غزل ۔۔۔ فرح خان

غزل

فرح خان

کوئی رنگ ہے نہ جمال ہے ، مری زندگی بھی کمال ہے
عجب الجھے الجھے ہیں روز وشب ،نہ عروج ہے نہ زوال ہے

کبھی دن کو کھینچ کے شام کی ،کبھی شام سے ہوئی رات پھر
یہ اذیتوں کی ہے داستاں، مری وحشتوں کا جمال ہے

تُو تو زندگی کا اسیر تھا ،تجھے زندگی میں خوشی ملی
ترے بعد ہم نہیں مر سکے ،ترے بعد جینا محال ہے

کوئی لمحہ ایسا ہو مہرباں ،جو سمیٹ لے سبھی دوریاں
مری رات دن یہی سوچ ہے، مجھے روز وشب یہ خیال ہے

کبھی جل اٹھے، کبھی بجھ گئے، مری آرزو کے چراغ سب
مرے حوصلوں کی یہ داستاں، مرے جذبِ دل کا کمال ہے

مجھے اُس سے کوئی گلہ نہیں کہ فرح وہ مجھ کو ملا نہیں
مرے دوستوں کی ہیں سازشیں، مرے دشمنوں کی یہ چال ہے

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: