زیست کر دی ہے بے ثمر اسنے ۔۔۔ اختر کاظمی

غزل

( اختر کاظمی )


زیست کر دی ھے بے ثمر اس نے
کر دیا گرد رھگزر اس نے
دل میں ھونے کا اور نہ ھونے کا
بو دیا ھے عجب سا ڈر اس نے
کئے پر کیف روزوشب اپنے
میرے خوابوں کو چھین کراس نے
مجھ تک آنے دیا نہ راحت کا
ایک لمحہ بھی عمر بھر اس نے
لکھ دیا ھے مرےمقدر می
اک سرابوں بھرا سفر اس
مجھ کو پرواز کی اجازت دی 
نوچ کر میرے بال و پر اس نے
دشت کی مثل کردیا اختر
خوشبووں سے بھرا نگر اس نے

Similar Posts:

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

August 2021
M T W T F S S
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
3031  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: