غزل ۔۔۔ بشیر بدر

Bashir Badr is an Indian , Urdu poet Badar has written many gazalas. He has also worked as a chairman of the Urdu Academy, The syllabus of M.A.(Urdu) in Aligargh Muslim University included quite a few of his poems while he was a student.

 

غزل

( بشیر بدر )

آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا

کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا

بے وقت اگر جاؤں گا سب چونک پڑیں گے

اک عمر ہوئی دن میں کبھی گھر نہیں دیکھا

جس دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے

آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا

یہ پھول مجھے کوئی وراثت میں ملے ہیں

تم نے مرا کانٹوں بھرا بستر نہیں دیکھا

یاروں کی محبت کا یقیں کر لیا میں نے

پھولوں میں چھپایا ہوا خنجر نہیں دیکھا

محبوب کا گھر ہو کہ بزرگوں کی زمینیں

جو چھوڑ دیا پھر اسے مڑ کر نہیں دیکھا

خط ایسا لکھا ہے کہ نگینے سے جڑے ہیں

وہ ہاتھ کہ جس نے کوئی زیور نہیں دیکھا

پتھر مجھے کہتا ہے مرا چاہنے والا

میں موم ہوں اس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: