شکتی ۔۔۔ ڈاکٹر سلیم اختر

شکتی

( ڈاکٹر سلیم اختر )

کنول کے پھول اور تھالیوں جیسے چوڑے پتے ہٹاکر چہرہ دیکھا تو حیرت سے آنکھوں کو پھیلتے پایا ۔۔۔۔ یہ میں ہوں۔ اس کی آنکھوں نے اپنی آنکھوں کے دریچوں میں جھانکا تو وہاں کمزوری کی پرچھائیاں لرزتی دیکھ کر خوفزدہ ہوگیا۔۔۔۔۔ یہ مجھے کیا ہوگیا ؟ ہوا کی سلوٹوں کے بغیر پانی سفید چادر کی مانند تھا سفید اور سرخ کنول کے پھولوں اور گہرے سبز پتوں والی چادر میں چہرہ کسی اور ہی شاخ کا زرد پھول تھا وہ اور اس کا سایہ ایک دوسرے کو گھورتے رہے خوف کن آنکھوں میں زیادہ تھا ۔ اس کی یا سایہ کی ؟ بالوں پر ہاتھ پھیرا تو مردہ بیلیں چھو لینے کے احساس نے جسم میں  کراہت کی لہر دوڑا دی ۔ ان کی سیاہ چمک کس نے چرا لی ہے ؟وہ  ریشم کہاں گیا جو کنواریوں کے سہلانے کے لئے تھا؟ اس نے بیچارگی سے بالوں کو ٹٹولا تو ایک گچھا ہاتھ میں آگیا۔  اس نے دہشت زدہ ہوکر یوں پھینکا گویا ہاتھ میں مکڑی کا جالا آ گیا ہو۔  بازو ٹٹولے تو پتھریلا گوشت  انگلیوں سے دبتا چلا گیا ۔ سینےپرہاتھ دھرا تو دھڑکن  یوں ٹھٹھکیگویا دل اپنا نہ تھا یا ہاتھ پرایا تھا۔  اور رانیں ؟  درخت کے تنے جیسی مضبوط رانیں گویا نچڑ چکی تھیں۔  نگاہ نیچے سرکی، ہاتھ ٹھٹھکا،  اسکی شکتی کا جھولا چوسا پھل تھا کہ مجرم پھول ؟

خالی خالی آنکھوں سے بے شکن  پانی میں چہرے کی شکنوں  کا جائزہ لیا اور لرز گیا ۔۔۔۔۔۔۔ خواب  تھا یا خیال تھا۔ کیا تھا ؟۔ سوچتا رہا۔  ذہن جیسے گزرے نشے کی لہروں پر ڈوبتے ہوئے بلبلے کی مانند تھا جو ہوا کی گرہ پر زندہ ہو مگر جس ہوا کی زندگی کی گانٹھ کا اور چھور نہ ہو۔  اس نے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اٹھنا جہاں مگر ٹانگوں نے جسم سنبھالنے سے انکار کر دیا۔ ٹھنڈی ہوا میں جنگل کی باس گویا تھپکیاں دے رہی تھی پرندوں کی چہچہاہٹ گھل مل کر گویا لوری بن گئی۔

سامنے پانی کے آئینے میں اس نے آنکھوں پر پپوٹوں کو گرتے دیکھا تو سر جھٹک کر آنکھوں کو سہلاتی انگلیوں کو گویا جھٹک دیا مگر اسے یہ بھی ناگوار لگا۔ جی چاھا پانی کنارے  ان پودوں کی سنگت میں وہ بھی زمین میں پاؤں دھسائے بیٹھا رہے، بیٹھا رہے حتیٰ کہ سر کی بیلوں میں چڑیا بسرام کرے۔

شفق شام میں گھل کر درختوں کو سرخ کر رہی تھی پرندوں کی بھاشا سے جنگل گونج رہا تھا اس کے قریب جھاڑی سے ایک ہرن نے گردن نکالی، دونوں  کی آنکھیں چار ہوئیں تو ہرن کی سرمئی  آنکھ میں اس کی تصویرابھر آئی۔ اس نے کانوں کو ہلاکر سنا تو کہیں کوئی مشکوک آواز نہ تھی۔  تب اس نےاطمینان سے گردن جھکائ اور پانی پینے لگا۔ پیاس ابھی ختم نہ ہوئی تھی کہ وہ چونکا۔ کا ن ہلائے۔ بے چین آنکھوں سے اسے دیکھا تو پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔  اگلے لمحے اسنے چوکڑی بھری اور پھیلتے سایوں کی دھند میں چھپ گیا۔ تب اس نے سفید اور سرخ کنول کے پھولوں اور گہرے سبز پتوں والی چادر پر اس کا عکس ابھرتے دیکھا میں۔  دونوں کی آنکھیں ملی تو وہ مسکرا دیں ۔ گردن اٹھا کر دیکھا تع عجیب مسکراہٹ تھی،  آنکھوں میں تھی مگرہونٹوں پر نہ تھی۔

مرد نے کچھ کہنا چاہا مگر ہونٹوں کے کنارے کپکپا کر رہ گئے۔  عورت کے سر پر بالوں کا جنگل تھا اور اسی جنگل نے جسم کا شہر ڈھانپ رکھا تھا۔   اس نے اس شہر کی یاترا کی تھی۔  ایسی یاترا کہ تیرتھ پر پہنچا، ہر گھاٹ دیکھا اور تراوٹ کا اشنان کیا۔  وہ ایسی یاترا تھی کہ پل، جُگ میں تبدیل ہو جائے اور ایسا جُگ کہ جیون کا روپ دھار لے۔خواب تھا یا خیال تھا کیا تھا  ؟۔۔۔۔۔ گزری لذت کی کپکپی نے کھنڈر جسم کی بنیاد میں بھونچال برپا کر دیا۔

وہ اس کے سامنے کھڑی تھی خاموش ساکت۔ صرف آنکھیں تکے جا رہی تھیں۔  پلک جھپکائے بغیر۔۔۔ ابتدا میں ان آنکھوں کی مسکراہٹ برقرار تھی۔  اس نے  زور لگا کر اٹھنا چاہا، اس عورت کی خاطر ، اپنی خاطر مگر وہ اٹھ نہ سکا۔ تب  نگاہ اپنے پاوں بڑی جن میں سنہری چیونٹیوں اور سیاہ چیونٹیوں کی قطاریں گھسی جا رہی تھیں۔ چیخنے کو منہ کھولا مگر حلق سے آواز نہ نکلی ۔ مرد نے مدد کے لئے عورت کی جانب ہاتھ بڑھانا چاہا  مگر آنکھوں کی مسکراہٹ دیکھ کر ٹھٹھکا۔ ہاتھ نے اٹھنے سے انکارکردیا۔

عورت نے دھکا دیا تو وہ کٹے ہوئے تنے کی مانند ڈھے گیا۔ شفق اور شام ہاتھ پکڑے رات کی جانب دوڑے جا رہی تھیں۔ عورت جب جھکی تو مرد نے اس کی آنکھوں میں جھانکا جن میں اب مسکراہٹ کی بجائے جنگل کی شام کے تمام سائے سمٹ آئے تھے۔ وہ اور جھکی تو بال دونوں پر جنگل بن کر چھا گئے اور تب مرد کی دہشت سے پھٹی آنکھوں نے عورت کی مٹھی کھلتی دیکھی۔ اس کی انگلیاں دیکھیں،اس کے ناخن دیکھے ۔ اس نے تو کبھی یہ ہاتھ نہ دیکھا تھا۔اس نے تو کبھی یہ انگلیاں نہ دیکھی تھیں۔ اسنے تو کبھی یہ ناخن نہ دیکھے تھے۔  اس نے اسے روکنا چاہا مگر اب جیسے جسم کا کھوکھلا تنا اور چیوٹیوں کا شہر بن چکا تھا۔ ادھر عورت کے ناخن ریتی بن کر مرد کا سینہ چیر رہے تھے۔ وہ نہایت اطمینان سے  یہ کام کر رہی تھی۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر کھال کو دونوں جانب کھینچا تو پسلیوں کے پنجرے میں پکھیرو دل بے قرار پایا۔ وہ گہرے  انہماک سے دیکھتی رہی ۔ اسکی آنکھوں میں اب جگنو تھے اور نیم وا ہونٹوں سے سانس بھاپ بن  کر خارج ہو رہی تھی۔  پسلیوں کا پنجرہ ٹوٹا تو عورے ہاتھوں میں دل نے آخری پھڑپھڑاہٹ لی۔  اب وہ خاموش پکھیرو تھا۔ وہ ہاتھوں میں لیے اسے دیکھتی رہی۔ وہ کھلونا تھا کہ پھل ؟ محبت تھی کہ زندگی ؟ تب سیاہی میں اسکے سفید دانت چمکے۔ اس نے گرم دل کی ہموار سطح پر رگڑ کر دانت تیز کیے۔  اور پھر اس نے دانت  دل میں اتار دیے۔  جیسے جیسے دل چباتی گئی ، لہو میں گرمی بڑھتی گئی۔ اور خون کی گردش میں  جیسے بھنور پڑنے لگے۔ جیسے تب اس نے مرد کا پھل توڑا جو بہترین ہے اور اسی لیے لذیذ ترین بھی۔  مرد کی شکتی اس کی رگوں میں پٹھوں میں عضوں میں اور ماس اور مسام میں ناخنوں  اور بالوں میں،  تمام جسم میں جوالامکھی جگا رہی تھی۔

ہوا ساکت تھی بجلی سے جلےٹنڈ منڈ درخت پر الو خموش تھا۔ اڑتی چمگادڑیں

فضا میں ٹھہری ٹھہری لگ رہی تھیں۔ سنیجنگل چاندنی کی چادر اوڑھے سو رہا تھا ۔ عورت کام ختم کرکے جب مرد کے جسم پر سے اٹھی تو گویا اٹھتی ہی چلی گئی۔  آنکھوں کے جگنو اب شعلوں میں تبدیل ہوچکے تھے۔ پر کٹی جوانی کی لو تھی تو ہونٹوں پر سرخی کا تاج۔ اس نے بھرپور انگڑائی لی تو محسوس کیا وہ سارا جنگل اپنے بازوؤں میں لے کر اسے مروڑ سکتی ہے۔ اوپر چاند  دیکھا تو سوچا وہ جب چاہے اسے توڑ کر نیچے پھینک سکتی ہے۔

وہ صدیوں سے سفر میںتھی،سفر کی صدیاںشکتی بغیر کیسے کٹ سکتی تھیں۔۔۔۔۔ بالکل اسی طرح جیسے آنے والی صدیوں کا سفر شکتی کے بغیر طے کرنا ممکن نہ تھا۔

اور تب جسم اچانک کمان کی طرح تن گیا۔ حساس کانوں نے آواز سنی تھیں۔جوان  مردوں کی آوازیں،  ایک مرد کی آواز۔۔۔۔ مردانگی کے نشے میں ڈوبی گونجیلی آواز ۔۔۔۔ وہ ادھر ہی آ رہے تھے اور پھر وہ سب ٹھٹھک کر کھڑے ہو گئے۔ ان کے سامنے درخت کے تنے سے لپٹی بیل اوڑھے  سندرتا کھڑی تھی جس نے جھکا سراٹھایا تو آنکھوں کی ڈور ان میں سے ایک کو باندھ چکی تھی۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: