قراۃالعین حیدر ۔۔۔ فرزانہ نیناں: Author In Review

  قرۃ العین حیدر— اردو کی سب سے بڑی ناول نگار

تبصرہ کار: فرزانہ نیناں

کئی برس قبل لندن میں منعقد ہ اردو کانفرنس میں شریک ہونے کے لئے جب میں یونیورسٹی پہنچی تو وہ عظیم الشان عمارت سر اٹھائے پرغرور حسینہ کی طرح ملی اس پر طرہ یہ کہ ہال میں موجود ادبی دنیا کی وہ کہنہ مشق شخصیات بھی موجود تھیں کہ جن کے نام اور تحریریں میں بچپن سے پڑھتی آئی تھی مرعوبیت کے جذبات سے مغلوب میں اپنی نشست پر بیٹھ گئی ،مقالات پیش ہوئے زبان و بیان کی شستگی اور معلومات کے خزانے سے میرا دامن بھرتا گیا میں ایک ایک انمول کرن اپنے دل میں اتارنے کی بھرپور کوشش میں مگن رہی حتیٰ کہ کانفرنس تمام ہوئی اور میل ملاقات کا دور چل پڑا ، وہیں اردو ادب کی سب سے بڑی ناول نگار محترمہ قرۃ العین حیدر سے میری ملاقات ہوئی ،اس خوشی کی پھوٹتی لہریں مجھے اچھی طرح یاد ہیں ، وہ عظیم قلمکار کہ جس کے ناولوں میں داخل ہوکر میں دنیا بھر کی سیر اور معلومات حاصل کرچکی تھی، تہذیب و تمدن اور تاریخ کی کتابوں سے شاید میں نے اتنی معلومات نہیں حاصل کی جتنی کہ قرۃ العین کی کتابوں نے مجھے بخشی،وہ دور جہاں میرابچپنا تھا اور نت نئی کیفیات پنپ رہی تھیں اسے قرۃ العین صاحبہ کا افسانوی ماحول باریکیوں اور جزئیات سے بھرپور کیا کرتا ،جہاں میرے ہر جذبے کو زبان مل جایا کرتی تھی، مسائل پر بحث و مباحثہ ان کے حل، کیا نہیں تھا جو ان کی تحریروں نے سکھایا، ان کی خالق میرے سامنے موجود تھیں ، ان کی جوانی کی بے انتہا خوبصورت تصویریں میں نے دیکھی ہوئی تھیں لیکن جب مجھے ملاقات کا شرف حاصل ہوا تو حویلی پرانی ہوچکی تھی، انہوں نے میرے پسندیدہ نیلے رنگ کا ملبوس پہنا ہوا تھا جس پر سرخ ریشم سے کشمیری کڑھائی کے بیل بوٹے بہار دکھا رہے تھے ہلکے سے زیور نے بیگماتی شان سے آراستہ کیا ہوا تھا، نشست و برخاست خود بخود ظاہر کر رہی تھی کہ کس ;67;aliber کی خاتون ہیں ویسے بھی میں نے پڑھا ہوا تھا کہ جوانی کے دور میں خاصی ;83;nob تھیں ایک مرتبہ جب ان کو علی گڑھ یونیورسٹی میں اردو ناول کی صورتحال پر لکچر دینے کے لئے بلایا گیا تھا تو انہوں نے اسٹیج پر جاکر ایک ہی جملے سے کھلبلی مچادی تھی کہ ’ اردو میں تو ناول ہے ہی نہیں میں تقریر کیا کروں ;238;‘، بہرالحال میں نے اپنا تعارف کروایا ان کے رعب سے میری قوت گویائی جواب دے رہی تھی(یہ تو مجھے بعد میں پتہ چلا کہ اب ان سے کسی کو شکایت نہیں ہوتی سب سے بڑے تپاک سے ملتی ہیں ) لہذا میں نے مودبانہ سلام کے ہمراہ گال کا بوسہ لے کر اپنی عقیدت کا اظہار کردیا، انہوں نے میری کیفیت بھانپ لی اسی لیئے بڑی محبت سے لپٹا لیا اور تپاک سے ملیں ، پوچھا کہ کہاں سے آئی ہوں ;238; بتایا کہ نوٹنگھم سے ،سوال کیا کہ کچھ لکھتی لکھاتی ہوں کیا;238; میں نے اثبات میں جواب تو دے دیا لیکن کم مائیگی کے احساس میں مبتلا سوچ رہی تھی کہ اس سے آگے کچھ نہ پوچھیں ، اسی دوران اور بھی کئی لوگ ارد گرد منڈلانے لگے، کئی کیمرے الگ اس منظر کو قید کرنے کے لئے تیار تھے سو جان بچی ( وہ انمول تصاویر میرے کیمرے سے زائل ہوگئی تھیں ،اس مضمون کا مطالعہ کرنے والی وہاں موجود کسی سخی دل شخصیت کے پاس میرا کوئی عکس موجود ہو تو ای میل کے ذریعے ارسال کریں اور اظہارِ ممنونیت کاموقعہ دیجیئے)تصویر کے بعد ایک مرتبہ پھر کچھ گفتگو کا موقعہ دستیاب ہوا تو میں نے ان کے ناولز و افسانوں سے بچپن کے دور کی وابستگی اور پسندیدگی کا اظہار کیا جس پر وہ مسکرانے لگیں ، مجھے خبر تھی کہ یہ لمحات تاریخ کا حصہ بن جائیں گے :

یہ لمحہ جو گزر رہا ہے

اس کو ماضی بننے میں
صرف ایک ہی لمحہ لگتا ہے
وقت مثال ہے ایک بڑی مقراض کی
جس نے ۔ ۔ ۔
لاکھوں اور کروڑوں صدیوں سے
لمحوں کو کتر کتر کر
اربوں کھربوں سنکھوں کا ایک ڈھیر لگا رکھا ہے
اور پھر اس ملبے پر
انسانوں کی بے خبری کا عطر چھڑک کر
نام اس کا تاریخ رکھا ہے

(احمد ندیم قاسمی)

مشہور و معروف ادیب محترم سجاد حیدر یلدرم کی صاحبزادی، دانشور ادیبہ قرۃ العین حیدر 1927ء کو ہندوستان کے اتر پردیش کے شہرعلی گڑھ میں پیدا ہوئیں ، علمی و ادبی ماحول میں پروان چڑھنے اور ایک صاحب طرز ادیب کی دختر گیارہ سال کی عمر میں ہی ادیبہ بن گئیں ان کی والدہ نذر سجاد حیدر بھی حامی نسواں تحریک کے علمبرداروں میں سے تھیں بلکہ اپنے لڑکپن کے دوران1910;ء میں وہ ’دارلاشاعت‘ نامی رسالہ جو لاہور سے شاءع ہوتا تھا کی ایڈیٹر بھی رہیں وہ اس زمانے کا بہترین تہذیبی دور تھا ، اپنے ایک انٹرویو میں قرۃ العین حیدر فرماتی ہیں کہ اینڈامن آئی لینڈ میں جہاں ہندوستان میں1857;ء میں ہونے والی جنگ آزادی میں شامل ہونے والے ان مجرموں کے لئے جیل خانہ بنایا گیا تھاجنہوں نے بغاوت میں حصہ لیا تھا ، ان کے والد سجاد حیدر یلدرم اسسٹنٹ کمشنر کے طور پر تعینات ہوئے اس وقت قرۃ العین کی عمر تقریبا تین سال تھی لیکن ان کی یادوں کے مطابق وہاں کاگھر انہیں یاد ہے لکڑی کابنا ہوا ایک ایسا خوبصورت بنگلہ تھا جو تصویروں میں ہوتا ہے اسے ’بڑا بنگلہ‘ کہا جاتا تھا، وہاں ان کے ملازم کئی قیدی تھے جو قاتل بھی تھے جن میں سے ایک بیرے کا نام نور محمد انہیں یاد ہے وہ کہتی ہیں کہ وہاں ماحول بہت ہی پکا کولونیل ماحول تھا، وہیں کے ایک دوسرے جزیرے روس آئی لینڈ میں یوروپین کلب بھی تھا جس کے چند گنے چنے ہندوستانیوں میں ان کے والد بھی تھے ، شام کو جب کبھی وہ وہاں ڈنر کے لئے جاتے تو ٹیل کوٹ پہن کر جاتے تھے اور وہ کہتیں کہ اباجان نے ’دم والا کوٹ ‘ پہنا ہے، ایک سال وہ لوگ وہاں رہے لیکن چونکہ وہاں کا پانی کھاری تھا اور پینے کے لئے پانی کی بوتلیں کلکتے سے منگوائی جاتی تھیں اس لئے دشواری ہوتی تھی، پھر بھائی کے لئے پڑھائی کا انتظام بھی نہیں تھا چنانچہ اباجان نے وہاں سے اپنا تبادلہ واپس کروالیا ، اپنی انہیں دھندلی سی یادوں کو ذرا روشن کرتے ہوئے انہوں نے انٹرویو میں بتایاکہ ان کے لئے اردو کاپہلا قاعدہ کلکتے سے منگوایا گیا تھا بڑی دھوم مچی کہ قاعدہ آنے ولا ہے قاعدہ آنے والا ہے اور وہ سمجھیں کہ کوئی گڑیا گھر منگوایا گیا ہے جس کو قاعدہ کہا جاتا ہے ۔

 وہ بتاتی ہیں کہ جب جزائر سے اباجان نے اپنا تبادلہ کروالیا اور ہم واپس ہندوستان گئے تب بھی وہی کولونیل ماحول تھا وہاں پر ہم لوگ غازی پور میں تھے جو بہت ہی برٹش کہلاتا تھا بلکہ قرۃ العین کہتی ہیں کہ غازی پور ہی ایسٹ انڈیا کمپنی تھا،بڑی بڑی کوٹھیاں ، زیادہ تر ڈاکٹر اور سول سرجن بنگالی ہوا کرتے تھے، سفید گھگھرے پہنے ہوئی آیائیں ، انگریزی بولتے ہوئے خانسامے جن کے بارے میں کہتی ہیں کہ ایک نے اماں سے کہا ’ بیگم صاحب ہم تو کالا لوگ کی نوکری کبھی کیا نہیں ‘ وہ اماں کو مرعوب کرنے کے لیئے بڑے بڑے کرنلوں کی انگریزی چٹھیاں دکھاتے تھے تو ان کی اماں کہتیں ’ ہاں ہاں ٹھیک ہے‘ کلب جانا اور ٹینس کھیلنا معمولات میں شامل تھا.  وہاں پر کے کھیت تھے، یعنی نیل کے انگریز تاجر آباد تھے جنہوں نے اپنی ہی عجیب و غریب دنیا وہاں پر بسائی ہوئی تھی، گلاب کے باغات تھے جو دنیا بھر میں مشہور تھے ، دریائے گنگا بھی ادھر بہتا تھاجس میں اسٹیمر چلتے تھے کہتی ہیں کہ ایک رواداری کا ماحول تھا کوئی کھچاوَ نہیں تھا ہندو ، مسلم ، سکھ، عیسائی سبھی رواداری سے رہتے تھے، گھر میں اردو کے ایک سے ایک اچھے شاعر و ادیب اباجان سے ملنے آتے، مختلف رسالے آتے جن میں سے نیرنگ خیال ان کو بہت پسند تھا جو کہ جہازی سائز رسالہ تھا اس کی رنگین تصویریں ان کا دل لبھاتی تھیں وہیں سے ان کو لکھنے کی لت پڑی ، بقول قرۃ العین کہ اماں اور والد لکھتے تھے سو قاضی کے گھر کے چوہے بھی سیانے والا معاملہ ہوگیا، بچوں کی کہانیوں سے آغاز کیا اور ایک رسالہ تھا ’پھول‘ اس میں لکھا ، دارلاشاعت، بنات، تہذیب نسواں وغیرہ میں ان دنو ں چھپنے لگیں ، بلکہ وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے اپنی گڑیوں پر کہانیاں لکھ کر ان کو کتابی صورت میں کاغذ موڑ کر خود ہی مجلد بھی کیا، گڑیوں کے لئے انہوں نے اسکول بھی کھولا جس میں صرف گڑیاں ہی آتی تھیں ، پھر جب وہ لکھنو میں انٹر میڈیٹ میں تھیں تب ’ستاروں سے آگے‘ لکھا، جس کے بارے میں کہتی ہیں کہ میری ایک کزن تھیں حمیدہ جو ہمیشہ آکر بتاتیں کہ وہ نو سو صفحے کا ایک ناول لکھ رہی ہیں ، حمیدہ سے ان کوتحریک ملی، حمیدہ نے تو کچھ لکھا نہیں البتہ وہ چل پڑیں ،لکھنوَ کا ماحول اس وقت بڑا صاف ستھرا تھا سیاسی ہنگاموں کے بارے میں اتنا اندازہ نہیں تھا کہ یہ تقسیم جیسے مرحلے تک پہنچ جائیں گے، یہیں سے اس سوال کا آغاز ہوجاتا کہ وہ کیوں ایک بڑی ناول نگار ہیں !

اس کے کئی جوابات ہیں پہلی بات یہ ہے کہ ادبی منظر نامے پر اردو افسانہ بہت شدت سے حاوی ہوکرمقبول ہو چکا تھا، ایسے میں ان کا ناول’ آگ کا دریا‘ آیا جو تاریخی اہمیت لیئے تھا جس کی جڑیں تاریخ و تہذیب میں ہیں لہذا رخ ہی بدل گیا،اسی زمانے میں افسانہ نگاری کی بہت زیادہ تکانیک اور باریکیاں سامنے آئیں لکھنے والے بھی بڑالطف اٹھاتے تھے، ا س کے بعد بھی انہوں نے جو کچھ لکھا سب کوتہذیبی و تاریخی وسیلوں سے دریافت کیا ، ان کی عظمت اس طرح سے بنتی ہے کہ جتنے مذاہب تھے، جتنے فلسفے تھے، فنون لطیفہ کے جتنے شعبے تھے ان سب کو انہوں نے کسی نہ کسی طریقے سے کہانیوں میں شامل کیا ، ساتھ ساتھ ان کی جو پہنچ ہے ثقافتی رینج ،ثقافتی رنگ وہ اتنے زیادہ ہیں کہ کسی اور کے یہاں ممکن نہیں ہیں کلکتہ ،بنگال، اس سے ہوتے ہوئے لکھنءو کی تہذیب اس کے ساتھ ساتھ مغلیہ تہذیب کے بے بس کردار اس کے ساتھ ساتھ پوسٹ کلونیل ایج اور اس کے ساتھ وہ طبقہ جوانگریزی پڑھ کر آرہا تھا اور کئی تضادات کا شکار تھا اس کے ساتھ وہ چلتی ہیں اور اس میں وہ تمام ہندوستانی کلچر کو بھی شامل کرتی ہیں جو وہاں پر موجود ہیں ، گفتگو، ڈائیلاگ، بحث، دلائل سبھی کچھ ملے گا، کہیں برقعے کے اندر پسے ہوئے وہ مغلیہ کردار ملیں گے جو اپنی شناخت ڈھونڈ رہے ہیں ، کہیں پر وہ طبقہ ملے گا جو نئی جدید موسیقی سیکھ کر آیا ہے، اسالیب لاءف اسٹائل سیکھ کر آیا ہے، ان تمام کی آمیزش نے ان کی رینج کو بہت وسیع کیا ہے، زندگی کی گہرائی اور بصیرت ان کی لکھائی میں آئی اس تناظر میں سلہٹ کاچائے کا باغ دیکھ لیں ، دلربا دیکھ لیں تو پارسیوں کے تھیٹر پر ہے، آپ گردش رنگ چمن دیکھ لیں تو اس کے اندر بالکل اور طرح کے مسائل ہیں ۔
س دوران وہ ’میرے بھی صنم خانے ‘ لکھ رہی تھیں جو 1949;ء میں لاہور سے شاءع ہوا جس کے بعد اگلا ناول تھا ’سفینہَ غمِ دل‘ جس کا عنوان فیض احمد فیض کے شعر:
ہیں بھی جاکے رکے گا سفینہَ غمِ دل
کہیں تو ہوگا شبِ سست موج کا ساحل 

سے لیا گیا تھا تب وہ کراچی میں تھیں اور خود ہی کہتی ہیں کہ وہ ایک طرح سے کہانی کا دہرانا تھا کیونکہ وہ اتنے گمبھیر اثر سے نکل نہیں پا رہی تھیں ، انہوں نے پاکستان سے ہندوستان واپس جانے پر کبھی روشنی نہیں ڈالی مگر کہا جاتا ہے کہ ’آگ کے دریا‘ کی وجہ سے پاکستان نے ان کے ساتھ ہوسٹائل رویہ اختیار کرلیا تھا، ان دنوں فیض صاحب کا گھر میں آنا جانا تھا تو قرۃ العین ان سے کہتیں کہ فیض صاحب اب آپ کوئی اور ایسا شعر لکھئے جس کو میں اپنا موضوع بناسکوں ۔ ۔ ۔
امریکن ناول’گون ود دی ونڈ‘ (مارگریٹ مچل ) کا بہترین ناول ہے جو 1936; میں شاءع ہوا،اس ناول نے   پلیٹزر انعام جیتا ، لیکن یہ فقط ایک ہی کتاب تھی جو مارگریٹ مچل نے اپنی زندگی میں لکھی حالانکہ یہ  بیسٹ سیلنگ ناول بن گیا تھا لیکن اسے بڑی ناول نگار نہیں کہا گیا- ناول کا عنوان ’ارنسٹ ڈاوَسن‘ کی نظمhave forgot much کے تیسرے بند سے لیا گیا تھا ,’سکارلیٹ اوہارا‘ کے آبائی شہر کو یانکیز اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں تو وہ کہتی ہے کہ میرا گھر ابھی وہیں ہے;gone with the wind, that swept;
قرۃ العین شاید ایسے ہی ادوار سے متاثر تھیں یا کچھ رواج سا چل پڑا ہوگا جبھی انہوں نے بھی اپنے ناول کا عنوان فیض احمدفیض صاحب کے شعرسے لیا تھا ۔
، وہ کہتی تھیں کہ میں نے بہت جگہیں دیکھیں مغربی پاکستان ،مشرقی پاکستان، ہندوستان سبھی دیکھا سندھ کے کلچر اور ہندو عورتوں کے بارے میں تو میں نے پورا ناول’ ’سیتا رام‘لکھ دیا ۔
ان کے ہر ناول میں کوئی نہ کوئی کلچرہے تہذیب ہے، ہر تحریر میں کوئی سوال ہے کوئی بحث ہے، وہ بحث کہیں تاریخی حوالے سے ہے تو کہیں کرداروں کے حوالے سے کہیں کوئی مصور ہے تو کہیں موسیقی، کہیں غربت کے مسائل ہیں اس قدر وسیع پہنچ اور جن کے کرداروں میں اتنی variationہو وہ کوئی معمولی ادیب نہیں ہوسکتا، قرۃ العین کہتی تھیں کہ میں نے بڑی دنیا دیکھی،ہندوستان کے علاوہ،پاکستان بھی دیکھاسندھ،صوبہ سرحد، بلوچستان سبھی دیکھا، سن پچاس کی دہائی میں ولایت بھی نکلیں ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں اتنا کچھ دیکھنے کو ہے کہ اگر آپ اپنا تعصب لے کر بیٹھ جائیں تو سفر وہیں ختم ہوجائے گا، سو میں اپنے طور پر کوشش کررہی ہوں گو کہ ایک سے زیادہ کچھ بدلنے والا نہیں لیکن میں پھر بھی جو کر سکتی ہوں کرتی رہوں گی ۔
وہ جس دور جس صدی کی پیدائش تھیں وہاں معلومات کی زیادہ اہمیت تھی بہت زیادہ علمیت پر توجہ مرکوز رکھی جاتی تھی وہ نالج کی صدی تھی جبکہ آج کے دور میں بیشتر لکھنے والے اطلاعاتی رابطوں کے تحت کام کرہے ہیں جس کی وجہ سے ;76;imitations بڑھ جاتی ہیں ، جبکہ قرۃ العین حیدر کو نالج کی مراعات بھی حاصل تھیں لہذا ان کی تحریروں کی بلندی فقط انفارمیشن کی بنیاد پر کھڑی ہوئی نہیں ہے انگریزی ادب کا ترجمہ کیا جاتا، کتابیں نالج کی سورس تھیں انہی دنوں ٹی ایس ایلیٹ کی ایک نظم کا ترجمہ کیا گیا تھا اسی کو ’آگ کا دریا‘ کا دھارا بھی کہا جاتا ہے کہ جو تاریخ کو لے کر بہتا چلا گیا رکا نہیں ، ان کی مختصر کہانیاں بھی بہت اچھی ہیں ،آج بد قسمتی سے ناول نگار صرف انفارمیشن کے ذریعے ناول نگاری کر رہے ہیں جبکہ مطالعے، مشاہدے، تجربے کے علاوہ تہذیب کا رچاوَ، زندگی کا فلسفہ ، تخلیقی سطح، موضوعاتی سطح یہ سب جاننے والے ہی ان جیسے مقام تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں ، وہ اس وقت بھی ایسے ایسے موضوعات کو ڈسکس کرچکی تھیں جو کہ موجودہ دور کا مسئلہ بنے ہوئے ہیں ۔
کارل مارکس نے کہا تھاکہ بھوک سب سے بڑا فلسفہ ہے،
سگمنڈفراءڈ نے کہا تھاکہ سیکس بڑا مسئلہ ہے، حالانکہ فی زمانہ دنیا میں آئیڈنٹٹی کرائسس ہے جو سب سے بڑا مسئلہ ہے اور یہ اطلاع ہ میں قرۃ العین نے ’آگ کا دریا‘ میں دے دی تھی،جہاں ایک کردار یہ کہتا ہے کہ ’سب اپنے اپنے اسرائیل کو جارہے ہیں ‘ وہیں پر قرۃ العین نے گفتگو کی ہے کہ انسان کا سب سے بڑا مسئلہ شناخت کاہے اپنی شناخت ہی سب سے بڑا کرائسس ہے ۔
بڑے ادیب اور بڑی کتابیں آپ کے اندر علم کی تحریک پیدا کرتے ہیں جو قرۃ العین کی ساری تصنیفات میں موجود ہے اور پڑھنے والوں میں ایک لگن جاگ اٹھتی ہے، کچھ لوگ ’آگ کے دریا‘ سے زیادہ ’ کار جہاں درازہے‘ کو بڑا ناول قرار دیتے ہیں ، جبکہ میرے خیال کے مطابق قرۃ العین صاحبہ کے بارے میں مسئلہ یہی ہے کہ ان کا کون سا ناول بڑا ہے!
موجودہ دور میں عراق، ایران،افغانستان میں کیا ہورہا ہے یہ بتانے کے لئے بہت سے انفارمیشن کے ستون ہیں جن کو لکھنے والے تھام کر کھڑے ہیں حالانکہ زندگی اور اس کے فلسفوں میں رہنے والے ہی اصل ناول لکھ سکتے ہیں تہذیب کے رچاوَ جاننے والے لکھ سکتے ہیں انڈیا کی ہسٹری پڑھنا چاہیں تو قرۃ العین حیدر کو پڑھ لیں آپ کو سب کچھ مل جائے گا ۔
قرۃ العین حیدر صاحبہ نے لندن میں بی بی سی کے ساتھ بھی کام کیا، ;;dventures of a black girl in the surch of godکیا، ; andida بھی کیا تھا ،ولیم شکسپیئر کا ٹریجیڈی ڈرامہ;;acbeth پروڈیوس کیا، وہیں پر ’لندن مجلس‘ بھی بنائی گئی لیکن ان تمام مصروفیات کے باوجود وہ اُس دور کو بے فکری کا دور کہتی تھیں ، وہیں جرنلزم بھی کیا ، ڈیلی ٹیلیگراف میں فیشن پر لکھا لیکن اس کام کو سمجھتی رہیں کہ کچھ خاص کام نہیں تھا اس لئے وہ قابل ذکر نہیں ہے، بی بی سی کے گروپ میں ان کے ساتھ صدیق احمد صدیقی، تقی احمد سید ، یاور عباس تھے، اعجاز بٹالوی ، عطیہ حبیب اللہ، راز مراد آبادی اور محمد علی خان ملیح آبادی ، عاقل تھے جو ان کے کاتب تھے ، وہاں کئی ڈرامے بنائے ان میں خود بھی کردار ادا کئے اس بارے میں یادوں کو تازہ کرتے ہوئے قرۃ العین کہتی تھیں کہ چچا صدیق دیوار سے پیٹھ لگائے بیٹھے تھے ان کا اسکرپٹ ہاتھ میں تھا قرۃ اپنے رول کی ریہرسل کر رہی تھیں تو انہوں کہا کہ ’بٹیا اس میں اور ڈریامہ ڈالو ذرا اور ڈریامہ ڈالو‘ ان دنوں اور اس دور کے بارے میں قرۃ العین صاحبہ نے بعد میں بہت کچھ لکھا ، ان کا کہنا تھا کہ وہاں گزارے وقت کے دوران ان کا ذہنی افق بہت وسیع ہوا، انہوں نے سکے کے دونوں رخ دیکھے،قرۃ العین صاحبہ نے;ocumentries; بھی بنائیں ، ان کی کوشش تھی کہ وہ تعصبات کی ٹینشن کو کم کریں تاکہ ملکوں سے تعصبات دور ہوں ، بنگال پر بہت ریسرچ کی ،سلہٹ میں ان کے ٹی گارڈن کے مینیجر تھے وہاں جو زندگی دیکھی وہ یوروپین کولونیل سال تھے، خواتین برج پارٹیاں کر رہی ہیں ایک دوسرے کے یہاں چٹیں بھجوائی جارہی ہیں کہتی تھیں کہ بڑی نفاست کی زندگی تھی وہاں پر، لیس کے نیپکن ،عمدہ کیو کمبر سیندوچ بنائے جارہے ہیں ، کافی پارٹیاں وغیرہ لیکن ساتھ ہی ساتھ ٹی گارڈن کے مزدور کا امتزاج بھی تھا مگر قرۃ العین کہتی ہیں کہ میں نے نعرے لگانے کے بجائے’’چائے کے باغ ‘‘ لکھا ۔
اپنے مجموعے ’پت جھڑ کی آواز‘‘ کے بارے میں کہتی ہیں کہ یہ ایک کہانی کا عنوان تھا اور جس پر انہوں نے پورے مجموعے کا نام رکھ دیا جبکہ’دلربا ‘‘پارسی تھیٹر اور اسٹیج کے بارے میں لکھا گیا تھا،قرۃ العین کاکہنا ہے کہ میں نے آغا حشر کے ڈرامے پڑھے تھے ان سے دلچسپی کی بنا پر’دلربا‘ لکھا ۔
’اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجیو‘ کے بارے میں بتاتی تھیں کہ ستر کی دہائی میں لکھا اور اس میں لکھنوَ میں چکن کاڑھنے والی عورتوں کی بابت بہت کچھ تھا جس کا میں نے بغور مشاہدہ کیا تھا ۔
قرۃ العین حیدر کوان کے ناول ’آخرِ شب کے ہم سفرt پر;74;nanpith ;65;ward 1989 ملا، جس میں بنگال کا دور ہے اور اس میں وہ رومناٹسزم جو انقلاب کی وجہ سے تھا وہ ہے، ان کے کرداروں میں بہت وسعت ہے، اس ناول میں وہ بھی ہیں جو جذباتی انقلابی ہیں اور وہ بھی جو چاہتے ہیں کہ انگریز کے جانے کے بعد وہ انگریز ہیں ۔
پھرانہوں نے کار جہاں دراز پر بھی بے انتہا تحقیق کی اور اسے بھان متی کا پٹارا بتاتے ہوئے کہا کہ یہ فقط میرے خاندان کی کہانی نہیں ہے بلکہ اس وقت کے حالات بھی کہانی کے روپ میں آگئے اپنے حالات اوروں کے حالات ،یہ میری شخصی یاذاتی نہیں ، زیب داستاں کے لئے نہیں بلکہ پورے ایک دور کی عکاسی کے لیئے لکھی گئی، وہ خود کہتی تھیں کہ جب لکھنے کے لئے مواد تلاش کیا تو ایک ذخیرہ نکلا پرانے خطوط ،پرانی کتابیں ،دستاویزات، قلمی نسخے، مخطوطات، شجرے کیا کچھ نہیں تھا کہتی تھیں ولایت میں تو ادیبوں نے اپنے اپنے حالات کو بہت لکھا ہے ولایت اور فرانس میں وقاءع نگاری بہت کی گئی ہے لیکن اردو میں یہ نہیں تھی اس کو قرۃ العین نے اردو کی ایک صنف بنایا، خود کہتی ہیں کہ ہر شخص کی کہانی ہوتی ہے تو میں نے سوچا اپنے خاندان کے ماضی کو کھنگالیں تو بہت دلچسپ باتیں ملیں گی، اس کتاب میں سب کچھ مستند شامل کیا گیا، کئی سال اس پر کام کیا، ۳۷۹۱ سے وہ سیریلائز ہوا، رسالوں میں بھی شاءع ہوا لکھتی گئیں چھپتا گیا، جبکہ کتاب ۹۷ ۹۱ ;247;ء میں شاءع ہوئی یہ سلسلہ سات سال چلاتھا، اس ناول اور آگ کے دریا کو اگر ملا کر پڑھا جائے تو کافی حد تک تفہیم ہوجاتی ہے، اس میں پہلی بار معاشرے کے بارے میں انہوں نے اپنے نظریات پیش کیئے جو بعد میں کرداروں کے حوالے سے بٹ گئے ہیں ، اس تہذیبی نوحے کی کچھ جھلک مشتاق احمد یوسفی کی ’آب گم‘ کے ایک حصے میں بھی نظر آتی ہے ۔
’’آگ کا دریا ‘‘ اردو کا سب سے بڑا ناول مانا جاتا ہے ، تنقید نگاروں کے بعض الزامات جو ان پر اس ناول کے حوالے سے تھے وہ ’گردش رنگ چمن‘ تک پہنچتے پہنچتے شاید تبدیل بھی ہوگئے کیونکہ تب تک ان کی سوچ میں بھی کافی تبدیلی آ چکی تھی، جب وہ ناول چھپا تھا تو شاید اس کو بہت سرسری یا سطحی طریقے سے پڑھا گیا تھا جس سے گمان یہ پیدا ہوا کہ ہندوستان کی ویدک اور قدیم تہذیب ان کے لئے اہم ہے کیونکہ تاریخی لحاظ سے ان کے ناول میں قدیم ہندوستان کا بہت ذکر ہے رفتہ رفتہ جب ہم دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ جس تناظر میں سوچ رہی تھیں وہ برصغیر میں مسلمانوں کی ایک ہزار سال پر محیط تہذیب تھی، اس پس منظر میں پتہ چلتا ہے کہ برصغیر کی اپنی تاریخ کیا تھی اور وہاں مسلمانوں کی تہذیب نے کیا شکل اختیار کی’آگ کا دریا‘ ان باتوں کا نچوڑ تھا جس کو رفتہ رفتہ انہوں نے ’گردش رنگ چمن‘ میں جاکر کھولا اسی طرح بعض اورتحریریں قرۃ العین حیدر کی بعد میں واضح ہوئیں ،وہ صدیوں کی تہذیب کو ادب کے ذریعے انیسویں سے بیسویں صدی تک لانے والی واحد ادیبہ ہیں ۔
فکشن کے حوالے سے عبداللہ حسین کا نام روایت کی علامت سمجھا جاتا ہے مگر قرۃ العین کے مقابل نام لیا جاتا ہے انتظار حسین کا، بیشمار پاکستانی ، ہندوستانی اور مڈل ایسٹ کے ایوارڈ یافتہ ستارہَ امتیاز پانے والے پاکستانی ادیب انتظار حسین جو ۱۲ دسمبر 1932; کوبلند شہر ہندوستان میں پیدا ہوئے تھے،ان کی تحریروں میں زیادہ مشہور ’ہندوستان سے آخری خط‘’آگے سمندر ہے‘’ وہ جو کھوگیا‘ اور ’شہرِ افسوس‘‘ کہلائی جاتی ہیں لیکن جو بات ’اداس نسلیں ‘ کی ہے اس کی مثال نہیں !
ناول ’اداس نسلیں ‘ اور ’آگ کا دریا‘ کو ہمیشہ بڑے ناول کہا گیا ،انہوں نے ’اداس نسلیں ‘ سینتالیس کے پراسپیکٹس میں لکھا اور اسی حوالے سے انتظار حسین نے خود بتایا کہ دلی کے ایک ادبی رسالے نے چالیس ادیبوں اور نقادوں کے درمیان سروے کروایا کہ بیسویں صدی کا سب سے بڑا ناول کون سا ہے اس میں ’اداس نسلیں ‘کو انیس اور ’آگ کا دریا ‘ کو اٹھارہ ووٹ ملے تھے مگر ’اداس نسلیں ‘ کے مصنف قبول کرتے ہیں کہ حقیقت میں ’آگ کا دریا‘ بڑا ناول ہے ۔
انہوں نے ایک مثال دی کہ رڈیارڈکپلنگ کو جب نوبل پرائز ملا تو سارے طبقے میں شور مچ گیا کہ یہ کیا کلونیل ازم کے چمپئن کو نوبل مل گیا ہے تو انہوں نے کہا کہ;oble prize or no nobel prize, where ;;an ;;oster sits is the head of the table;

لہذا میں نے بھی اس رسالے کو جب خط لکھا تو یہی لکھا کہ قرۃ العین حیدر سب سے بڑی ناول نگار ہیں
وہ کہتے ہیں کہ بعض جگہ اگر قرۃ کا اثر محسوس ہوتا ہے کہ تو میں فخر محسوس کرتا ہوں ، بقول ان کے کہ ایک آدھ ناول لکھنے سے کوئی بڑا ناول نگار نہیں ہو سکتا مثلا اردو میں ’رسوا‘ نے بھی ایک ناول لکھا ، پریم چند نے بھی ناول ’گءودان‘ لکھا ،یہ اچھے ناول ہیں لیکن وہ ناول نگار نہیں بنے اسی طرح دوسرے ادب میں بھی دیکھئے یہی مثالیں ہیں مثلا فرانسیسی ادب میں ;71;ustave ;70;laubert (;68;ecember 12, 1821 ط ;77;ay 8, 1880) جن کو مغرب کا عظیم ناول نگار مانا جاتا ہے خاص طور پر ان کی کتاب ’’ ;77;adame ;66;ovary (1857) انہوں اپنی بےکراں تحقیق ;34;le mot juste;34; (;34;the precise word;34;);46; کے حوالے سے بھی بہت نام پایامگر پھر بھی ان کے مقابل ’بورس ایکونن‘ کو بڑا ناول نگار مانا جاتا ہے،;66;oris;65;kunin(;82;ussian) ان کا قلمی نام تھا وہ ادیب اور مترجم تھے ،۰۲ مئی ۶۵۹۱ء;247; کوپیدا ہوئے اور اصل نام ;71;rigory ;83;halvovich ;67;hkhartishvili تھا انہوں نے اپنی کتاب ;3468;iamond ;67;hariot;34;, میں ایکونن کی توجیح بھی پیش کی کہ جاپان میں اس کا مطلب اپنے رولز (;82;ules)بنانے والا ہوتا ہے ۔
قرۃ العین اپنے’’گردش رنگ چمن ‘‘کے لئے کہتی تھیں کہ یہ ڈیتھ آف اے سٹی ہے، کیونکہ یہ اس لکھنوَ کے بارے میں ہے جوآہستہ آہستہ ختم ہورہا ہے،
قرۃ العین حیدر نے جتنے بھی ناول افسانے اور کہانیاں لکھیں تمامتر میں معیار کو آخر تک برقرار رکھا، بڑے ناول نگار کا رتبہ پانے کے لئے یہی کرائیٹیریا ہے کہ آپ متعدد ناول لکھیں اوراپنا معیار بھی زیادہ تر ناولوں میں قائم رکھیں پھر آپ کو ناول نگار کہا جاتا ہے قرۃ العین حیدر کو اسی وجہ سے باقاعدہ طور پہ سب سے بڑا ناول نگار سمجھا جاتا ہے،’آگ کا دریا‘ کو اردو ادب میں ’شعور کی رو‘ ( ;83;tream of consciousness)سے لکھی جانے والی تکنیک کا آغاز اور عروج سمجھا گیاہے ۔
اسی طرح عصمت چغتائی کو کہا گیا کہ وہ بڑی ناول نگار ہیں درست نہیں ، انہوں نے بہترین اوراچھے افسانے ضرور لکھے مگر ناول نہیں ، ترقی پسند تحریک والے دور میں عصمت چغتائی نے قرۃ العین کے خلاف ایک مضمون تک لکھ دیا ،جب ان کا ناول ’میرے بھی صنم خانے‘ شاءع ہوا تو ترقی پسند تحریک کی جانب سے ان پر شدت سے اعتراض کیا گیا جن میں احمد ندیم قاسمی بھی شامل تھے، ساری تحریک ان کے پیچھے پڑگئی، جبکہ خود ان کو ترقی پسند تحریک کا بڑا نمانئدہ کہا جا ئے تو غلط نہ ہوگا،قرۃ العین نے بھی اچھے افسانے لکھے ہیں لیکن وہ ناول نگاری زیادہ اچھی کرتی رہیں ، ان کے ناولوں میں خود ان کی ذات مضبوطی اور گہرائی کے ساتھ جمی رہتی ہے مثلا ’ کارِ جہاں دراز ‘ ہی دیکھ لیجئے خود ان کے اندر کی مضبوطی اور گہرائی سے پُر ہے اور یہ بہت سے لکھنے والوں کومیسر نہیں آتی ۔
’اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجیو‘ میں مات کھائی ہاری ہوئی عورتوں کے استحصال کی بات ہے،سیتا ہرن میں ہندو عورتوں کے استحصال کی مکمل تصویر کھینچی ہے، ان کی تحاریر کا جو موزیک ہے اس کی ترکیب آپ کو کہیں سے بھی اور کسی میں بھی نہیں مل سکتی ۔
جب قرۃ العین حیدرصاحبہ کواسٹروک ہوا تو سیدھے ہاتھ کو استعمال نہیں کر سکتی تھیں اس بابت ان سے پوچھا گیا تو کہتی تھیں کہ کچھ بڑی ;65;bstract چیزیں ہوتی ہیں جو قلم سے ہی لکھی جاسکتی ہیں کاغذ قلم کا رابطہ کچھ اور ہوتا ہے، اس دوران بھی جو لکھنا چاہا وہ ڈکٹیٹ کر کے لکھوایا مگر وہ بات نہیں بنی جو خود قلم تھامنے سے ہوتی ہے، انہوں پھر بھی اپنی کتاب’ آگ کا دریا ‘کا انگریزی میں ترجمہ کیا، جس میں کافی وقت لگا کیونکہ وہ بتاتی ہیں کہ;82;iver of fire کبھی چھوڑ دیا، کبھی کوئی باب چھوٹ گیا، دوبارہ دیکھا تو کچھ بے ربط ہوگیا تھا سواس کو ازسر نو کیا، کئی کتابیں پائریٹ بھی ہوگئیں حالانکہ یہ اپنی کتابوں کی رائلٹی کے بارے میں بہت کانشس رہیں ، ہندوستان میں بیشتر ادیب اپنی کتابوں کی رائلٹی وصول کرتے رہے ہیں ۔
ناول آگ کے دریا پر بہت لکھا اور پڑھا گیا، وہی ان کا سنگ میل کہلاتا ہے ۔ قرۃ العین حیدراگر بڑی ادیبہ بنی ہیں تو اس میں نہ تکنیک ہے نہ موضوع بلکہ ان کا رویہ، ان کا برتاوَ اصل بڑائی ہے،تاریخی اور تہذیبی خاکوں کو تیار کرکے ان میں زندگی کے جو رنگ قرۃ العین نے بھرے ہیں ویسی ترکیبیں اب نہیں ملتیں ، اردو ادب میں خواتین کے حوالے سے عصمت چغتائی، خدیجہ مستور نامور مصنفات ہیں ، جمیلہ صدیقی نے ’تلاش بہاراں ‘ سے پہچان پائی، بانو قدسیہ کا ’راجہ گدھ‘ ان کی شناخت بنا‘ مگر جب تاریخ اور تہذیب کو ٹچ کریں تو کچھ نہ کچھ کہیں رہ جاتا ہے، ان کے کرداروں جیسی موزونیت اور ہمہ اقسام کسی کی ناول نگاری میں نظر نہیں آتی،ناول لکھتے ہوئے کس طرح اپنے مواد کو اپنی جغرافیائی معلومات کو اپنے کرداروں کے ساتھ جو تعلق ہے اس کو دریافت کرنا ، ان کا مزاج بنانا ہے کہانی کی بساط کیونکر بچھانی ہے، اس میں کس طریقے سے کونسا ڈائیلاگ کہاں کروانا ہے، بات کہنے کا طریقہ سلیقہ یہ سب کچھ آپ کوئی بھی ناول اٹھا کر دیکھ لیں کہیں بھی قرۃ العین حیدر ایسی;;imensionsنہیں ملےں گی ،
ہندوستانی حکومت نے بھی ان کی بے مثال ادبی خدمات کا کھل کر اعتراف کیا،ساہتیہ اکیذمی نے ان کو 1967; ء میں ایوارڈ سے نوازا،
’سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ ‘ان کو 1969; میں ملا، 1958; میں ان کو ’پدم شری‘ اور1989۱ء; میں ان کو ’غالب ایوارڈ‘ دیا گیا2005; میں ان کو پدم بھوشن جیسے اعزاز سے نوازا گیا،وہ نہ صرف اردو بلکہ ہندی کی بھی سب سے بڑی ادیبہ کے طور پر جانی جاتی ہیں ، مہمان اسپیکر اور لیکچرر کے طور پر قرۃ اعین حیدر کئی ممالک اور یونیورسٹیز میں مدعو کی گئیں ، جن میں ;;alifornia, ;;hicago, ;;isconsin, اور ;;rizonaکی یونیورسٹیاں بھی شامل ہیں ۔
جس طرح بیرونی ادب کے وکٹر ہیوگو، ٹالسٹائی جیسے بڑے ادیب اور ان کی بڑی کتابیں آپ کے اندر علم کی لگن اور تحریک پیدا کرتے ہیں اسی طرح قرۃ العین حیدر میں بھی شروع سے یہی چیزیں موجود تھیں ، چاہے وہ ’آگ کا دریا‘ ہو، ’کار جہاں دراز ہے‘ یا ’میرے بھی صنم خانے‘ ’شیشے کا گھر‘آخر شب کے ہمسفر‘ یا ’ چاندنی بیگم’دلربا ‘ ہو یا ’ گردش رنگ چمن‘ ایک ایک سطر میں پورے دور کا احاطہ کرنا ان کا ہی وصف تھا ، وہ ایک لیجنڈ بن گئیں ان کو تنقید نگاروں نے اردو کی ’ورجینیا وولف‘ بھی قرار دیا ہے ۔
قرۃ العین نے کچھ تراجم بھی کیئے جن میں ولیم جیمز کے ایک ناول ;;ortrait of a lady کاترجمہ ہے ’ہ میں چراغ ہ میں پروانے‘ حالانکہ انہوں نے کولونیل دور دیکھا تھا مگر پھر بھی وہ ایک ایشیائی خاتون تھیں لیکن جس طرح انہوں نے اس ناول کے ترجمے کی تشکیل کی اس میں ایک دھارے سے دوسرا دھارا غیر محسوس طریقے سے جوڑا، کہاں حقیقت کہاں تصور کہاں کہانی، اس کو ملا کر لکھا یہ کسی اور ناول نگار کے بس کی بات نہیں تھی ،جن لوگوں نے ولیم جیمز کو پڑھا ہے اگر وہ اس کو پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ولیم سے زیادہ حساسیت سے لکھا ہے ،اتنی بیشمار چیزیں ایک زندگی میں صرف تعمیری تصور کے ذریعے ہی ممکنہ کر کے لکھی جاسکتی ہیں جو انہوں نے کر کے دکھایا،ہماری زندگی میں کچھ موڑ ایسے ہوتے ہیں جو پہلے سے دکھائی نہیں دیتے ایسے ہی اچانک آ جاتے ہیں ،حقیقت ریت کی طرح مٹھی سے نکل جاتی ہے ،ہم زندگی سے بہت کچھ چاہتے ہیں لیکن یہ نہیں پتہ کہ زندگی ہم سے کیا چاہتی ہے، زندگی کی اچھی خاصی ضخیم کتاب اچانک ایک کاغذ کی طرح پھٹ جاتی ہے اور سب ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں ، قرۃ العین حیدر نے جن کو اہل خانہ اور اہل ادب پیار سے ’عینی آپا‘ پکارتے تھے اب بھی نجانے کتنی کتابیں ، کہانیاںاور افسانے لکھنے تھے وہ وقت کی سفاکی سے بخوبی واقف تھیں لیکن پھر بھی اپنے ایک انٹرویو میں اس خواہش کا اظہار کیا تھاکہ ابھی تو پچھلی صدیوں کو سمیٹا ہے اب بیسویں صدی کو جمع کررہی ہوں پھر اگر زندگی رہی تو اگلی صدیوں میں جاؤں گی!
وہ ایک عرصے سے بیمار تھیں اور دلی کے نواحی شہر’ نوئیڈا‘کے کیلاش ہسپتال میں زیر علاج تھیں ، انتقال کے وقت ان کی عمر اسی برس ہوچکی تھی، ان کی تدفین بھی ایک علامتی حیثیت کی حامل ہے کہ جن لوگوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ تعمیر کیا تھا وہ بہت بڑے علامتی نام تھے، ان سے منسلک رہنے کے سبب ان کی تدفین ملیہ کے قبرستان میں کی گئی ۔
قرۃ اعین حیدر صاحبہ کی کتابوں کا مطالعہ ادب سے دلچسپی رکھنے والے اگر اب تک نہیں کرسکے تو ان کی محرومی پر مجھے افسوس رہے گا،
ان کی تحریروں کی باریکیاں ، جزئیات، ایک ایک لمحے کے اندرتہذیب، تاریخ اور اتنی تفصیل ہے کہ میں آج بھی مطالعہ کرتے ہوئے اُن میں سرایت ہونے لگتی ہوں ساتھ ہی اب میں اردو کی سب سے بڑی ادیبہ قرۃ العین کے جانے بعد ان کی اس خواہش کی سوچ میں گم ہوں کہ انہوں نے مزید اور کیا لکھنا تھا!

 

Read more from Farzana Naina

Read more Urdu Stories

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: