خوف کے لفافے میں سمٹا ہوا خط ۔۔۔ حفیظ تبسم

خوف کے لفافے میں لپٹا ہوا خط

حفیظ تبسم

جب تاریخ کی کتاب سے جملے چرا کر
عجائب گھر میں رکھے گئے
ادب کے دربار سے فرمان جاری ہوا
باغیوں کو دیوار میں چننے کی بجائے
تاریک کنویں میں رکھا جائے
اور پیشہ ور ادیبوں سے لکھوائی گئی
تاریخ کی نئی کتاب
جو نصاب میں شمولیت کی منظوری کے لیے
سنسر بورڈ کو بھیجا گیا
خوف کے لفافے میں لپٹا ہوا خط

کتاب گھر سے ناپسندیدہ کتابیں
فحاشی کے الزام میں جلا دی گئیں
اور کوک شاستر کے مصنف کو پھول پہنا کر
عقیدت سے ہاتھ چومنے کی رسم ایجاد کی گئی

باغیوں نے حلف نامے میں عہد کیا
شہر کی دیوار پر مرثیے لکھنے کا
اور اساطیری جنگل کی تلاش میں پھرتے
ایک مندر میں پناہ گزین ہوئے
جس کا ذکر
نئی تاریخ میں نہیں ملتا

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: