جھیل، آیئنے اور آگ ۔۔۔ فاطمہ مہرو

جھیل، آیئنے اور آگ

فاطمہ مہرو

چاند کو کوئی فرق نہیں پڑتا

وہ کون سے دیس میں نکلے گا

یوں ہوتا تو تم واپس آ جاتے

وہ جس جھیل میں اتر کر

رات بکھیر دے

موتی اس کے، جل پری اس کی

آیئنوں کی کثرت سے اسے

کیسی وحشت ہے کہ وہ

روشنی سے خط ِ معکوس بناتا ہے

بھیڑیئے برف اور چاندنی

اک صحرا میں ملیں تو

گواہی آگ کی مانی جائے گی

اور بات کہ جھیل، آیئنے اور آگ

کسی ایک کے نہیں ہو سکتے

صحرا میں بھٹکتے چاند کی طرح

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: