غزل ۔۔۔ حمیدہ شاہین

Hameeda Shaheen  is a Pakistani poet having a different vision to see things. Her poetry contains her experiences about ever changing life. She has succeeded to explore her wild zone in her poetry.

غزل

حمیدہ شاہین

اک جادوگر ہے آنکھوں کی بستی میں 
تارے ٹانک رہا ہے میری چنری میں

میرے سخی نے خالی ہاتھ نہ لوٹایا 
ڈھیروں دکھ باندھے ہیں میری گٹھڑی میں

کون بدن سے آگے دیکھے عورت کو 
سب کی آنکھیں گروی ہیں اس نگری میں

جن کی خوشبو چھید رہی ہے آنچل کو 
کیسے پھول وہ ڈال گیا ہے جھولی میں

جس نے مہر و ماہ کے کھاتے لکھنے ہوں 
میں اک ذرہ کب تک اس کی گنتی میں

عشق حساب چکانا چاہا تھا ہم نے 
ساری عمر سما گئی ایک کٹوتی میں

حرف زیست کو موت کی دیمک چاٹ بھی لے 
کب سے ہوں محصور بدن کی گھاٹی میں

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

November 2020
M T W T F S S
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
30  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: