غزل ۔۔۔ حمیدہ شاہین

غزل

( حمیدہ شاہین )

ہاتھ میں کاسہ ، کلائی میں کڑا سجتا ہے 
در بڑا ہو تو سوالی بھی کھڑا سجتا ہے

میں ترے کنجِ تغافل سے نکلتی کیسے 
میرا ساماں اِسی کونے میں پڑا سجتا ہے

دل پہ سامانِ زمانہ کبھی رکّھا ہی نہیں 
اس گھڑونچی پہ محّبت کا گھڑا سجتا ہے

یہ الگ بات ،وہ دیوار میں خود ہوں لیکن 
عشق دیوار گِرانے پہ اَڑا سجتا ہے

یہ صفِ دل زدگاں ہے تجھے احساس رہے
تو یہاں صرف مِرے ساتھ کھڑا سجتا ہے

سَر کیے جاؤں تِرا کوہِ رفاقت یوں ہی
میرا جھنڈا اِسی چوٹی پہ گڑا سجتا ہے

طاقِ محرابِ وفا میں ہے ٹھکانہ میرا
جو دیا بجھ نہ سکے اِس میں بڑا سجتا ہے

قیمت و قدر بڑھاتے ہیں یہ رشتے ناطے
لعل دستار یا زیور میں جڑا سجتا ہے

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

December 2020
M T W T F S S
 123456
78910111213
14151617181920
21222324252627
28293031  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: