تھا۔
پھر اس مہنگائی کے دور میں کیا کسی کے پاس دھوپ چھٹنے تک کا انتظار کرنے کا وقت تھا؟ یہ دھوپ، یہ گھٹن تو اب لوگوں کی زندگی کا حصہ بن چکی تھیں۔ اس میں سست پڑنے والے یقیناً پیچھے رہنے والے تھے۔ جو کہ کسی کو منظور نہ تھا شاید ۔
اسی گہما گہمی کی زندگی سے دو سیڑھیاں اوپر چڑھ کر آؤ ا ور شیشے کا دروا زہ کھول کر اندر جھانکو تو الگ ہی دنیا کو بیٹھے، اپنے مہنگے مہنگے کھانے سامنے رکھے خوش گپیوں میں مشغول پاؤ گے۔
وہاں کی زندگی میں ٹھہرا ؤ سا تھا۔ ایسے جیسے لوگ اپنے سار ے دکھ،غم، پریشانیاں اس دروا زے کے پار چھوڑ کر اندر آئے تھے۔
تبھی کسی نے کاؤنٹر ٹاپ انگلیوں کی مدد سے بجا کر وہاں موجود عملے کو اپنی طرف متوجہ کیا ۔
“یس میم؟” اس لڑکے نے مؤدبانہ اندا ز میں سامنے کھڑی لڑکی سے پوچھا۔ جو ہلکے نیلے رنگ کے کرتے کے ساتھ اسی رنگ کے دوپٹے کو گلے میں ڈالے، کچھ تیکھے اندا ز سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“آپ کو کیا آرڈر کیا تھا؟”لہجہ تیکھا مگر ہموا ر تھا۔
“آپ مجھے رسید دکھا سکتی ہیں؟”مصلحانہ اندا ز میں کہا۔ اس بار اس لڑکی کی بجائے ساتھ موجود لڑکی نے و ہ رسید کاونٹر پر رکھی تھی ۔
اس لڑکے نے رسید دیکھی۔ غلطی کا احساس ہوا۔
“سوری میم۔ کچھ منٹ میں آپکا آرڈر آپکے ٹیبل پر آجائے گا۔”
“ذرا ا ن چیزوں کا خیال رکھا کریں۔۔ آپکی وجہ سے پہلے ہی بہت وقت ضائع ہوچکا ہے۔” و ہ لڑکی بول رہی تھی جبکہ دوسری لڑکی نے اسکے بازو پر ہاتھ رکھ کر اسے روکا۔
ورکر ابھی بھی سوری کہہ رہا تھا ۔۔ جبکہ و ہ دونوں واپس مڑ گئیں۔
“یار۔ کیوں ہائپر ہو رہی ہو۔ جانے دو۔ ۔ ایسے ہی موڈ خراب کر رہی ہو اپنا۔”اپنی نشست پر بیٹھتے ہوئے اس نے سمجھانا چاہا ۔
“مو ڈ تو خراب ہی ہوگا یار۔۔ پچھلے آدھے گھنٹے سے ہمیں کہہ رہے ہیں آپکا آرڈر آرہا ہے۔ ا ور آیا بھی تو یہ۔۔ آدھے گھنٹے میں ہمیں واپس آفس پہنچنا ہے۔ ا ور یہاں کھانے کا کوئی دور دور تک امکان نہیں۔۔ میں ذرا انکو ایکسپوز کرتی ہوں سوشل میڈیا پر، پھر انھیں پتہ چلے گا۔۔ “و ہ لڑکی شاید اتنی آسانی سے معاف کرنے والی نہ تھی۔
“ہاں پچھلی بار تم نے جو کمپلین کی تھی اسکے بہانے ہمیں فری کھانے کو ملا تھا۔ اس بار بھی ایسا کچھ ہو جائے تو مزہ آجائے۔” دوسری لڑکی مزے سے ہنسی۔
“یار بات فری کھانے کی نہیں ہے۔ بلکہ اپنے کام سے مخلصی کی ہے۔ جو ہمار ےہاں کے لوگوں میں کم سے کم تر ہو گئی ہے۔۔”
“یار ہم خود بھی کہیں نا کہیں غلطی کر جاتے ہیں۔ انسان ہیں۔ اتنا تو اگلے کو فری ہینڈ دینا چاہیے۔”
“بالکل۔ سب غلطی کرتے ہیں۔ مگر اسے ا ون بھی تو کریں نا۔”
“و ہ بھی تو ا ون کر رہا تھا۔ معافی مانگ رہا تھا۔۔”
“معافی مانگنے ا ور ا ون کرنے میں فرق ہے۔۔ اون کرنے کا مطلب ہے کہ اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا ہے ا ور اس بار ہمیں ہمارا آرڈرجلد ا ز جلد دے گا۔۔”او ہ ابھی بات کر ہی رہی تھی کہ ایک ویٹر ٹرے لئیے سیڑھیاں چڑھ کر ا وپر آتا دکھا۔۔
و ہ دیکھ چکی تھی۔ تبھی خاموشی سے دیکھنے لگی کہ آیا و ہ انہی کے ٹیبل کی طرف آرہا ہے یا نہیں۔۔ دوسری لڑکی نے بھی گردن موڑ کر اسی طرف دیکھا۔۔
“دیکھتے ہیں و ہ جھوٹی معافی مانگ رہا تھا یا واقعی غلطی ا ون کی تھی۔۔” نیلے کرتے والی لڑکی نے گردن واپس موڑ کر پہلی لڑکی کو دھیر ےسے کہا۔
ویٹر کے قدم انکے ٹیبل کی طرف ہی تھے۔ جو چند لمحوں بعد انکے قریب آکررکے۔” ہمارے عملے کی طرف سے معذرت کے طور پر یہ ڈرنکس آپ کے لئیے فری ہیں۔”
ٹرے ٹیبل پر رکھ کر اس نے مؤدبانہ اندا ز میں اطلاع دی۔
اس لڑکی کو ہلکی سی شرمندگی ہوئی۔ و ہ یوں ہیبڑیبڑی باتیں کر گئی تھی۔ ویٹر واپس چلا گیا تو سامنے بیٹھی لڑکی نے ہنس کر اسے دیکھا۔
“تو مس ا رحہ۔ کیا آپ اپنی بات سے پلٹ رہی ہیں؟”اس نے ٹیبل پر جھک کر شرا رت سے پوچھا۔
“یار مائدہ مجھے اب برا لگ رہا ہے۔۔ایسے ہی زیادہ بول گئی ہوں۔”
“اٹس ا وکے۔ جاتے ہوئے تھینک یو بول دینا۔ اب جلدی سے کھاؤ واپس بھی جانا ہے۔۔”
انھوں نے ہلکی پھلکی با توں کے درمیان جلدی جلدی کھانا کھایا ۔ کچھ تصاویر لیں۔ گھڑی پر دیکھا تو بریک ختم ہونے میں پندرہ منٹ رہ گئے تھے۔
“میں ذرا ریسٹ روم سے ہو کر آتی ہوں تم پلیز جلدی سے گاڑی کروا ؤ ۔۔” ا رحہ کہہ کر اٹھنے لگی ۔
“میرا پیکج نہیں ہے یار۔”اسکی بات پر ا رحہ نے جلدی سے موبائل کا لاک کھول کر اسے تھمایا ا ور تیزی سے آگے بڑھی۔ و ہ ہمیشہ ہی بریک سے لیٹ ہوجاتی تھیں۔ آج پھر سے وہ اپنے باس سے بےعزتی نہیں سن سکتی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دن ختم ہو کر رات ا ور پھر اگلے دن میں تبدیل ہوا تو آفس میں ورکرز کی آمدرورفت شروع ہوگئی تھی۔
اسی میں ا رحہ بھی اپنی منزل پر پہنچ کر لفٹ سے برآمد ہوئی تو خوبصورت سا جامنی رنگ کا سوٹ زیب تن کیا ہوا تھا۔
راہدا ری میں کچھ لوگوں کو سلام دعا کرتی جب اپنے کیبن پہنچی تبھی مائدہ کو موبائل اٹھائے بھاگ کر آتے دیکھا۔
“تم یقین نہیں کرو گی کہ میں ابھی کیا پڑھ کر آرہی ہوں۔”
“باس نے پھر کسی کو ٹرمینیٹ کر دیا ہے کیا؟” لاپرواہی سے پوچھا ۔
“و ہ لڑکا ڈیزروو کرتا تھا ، ا رحہ۔۔ اسکی حرکتیں ایسی تھیں کہ اسے ایسے ہی نکالا جائے۔۔”مائدہ شاید برا مان گئی تھی۔
“پھر تو اپنے لئیے سٹینڈ لینے والے ہرشخص کو نکال دینا چاہیے ۔۔ ۔”
“سٹینڈ لینے کا طریقہ ہوتا ہے یار۔ خود کو بچانے کے لئیے و ہ کسی کو تو گندا نہ کرتا۔۔”مائدہ کے لہجے سے لگ رہا تھا کہ اسے ا رحہ کی بات بری لگی ہے۔
“اچھا دفعہ کرو اسے۔۔ تم بتاؤ کیا کہنے آئی تھی؟”ا رحہ نے محسوس کیا کہ و ہ ناراض ہوگئی تھی۔۔ پھر کچھ ہی لمحوں میں اس نے ناراضگی پس پشت ڈالی ا ور موبائل اسکی طرف بڑھایا۔
اسے مائدہ کی یہی بات اچھی لگتی تھی و ہ زیادہ دیر ناراض نہیں رہتی تھی۔ بھول جاتی تھی، درگزر کر دیتی تھی۔
“تمہیں یاد ہے کل کیا ہوا تھا ہمارے ساتھ؟”
“کل؟” پھر اسے ریسٹورنٹ والی بات یاد آئی۔۔”اچھا و ہ۔اسکا ابھی کیا ذکر؟”
“یہ دیکھو۔۔ کسی نے اس ریسٹورنٹ کے خلاف پوسٹ ڈالی ہے۔ ۔۔ ا ور تو ا ور۔۔ اس نے وہوہ باتیں کی ہیں جو ہمنےفیس کی تھیں۔۔ ایک ہی دن میں دو واقعات۔۔ اتنا بڑا اتفاق۔۔” مائدہ کی آنکھیں ا ور کھلیں۔
“اتنابڑا واقعہ بھی نہیں تھا۔ یہ تو روزانہ کی بنا پر ہوتے ہونگے۔۔۔ ہم جیسے لوگ خاموش رہ جاتے ہیں۔مگر ہر کوئی خاموش نہیں رہتا۔۔”
“ہمسے تو انھوں نے ٹھیک سے معذرت بھی کر لی تھی۔ ہمیں کیا ضرورت اس کے بعد بھی کسی کو ایکسپوز کرنے کی۔۔”
مائدہ کتنی ہی دیر اس واقعے کو لے کر ارحہ سے بحث کرتی رہی۔
اس کے جانے کے بعد ارحہ نے اپنے موبائل سے سوشل میڈیا کھولا ا ور وہی پوسٹ دیکھی۔
مائدہ ٹھیک کہہ رہی تھی واقعی اس پوسٹ ا ور انکے ساتھ ہونے والے واقعے میں بہت زیادہ مماثلت تھی۔۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے ا ن کے ساتھ ہونے والے تجربے کو لکھا ہو۔
“خیر۔ دنیا میں ایسے اتفاقات ہوتے ہیں۔” ا رحہ نے کندھے جھٹک کر سکرین کے ا وپر بنے گولوں میں موجود لوگوں کی “سٹوریز” دیکھنا شروع کیں۔۔۔
انھی میں ایک مائدہ کی بھی تھی۔ کوئی’ کارپوریٹ سلیوز'(Corporate Slaves) کے متعلق میم(meme) تھی جس میں اس نے اپنی کسی کالج کی دوست کو ٹیگ کیا ہوا تھا۔۔ ا رحہ کو پڑھ کر ہنسی آ ئی۔۔ شکر کہ ان دونوں نے اپنے اکاؤنٹس میں آفس کے کسی شخص کو ایڈ نہ کیا تھا ۔۔ ورنہ انھیں بھی میسج پر فارغ کر دیا جاتا۔۔ ا رحہ ایک بار پھر ہنسی ۔
۔۔۔۔۔۔۔
“کل کا کیا پلان ہے؟” آفس کا دروا زہ کھول کر و ہ دونوں باہر نکل رہی تھیں جب ا رحہ نے پوچھا۔
“گھر میں کچھ کام ہیں۔ امی کے ساتھ جانا ہے۔۔ پھر سوچ رہی ہوں اپنی دوست سے مل لوں۔ کافی عرصے سےملاقات نہیں ہوئی ۔”
اسکی بات پر ا رحہ کو کچھ سوچ کر ہنسی آئی۔۔
“یہ جو تم پوسٹس لگا رہی ہو۔ ایک آدھ باس کو بھی بھیج دینا۔۔ انھیں بھی پتا چلے تمہاری کیا رائے ہے بےوجہ کی میٹنگز کو لے کر۔۔”
“ہاں تاکہ و ہ میری اس افس میں آخری میٹنگ ہو۔۔۔” و ہ دونوں ہنس دیں۔
“کس بات پر ہنسا جا رہا ہے۔۔۔؟”آفس کی ایک لڑکی ا ن کی طرف آرہی تھی جسے دونوں نے ہنس کر اس میم کے بارےمیں بتایا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی سے اتر کر اس نے قدم آ گے بڑھائے۔ و ہ ایک پانچ منزلہ بلڈنگ تھی۔ جس کےتیسرے فلور پر اسکا اپارٹمنٹ تھا۔۔ سیڑھیاں چڑھ کر جب و ہ اپنے گھر کے دروا زے پر پہنچی تو چہرے پر ویرانی چھائی ہوئی تھی۔ پرس ٹٹول کر چابیاں نکالیں۔ دروا زہ کھولا تو گھر اندھیر ےمیں ڈوبا ہوا تھا۔ ٹھنڈی سانس اندر کھینچ کر اس نے دروازہ اپنے پیچھے بند کیا۔ ا ور لائٹس آن کیۓ بغیر و ہ اندر کی طرف بڑھ گئی ۔ اسے روشنی سے کوئی غرض نہ تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
“ا رحہ میڈم؟”دروا زہ ناک کر کے ایک ورکر نے اندر جھانکا۔”آپکو باس بلا رہے ہیں۔”
“اللہ خیر۔ انکا موڈ کیسا ہے؟”
“نہیں پتا جی۔۔ پچھلی بار آپکو کہا تھا کہ و ہ اچھے موڈ میں ہیں ا ور آپ نے مجھے آکر سنائی تھیں۔”
“ہاں کیوں کہ و ہ تب اچھے موڈ میں نہیں تھے ا ور مجھے سننے کو ملی تھیں۔۔” ا رحہ نے اٹھتے ہوئے کہا۔
“مجھے کیا پتہ تھا کہ آپ سے بات کرنے کے بعد انکا موڈ خراب۔۔۔” ا رحہ کو گھورتا پا کر اسکی زبان رکی۔
“جو شخص اپنے باس کا موڈ نہیں پہچان سکتا و ہ ایک ناکام انسان ہوتا ہے، باقر ۔۔ یہ بات یاد رکھنا۔۔ “و ہ کہہ کردروا زے سے باہر نکل گئی۔ باقر نے ہاتھ جھلا کر جیسے ناک سے مکھی ا ڑائی۔ ا رحہ کو و ہ ویسے بھی سیریس نہیں لیتا تھا۔
قریب سے گزرتی مائدہ نے اسے روکا ۔
“باقر بھائی۔ خیریت ہے۔ ا رحہ باس کےآفس جا رہی ہے ۔” مائدہ کی نظر باس کے آفس کے پیچھے گم ہوتی ا رحہ کی طرف تھی۔
“باس نے بلایا ہے انھیں۔”
“موڈ کیسا تھا انکا؟”اس نے بھی وہی سوا ل کیا مگر کچھ پریشانی کے ساتھ ۔
“ٹھیک نہیں تھا۔ غصے میں لگ رہے تھے۔” اس بار باقر نے سیدھا جواب دیا۔۔ کیونکہ مائدہ کم ا ز کم ا رحہ کی طرح کاٹ کھانے کو نہیں دوڑتی تھی۔ و ہ دونوں قریباً دو سال سے یہاں کام کر رہی تھیں۔ دونوں نے تقریباً ساتھ ہی جوائن کیا تھا۔ دونوں میں بنتی بھی بہت تھی مگر دونوں کی شخصیات بہت منفرد تھیں۔
بات کرنے کا طریقہ صرف مائدہ کو آتا تھا۔ یہ بات باقر بہت آسانی سے کہہ سکتا تھا۔
مگر باقر کی اطلاع پر مائدہ کچھ پریشان دکھنے لگی تھی۔ باس کا موڈ خراب ہونے کا مطلب آپ عزت افزائی کے لئیے تیار ہو جاؤ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“سلام” کر کے جب و ہ کرسی پر بیٹھی تو باس نے لیپ ٹاپ سے سر ا ٹھا کر ایک نظر اسے دیکھا۔
“جی مس ا رحہ۔ کام کیسا جا رہا ہے ؟”باس نے اسکا نام غلط لیا تھا۔۔
“سر۔ میرا نام ارحہ ہے۔ الف کے نیچے زیر۔ آپ نے زبر۔۔۔”
“یقیناً کام اچھا جا رہا ہوگا۔” پچاس سالہ باس نے اسکی بات کو خاطر میں نہ لایا تھا۔ و ہ برہم بھی لگ رہے تھے۔
“جی سر۔ اللہ کا شکر ہے۔۔” ا رحہ انکےموڈ کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔
“فیصل سے کوئی رابطہ ہے آپکا ؟۔۔”
“نہیں سر۔خیرت ہے؟”فیصل انکا وہی کولیگ تھا جسےمیسج کر کے فائر کیا گیا تھا۔
“کوئی رابطہ کرنے کی کوشش کی ہو اس نے؟”و ہ اب ٹیک لگائے کوہنیاں دونوں ہینڈل پر رکھے ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کیٔے اس سے پوچھ رہے تھے۔
“نہیں سر۔ جب سے و ہ یہاں سے نکالا گیا ہے۔نا اس نے کوئی رابطہ کیا ہے نا ہی میں نے رابطہ رکھنے کی کوشش کی ہے۔۔ سب ٹھیک ہے؟”و ہ پریشانی سے پوچھ رہی تھی ۔ ضرور کچھ ہوا تھا۔
“دیکھیں مس ا رحہ۔” ا س بار انھوں نے نام ٹھیک لیا تھا۔” آپ ہماری بہت قابل ا ور محنتی ایمپلائی ہیں۔۔ مگر ہمیں اپنے ایمپلائی سے ایماندا ری بھی چاہیے ہوتی ہے۔۔ ہمیں پتا چلا ہے کہ آپ فیصل سے رابطے میں ہیں۔ نا صرف یہ بلکہ آپ انکے ساتھ مل کر کمپنی کے بار ے میں نا مناسب الفاظ بھی استعمال ۔۔۔”
” سر۔۔ یہ آپ سے کس نے کہا؟” و ہ شاک کے عالم میں انکا منہ دیکھنے لگی ۔” میں نے آج تک کمپنی کے خلاف کوئی بات نہیں کی (جھوٹ)۔ نا آگے کروں گی(محض جھوٹ)۔مجھے علم ہے فیصل کیوں نکالا گیا تھا۔ میں اس بات سے بھی واقف ہوں کہ ایک کمپنی آپ سے صرف کام نہیں چاہتی بلکہ آپکی لویٔلٹی(loyalty) بھی چاہتی ہے ا ور میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی کہ کبھی ایسا کچھ کروں۔۔ “اسکے چہر ےسے لگ رہا تھا جیسے وہ ایسے کسی الزا م کے لئیے تیار نہ تھی۔۔ باس اسے پچھلے دو سالوں سے جانتے تھے۔۔ ۔ مگر و ہ یہ بھی جانتے تھے کہ یہاں انکے سامنے بیٹھ کر خود کو بچانے کے لئیے لوگ قرآن تک کی قسم اٹھا سکتے تھے۔ ا رحہ تو محض کھوکھلے دعوے کر رہی تھی۔
“بحرحال۔ آپکو یہاں بلانے کا مقصد یہی تھا کہ آئندہ ہمیں آپکی فیصل سے بات کرنے کی اطلاع ملی تو شاید ہمیں کوئی سخت قدم اٹھانا پڑے گا۔ جس کے میں بالکل بھی حق میں نہیں ہوں۔۔۔”
“سر۔ میں قسم اٹھا کر کہہ سکتی ہوں۔میرا فیصل سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔۔ آپ بیشک قرآن۔۔۔” اس بار و ہ روہانسی ہوئی تھی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے کیبن میں آکر اس نے دروا زہ بند کیا ا ور تیزی سے کرسی پر بیٹھی۔ کہنیاں ٹیبل پر ٹکائیں ا ور سر تھام لیا۔
ہاتھوں میں ابھی بھی کپکپاہٹ تھی۔
“باس کیا کہہ رہے تھے؟ سب ٹھیک ہے، ا رحہ؟ کیا ہوا؟” مائدہ نے جلدی سے دروا زہ بند کیا ا ور اس تک پہنچی۔
“یہی ایک چیز مجھے اس کمپنی کی بری لگتی ہے کہ دوسروں کو ذلیل کرانے کے لئیے یہاں کوئی بھی باس کے سامنے کچھ بھی کہہ سکتا ہے۔۔” اس نے سر اٹھایا ا ور دھیمے اندا ز میں کہتے ہوئے جیسے پھٹ پڑی تھی۔
“ہوا کیا ہے یار؟ تم اب مجھے پریشان کر رہی ہو۔ ”
“کسی نےباس کے سامنے بکواس کی ہے کہ میں فیصل سے رابطہ کر کے کمپنی کے خلاف باتیں کرتی ہوں ۔۔۔”
“ا ف اللہ ۔۔ یہ بندہ یہاں سے چلا گیا مگر اسکا ذکر نہیں گیا۔ ا ور باس کو کس نے کہا یہ سب؟ “مائدہ الگ پریشان ہو گئی تھی۔
“مجھے کیا پتہ۔ میں نے پوچھا ہے مگر نہیں بتا رہے۔ بس وا رننگ دے دی ہے کہ اگلی بار بات کی تو سخت قدم اٹھائیں گے۔۔۔”ایک دفعہ پھر سر پکڑ لیا۔
“یارتو تم جب بات ہی نہیں کرتی تو تمہارے خلاف کوئی فیصلہ کیوں کریں گے۔۔۔”
ا رحہ خاموشی سے پاؤں جھلا نے گی ۔۔ و ہ سٹریس میں ایسے ہی نےہلنے لگتی تھی۔
“تم کہو تو میں بات کروں باس سے۔۔۔”
“نہیں۔تم کوئی بات مت کرنا۔ و ہ غلط مطلب نکالیں گے اسکا بھی۔۔ پھر میرے ساتھ تم بھی مشکل میں پڑجاؤ گی۔۔” ا رحہ اب بھی پاؤں جھلا رہی تھی۔ جیسے کسی سوچ میں ہو۔
“میری فکر نہ کرو۔۔ اتنا تو کر ہی سکتی ہوں تمہارے لئیے یار۔ ا ور یہ پاؤں جھلا نا بند کرو۔ مجھے ڈسٹریکٹ(distract) کر رہی ہو۔۔” اس کی بات پر ا رحہ نے پاؤں روکا۔ مگر سوچیں اب بھی ذہن میں گردش کر رہی تھیں ۔
“ویسے تمہارا کوئی رابطہ ہے فیصل سے؟” مائدہ کے سوا ل پر و ہ جھٹکے سے اسکی طرف مڑی۔
“تمہارا دماغ خراب ہے۔۔میں کیوں کرنے لگی اس سے کوئی رابطہ۔”و ہ بھڑک کر بولی تو مائدہ خاموش رہ گئی۔ و ہ ضرورت سے زیادہ بھڑک گئی تھی۔
تبھی ٹیبل پر رکھا موبائل بج اٹھا ۔۔ اس سے پہلے کہ مائدہ کی نظر پڑتی ا رحہ نے تیزی سے اسے الٹا کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“باس کو پتہ چل گیا ہے۔ اب کچھ دن کے لئیے کوئی میسج یا رابطہ نہ کرنا۔ ورنہ مسئلہ ہو جائیگا۔” اپنے اپارٹمنٹ کے اندھیرے کمرے میں بیٹھے اس نے میسج ٹائپ کر کے فیصل کو بھیجا تھا۔ ا ور سکرین بند کر دی۔۔ اپارٹمنٹ یکدم تاریک ہوگیا تھا۔
اندھیرا نہ ہوتا تو شاید جھلتا ہوا پاؤں بھی دکھ جاتا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روشنی ہر سو پھیل چکی تھی ا ور اس وقت کمپنی کی طرف سے ہونے والے ایونٹ کی تیاریاں عروج پر تھیں۔۔ ہر کوئی روزمرہ سے زیادہ فریش ا ور تیار لگ رہا تھا۔۔
یہ ایک بین الاقوامی سطح کا ایونٹ تھا جس کے لئیے سب ہی اکسائٹڈ تھے۔۔۔
“ا رحہ آج پیاری لگ رہی ہے۔۔۔” اپنے ساتھ کھڑی فریحہ کے تبصرے پر مائدہ نے سر اٹھا کر دور کسی سے باتیں کرتی ا رحہ کو دیکھا۔ جو خوبصورت سی سیاہ میکسی میں واقعی پیاری لگ رہی تھی۔۔
“ا رحہ پر سیاہ رنگ بہت سوٹ کرتا ہے۔۔ بلکہ ڈا رک رنگ سارے ہی سو ٹ کرتے ہیں۔ میں نے کہا ہے اسے کہ ایسے رنگ ہی پہنا کرو۔ مگر میری کہاں سنتی ہے۔” مائدہ نے ہنس کر کہا۔ نظر ا رحہ پر پڑی جو اب انہی کی طرف آرہی تھی۔
“کیا چل رہا ہے؟” ا ن دونوں کو اپنی طرف دیکھتا پا کر و ہ پوچھنے لگی ۔
“کھانے کا کیا سین ہے؟ کچھ دیں گے یا نہیں؟” مائدہ نے پوچھا ۔
“کچھ وقت لگے گا۔۔ فریحہ تمہارے ساتھ پکس نہیں لیں یار۔” کہہ کر ا رحہ نے موبائل سے تینوں کی تصاویر لیں ا ور سوشل میڈیا پر بھی لگائیں۔۔ ان دونوں کو ٹیگ کیا۔
“عینی پوچھ رہی ہے یہ درمیان والی ا رحہ ہے کیا؟” مائدہ موبائل پر جھکے ہنس کر کہہ رہی تھی ۔
“عینی وہی تمہاری دوست ؟” ا رحہ نے پوچھا۔
“ا رے بھائی۔ ا رحہ لگ بھی تو اتنی پیاری رہی ہے۔ پوچھنا تو بنتا ہے۔”
“ا رے آپ بھی بہت پیاری لگ رہی ہیں، فریحہ۔۔” اسکے کہنے کے اندا ز پر فریحہ ا ور مائدہ ہنس دیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ایونٹ سے فارغ ہونے تک رات کے سات بج چکے تھے۔۔ اب صرف آفس کے لوگ رہ گئے تھے۔
“تمہارا کیا پلان ہے؟” ا رحہ کے آنے پر مائدہ نے موبائل سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
“بھائی آرہا ہے پک کرنے۔ گھر جاؤں گی۔”
“بھائی کو تھوڑی دیربعد بلا لینا یار۔ سب ڈنر کے لئیے جا رہے ہیں ۔۔” و ہ اسکے ساتھ والی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولی۔
“یار امی انتظار کر رہی ہیں۔کل سے سب کہیں باہر جانے کا کہہ رہے تھے۔ میں نے کہا تھا آج میں آؤں گی تو چلتے ہیں۔ ۔میرا خود بہت دل تھا تم لوگوں کے ساتھ جاؤں مگر سب میرا ہی انتظار کر رہے ہونگے۔۔” مائدہ نے دکھ سے کہا۔
“چلو کوئی نہیں۔ فیملی پہلے آتی ہے۔ ہم تو جاتے رہتے ہیں پھر کبھی سہی۔۔۔”
“مجھے اب برا لگ رہا ہے۔۔ کہو تو امی کو منع کردیتی ہوں۔۔۔”
“ا رے پاگل ہو۔۔ ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا فیملی کے ساتھ وقت گزا رنا۔۔۔”
“یار۔ ہم بہت کلوز ہیں ایک دوسر ے کے۔۔۔ ہمار ے ہفتے میں دو تین چکر باہر کے ضرور لگتے ہیں۔ نہ لگیں تو گھر پر ضرور کچھ منگوا لیتے ہیں ۔۔۔ امی نہیں کھاتیں مگر وہ ہمارے ساتھ ضرور جاتی ہیں۔ بھائی تو خیر ہر وقت تیار رہتے ہیں۔۔۔” مائدہ نے خوش ہو کر اسے اپنے گھر والوں کے بارے میں بتایا جبکہ ا رحہ محض مسکرا کر اسے دیکھتی رہی تھی شاید اسکے پاسشیٔر کرنے کو کچھ خاص تھا ہی نہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آفس کے فلور پر اتر کر ا رحہ اعتماد سے آگے بڑھ رہی تھی۔ چہرے پر نرم سی مسکراہٹ سجائے و ہ نئے دن ا ور اسکے ساتھ آنے والے چیلنجز کے لئیے پوری طرح تیار لگ رہی تھی۔
“اسلام علیکم۔۔۔” قریب سے گزرتے کولیگ کو سلام کیا۔ ایک ا ور گزر رہا تھا ۔۔ اسے بھی کیا۔ ایک کو محض مسکرا کر سر کے خم سے کیا۔۔
پھر کسی احساس کے تحت اسکی مسکراہٹ ڈھلی۔ سلام زبان کی حدود تک ہی رہ گیا۔ قدم بھی کچھ سست پڑے تھے۔
اس نے اطرا ف کا تنقیدی جائزہ لیا تو کچھ کھٹکا تھا۔
لوگ اسے دیکھ رہے تھے۔۔ بہت غور سے۔۔ ا رحہ نے سرگوشیاں بھی محسوس کی تھیں۔
کچھ ہوا تھا کیا؟ اسکا دل دھڑکا۔ دور سے باقر آتا دکھا۔
آج کل اسکی آمد ا رحہ کو ڈرا دیتی تھی۔۔ ابھی بھی و ہ اسی کی طرف آرہا تھا۔
ا رحہ نے ایک بار پھر لوگوں کی سرگوشیاں ا ور تجسس بھری نگاہیں محسوس کیں۔
باقر قریب آچکا تھا ۔
“آپکو باس بلا رہے ہیں۔۔”
ا رحہ پوچھنا چاہتی تھی کہ انکا موڈ کیسا ہے۔ مگر آج کچھ بدلا ہوا تھا۔۔ و ہ کچھ بھی نہیں پوچھ پا رہی تھی۔
و ہ شاید سست روی سے آگے بڑھتی مگر چونکہ لو گوں کی نظریں اسے چبھ رہی تھیں تبھی و ہ تیزی سے آگے بڑھی تھی۔
دروا زہ ناک کر کے اندر داخل ہوئی۔
باس اپنے آفس میں ٹہل رہے تھے۔
غصے سے۔۔۔
“سر، آپ نے بلایا؟”اس سے پہلے و ہ ایک بھی قدم آگے اٹھاتی۔ باس نے ٹیبل سے کچھ اٹھا کر اسکی طرف اچھالا۔
“میں اس آفس میں ہر غلطی برداشت کر لوں گا۔ ہر بیوقوفی برداشت کر لوں گا۔ مگر میری پیٹھ پیچھے جا کر میری کہی بات کا پاس نہ رکھنا۔ میں کبھی برداشت نہیں کرونگا۔” ا رحہ نے اپنے پاؤں کے قریب پڑی ا ن تصاویر کو دیکھا ۔”میں نے تمہیں کہا بھی تھا کہ مجھے اگر علم ہوا تم اس لڑکے سےرابطے میں ہو تو میں اس بات کا بھی خیال نہیں کرونگا کہ تم ہماری کتنی قابل ایمپلایٔ ہو۔۔۔”
ا رحہ نے جھک کر ا نتصاویر کو اٹھایا۔
“کل تم فیصل سے ملی ہو۔۔ جبکہ میں نے کہا تھا کہ اس کمپنی کے ساتھ جب تک منسلک ہو تب تک تم اس سے نہیں ملو گی۔ کوئی رابطہ نہیں کرو گی ۔۔۔”
ا رحہ نے ایک ایک تصویر دیکھی۔۔ اسکی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھی۔۔ ہاتھوں میں کپکپاہٹ الگ تھی۔۔ و ہ جیسے گرنے کو ہوگئی تھی۔۔
“جو شخص ایک اتنی سی بات سمجھنے سے قاصر ہے اسکی ہماری کمپنی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔۔” باس کی بات پر ا رحہ نے بے یقینی سے سراٹھا کر انھیں دیکھا ۔
“آپ جا سکتی ہیں، مس ا رحہ بدر۔” کہہ کر و ہ اپنی سیٹ کی طرف بڑھ گئے۔
“سر۔۔ یہ میں نہیں ہوں۔” و ہ بولی تو اپنی آوا ز انجان لگی ۔۔ گلا کھنگار کر ایک بار پھر کہا ۔
“سر۔ یہ میری تصاویر نہیں ہیں۔ اس میں۔۔ “اس نے ایک بار پھر تصاویر دیکھیں۔” میری پیٹھ۔۔۔” زبان پھسلی۔
“اس لڑکی کی پیٹھ دکھرہی ہے۔ یہ میری تصاویر نہیں ہیں۔۔ کیسے ہو سکتی ہیں؟ میں فیصل سے ملی ہی نہیں ہوں۔ یہ میں کیسے ہو سکتی ہوں؟”اسے اپنا دفاع کرنے کے لئیے الفاظ نہیں مل رہے تھے۔
“اچھا تو اس میں آپکا چہرہ نہیں دکھ رہا تو آپ باآسانی یہ کہہ سکتی ہیں کہ یہ آپ نہیں ہیں؟ محترمہ۔ یہ کل کی تصاویر ہیں۔ ا ور یہ آپ ہی ہیں۔۔۔”
ا رحہ نے دیکھا۔ و ہسیاہ میکسی۔ و ہ سیاہ ہیل۔۔ و ہ دن کی تصویر نہیں تھی۔۔ رات کی تھی ۔ مگر مصنوعی روشنیوں میں اسکی پیٹھ باآسانی دیکھی جا سکتی تھی۔۔
” سر۔ کوئی مجھے ٹریپ کر رہا ہے۔۔”ضبط کے باوجود آنسو چہر ے پر لڑھک گئے تھے۔” یہ میں نہیں ہوں۔ آپ اس تصویر کو دیکھ کر کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ میں ہوں۔۔ بلکہ۔۔ “اس نے آنسو پونچھے۔۔” مجھے بتائیں یہ تصاویر آپکو کس نے بھیجی ہیں۔۔ میں خود اس سے بات کرو ں گی۔۔ میں پوچھوں گی کہ یہ میں کیسے ہوسکتی ہوں۔۔ پلیز سر۔”و ہ کسی کے سا منے اتنی منتیں نہیں کرتی تھی۔ آج کرنی پڑ رہی ہیں۔
اسکے جواب میں باس نے ریسیور اٹھایا ۔
“مس ا رحہ بدر کا ٹرمینیشن لیٹر تیار کروا ؤ ۔۔”
“سر۔۔” و ہ بول تک نہ سکی تھی۔۔ یہ ہو کیا رہا تھا؟ یہ ہو کیوں رہا تھا؟
“سر ۔آپ جانتے ہیں میں بھی فیصل کو اسکی ان حرکات کے باعث نکالنے کے حق میں تھی۔۔ پھر کیوں میں اس سے ملوں گی۔۔”
“شاید آپ دکھاوے کے لئیے اسکے خلاف گئی تھیں تاکہ کوئی آپ پر انگلی نہ اٹھائے۔ یا آپ کچھ ا ور سوچ کر یہ سب کر رہی تھیں۔۔ خیر اس سب سے غرض نہیں ہے۔ آپ جا سکتی ہیں۔۔۔”
ا رحہ نے بہت غصے سے انھیں دیکھا۔ کوئی گالی بھی دینا چاہی۔۔ مگر بہت ضبط کیا دروا زہ کھول کر باہر نکلی ا ور زور سے اپنے پیچھے اسے بند کیا۔
اطرا ف میں موجود لوگوں نے چونک کر اسے دیکھا۔ جو کیبن جا کر اپنی چیزیں نکالنے لگی ۔
“ا رحہ یہ سب کیا ہے یار؟ سب کیا کہہ رہے ہیں؟” مائدہ رو دینے کو تھی۔
“سب کو مل گیا ہے جس کے لئیے انھوں نے سب کیا ہے۔”
“سب جانتے تھے میری پروموشن ہو جائے گی ۔۔ سب سے میری ترقی ہضم نہیں ہوئی۔ اب خوش ہو جائیں۔۔۔” و ہ درا ز سے چیزیں نکالتے ہوئے بولی۔۔ آنسو ناچاہتے ہوئے بھی بہہ رہے تھے۔
“سب کہہ رہے ہیں کہ تم فیصل کی وجہ سے نکالی جا رہی ہو۔۔۔” مائدہ کی بات پر اسکے ہاتھ رکے ۔
“اب مجھے سمجھ آرہی ہے کہ فیصل کیوں نکالا گیا ہے۔۔ و ہ بھی آفس پالیٹکس کی بھینٹ چڑھا ہے۔۔۔” ارحہ جیسے خود سے ہم کلام ہوئی تھی۔
“ا رحہ میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں۔۔ کیا تم فیصل سے رابطے میں ہو؟” مائدہ کی سوئی اب بھی وہیں اٹکی ہوئی تھی۔۔
“کیوں؟ اس سے رابطے میں رہنا گناہ ہے؟ یہ کونسا اندھا قانون ہے کہ آپکی کمپنی کسی سے رابطہ منقطع کرنے کا کہے اور آپ آنکھیں بند کر کے ا ن سے رابطہ ختم کر دو؟. بھاڑ میں جائیں ایسی کمپنی ا ور ایسے لوگ ۔۔ ”
“ایسے کیسے جا رہی ہو یار۔۔” مائدہ نے اسے بازو سے پکڑ کر روکا۔ ا ور روتے ہوئے اسکے گلے لگ گئی۔۔
“اب مجھے بھی یہاں سے ا ور یہاں کے لوگوں سے خوف آرہا ہے یار۔۔ تمہارے بغیر میں کیا کروں گی۔۔ پلیز باس سے تحمل سے بات کرو۔ و ہ سمجھ جائیں گے۔۔ انھیں تمہارا پتہ ہے۔ و ہ یہ بھی جانتے ہیں کہ تم کتنی قابل ہو۔۔ اتنی سی بات پر و ہ اتنا بڑا فیصلہ نہیں لے سکتے یار۔۔ پلیز اس طرح مت جاؤ۔۔”مائدہ اب ہچکیوں سے رو رہی تھی۔۔ اسے اپنے لئیے اداس دیکھ کر ا رحہ کا دل نرم پڑا۔
“میں اس وقت اتنی تذلیل کے بعد یہاں نہیں رک سکتی، مائدہ۔۔ تم فری ہو پھر مل کر تسلی سے بات کرتے ہیں۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آج پھر اسی ریسٹورنٹ کی بالائی منزل پر اسی جگہ بیٹھے تھے۔ آج دونوں کے چہرے اترے ہوئے تھے۔ آج کسی کو بھی کھانا آنے کی جلدی نہ تھی۔۔
مایوسی ہی اتنی تھی کہ ا ور کسی چیز کا ہوش ہی نہ تھا۔
مائدہ نے ایک تکان زدہ سانس بحال کی۔۔
“میرا دل کر رہا تھا سب کے منہ توڑ دوں۔ اتنی افواہیں ا ور فضول باتیں کیں ہیں سب نے تمہارے جانے کے بعد کہ بتا نہیں سکتی۔”
“میرا دل کر رہا ہے میں بھی چھوڑ دوں یہ جاب۔ بھاڑ میں جائیں سب۔۔ اتنی سی بات پر کوئی کسی کو کیسے نکال سکتا ہے یار۔۔۔” آنکھیں ایک بار پھر نم ہوئیں۔
“تمہیں کوئی ضرورت نہیں ہے جاب چھوڑنے کی۔ ا ور تم وہاں رہ کر انھیں ثابت کرو کہ تم یا میں ا ن لوگوں سے ڈرتے نہیں ہیں۔ ہم کام کرنے آتے ہیں ایماندا ری سے ا ور آخر تک ایماندا ر ہی رہتے ہیں۔۔” ا رحہ کا دل پھٹنے کو تھا مگر نا جانے کیوں ضبط کیٔے ہوئے تھی۔۔
“مگر فیصل والی حرکت بہت بری تھی یار۔۔ اتنی بڑی دشمنی؟ یہ لوگ تو کچھ بھی کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔۔۔ اگر تم مل بھی رہی تھی تب بھی کسی کا کیا جاتا تھا ۔۔”
“میں نہیں مل رہی تھی اس سے، مائدہ۔۔” ا رحہ نے اپنی بات پر زور ڈالا ۔۔ مائدہ خاموش ہوئی۔ پھر سر ہلایا۔
“اب کیا کرو گی؟” و ہ پریشانی سے آگے ہوئی۔
“کیا کروں گی۔گھر جا کر خوب سارا روؤں گی۔ پھردیکھوں گی آگے کیا کرنا ہے۔” و ہ مسکرا بھی نہ سکی۔
“پلیز اکیلے مت رہنا۔۔ عینی بتا رہی تھی کہ ایسے موقعوں پر کسی کلوز پرسن کے ساتھ رہنا ضروری ہے۔۔۔”
“عینی بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے۔۔ ا ور میں اپنی سب سے کلوز پرسن ہوں۔ اسلیٔے میں ٹھیک رہوں گی۔۔۔” و ہ ہولے سے مسکرائی ۔
“ا رحہ،میں مذا ق نہیں کر رہی ۔”
“میں بھی مذا ق نہیں کر رہی۔۔ ویسے میں تمہاری عینی کو بھی مس کروں گی۔۔۔”
مائدہ ہنسی ۔
“عینی کو بولوں گی تمہیں فالو کر لے۔۔ ہم تینوں کو دوست بننا چاہیے۔۔۔” اسکی اس آفر پر ا رحہ دل کھول کر مسکرائی۔
قریباً ایک گھنٹے بعد و ہ دونوں ریسٹورنٹ سے باہر نکلی تھیں۔ ا رحہ نے موبائل پر دیکھ کر گاڑی کا نمبر نوٹ کیا۔ گاڑی سامنے ہی کھڑی تھی۔
“تمہارے بھائی کو کتنا وقتلگےگا؟” پھر وہ مائدہ کی طرف مڑی۔
“بس آنے ہی لگا ہوگا۔ ۔ “اس نے اطرا ف میں نظر دوڑائی۔
“کال کر لو۔۔۔”
“میں کرتی ہوں۔۔ تمہاری گاڑی کہاں ہے؟”
“یہ کھڑی ہے۔۔” ا رحہ نے اشارہ کیا۔” تمہارا بھائی آجائے تو میں چلوں۔”
“یار۔۔ میرا دل پھٹنے کو ہے۔۔ اچانک سب ہوگیا۔ سب کیسے ہوگا ۔ مجھے کل اکیلے آفس جانے سے بھی خوف آرہا ہے۔” اسکی آنکھیں ایک دفعہ پھر بھیگیں۔۔ ا رحہ نے اسے گلے لگایا ۔
“سب ٹھیک ہوگا۔ اس طرح روتی رہو گی تو ا ن لوگوں سے کیسے لڑو گی؟” خود سے الگ کر کے ا رحہ نے پوچھا ۔۔ مگر اسے کوئی حوصلہ نہ ہوا تھا۔۔ و ہ تو بس آنے والے وقت کو سوچ کر زرد ہو رہی تھی۔۔
“اپنا خیال رکھنا۔، ا رحہ۔۔”
“تم بھی۔۔”
مائدہ نے مسکرا کر اطرا ف میں دیکھا۔
“و ہ۔۔ طلحہ آگیا ہے۔۔”اس نے دور کھڑی بائک پر بیٹھے لڑکے کی طرف اشارہ کیا ۔
“چلو جاؤ۔ دھوپ میں کھڑا ہوا ہے بیچارہ۔۔”ایک آخری دفعہ مل کر ا رحہ گاڑی میں جا بیٹھی۔۔ مائدہ بہت دکھ سے اسے دیکھتی رہی۔
پھرمڑ کر بائیک کی طرف بڑھنے گی ۔۔ بائیک ریسٹورنٹ سے کچھ دور کھڑی تھی ا ور اسے چل کر وہاں تک جانا تھا۔
دوپہر کی کڑک دھوپ میں واقعی زیادہ دیر کھڑا نہیں رہا جا سکتا تھا۔۔ اس وقت ویسے بھی سڑک پر ا ور کوئی نہ تھا کہ دھوپ میں نکلنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔
مائدہ بائیک تک پہنچی۔ اس لڑکےنے موبائل سے ایک نظر اٹھا کر اسے دیکھا جو چل کر اسی طرف آرہی تھی ا ور پھر موبائل پر جھک گیا۔ جبکہ مائدہ اسکے قریب سے گزر کر آگے بہت آگے بڑھ آئی ۔
چہرے پر خوشی ا ور ہونٹوں پر بجتی دھن ۔۔ یہ کچھ دیر پہلے والی ا داس ا ور دکھی مائدہ سے یکسر مختلف تھی۔
اس کڑک دھوپ نے بہت دور تک اسے بےیقینی سے جاتے دیکھا تھا۔
رات کی سیاہی میں اپارٹمنٹ کا دروا زہ کھول کر جب مائدہ نے قدم اند ر رکھا تو ہمیشہ کی طرح اسے خاموش ا ور ویرا ن پایا۔
“میری امی انتظار کر رہی ہونگی۔”
آج بھی اس نے لائٹس آن نہ کی تھیں۔ کہ ضرورت نہ تھی۔
“یار۔ ہم بہت کلوز ہیں ایک دوسرے کے۔۔۔ ہمارے ہفتے میں دو تین چکر باہر کے ضرور لگتے ہیں۔”
مائدہ نے اندھیرے میں پڑ ے صوفے پر آلتی پالتی مار کر بیٹھتے ہوئے سوشل میڈیا کھولا۔
وہاں ایک اکاؤنٹ کھلا ہوا تھا۔
باس کی سیکرٹری نے ٹیبل پر پڑی ا رحہ کی اس تصویر کو اٹھا کر دیکھا۔ یہ واحد تصویر تھی جو وہاں رہ گئی تھی۔ باقی تصاویر و ہ ساتھ لے گئی تھی۔۔ اس میں بھی اسکی پیٹھ تھی۔ ہاں فیصل پوری طرح واضح تھا۔ا س نے تصویر لفافے میں ڈالی۔ غالباً اسی لفافے میں و ہ تصاویر موصول ہوئی تھیں۔ اس نے و ہ لفافہ ٹیبل پر رکھا تو نام واضح ہوا۔۔
“منجانب : حور”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مائدہ نے اکاؤنٹ والے دائرے پر کلک کیا تو تصویر کے ساتھ نام واضح ہوا۔
حورالعین ۔۔
موبائل کی روشنی میں اسکا مسکراتا چہرہ واضح ہوا۔۔ “عینی پوچھ رہی ہے کی یہ درمیان والی ا رحہ ہے؟”
مائدہ نے انباکس کھولا ا ورمیسج لکھا۔
“ہیلو مائدہ۔ دن کیسا رہا؟ ا رحہ کیسی ہے؟” کمرے میں اسکے گنگنانے کی آوا ز ابھری۔
اس نے جلدی سے اکاؤنٹ سوئچ کیا۔
اس بار مائدہ شہباز کا اکاؤنٹ کھلاتھا۔میسج موصول ہوا۔
اس نے جواب لکھنا شروع کیا۔
“دن اچھا نہیں تھا۔ ا رحہ کو نکال دیا گیا ہے۔۔ اسکی وجہ سے پورا دن مجھے رونا پڑا۔ اب سر دکھ رہا ہے۔ تمہیں پتا ہے نا میرا سر دکھتا ہے تو میرا دن کتنا برا گزرتا ہے۔۔” اس بار و ہ گنگنا نہیں رہی تھی۔۔ تیزی سے اکاؤنٹ سوئچ کیا ۔۔ حورالعین کے اکاونٹ پر میسج موصول ہوا۔
“چلو۔ کم ا ز کم ا رحہ تو راستے سے ہٹی۔ سر درد کل تک ٹھیک ہو جانا ہے۔ ا ور تمہاری زندگی میں بھی سب ٹھیک ہوجائیگا۔۔” اکاؤنٹ ایک بار پھر سوئچ ہوا۔ ایک بار پھر مائدہ شہباز کا اکاؤنٹ کھلا تھا۔۔
“صرف تم مجھے سمجھ سکتی ہو، عینی ۔ تم جانتی ہومجھے کیا چیز خوشی دے سکتی ہے۔۔” و ہ مسکرا رہی تھی۔
“آخر دوست ہوں۔ کب کام آؤں گی؟ اچھا تم کہہ رہی تھی کہ ساری تفصیل بتاؤ گی۔۔ اب بتاؤ یہ سب کیسے کیا؟ ”
اس بار مائدہ نے پہلے سے زیادہ اکسائٹڈ ہو کر اکاؤنٹ سوئچ کیا ا ور مائدہ شہباز کا اکاؤنٹ کھولا۔
میسجآچکا تھا اسکی’ فرضیدوست‘ کا۔۔۔ ا ور اب وہ مزے سے آڈیو ریکارڈ کرنے لگی تھی۔۔ ” اچھا۔ ہوا کچھ یوں کہ اس دن ا رحہ نے مجھے اپنا موبائل دیا۔ گاڑی کروانے کے لئیے۔۔۔”
“میرا پیکج نہیں ہے یار”
“بہت بڑی بیوقوفی کی تھی اس نے۔ خیر میرا تو تمہیں پتہ ہے۔ دوسروں کے انباکس میں گھسنا میرا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ مگر مجھے شاک تو تب لگا جب باس کا ایک میسج اس کے انباکس میں دیکھا۔۔”پروموشن کامیسج۔”
تب ا رحہ وہاں نہ تھی۔ اگر ہوتی تو شاید مائدہ کے اندر ہونے والی ٹوٹ پھوٹ بہت آسانی سے اس کے چہرے پر دیکھ لیتی۔ ایسی ٹوٹ پھوٹ دیکھ کر و ہ کم ا ز کم مائدہ سے محتاط ہو جاتی۔۔
مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔۔ اس وقت مائدہ نے ایک بار پھر عہد کیا تھا کہ و ہ ا رحہ کو بھی اپنے رستے سے ہٹائے گی۔ ویسے ہی جیسے فیصل کو ہٹایا تھا۔
ا ور اسی غصے کو تھوڑا ٹھنڈا کرنے کے لئیے سب سے پہلے اس نے و ہ پوسٹ کی۔۔
اس ریسٹورنٹ کو ذلیل کرنے کے لئیے۔۔۔
ہاں اس میں ا رحہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا۔ مگر و ہ خود پرسکون ہوگئی تھی۔۔
اسے و ہ سب کرنا تھا جس سے ا رحہ کی زندگی میں خلل پڑ ے۔
ا ور سب سے بڑی خلل تو تب پڑتی جب ارحہ کو باس کے خلاف لا کھڑا کیا جاتا۔
ا ور اسکے لئیے اسے فیصل کی مدد چاہیے تھی۔۔
جو یہ مان گیا تھا کہ پروموشن لینے کی لالچ میں ا رحہ نے اسے فائر کرایا تھا۔ ا ور یہی غلط فہمی اسے ا رحہ کے خلاف استعمال کرنی تھی ۔۔
اسکے لئیے و ہ ا رحہ کےجیسی سیاہ میکسی پہن کر اپنی ہی تصاویر بھی کھچوا سکتی تھی۔۔
بس ا رحہ آفس چھوڑ جائے۔۔ پھر اسکا چانس بن سکتا ہے۔
“اب دیکھنا عینی کہ تمہاریدوست کتنی ترقی کرے گی۔ ا رحہ کا کیا ہے۔۔ کہیں بھی جاب کر سکتی ہے۔۔ اسکی فکر نہیں ہے۔۔ دیکھا نہیں ہے کتنے اچھے کپڑے پہنتی ہے۔ ہر وقت آوؤٹنگ کے لئیے تیار رہتی ہے۔ یقینا گھر والے امیر ہونگے۔ جاب نہ بھی کرے تو بھی رہ سکتی ہے۔۔ اسکے لئیے افسوس بھی ہے۔ مگر افسوس تو اپنے لئیے بھی ہے نا مجھے ۔۔ دیکھو اب میں سب کے لئیے افسوس کرتی رہی تو خود کے لئیےکب سوچوں گی؟
اچھا سنو۔ ا رحہ کہہ رہی تھی تم بھی اسے فالو کرو۔ کر لینا۔ تم بھی اسکی دوست بن جانا۔ و ہ پریشان ہوگی۔ ویسے تو و ہ خود ہی رو دھو کر ٹھیک ہو جائے گی۔ مگر تم بھی کبھی کبھار پوچھ لینا۔ اچھا چلتی ہوں مجھے بہت نیند آرہی ہے۔ کل بات ہوگی۔۔۔ “اس نے جمائی لے کر آڈیو روکی ۔
اکاؤنٹ سوئچ کیا۔ حورالعین کا اکاؤنٹ کھولا ۔۔ اپنی ہی بھیجی ہوئی پورے پندرہ منٹ کی آڈیو سنی۔ ا ور پوری دلچسپیسے سن کر اس پر تبصرہ بھی کیا۔ پھر حورالعین کے اکاؤنٹ سے ارحہ کو ریکویسٹ بھیجی۔
ایک دو سٹوریز لگا کر مائدہ والے اکاؤنٹ کو ٹیگ کیا۔۔ ا ور اگلے دو گھنٹے یوں ہی لیٹے سکرولنگ کرتی رہی تھی۔
کمرے میں پھیلے اندھیرے میں کوئی کمی نہ آئی تھی بلکہ و قت کے ساتھ ا ور گھپ ہورہا تھا ۔
اگلے دن آفس پہنچ کر جو پہلا دھچکا اسے لگا تھا و ہ فریحہ کی پروموشن کا تھا۔۔