Masonic symbol of Historian for Blue Lodge Freemasonry

مورخ ! میری تاریخ نہ لکھنا ۔۔۔ فارحہ ارشد

مورخ ! میری تاریخ نہ لکھنا

فارحہ ارشد

تم یہاں اجنبی لگتے ہو۔ میں نے اس سے پہلے تمہیں کبھی یہاں نہیں دیکھا۔ تم شاید کسی کے جوان بیٹے کے پرانے دوست ہو؟۔۔۔ نہیں نہیں۔۔۔ وہ تم سے زیادہ جوان تھے تم ایک عشرہ ان سے بڑے لگتے ہو۔

مجھے اتنے غور سے کیوں دیکھتے ہو۔ میں بھی ہمیشہ سے اتنا بوڑھا نہیں تھا۔ یہ جھکے ہوئے کندھے اور خمیدہ پشت تب تیر کی طرح سیدھے تھے۔ میرے بازووں میں اتنا دم تھا کہ میں کشتی کے چپو کسی موٹر والی کشتی سے تیز چلا سکتا تھا۔ پنڈلیوں کی یہ جو ابھری ہوئی نسیں ہیں یہ بتاتی ہیں کہ میں کتنے مضبوط پٹھوں والا جواں مرد تھا۔

اس وقت یہ دریا بھی بوڑھا نہیں تھا جب میں جوان تھا۔ اس کے زور آور پانیوں سے میری طاقتور جوانی کے کھے کرگذرنے کا منظر تم دیکھ لیتے تو اکھاڑے میں لڑتے دو پہلوانوں کی کْشتی تمہیں یاد آجاتی۔

تم اتنی حقارت سے پانی سے اپنے بوٹوں کو بچانے میں مگن ہو عجیب شخص ہو۔۔ پانی سے کیسی حقارت۔۔۔۔

تمہارے بوٹ اس کشتی میں غر غر کرتے پانی سے کبھی گیلے نہ ہوتے اگر یہ کشتی وہی رہتی جو میرے باپ نے بنائی تھی۔ میرا باپ مضبوط لکڑی سے کشتی اور ہل بناتا تھا۔ وہ کہتا تھا یہ دونوں چیزیں جوان چلاتے ہیں اور جوانی کے زور کو انہیں سہنا پڑتا ہے اس لیے ان کو بہت مضبوط ہونا چاہیے۔

یوں بھی ہمیشہ سب ایک جیسا تو نہیں رہتا۔

جوان بوڑھے ہو جاتے ہیں اور پھر ان کی جگہ جوان لے لیتے ہیں۔

تم عجیب نظروں سے مجھے کیوں دیکھ رہے ہو۔ میں غلط نہیں کہہ رہا مگر ہاں یہاں کی تاریخ الگ ہے۔

سنبھل کر اترنا پتن کی مٹی میں طاقت نہیں رہی۔ زور آور پانیوں نے اس کی مٹی کو کمزور کر دیا ہے۔

تم اپنا بیگ اٹھا لو اورمیرے ساتھ پیدل آجاو

تمہارا حلیہ اور لباس بتاتا ہے کہ تم کسی سرد علاقے سے آئے ہو۔ یہاں ان دنوں سخت گرمی پڑتی ہے۔ اپنی ٹوپی آنکھوں کی طرف اور گرا لو۔ اس وقت جاتے جاتے سورج اپنی ترچھی شعاعوں سے قیامت کی آگ اْگلتا ہے۔

اس گاوں کو جانے والا یہ رستہ بہت ویران ہے کچھ جنگلی جھاڑیوں کے علاوہ اس کے کناروں پر کوئی درخت نہیں۔ تمہارے بوٹ دیکھ کر مجھے اپنے بیٹے یاد آگئے ہیں۔ میرے چھ جوان بیٹے ایسے ہی بوٹ پہن کر گھر سے جاتے رہے اور کسی روز واپسی پر ان کا لباس اور بوٹ شاندار طریقے سے ان کی ماں کو لوٹادیا جاتا اورلکڑی کے لمبے سے بکسے میں مجھے میرا بیٹا۔ ایسا ایک بار نہیں چھ بار ہوا اور میرا گھر جوان بیٹوں کے وجود سے خالی ہوتا چلا گیا۔

یہ صرف میرے بیٹوں یا میرے گھر کی کہانی نہیں یہ تو اس گاوں کے گھر گھر کی کہانی ہے۔

تم شاید نسل کشی اسے ہی کہتے ہو حالانکہ انہوں نے کہا یہ نسل کشی نہیں یہ تو جوانوں کی اپنی زمین کی حفا ظت کا انداز ہے اور پھر۔۔۔ یوں ہوگیا جیسے زمین کا سینہ شق ہوا ہو اور اس نے اپنی حفاظت پر مامور سارے جوانوں کو ایک ہی جست میں نگل لیا ہو۔

تم تاریخ لکھنے آئے ہو اس گاوں کی؟۔۔۔۔ اس گاوں کی تاریخ گم ہو گئی ہے اور ماضی کے ساتھ مستقبل بھی گم ہو چکا ہے۔

یہ جھکے کندھوں والے تسبیح پکڑ کر خدا کی یاد میں عاقبت سنوارنے کی بجائے اپنے بیٹوں کے حصے کے کام کرتے ہیں۔ اور تم تو جانتے ہوگے کہ مذہب اور عبادت پیسوں والوں کے چونچلے ہیں غریب کا مذہب تو پیٹ سے شروع ہوکر پیٹ تک ہی ختم ہوجاتا ہے۔ اس لیے تمہیں اس گاوں میں کوئی عبادت گاہ آباد نظر نہیں آئے گی کہ تمام بوڑھے باپ رات کی روٹی کا انتظام کرنے گئے ہیں۔

تمہیں بہت پسینہ آرہا ہے اور تمہاری سانس بھی متوازن نہیں رہی۔ وہاں قبرستان کے پاس ایک بوڑھا درخت ہے اس کے نیچے کچھ دیر رکتے ہیں۔

یہ کھیت ایسے ویران اور بنجر نہیں تھے مگر تم تو جانتے ہو نا بوڑھا کسان جوان بیٹوں کے زور بازو پر زمیں سے سونا اگلواتا ہے۔ اب بوڑھا تو موجود ہے مگر جوان بازو۔۔۔۔۔۔

تم عجیب شخص ہو ایسی ہوشیاری سے چاروں طرف نظریں دوڑا رہے ہو اور مجھے سن ہی نہیں رہے؟۔۔۔

ہاں تو میں کہہ رہا تھا اس گاوں میں اب کوئی جوان باقی نہیں بچا کیا یہ بات تمہارے لیے حیرت کا باعث نہیں؟۔۔۔

تمہیں شاید اب کچھ بھی حیران نہیں کرتا ۔ تاریخ کے ابواب لکھتے لکھتے تمہاری حیرت شاید مر چکی ہے۔

آجاوّ۔۔ اس درخت کے نیچے کچھ دیر رکتے ہیں۔ ہوا رک گئی ہے ایک پتا تک نہیں ہل رہا۔ تم گرمی سے نڈھال ہو چکے ہو اسی لیے تمہارا دماغ کام نہیں کر رہا اور تمہارے جذبات بھی سرد پڑ چکے ہیں۔

یا شاید تم ہو ہی ایسے

یا شاید سارے مورخ ایسے ہی ہوتے ہیں۔

رکو۔۔ تم ادھر کہاں گھستے جار ہے ہو؟ قبروں کو دیکھ کر چلنا کہیں کسی جوان کی روشن پیشانی پر تمہارا بوٹ نشان نہ چھوڑ جائے۔

یہ قبریں دوزخ بنی ہیں۔ یہ جگہ باقی جگہوں سے زیادہ گرم ہے۔ اس لیے میرا تو ایمان بھی متزلزل ہو چکا ہے کہ شہیدوں کو سکون اور ٹھنڈک ملے گی شاید قبرستان کے نیچے قبروں میں جنت کی ٹھنڈک ہو۔بظاہر تو یہ جگہ آگ اگلتی ہے۔

چلوتمہاری یہ منطق مان لیتے ہیں کہ ان قبروں پر سایہ کرنے کے لیے درخت نہیں ہیں اسی وجہ سے یہ گرم ہیں۔ توتمہارا خیال ہے کہ ورثا کو خیال رکھنا چاہیے اپنے شہیدوں کی قبروں کا۔۔۔

تم خود ہی سوچو اگر تم سوچ سکتے ہو تو۔۔۔ کہ ان کے بوڑھے باپ قبروں پر درخت لگا کر ان کی قبروں کو ٹھنڈک پہنچائیں یا ان کی عورتوں کے پیٹ کی بھوک ٹھنڈی کریں۔

مجھے تو لگتا ہے یہ جوان قبروں والے اس آگ میں جل رہے ہیں کہ انہوں نے بوڑھے باپوں کو سوائے دکھ اور پریشانی کے کچھ نہ دیا۔

تم میری بات پر بالکل کان نہیں دھر رہے۔ اور چیزوں میں تاریخ ڈھونڈتے ہو جبکہ تاریخ میں ہوں ، میری زبان ہے میری زندگی اور میرے حالات ہیں جو صرف میں ہی جانتا ہوں ان چیزوں کو کیا علم کہ کیا بیت گئی؟۔۔۔۔

تم کس کس قبر کا کتبہ پڑھو گے۔ یہ سارے جوان بیٹے ہیں اس گاوں کے۔ یہ سب میرے سامنے جوان ہوئے اور مجھ سمیت ان کے باپ اور چچا ان کے جوان لاشے زمین کے سینے میں اتارتے رہے۔ تم تو جانتے ہو نا ۔۔کتنا مشکل ہوتا ہے کسی بوڑھے باپ کا جوان بیٹوں کی میت کو کندھا دینا۔ اسی لیے تو ہمارے کندھے اتنے جھک چکے ہیں ورنہ جوان بیٹوں کے باپوں کے کندھے اتنے جھکے ہوئے کب ہوتے ہیں۔

چلو باہر آجاو۔ ان کی گنتی مت کرو۔ بیٹوں کی گنتی کرنا برا شگون ہے۔ ان کی ماوں نے تمہیں یوں انہیں روندتے دیکھ لیا تو وہ ایک لمحے میں سب مل کر تمہیں اتنا روندیں گی کہ تمہارا یہ چوڑاچکلا جسم ایک منحنی سی کھال میں بدل جائے گا۔ ان کا غصہ تم نے نہیں دیکھا جو وہ بڑی مشکلوں سے آنسووں کے پیچھے چھپائے بیٹھی ہیں ۔ غلطی سے بھی ان کے غصے کو آواز نہ دے بیٹھنا۔ آو باہر نکل آو۔۔

یہاں صرف بے رنگ قبریں ہی نہ تھیں ۔ یہاں زندگی تھی ۔ جوانی تھی اور تم تو جانتے ہوگے نا کہ جہاں جوانی ہو وہاں کوئی نہ کوئی کہانی بھی ہوتی ہی ہے اس گاوں میں بھی ساون رت میں پینگوں کے ہولارے تھے دھنک رنگ آنچل جب ہواوں میں اڑتے تو آسمان پہ دور تک قوس قزح بنتی چلی جاتی ۔ بارش کی بوندیں زمین کے تھال پر پڑتیں تو ايک موتيوں کا ہارسا ہوا ميں اچھل پڑتا۔ سرسراتی ریشمی بوندیں اور ان بوندوں سے بھی نرم ، ہنستی ، گنگناتی لڑکیاں جنہیں دیکھے جانے کا نشہ پگھلائے جاتا بوند بوند ۔۔۔ ۔ الل تلل ٹپا ٹپ ۔۔

ڈھولک پر ساون کے گيتوں کی تال پر کھنکتی رنگین چوڑياں اور ان کی دبی دبی شرمیلی ہنسی۔

امنگوں سے بھرے جوان لڑکے جب ڈھول کی تھاپ پر گھڑی والا بازو ہوا میں لہراتے تو جانے کتنی کنواریوں کی سانسیں تھم جاتیں۔

آہ۔۔۔

جس حسن کو سراہنے والا نہ ہو وہ کیسا حُسن۔۔۔

اسی لیے اب یہاں خوبصورتی کی بجائے ہر جگہ ایک بدصورت آہ ہواوں میں سرسراتی ملے گی ۔۔۔ کسی بلا کی صورت۔ تم اس پہ زیادہ مت سوچنا بلکہ تم خود سوچتے کب ہو تم تو مورخ ہو۔ معاف کرنا میں اک لمحے کے لیے تمہیں انسان سمجھ بیٹھا تھا۔ مگر ہاں تم تو صرف ایک مورخ ہو جسے ایسی کیفیتوں سے کچھ لینا دینا نہیں۔

یہ گلیاں دیکھ رہے ہو؟۔۔۔یہ کبھی اتنی ویران نہیں ہوتی تھیں نہ ہی دروازے پر بیٹھی ماوں کی نظریں۔ اور یہاں صرف جھکے کندھوں والے بوڑھے، مرجھائے چہروں والی جوان اور گریہ کرتی مایوس بوڑھی عورتیں ہی نہیں رہتی تھیں۔ کہا نا۔۔۔ ان کی امید کو زمین نے نگل لیا۔

ارے ایسے پریشان ہو کر کیا دیکھتے ہو؟۔۔۔ بچیاں اب گڑیوں کی شادیاں گڑیوں سے ہی کرتی ہیں ۔ لڑکیوں سے زیادہ کون حساس ہوتا ہے بھلا ؟ اردگرد کاجلدی اثر لے لیتی ہیں۔۔۔ وہ دیکھ رہی ہیں کہ بستی کے جوان زمین دوز ہوچکے ہیں اور جوان عورتوں کی کوکھ نے بیٹے پیدا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

انہیں کہانیاں مت سناو یہ تو خود کہانیاں بُننے والی ہیں بند دیوار میں رستہ بنا لینے کا گُر ان کی ماوں نے ان کے آنچلوں کے پلووں میں رکھ کر گرہ باندھ دی ہے جب چاہیں گی گرہ کھول لیں گی۔ اب ان سے یہ مت پوچھنے بیٹھ جانا کہ وہ کبھی چاہیں گی بھی کہ نہیں۔

یہ جہاں بہت سی عورتیں تمہیں گول دائرے میں بیٹھی نظر آ رہی ہیں نا یہ تندور ہے۔

تندور کے گرد بیٹھی عورتوں کی روٹیاں مت گنو انہوں نے ایک روٹی کے ساتھ ایک بھوک رومال میں چھپا رکھی ہے ۔ ان کی بھوک کا راز پھوڑو گے تو وہ تمہیں گالیاں دیں گی وہ ساری گالیاں جو ان کے ازار بند کی گانٹھ میں رکھی ہیں اورجس کے پیچھے سرد پڑے تندور کا صدمہ خون اُگلتا ہے۔

تمہاری تاریخ ایسے صدموں پر چُپ کیوں رہتی ہے؟

ارے اس عورت کے کتے کے گلے میں پڑے تمغے کو ایسے حیران ہو کر مت دیکھو اور نہ ہی اسےکچھ کہنا یہ اجنبیوں پر ایسے ہی بھونکتا ہے۔ یہ اس عورت کے جوان بیٹے کا وفادار کتا ہے جو اس کے لکڑی کے چھ فٹ بکسے پر سے اترتا ہی نہ تھا اس عورت نے اسے اٹھایا اور سینے سے لگا لیا تب سے یہ اس کو ایک لمحے کے لیے خود سے الگ نہیں کرتی۔ تم نے اگر اسے جھڑکا تو وہ تمہیں اینٹیں مار مار کر موت کے گھاٹ اتار دے گی ۔

وہ پاگل نہیں ہے اسے ایسی وحشت زدہ نظروں سے مت دیکھو

بس مجھے سنتے رہو ۔ یہی تاریخ ہے اس گاوں کی۔ یہاں جو ہے وہ نظر نہیں آتا اور جو نظر آتا ہے وہ بھی کب پورا دکھائی دیتا ہے۔

رک کیوں گئے؟

آّو اندر آو۔۔۔۔ یہ دروازہ مکمل نہیں کھلتا۔ ایک مدت سے جوان عورتیں اسے اتنا ہی کھول کر جانے والوں کا رستہ تکتی رہیں اردگرد کی مٹی نے اسے یہیں پر جکڑ لیا ہے اب یہ ادھ کُھلا ہی رہتاہے۔ شاید انتظار کرنے والوں کے دروازے اتنے ہی کْھلتے ہیں۔

مگر تم کیا جانو ادھ کھلے دروازے کا راز اور پھر بھلا ایسے راز تاریخ میں لکھے بھی کب جاتے ہیں۔اور پھر تمہیں ایسے رازوں سے دلچسپی بھی کیا ہوگی۔

ماتھے پر بل ڈالنے سے کچھ نہیں ہوگا ۔ ٹیڑھے ہو کر ایسے ہی اندر آجاو۔

یہاں اس گھر میں تم سے ملنے کے لیے صرف میں رہ گیا ہوں۔ آو۔۔۔

گھر کی عورتیں اجنبی مردوں سے نہیں ملتیں۔ وہ اپنے اپنے کمروں کے بوسیدہ دروازوں کے پیچھے اپنے خوابوں کو ابدی نیند سلاتے خود بھی بوسیدہ ہو چکی ہیں۔ مگر تم تو جانتے ہوگے کہ خواب تو بوڑھے بھی ہو جائیں تو سونے دیتے ہیں نہ سوتے ہیں پھر ان کے خواب تو میرے بیٹوں جتنے جوان ہیں۔ وہ خود تو بکسوں میں جا لیٹے اور خواب دروازوں کے پیچھے ہی چھوڑ گئے۔ لوگ کہتے ہیں شہید زندہ ہوتا ہے شاید وہ رات کو اپنی جوان عورتوں کے پاس آتے ہوں۔ اگر نہیں آتے تو زندہ کیسے ہوئے۔۔۔ یا پھر یہ کہ وہ شہید ہیں ہی نہیں؟۔۔۔

تم مجھے ایسے مت دیکھو جیسے میں کوئی احمق ہوں۔ یا کفر بک رہا ہوں ۔ میں جو بھی کہہ رہا ہوں اسے غور سے سنو۔۔۔

اس گھر کے درودیوار ہمیشہ سے ایسے سہمے ہوئے نہیں تھے ۔ جس صحن میں سونے والوں کے پاوں چھ فٹ چارپائیوں سے بھی باہر نکلے ہوں وہاں خوف کیسا؟ مگر ان درو دیوار نے انہی رنگین پایوں والی چارپائیوں پران کے ساکت وجود بھی دیکھ رکھے ہیں کیا تمہاری تاریخ میں ان درودیوار کا سہم جانا لکھا ہوگا؟۔

لو ہاتھ دھو لو۔ کھانا آگیا ہے تمہیں یقیناً بھوک لگی ہوگی ۔

چلو کھانا کھا لو۔۔۔۔۔ میرے بازووں میں بس اتنی ہی طاقت ہے کہ رکابی میں پانی میں گھلا نمک مرچ اور ایک آلو کا ٹکڑا تیرتا نظر آسکے۔

دیکھو۔۔۔ اس کو حقارت سے دیکھ کر مت تھوکو تمہیں دی گئی اس ایک روٹی اور سالن کے بدلے گھر میں آج کسی ایک کو بھوکا سونا ہوگا۔ اس کی بھوک کی کچھ تو قدر کرو۔

مگر تم نہیں جان سکتے کیونکہ تم ان میں سے ہو جن کا خیال ہے کہ یہاں بھوک اگتی ضرور ہے مگر بھوک لگتی نہیں۔ پھر چاہے وہ بھوک جسم کی ہو یا مال کی۔

تم رات کے اس پہر کیوں اٹھ کر بیٹھ گئے ہو یہ آوازیں سونے نہیں دے رہیں؟۔۔۔ کانوں میں کپڑا ٹھونس لو بس تھوڑی سی رات باقی ہے۔ دروازوں کے پیچھے خوابوں کے بین پو پھٹتے ہی ایسی خاموشی میں بدل جائیں گے کہ تم صرف اپنی سانسوں کی آواز ہی سن پاوگے۔

اس گاوں کے ہر گھرمیں تمہیں تمغے ملیں گے جن کے عوض بیٹوں کی زندگیاں گروی رکھ لی گئیں۔

تمغے لگے لباس اور چمکتے بوٹوں کے علاوہ یہاں کچھ نہیں تھا تم نے کیا پایا اس سفر سے؟۔۔۔۔ اس سے تو بہتر تھا کہ کسی صفحہ ہستی سے مٹا دئیے گئے تاریخی شہر کی گلیوں میں گذری نسلوں کے نشاں ڈھونڈتے۔۔۔ یہاں تو جانے والوں کے قدموں کے نشاں تک زمین پر نہ چھوڑے گئے۔

وہ کہتے تھے کچھ دہشت پھیلانے والے زمین کو اکھاڑ کر لے جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے گڑھے کھود کر ان میں جوان جسم پھینکنا شروع کر دئیے تاکہ زمین اپنی جگہ سے نہ ہل پائے اتنی بھاری ہو جائے۔۔۔

زمین اب اتنی بھاری ہے کہ اس پر بسنے والوں کے وجود کھوکھلے ہوگئے ۔اور ایسے اڑتے ہیں جیسے روئی کے گالے۔۔۔ ہواوں میں معلق۔

زمین وہیں رہی اور کہنے والے اب جانے کہاں ہیں شاید کسی اور زمین پر کسی اور بیٹوں کی نسل کو ختم کرنے جا چکے ہیں۔

انہوں نے ہمارے بیٹوں کے زندہ لاشے زمین میں گاڑ دئیے۔ وہی لاشے جنہیں ہمارا ایمان شہید ماننے کو بھی تیار نہیں کیونکہ ہمیں اپنے سوال کا جواب نہیں ملتا۔ انہوں نے ہمارے ایمان تک متزلزل کر ڈالے۔

تم ایسے حیران ہوکر مجھے مت دیکھو ۔

تم جا رہے ہو۔۔۔ جاو

مگر اس گاوں کی تاریخ نہ لکھنا کہ ہمیں کتبوں کی گنتی ، ویران گلیوں اور بنجر زمینوں کی تاریخ سے کوئی دلچسپی نہیں۔

جاو ۔۔۔

مگرسنو ۔۔۔ چھوڑو تاریخ کی بحث ۔ بس ایک سوال کا جواب دیتے جانا شاید تمہیں علم ہو

اس گاوں کے سارے بوڑھے باپ اس بوڑھے درخت کے نیچے ہر شام اکٹھے ہو کر اس سوال کا جواب تلاشتے ہیں ۔ حقوں کی آگ راکھ میں بدل جاتی ہے اور جواب نہیں ملتا۔

تمہیں تو علم ہوگا ہی اس لیے بتانے میں کیا حرج ہے

بہت چھوٹا سا سوال ہے

ہمیں صرف یہ جاننا ہے کہ ہمارے بیٹوں نے کس کی جنگ کس کے ساتھ اورکیوں لڑی؟۔۔۔

تم تو قوت سماعت کے ساتھ شاید قوت گویائی بھی کھو بیٹھے اتنی حیرت سے مجھے کیوں دیکھتے ہو ایک چھوٹا سا سوال ہی میں نے پوچھا ہے نا۔۔۔

تمغے دینے والوں نے ہمارے سوال لکڑی کےبکسے میں بند کر دئیے ۔ یہ تو بس یونہی پوچھ لیا تھا میں نے۔

جوانوں کے بوڑھے باپوں کو مت بتا نا کہ تم کیوں آئے ہو یہاں؟۔۔۔

تم سن رہے ہو نا ۔۔۔ مگر تم کیا سنو گے

یہاں بہت سڑاند ہے ماس کے جلنے کی ۔۔۔۔۔ جانے جینے والوں کے ماس کی ہے یا مرے ہووں کی۔ کل سے تم کئی بار منہ بھر بھر قے کر چکے ہو ۔ تمہیں اپنے علاج کے لیے اس گاوں سے چلے جانا چاہیے ورنہ یہ سڑاند تمہارے دماغ میں جا بسے گی اور تم سے وہ کچھ لکھوا دے گی جو آج تک کسی مورخ نے نہیں لکھا۔

اچھا کیاجو تم نے واپسی کی ٹھان لی۔

ارے سنو ۔ دھیان سے جانا گاوں کے رستے دھول سے اٹے ہیں کنارے کنارے گھاس پر چلنا ورنہ تمہارے بوٹوں پہ گرد جم جائے گی اور یہ گرد کبھی صاف نہیں ہوگی تمہیں یہ بوٹ بدل کر نئے ہی لینا ہونگے۔ پھر نہ کہنا میں نے تمہیں  بتایا نہیں تھا۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: