اچھی لڑکی، بری لڑکی ۔۔۔ کوثر جمال

اچھی لڑکی، بری لڑکی

 

کوثر جمال

دراصل ایک لڑکی کو سب اچھا کہتے ہیں۔ اس لیے وہ اچھی ہے۔ دوسری لڑکی کو شاید ہی کوئِی اچھا کہتا ہو، اور کچھ لوگ تو اسے بُرا بھی کہتے ہیں ، اس لیے وہ بُری ہے۔ اچھی لڑکی اور بُری لڑکی ایک ہی دفتر میں کام کرتی ہیں۔ اس دفتر میں اور بہت سارے دفتروں کی طرح فراغت اور کام چوری کے پرندے پھڑپھڑاتے رہتے ہیں۔ میزیں ناکرہ کاموں سے لدی رہتی ہیں۔ الماریوں کے پیٹ فائلوں سے بھرے رہتے ہیں اور سائلوں کی ضرورتیں فریاد کرتی رہتی ہیں۔ میزوں کے پیچھے جمائیاں لیتے چھوٹے بڑے کلرک اور کئی اونچے نیچے گریڈوں میں تقسیم شدہ دفتری اہل کار گپیں لگاتے، چائے پیتے اور زندگی کے ہر اس موضوع پر سیروں گفتگو چباتے رہتے ہیں جس سے وہ درحقیقت قطعی لاعلم ہوتے ہیں۔ ان میں کچھ ایسے ہیں جو پینٹ شرٹ پہنتے ہیں۔ وہ بابو کرسیوں پر ذرا تمیز سے بیٹھتے ہیں۔ بہت سے دوسرے شلواروں قمیضوں سے ستر پوشی کیے دفتروں میں بھی گھر جیسی آسانی پیدا کر لیتے ہیں۔ شلوار قمیض بہت اچھا لباس ہے۔ نماز کی ادائگی میں سہولت رہتی ہے۔ رانیں کھجانے میں بھی دقت نہیں ہوتی۔

اس دفتر کی معمول کی زندگی میں اس وقت کچھ دنوں کے لیے تھوڑی سی تبدیلی آئی تھی جب دو مرد اہلکار کہیں اور بھیج دیے گئے اور دو لڑکیاں نئے زمانے کی تازہ ہوا کا جھونکا بن کر دفتر کی زندگی میں داخل ہوئی تھیں۔ تب یہاں کچھ عرصے کے لیے بے تکلف موضوعات اور قومی گالیوں سے شروع ہوتی گفتگو پر تہذیبی سنسر لگا تھا۔ لیکن اب رفتہ رفتہ حالات نے تکلف کے پردے ہٹا دیے ہیں۔ زندگی پھر سے کسی تنگ نالے کے پانی کی طرح بہنے لگی ہے۔ ان لڑکیوں کے آنے سے دفتری زندگی کو ایک خاص طرح کی تکمیل ملی ہے۔ آدم کی دنیا میں حوا آ گئی ہے۔ اور وہ شروع دن کی معصومیت کے ساتھ اس پُر اسرار مخلوق کو سمجھنے میں مصروف ہو گیا ہے۔ جمائیاں کم ہو چکی ہیں اور آنکھیں بڑھ گئی ہیں۔ چور آنکھیں، مخمور انکھیں، مسرور آنکھیں ۔۔۔۔ بےحجاب آنکھیں، طلبگار آنکھیں ۔۔۔۔ بینا آنکھیں نابینا آنکھیں ۔۔۔۔ پہلے سے کئی گنا زیادہ آنکھیں۔ دفتر کی فضائوں میں فراغت کے پنچھی پھڑپھڑانے کی بجائے اب مصرع گنگنانے لگے ہیں۔

ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ۔ دفتری اہل کاروں کی نیم عالمانہ گفتگو اور خوش گپیوں میں فرسٹ ہینڈ مشاہدہ شامل ہونے کے بعد اب نتائج اخذ ہو رہے ہیں۔ اکثریت کا فیصلہ کچھ یوں ہے: ایک لڑکی اچھی ہے اور ایک اچھی نہیں ہے۔ ۔۔۔  اچھی لڑکی انگوروں کے بھرے گچھے کی طرح خوبیوں سے لدی ہوئی ہے۔ رکھ رکھاو، ادب آداب والی، بنی سنوری، استری شدہ، شکنوں سے پاک، جیسے کسی باپردہ جسم پر میک اپ سے بنا حسین چہرہ، جیسے کسی مڈل کلاس گھر کا ڈرائینگ روم، سارے گھر سے زیادہ آراستہ، گردوغبار سے پاک، ہر چیز اپنی جگہ پر قرینے سے رکھی ہوئی، مہمانوں کو دکھانے کے لیے ہر لمحہ تیار۔ اچھی لڑکی بہت خوش اخلاق ہے، لگتا ہے اس نے ڈیل کارنیگی کی ترجمہ شدہ کتاب “میٹھے بول میں جادو ہے” کسی خاص حد تک سمجھ کر پڑھی ہے اور پھر کتاب کے سرورق کو تعویذ کی طرح پانی میں گھول کر پیا ہے۔ وہ سب سے دعا سلام رکھتی ہے، لیکن ذرا فاصلے سے، کم از کم ایک میٹر کی محفوظ دوری سے۔

وہ قہقہہ لگا کر کبھی نہیں ہنستی، بس گردن کو ذرا سا خم دے کر آہستگی سے مسکراتی ہے۔ ویسے بھی لڑکیوں کو کھل کر ہنسنے، تیوریاں چڑھانے، منہ لٹکانے اور بسورنے سے پرہیز کرنی چاہیے۔ اس سے چہرے پر جلد جھُریاں پڑنے لگتی ہیں۔ مسکراہٹ البتہ خوبصورتی اور صحت کے لیے بہت کارآمد ہے؛ چوتھائی سینٹی میٹر لمبی اور اس سے ذرا کم گہری مسکراہٹ۔ اس کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ مسکراہٹ میں کالا اور عام جادو دونوں شامل ہیں۔ یہ کبھی تو اپنے ٹارگٹ کی داخلی دنیا میں موقع محل کے مطابق خوشبو کا چھڑکاو کر دیتی ہے اور کبھی زلزلے کی طرح تباہی پھیر دیتی ہے، دونوں طرح کا جادو ۔۔۔ تو اچھی لڑکی مسکرانا نہیں بھولتی۔

اس کی تربیت بہت خاندانی انداز میں ہوئی ہے۔ اس کی دادی کی دادی نے “مراۃ العروس ” پڑھی تھی۔ دادی نے “بہشتی زیور” اور “تہذیبِ نسواں” کا مطالعہ کیا تھا۔ خود وہ اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی علمِ تہذیب و اخلاق اور ہند کی زمین میں پروان چڑھنے والی عربی اخلاقیات پر بھی گہری نظر رکھتی ہے۔ وہ اپنے آس پاس کے کم علم لوگوں پر اپنے علمِ اخلاقیات کا ان دیکھا رعب ڈالتی رہتی ہے، دھیرےدھیرے، مسکرا کر، آہستگی اور نرمی سے۔ وہ بڑی ہوشمند، ہوشیار، چوکس اور محتاط ہے۔ اس کے دماغ میں گفتگو کو تولنے کا ننھا سا ترازو نصب ہے۔ جب وہ بولتی ہے تو تُلی ہوئی باتیں کرتی ہے۔ یا پھر اس کے منہ میں ایک جدید مائکرو فلٹر نصب ہے جس کی وجہ سے اس کی باتیں صاف ستھری، گردو غبار سے پاک، حفظانِ صحت کے اصولوں کے عین مطابق ہوتی ہیں۔

‘خدا جھوٹ نہ بلوائے۔۔۔۔۔۔’ وہ گردن کو ذرا سا خم دے کر، بات کرنے سے پہلے ہی خود کو کسی نادانستہ جھوٹ یا غلطی سے مکت کر لیتی ہے۔ بہت سمجھدار ہے اور نہایت ایمان افروز باتیں کرتی ہے: ہمیں جھوٹ سے بچنا اور سچ بولنا چاہیے کسی کا دل نہیں دکھانا چاہیے چاہئیے ۔۔۔۔ ۔۔۔ نہیں چاہیے ۔۔۔۔ نہیں چاہیے ۔۔۔۔ دیانت امانت شرافت صداقت ۔۔۔۔

اس کے ذہن کے کمپیوٹر میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر” کا طاقتور سوفٹ وئیر انسٹال کیا گیا ہے۔ اس کی ایسی باتوں سے اس کے آس پاس کے “دنیا دار کمینے” چھوٹے ہوتے ہوتے بالکل پچک جاتے ہیں۔ پھر وہ اپنی جانفزا مسکراہٹ سے پچکے ہوئے غباروں میں ہوا بھر کر انھیں دوبارہ نارمل سائز میں لے آتی ہے۔ وہ بڑی صلح جو ہے۔ اپنے دفتر میں ہر ایک سے بنا کر رکھتی ہے۔ وہ سب کی پسندیدہ ہے اور سب کی دوست۔ اس لیے دفتر کے سبھی لوگ اسے اچھا کہتے ہیں۔

اور بری لڑکی؟ ۔۔۔ وہ ایک الگ ہی مخلوق ہے۔ اس میں اچھی لڑکی والا کوئی ایک گن بھی نہیں۔ نہ ادب نہ آداب، نہ ہوش نہ ہوشیاری، نہ ضبط نہ احتیاط ۔ لگتا ہے کہ وہ ٹارزن کی طرح کسی جنگل میں پروان چڑھی ہے۔ وہ کھل کے ہنستی ہے۔ کسی نادان بچے کی طرح ان گھڑا سچ بول دیتی ہے۔ شیطان کی طرح انکار کر دیتی ہے۔ موسموں کی طرح بدلتی رہتی ہے۔ کبھی سرد کبھی گرم، کبھی بہار کبھی خزاں ۔۔۔۔ وہ رنگین پتنگ جیسی ہے۔ اندرونِ شہر کے کوٹھوں سے بلند ہوتی ہوئی، ہواوں میں اڑتی ہوئی، لہراتی، بل کھاتی، جھومتی، کٹتی، کاٹتی، کبھی صحیح و سالم کبھی کٹی پھٹی۔ وہ بالکل کھلی اور سامنے ہے پھر بھی نہ نظر اتی ہے نہ پکڑ میں آتی ہے۔ اوسط درجے کی ذہانت کے گراف سے نیچے رہنے والے لوگ جو بنے بنائے آسان رستوں پر چلنے کے عادی ہوتے ہیں، ان کے لیے مشکل مضمون، ٹیڑھے لوگ، پیچیدہ چیزیں اور آوٹ آف کورس سوال بیحد تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ یوں بری لڑکی وجہ آزار ہے کیونکہ وہ ناقابلِ تفہیم ہے۔ بری لڑکی اچھی لڑکی کی طرح سب کے ساتھ بنا کے رکھنے کا گر نہیں جانتی۔ اس کا دفتر میں آئے روز کسی نہ کسی سے، کسی نہ کسی بات پر پھڈا ہو جاتا ہے؛ ٹائپسٹ کی غلطیوں پر، افسر کی دھونس پر، کسی کی کام چوری پر، کسی کی غلط نگاہی پر، کسی کی دخل در معقولات پر، کسی کی خرابیِ معاملات پر۔ اسے اس بات کی کوئی فکر نہیں کہ کوئی کیا کہے گا۔ اس کی اے سی آر خراب ہو جائے اسے پرواہ نہیں۔ اس کا کام اچھا ہونا چاہیے اس بات کا البتہ وہ ضرور خیال رکھتی ہے۔ اس کے ماتحت اس سے خوش نہیں کہ وہ ان سے کام کرواتی ہے۔ اس کے افسر بھی اس سے خوش نہیں کہ وہ جی سر، جی جی، اچھا جی کی گردان نہیں کرتی۔ وہ بری ہی نہیں بےوقوف بھی ہے۔ وہ اپنا غصہ، ہنسی، قہقہہ، مسکراہٹ، پسندیدگی، ناپسندیدگی، ناگواری، محبت، نفرت، غرض کسی بھی جذبے یا ردِ عمل کو سنبھال کر، بچاکر، چھپا کر نہیں رکھتی۔ دفتر میں چند لوگ اسے اچھے لگتے ہیں۔ ان کے ساتھ اس کی دوستی ہے۔ جو اچھے نہیں لگتے وہ ان کی پرواہ نہیں کرتی۔ اس کا خیال ہے کہ ہر کسی کو دوست نہیں بنایا جا سکتا۔ جن لوگوں کو وہ نظر انداز کرتی ہے انھیں اچھی لڑکی اور بھی اچھی لگنے لگتی ہے اور بری لڑکی اور بھی بری۔

اچھی لڑکی کا کردار بہت مضبوط اور وزنی ہے۔ ترازو کے سب سے بڑے باٹ کی طرح ٹھوس اور داخلی طور پر دیکھے جانے کی گنجائش سے پاک۔ وہ مردوں سے ذاتی سطح کی دوستی نہیں رکھتی۔ وہ کبھی کسی مرد کے ساتھ سیر و تفریح پر آتے جاتے دیکھی نہیں گئی۔ چونکہ وہ کسی ایک مرد سے قریب نہیں ہے اس لیے ہر مرد خوش ہے۔ وہ کتنی مہربان اور اچھی ہے، رقابت پیدا نہیں کرتی اور سب کو مسکراہٹ اور اعتنا کے ایک جیسے لالی پاپ دے دیتی ہے۔ سب اس کے اعلیٰ کردار اور حسنِ سلوک کی تعریف کرتے ہیں۔ جبکہ بری لڑکی آوارہ ہواوں، شوریدہ سر موجوں کی طرح ہے۔ وہ دفتر کے کچھ آدمیوں سے بےتکلف اور کھلی باتیں کرتی ہے۔ اس کی ہنسی کسی کٹار کی طرح نظرانداز شدہ دلوں میں اتر جاتی ہے۔ وہ اپنے دفتر کے اکا دکا مرد دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے کو برا نہیں سمجھتی۔ دفتر کے وہ کولیگ جو اس عنایت سے محروم رہ جاتے ہیں، جل کے دھواں دینے لگتے ہیں۔ بری لڑکی نے دفتر کی صاف ستھری فضا کو آلودہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ وہ حسد اور رقابت کے منفی جذبوں کو پیدا کرنے کا باعث بن رہی ہے۔ دفتر میں اب اسے بری کے ساتھ ساتھ خراب کردار کی لڑکی بھی کہا جانے لگا ہے۔

ایک دن اچھی لڑکی نے بصد پیار اور خلوص بری لڑکی کو سیدھی راہ پر لانے کا نیک فریضہ انجام دیا: ‘میری بات کا برا مت ماننا، خدا گواہ ہے، اچھی نیت سے بات کر رہی ہوں۔۔۔۔ ‘
اچھی لڑکی ابھی اپنی بات کو تول ہی رہی تھی کہ بری لڑکی کے صبر کا پیمانہ چھلک گیا۔ کہنے لگی:
‘مجھے تمھاری نیت پر شک نہیں ہے تو پھر اتنی لمبی تمہید کیوں باندھ رہی ہو ۔۔۔ ہاں کہو ۔۔۔’
‘میرا مطلب ہے ۔۔۔ اچھی لڑکی نے جھجک کر کہا، تمھیں مردوں سے میل ملاپ میں احتیاط کرنی چاہیے۔ عورت کی شہرت کانچ جیسی ہوتی ہے۔ ٹوٹ گئی تو ٹوٹ گئی۔ اب دفتر میں لوگ باتیں بنانے لگے ہیں۔”

‘مائی فٹ، بری لڑکی نے غرا کر کہا، جب میں کوئی غلط کام نہیں کر رہی تو لوگوں سے کیوں ڈروں؟ اچھی لڑکی مسکرا کر بولی، ‘اس سے تمھاری شہرت ہی نہیں ترقی پر بھی اثر پڑے گا’
‘تو تمھارا مطلب ہے میں لوگوں سے ڈر جاوں، رک جاوں، چھپ جاوں، نہں چاہیے مجھے ایسی شہرت اور ایسی ترقی جو مجھے مجھ سے ہی چھین لے’ بری لڑکی نے اعتماد سے کہا۔ اچھی لڑکی کی دانائی نے بری لڑکی کو ایک محفوظ راستہ دکھایا: ‘رک نہیں سکتی تو جاو مگر چھپ کے جاو، احتیاط کرو۔’

لیکن بری لڑکی کی سرشت میں ناعاقبت اندیشی کا مادہ اتنا زیادہ ہے کہ وہ ایسی دانائی کی باتیں سمجھ نہیں سکتی۔ اس نے یقینا” اپنی کچھ جینز جنگل سے لی ہیں۔ وہ تہذیبی احتیاط سے لاعلم ہے۔ دوسری طرف اچھی لڑکی نے خود کو کمال مہارت سے سنبھال رکھا ہے۔ اپنے جوان جذبوں کو کسی بوتل میں بند کرکے اس پر ائیر ٹائت ڈھکن لگائے رکھتی ہے۔ جذبوں کا ایک قطرہ باہر نہیں گرتا۔ ادھر بری لڑکی اپنی جوانی کو لمحہ لمحہ برت رہی ہے وہ اسے جتنا استعمال کرتی ہے وہ اتنا ہی بڑھتی جاتی ہے۔ وہ ہنس کر، گا کر، چل کر، دوڑ کر، اڑ کر، پرندوں اور ہرنوں کی طرح زندگی جی رہی ہے۔

بری لڑکی ریت ہے، مٹھی میں قید نہیں رہتی، ہوا ہے، رکتی نہیں، پہیلی جیسی ہے بوجھی نہیں جاتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ادھر ایک آدم زاد ہے جو پہیلی بوجھنے کے سفر پر نکلا ہے۔ آدم زاد کے خون میں کوہ پیمائی کے جذبے انگڑائیاں لے رہے ہیں اور بری لڑکی اسے ماونٹ ایورسٹ جیسی لگتی ہے۔

فطرت پانی کو پانی سے، ہوا کو ہوا سے، اچھے کو اچھے سے اور برے کو برے سے ملانے کا اہتمام کرتی رہتی ہے۔ بری لڑکی کی اپنے جیسے ایک برے لڑکے سے دوستی گہری ہونے لگی ہے۔ وہ بہت دنوں سے ساتھ ساتھ چلنے والے متوازی راستے تھے جو اب ایک ہی راستے میں ڈھل گئے ہیں۔ دونوں ہی فطرت کا ان گڑھ روپ ہیں۔ انھیں پرخطرمسافتوں کا شوق ہے۔ دونوں میں ایک دوسرے کے لیے کئی اسرار چھپے ہیں۔ دریافتوں کا سفر جاری ہے۔ ہر نیا انکشاف انھیں ایک دوسرے سے اور قریب کر دیتا ہے، ہر نئی قربت انھیں ایک دوسرے سے اجنبی بناتی ہے۔ قریب آنے دور جانے، دور جانے قریب آنے کا نامختمم سفر جاری ہے۔ وہ ملتے ہیں اور کھو جاتے ہیں، بے خودی انھیں اور مکمل کرتی ہے۔

محبت کی دنیا کا پھیلاو تخیل کی گرفت سے آزاد ہے۔ یہاں اہلِ دل کے لیے اونچی چوٹیاں، گہری کھائیاں، وسیع سمندر، جزیرے، چٹانیں اور ان سب سے پرے کوئی اور جہاں اور پھر جہاں در جہاں کے بے انت مظاہر ہیں۔ بری لڑکی اور برا لڑکا انسان کے ازلی تجسس میں گندھے ہوئے بے خوف اور انتھک وجود ہیں۔ وہ وقفوں میں، ٹکروں میں، گاہے گاہے ایک دوسرے کو اپنے ماضی کی دنیا میں لے جاتے ہیں۔ ابھی ابھی قربت کے کسی اگلے پڑاو پر پہنچ کر برے لڑکے نے بڑی لڑکی سے ایک وعدہ لیا ہے، راز کو راز رکھنے کا وعدہ، سچ بتانے کے لیے، سچ کو چھپانے کے لیے، وہ کہتا ہے۔

‘تمھارے دفتر میں ایک لڑکی کام کرتی ہے، جو کبھی میری دوست تھی، اب نہیں ہے۔’
‘میرے دفتر میں تو میرے علاوہ بس ایک ہی لڑکی ہے’ بری لڑکی حیرت سے کہتی ہے ‘ہاں وہی، کبھی وہ اور میں اسی طرح ملا کرتے تھے جیسے تم اور میں’ ‘نہیں ۔۔۔ یہ ناممکن ہے ۔۔۔ وہ ایسی لڑکی نہیں’ بری لڑکی عالمِ بےیقینی میں کہتی ہے۔

‘میں سچ کہہ رہا ہوں، وہ اور میں اتنا ہی قریب تھے جتنا میں اور تم’ ‘مائی گاڈ ۔۔۔۔ پھر؟ ‘ ‘وہ ہماری دوستی کو محبت بنانا چاہتی تھی’ ‘پھر؟’ ‘وہ میرے دل میں محبت جگائے بنا محبت مانگتی تھی۔’ ‘خوب ؟’ ‘تو جو چیز میرے پاس نہیں تھی وہ میں اسے کیسے دیتا؟”تو اس بات پر دوستی ٹوٹ گئی؟’ ‘ہاں، وہ دوستی کو عہد و پیمان کے ساتھ جوڑنا چاہتی تھی ۔۔۔ میں نے وعدہ نہیں کیا، اس نے دوستی توڑ دی۔’ ‘کمال ہے، اور میں آج تک اس بات سے بے خبر ہوں’ بری لڑکی کے چہرے پر ناسمجھی کی حیرت پھیل گئی ۔

اچھی لڑکی کے چہرے پر جگہ جگہ کان اور آنکھیں اگ آئی ہیں۔ وہ بری لڑکی کو ہر طرف سے، ہمہ وقت سنتی اور دیکھتی رہتی ہے۔ بری لڑکی کے جسم سے ایسی خوشبو اٹھتی ہے جو اچھی لڑکی کو پاگل کر دیتی ہے۔ اچھی لڑکی کی مسکراہٹ میں تناو اور سختی آ رہی ہے۔ وہ جون بدل رہی ہے۔ وہ جون میں آ رہی ہے، سیاہ چمکدارلہریا ناگن جیسی، خوبصورت، زہرناک، بند، ناگہاں، بےپناہ، کسی لمحے کسی آن کی منتظر۔ اس کی اندرونی حرارت نے بوتل میں بند جذبوں کے محفوظ مائع کو کھولا دیا ہے۔ بھاپ نے راستہ بنانے کے لیے بوتل کے ائیر ٹائٹ ڈھکن کو دھماکے سے اچھال باہر کیا ہے۔ مائع کے قیمتی قطرے ادھر ادھر جا گرے ہیں۔ اچھی لڑکی کی اپنی سپریم کورٹ نے نظریہ ضرورت کے تحت ایک نیا قانون وضع کیا ہے۔ یہ قانون نہ سیاہ ہے نہ سفید، یہ خاکی رنگ کا مڑا تڑا قانون ہے، یہ ایک ایسی تاریک گزرگاہ ہے جہاں سے مصلحتوں کے نقاب پوش قافلے گزرتے ہیں۔ اس قانون نے اچھی لڑکی کو وہ کچھ کر گزرنے کی اجازت دی ہے جو وہ پہلے نہیں کر سکتی تھی۔ اسے مجاز کیا ہے کہ وہ نامحرم مردوں سے ایک میٹر کے محفوظ دوری کو کسی بھی حد تک، کم کر سکتی ہے۔ اب اچھی لڑکی نظر نہ آنے والی پیش قدمی سے اپنے محکمے کے بڑے صاحب کے قریب آ رہی ہے۔ بڑا صاحب بھی اسی کی طرح کا ایک اچھا آدمی ہے۔ دونوں مل کر اچھی باتیں اور اچھے کام کرتے رہتے ہیں۔

بری لڑکی کا دفتری ریکارڈ خراب ہو چکا ہے۔ اظہارِ وجوہ کے نوٹس بڑھتے جا رہے ہیں۔ بری لڑکی مگر ساون میں نہاتے ہوئے بچوں کی طرح خوش ہے۔ اس کے دل میں محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اپنی پرشور لہروں کے ذریعے ہر غیر ضروری چیز اچھال کر ساحل پر لا پھینکتا ہے۔ انھی بیکار چیزوں میں اچھی لڑکی کی ملازمت سے برطرفی کے پرزے بھی ہیں۔

 

Dr. Kausar Jamal

Dr. Kausar Jamal is a fiction writer from Pakistan. She has authored many plays. Her most famous work is ‘Cheen Meen Urdu’ published in 1986.

She has also written auto-biography titled ‘I Am Legend’ published by FB publishers. Dr. Kausar Jamal is currently residing in Sydney, Australia.

Read more from Dr. Kausar

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

November 2020
M T W T F S S
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
30  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: