عصمت بیتیاں ۔۔۔ عصمت طاہرہ

عصمت بیتیاں

( عصمت طاہرہ)
میں بہت چھوٹی تھی تو تختی پر کلک کی قلم اور چراغ روشنائی سے لکھتی
۔پھر ویرو آپاں مجھ سے انڈیا پوسٹ کارڈ لکھواتی
“بھائیا جی کو متھا ٹیکنا ماتا جی کے پیریں پیناں”
ویرو آپاں علی پور سیداں میں زندہ سلامت ہیں جنکی طرف سے میں نے وچھوڑے اداسیاں اور محںبتیں لکھیں ہیں ۔۔ویرو آپاں میری آواز سنتے ہی اپنے چرخے کی پونیان چھپا دیتی کہ میں چرخہ کاتنے کے شوق میں ستیاناس کر دونگی۔۔۔۔ویرو آپاں کا خاوند جوانی میں ہیضے سے مر گیا اسکی بھانجی زچگی کے عالم میں ساری رات ماموں کے سرہانے چار پائی پر سر رکھے روتی رہی اور پھر روتے روتے ہمیشہ کے لئیے چپ ہوگئ۔۔۔ویرو آپاں کے چھوٹے سے آنگن میں صبح سویرے دو جنازے اٹھے اور ویرو آپاں کی گود میں چند دن کا یتیم بھانجا رہ گیا۔۔۔نوجوان ویرو آپاں جب اکیلی رہ گئ تو گاؤں کے پیروں نے ویرو کو مجبور کر کے ستی کرنے کے بجائے ھنسو سے نکاح کرا دیا کہ جوان عورت کا کوئ نگہبان ہو۔۔ویرو کے گھر کوئ قربانی کا گوشت نہیں بھیجتا کہ وہ دونون ہندو ہیں
چلتے چلتے بتا دوں کہ میرے ایک رشتہِ دار سید کرا مت علی شیرازی جنکی بیٹی امت الحئ جو اسکول ٹیچر تھین میری ماں کے بڑے بھائی کرنل انوار شیرازی کی ان سے منگنی تھی۔۔وہ سرگودھا میں رہتے تھے۔۔خبر گرم ہوئ کہ وہ خاندان احمدی ہو گیا ہے
بس ہونا کیا تھا۔ ماموں جنکو ہم آغا جان کہتے تھے انکی منگنی ٹوٹ گئ۔۔لیکن ماما جی کرامت اور انکی بیٹی جب بھی گاؤں آتے ہمارے گھر ہی ٹھہرتے۔عقیدے کی تبدیلی نے منگنی توڑی تھی اٹوٹ رشتے نہیں توڑے تھے۔۔ ماما جی کرامت یوں بھی مجھے اچھے لگتے کہ ھمارے گھر میں صرف انکی وجہ سے حقہ دیکھنے کو ملتا۔جب ان کا حقہ بجھ جاتا تو وہ حقے کو ایک کونے میں لگا کر دوسرے رشتہ داروں کو ملنے چلے جاتے تو ہم بچے باری باری حقے کی نالی منہ میں لیکر گڑ گڑ کرتے اور خوب مزہ کرتے۔مامے کرامت سے کسی نے حقہ پانی بند نہیں کیا تھا انکی مہمان نوازی میں بھی کمی نہیں آئی تھی۔۔۔مگر انکے عقیدے کو کسی نے پسند نہیں کیا تھا

ہاں اور ایک اور ہندو چمار کہلانے والے خاندان کی خاتون جسے سب بھابھی بنتو کہتے تھے بہت حسین اونچی لمبی اور بھرے ںھرے جسم والی خاتون جو ہمارے گھر کام کاج کے لیے آتی۔ تب میرے گاؤں میں بجلی نہیں تھی دالان میں چھت پر کنڈوں کے ساتھ ایک لمبا سا تختہ جس کے ساتھ جھالر والا خوبصورت کپڑا موری والے پیسوں کے ساتھ جڑا ہوا تھا اور اس کدو رنگ کے کپڑے کے دونوں طرف کالے رنگ کے ایپلک ورک سے یا الللہ یا محمد بنا ہوا تھا
بھابی بنتو کا کام پنکھے سے بندھی رسی کھینچنا تھا جسکے بدلے نانی اسے پیسوں کے علاؤہ گڑ چاول گندم بہت کچھ دیتیں۔۔۔
ہا ں تو جب بنتو بھابھی پنکھے کی رسی کھینچتی تو ایک مسحور کن ردھم کے ساتھ موری والے پیسے چیں چاں کی آواز نکالتے ۔۔جی تو ایک روز بنتو بھابی نے بتایا کہ اس کے پڑوس میں آج سے مسانڑں کھیلا جائے گا ۔کوئ ہندو لڑکی مڑھیوں سے بھوت پریت لے آئ ہے۔۔( مردے جلانے والی جگہ جسے مڑھیاں کہتے تھے۔۔۔۔۔) 
رات کو اس گھر میں ڈھول بجانے والے آتے اور ڈھول کی تھاپ پر لڑکی ساری رات خوب سر ہلاتی سخت گرمی میں پسینے سے شرابور ہوکر نڈھال ہو کر گر جاتی چند دنوں کے بعد مسانڑ ختم ہو جاتا۔۔یہ سب بھابھی بنتی نے بتایا۔۔میرے چھوٹے ماموں جنہیں ہم چن ماما جی کہتے ہیں انہوں نے بھابھی بنتی سےاصرار کیا کہ وہ بھی مسانڑں دیکھنے جائیں گے۔چونکہ مردوں کا داخلہ ممنوع تھا اس لیے بھابھی بنتی نے اپنے کپڑوں کا جوڑا چن مامے کو لا کر دیا کیونکہ چن مامے کو بنتو کے کپڑے ہی پورے آ سکتے تھے۔رات کو جب لاٹین ہاتھ میں لیئےمحلے کی عورتیں اور میری بڑی خالہ مسانڑں والے گھر جانے لگیں تو میں نے بھی روتے ہوے ضد کی کہ ساتھ جاونگی۔۔حسب عادت چن مامے نیں
” چپ الو کی پٹھی” جھڑکی دے کر بٹھا دیا اور خود روانہ ہوئے۔۔۔پیروں نے کبھی ہندووں پر انکے رسم و رواج پر پابندی نہیں لگائ۔۔۔گرمیوں میں ہم بہن بھائ چھت پر سوتے تو پیر جماعت علی شیرازی کے مہمان خانہ ے جسے شیش محل کہا جاتا تھا الصبح پیر اولاد حسین مریدین کو الللہ ہو کا ورد کراتے۔۔۔ شام کے قریب پچھلے پہر چکی کی کوہح کوہح ۔۔حقے کی گڑ گڑ اور سحری کو اللہ ہو کی سہانی آوازیں اب تک میرے اندر دور کہیں بستی ہین۔۔مجھے مسانڑں دیکھنے کی حسرت ہی رہی مگر بھلا ہو فیس بک کا کبھی مولوی کرنٹ جیسی ویڈیو دیکھنے کو مل جائے تو لگتا ہے میں نے مسانڑں دیکھ لیا

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: