مٹی ۔۔۔ جاوید بسام

مٹی

جاوید بسام

اکبر کو دوپہر میں کھانے کے وقفے کے بعد کچھ فرصت تھی۔ اسی وقت بجلی بھی چلی گئی۔ اسے یاد آیا کہ چند ضروری چیزیں خریدنی ہیں۔ لہذا وہ اٹھ کر آفس سے باہر نکل گیا۔ زینے اتر کر اس کا سانس پھول گیا تھا۔ نیچے بازار میں بہت ہجوم تھا۔ لوگ خریداری کر رہے تھے۔ دکانیں سامان سے بھری تھیں۔ پھیری اور ٹھیکے والے آوازیں بھی لگا رہے تھے۔ اکبر نظریں دوڑاتا آگے بڑھتا رہا۔ ابھی وہ کچھ دور ہی گیا تھا کہ، اچانک پیچھے سے فائرنگ کی کرخت آواز سنائی دی۔ یکدم بھگڈر مچ گئی۔ لوگ جو بے فکری سے بازار میں گھوم رہے تھے۔ بجلی کی تیزی سے پناہ کی تلاش میں بھاگے۔ مرد، عورتیں اور بچے، ہاتھوں میں تھیلے اٹھائے ضعیف ، گودوں میں معصوم بچوں کو اٹھائے برقعہ پوش مائیں اور پھیری والے، سب بوکھلا کر دوڑ پڑے۔ دکانداروں نے فورا شٹر بند کرنے شروع کر دیے چند لمحوں میں بھرا بازار خالی ہوگیا۔

اکبر نے بھی مڑ کر دیکھنے کی زحمت نہیں کی اور قریب ترین دکان میں جاگھسا۔ جہاں اور لوگ بھی چلے آئے تھے ۔ ایک کے بعد ایک لگاتار پانچ فائر ہوئے پھر خاموشی چھا گئی۔ دکاندار نے اگرچہ شٹر گرا لیا تھا، لیکن نیچے سے خالی سڑک نظر آ رہی تھی۔ پھر ایک موٹر سائیکل جس پر دو لڑکے سوار تھے، تیز رفتاری سے گزری۔ کچھ دیر بعد دکاندار نے ڈرتے ڈرتے شٹر اٹھایا۔ خطرہ ٹلتا دیکھ کر اور لوگ بھی باہر آنے لگے تھے۔ اکبر بھی باہر آگیا۔

کچھ دور فٹ پاتھ پر لوگ جمع ہو رہے تھے۔ اکبر ادھر جانا نہیں چاہتا تھا، مگر دفتر جانے کا اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ اکبر نے کوشش کی کہ اس کو نہ دیکھے، لیکن نظریں ایک لمحے کے لیے اختیار میں نہیں رہی تھیں۔ وہ کوئی نوجوان تھا۔ ہلکا نیلا قمیض شلوار پہنے جس کا بایاں حصہ خون سے سرخ ہو رہا تھا۔ کچھ خون فٹ پاتھ پر بھی جمع تھا۔ اس نے فورا نظریں ہٹالیں، لیکن وہ اتنا دیکھ چکا تھا کہ اس کے چمک دار بال ترتیب سے بنے ہوئے تھے اور ان میں تازہ غسل کی نمی تھی۔ لوگ زور زور سے بول رہے تھے۔ کوئی پولیس کو فون کرنے کو کہہ رہا تھا کوئی ایمبولینس کو۔ کسی کی آواز آئی ٹارگٹ کلنگ ہے۔ وہ اس کے پیچھے لگے ہوئے تھے ۔

اکبر تیز رفتاری سے قدم اٹھاتا اپنے دفتر کی سیڑھیاں چڑھ گیا۔ اس کی سانس تیزی سے چل رہی تھی اور تمام جسم کا خون چہرے پر سمٹ آیا تھا۔ وہ اپنی کرسی پر ڈھے گیا۔ جب کچھ اوسان بحال ہوئے تو اس نے اٹھ کر کھڑکی سے جھانکا ۔ لوگوں کا مجمع اور بڑھ گیا تھا۔ وہ گھیرا ڈالے افسردہ کھڑے آپس میں سرگوشیاں کر رہے تھے۔ پھر ایمبولینس کے سائرن کی آواز سنائی دی۔ امدادی کارکن تیزی سے نیچے اترے اور نوجوان کو اسٹریچر پر ڈال کر لے گئے ۔ اس وقت تک پولیس کا کہیں پتا نہیں تھا۔ اکبر نیچے دیکھتا رہا۔ اس کے سر میں درد ہونے لگا تھا۔ آخر وہ کھڑکی سے ہٹ رہا تھا کہ پولیس موبائل وین آتی نظر آئی ۔ جائے وقوعہ کے قریب آ کر وہ رکی ، پیچھے سے اہلکار گن سنھبالے نیچے کودا۔ اس کی سینچی ہوئی خمدار مونچھیں اور توانا جسم پورے منظر پر چھا گیا۔ وہ شان کے ساتھ اکڑتا آگے بڑھا۔ دکاندار بےزاری سے اسے دیکھ رہے تھے ۔ قریب ترین دکان دار اس کے اشارے پر باہر آیا۔ اس نے دکاندار سےکچھ باتیں کیں۔ ان کی آواز تو نہیں آرہی تھی، لیکن اکبر نے اشارے دیکھ کر اندازہ کیا کہ کیا سوال جواب ہوئے ہونگے۔

اہل کار نے پوچھا، کتنے لوگ تھے؟

 دکاندار نے اشارے سے دو انگلیاں دکھائیں۔

اس نے پوچھا کس طرف سے آئے تھے؟

 دکاندار نے دائیں طرف اشارہ کیا۔

اس نے پوچھا کس طرح گئے تھے؟

دکاندار نے بائیں طرف اشارہ کیا۔

اہلکار نے اس طرح گردن ہلائی جیسے سب کچھ سمجھ گیا ہو اور پھرتی سے واپس موبائل وین میں جا بیٹھا۔ جو پہلے سے اسٹارٹ تھی اور اس کے بیٹھتے ہی آگے بڑھ گئی۔ اکبر کا خیال تھا کہ پولیس آکر باقاعدہ تفتیش کرے گی۔ لوگوں کے بیانات لیے جائیں گے ۔ کوئی ذہین سراغ رساں باریک بینی سے وقوعہ کا جائزہ لے گا لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ اکبر واپس اپنی سیٹ پر آگیا۔ وہ کچھ دیر کام کرتا رہا لیکن ذہن پریشان تھا۔ اخر اس سے کام بند کیا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ اسے آج دفتر سے جلدی چھٹی کرنی پڑی تھی۔

نیچے بازار اسی طرح رواں دواں تھا۔ لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ ایسا نہیں لگتا تھا کچھ دیر پہلے وہاں ایک انسان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے ۔ خون پر کسی نے مٹی ڈال دی تھی۔ جس سے وہ چھپ گیا تھا، لیکن قریب سے گزرتے ہوئے اکبر نے محسوس کیا کہ اس کی سرخ نمی اوپر چلی آئی ہے ۔ وہ تیز قدم اٹھاتا پارکنگ کی طرف بڑھا اور گاڑی نکال کر، جب وہ گلی سے نکلا تو نکڑ پر اسے وہی پولیس موبائل کھڑی نظر آئی۔ پیچھے اہلکار چوکس بیٹھے تھے۔ ان کی انگلیاں اپنی گنوں کے ٹریگرز پر جمی تھی اور نظر سامنے خواتین کلاتھ مارکیٹ میں بھٹک رہی تھیں۔ وہ تیزی سے گاڑی نکال کر لے گیا۔

وہ سمندر کے کنارے ایک فلیٹ میں رہتا تھا۔ وہ نسبتاً پرسکون علاقہ تھا۔ اس نے گاڑی احاطے میں روکی اور اتر کر بلڈنگ کی طرف بڑھا۔ احاطے میں درخت لگے تھے۔ اس نے محسوس کیا درختوں پر بہت سارے کوے جمع ہیں۔ بلڈنگ کے چوکیدار نے اسے سلام کیا وہ گردن ہلاتا اوپر چلا گیا۔ نہا دھو کر وہ جلد فریش ہو گیا ، لیکن سر کا درد دور نہیں ہوا تھا۔ اس نے چائے بنا کر پی۔ باہر سے کوؤں کی کائیں کائیں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ انھوں نے آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا۔ یہ آج زیادہ ہی شور کررہے ہیں۔ اس نے سوچا اور اٹھ کر برآمدے میں چلا آیا۔ کوؤں کی تعداد اور بڑھ گئی تھی۔ وہ درختوں کی شاخوں ، منڈیروں اور احاطے کے فرش پر ہر جگہ موجود تھے ۔ لوگ اپنے کاموں پر سے واپس آرہے تھے۔ جب وہ درختوں کے نیچے سے گزرتے تو کوے ان کو ٹھونگیں مارتے ۔ اکبر کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اس نے گردن جھکائی نیچے چوکیدار ٹہل رہا تھا۔

 ” چوکیدار کیا ہوا؟” اس سے پوچھا ۔

” صاحب کوئی کوا مر گیا ہے. ” چوکیدار نے جواب دیا۔

 ” کوا مر گیا؟ ” وہ بڑبڑایا اور سیڑھیاں اتر کر نیچے چلا آیا۔

اور لوگ بھی وہاں کھڑے تماشا دیکھ رہے تھے۔ کیاری کے پاس ایک کوا مرا پڑا تھا۔ اس کے گرد بہت سے کوے جمع تھے۔

وہ اڑ کر ادھر ادھر ہوتے کائیں کائیں کرتے، لیکن اس کے پاس ہٹنے کو تیار نہیں تھے۔ اکبر کی نظریں مرے ہوئے کوے پر جمی تھیں۔ کسی نے چوکیدار سے کہا اس کو اٹھا کر باہر پھینک دے ۔ چوکیدار اٹھانے کے لئے آگے بڑھا، کوے اپنی جگہ سے تھوڑا سا اڑے، لیکن اس کے قریب پہنچنے پر ایک ساتھ اس پر چھپٹے ۔ وہ گھبرا کر پیچھے ہٹ گیا۔ کئی کوششیں کرنے کے بعد بھی وہ کامیاب نہ ہوا۔ آخر تھک کر بیٹھ گیا۔ لوگ آہستہ آہستہ اپنے گھروں کو جانے لگے۔ اکبر بھی بھی اوپر چلا گیا۔

 ایک گھنٹے تک وہ ٹی وی دیکھتا رہا۔ سورج غروب ہونے والا تھا ۔ وہ برآمدے میں چلا آیا۔ کوؤں کی تعداد اور بڑھ گئی تھی۔ وہ کائیں کائیں کرتے شور مچا رہے تھے ۔اس کے سر میں درد سے ٹیسیں اٹھنے لگیں۔ وہ تیز قدموں سے نیچے چلا آیا۔ چوکیدار کرسی پر بیٹھا تھا۔

” چوکیدار ! اس پر مٹی ڈال دو۔ ” وہ چلایا

چوکیدار گھبرا کر کھڑا ہوگیا ۔ وہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔

 ” ہاں ۔۔۔۔ یہی تو ہو رہا ہے۔ ” اس نے خود کلامی کی۔

 پھر وہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر چلا گیا۔ مغرب کی اذانیں شروع ہو گئی تھیں، لیکن کوؤں کا ڈیرہ اسی طرح قائم تھا۔

Similar Posts:

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

August 2021
M T W T F S S
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
3031  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: